معراج النبی شریف: سائنس اور عقیدہ —– لالہ صحرائی

0
  • 100
    Shares

یہ آج کی بات نہیں بلکہ بہت پہلے سے یہ ہوتا چلا آیا ہے کہ عقل اور حقیقت پسندی کے نام پہ اس طرح کے سوالات-کم-اعتراضات اکثر اٹھائے گئے ہیں کہ افلاک کا سفر ممکن نہیں، یا افلاک سے آگے جانا ممکن نہیں، اگر یہ ممکن ہے تو چونکہ یہ ممکن نہیں کہ ایک طرف سفر میں اٹھارہ سال گزر جائیں اور واپسی پر دنیا کے اندر ابھی تک وہی لمحہ برقرار ہو جو بوقت رخصت یہاں موجود تھا، چنانچہ یہ ایک جسمانی سفر نہیں تھا بلکہ یہ ایک خیالی سفر تھا یا ایک خواب کا واقعہ ہے، پھر حضرت موسیٰ نے نمازیں کم کرانے کا مشورہ کیوں دیا، معجزے کی ضرورت ہی کیا ہے، معجزہ کچھ نہیں ہوتا، براق کیا ہے، براق کچھ نہیں ہوتا، یہ کیا ہے، وہ کیا ہے، یوں نہیں ووں نہیں وغیرہ وغیرہ۔

جب ایمان کے سوتے خشک ہوں تو ایسے ہی سوالات پیدا ہوتے ہیں لیکن جب ایمان محبت سے جِلا پاتا ہو تو معاملہ کچھ ایسا ہوتا ہے جیسا ان دو مولویوں کے درمیان ہوا تھا۔

ایک بار ایک مولوی صاحب نے بیان کیا کہ بیشک نبی کریم علیہ السلام پیغمبر ہیں لیکن وہ عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہی ہیں، آپ کو انسانوں کی سطح سے بڑھا کر نہ بیان کیا کرو۔

اس کے جواب میں دوسرے نے کہا کہ بیشک آپ علیہ السلام انسان ہی ہیں اور سیدنا آدم علیہ السلام کی اولاد پاک سے ہیں لیکن آپ علیہ السلام عام انسانوں سے بیحد ماورا ہیں، افضل الانبیاء ہیں اور جامع کمالات ربانی رکھتے ہیں۔

پھر ان دونوں نے اپنے اپنے دعوے کے حق میں مناظرہ رکھ لیا اور دلائل کی تیاری شروع کر دی، حسن اتفاق ایسا ہوا کہ تیاری کیلئے کتابیں تلاش کرتے کرتے ایک دن ایک ہی لائبریری میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔

پہلے نے کہا،
کیوں جی مولانا،
کیسی چل رہی تیاری…؟
دوسرے نے اطمینان سے کہا،
حضرت تیاری کا مت پوچھئے،
بس یہ دیکھئے کہ ہم دونوں کی تلاش کیا ہے…؟
بس اپنی اور میری اپروچ کا فرق جان لیجئے…!

آپ کی تلاش میں وحشت اور ناآسودگی ہے کیونکہ آپ کو ایسی باتوں کی تلاش ہے جو نبی پاک علیہ السلام کی شان کریم میں تخفیف کرتی ہوں اسلئے کہ آپ کو کم قدر والا نبی چاہئے جو عام انسانوں کی طرح سے ہو۔

اور میری تلاش میں سکون اور آسودگی ہے کیونکہ مجھے ایسی باتوں کی تلاش ہے جو حضور علیہ السلام کی شان اقدس سب سے افضل ثابت کردے، اسلئے کہ مجھے ایسا نبی چاہئے جو بشریت کے جامہ میں بھی عظیم تر ہو، اتنا عظیم کہ خدا کے بعد ان جیسا معتبر دوسرا کوئی نہ ہو، قاب قوسین او ادنیٰ کے مصداق ان کے اور خدا کے درمیان نہ تو کوئی دوری ہو اور نہ ہی کوئی من و تو کا فرق ہو۔

اسلئے کہ امام اقدس جہاں ہوں گے ان کے حقیقی پیروکار بھی وہیں پہنچیں گے، امام کریم لامکاں تک پہنچنے والے ہیں تو مقتدی بھی وہاں تک جائیں گے، ہمارے پیغمبر علیہ السلام تو ایسے ہی عظمت والے ہیں کہ ان کی حقیقی اتباع کرنیوالے فنا فی اللہ سے کم درجے پر کبھی نہیں رُکے۔

یہ سن کر پہلے والے مولوی صاحب نے توبہ کرلی کیونکہ اپنی اپروچ کا فرق اس کی سمجھ میں آگیا تھا بلکہ اس کی روح تک کو زخمی کرگیا کہ وہ کس گھٹیا کام میں لگا ہوا تھا۔

خشکی کا مارا ایمان اور محبت سے لبریز ایمان کا یہی ایک بنیادی فرق ہے جسے ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔

اب آتے ہیں چند سادہ سے دلائل کی طرف، سادہ اسلئے کہ قرآنی تعلیمات کی بنیاد سائینس پر نہیں بلکہ عام انسانی فہم کے مطابق ہے، قرآن پاک کا عام فہم پیغام جب کسی کی سمجھ میں آجاتا ہے تو وہ فوراً ایمان لے آتا ہے۔

دنیا کے سب سے بہترین حاکم سیدنا عمر بن خطابؓ تلاوت کلام پاک سن کر مسلمان ہو گئے تھے سائنس پڑھ کر نہیں، اور عمر بن ہشام فزکس کے اصولوں کو روندنے والے معجزات دیکھ کر بھی باغی کا باغی ہی رہا۔

سیدنا فضیل بن عیاض ایک پروفیشنل انسان تھے، ایک واردات کیلئے گئے مگر مکان کے اندر سے اس آیت کی تلاوت سن کر ایسا تائب ہوتے ہیں کہ آج کوئی سلسلہ طریقت ایسا نہیں جس کے اماموں میں ان کا نام گرامیؒ نہ ہو۔

کیا اب بھی مومنوں کے لئے یہ وقت نہیں آیا کہ اْن کے دل خدا کی یاد سے نرم ہو جائیں۔
(سورۃ الحدید:۱۶)۔

اسی آیت کو حضرت حسن بصریؒ نے ایک مجمع میں بیان کیا تو عتبہ نامی ایک نوجوان ایسا تائب ہوا کہ اس کی تلاوت سن کر لوگ مسلمان ہوجاتے تھے۔

خراسان کا نوجوان عیاش حاکم جب یہ آیت سنتا ہے، کیا تم نے سوچ رکھا ہے کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم نے لوٹ کر ہماری طرف نہیں آنا، تو توبہ کرکے نہ صرف صراط مستقیم پالیتا ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کیلئے مشعل راہ بن جاتا ہے، تاریخ عالم اس نوجوان کو ابراہیم بن ادھمؒ کے نام سے پہچانتی ہے۔

قرآن پاک کا فیصلہ ہے کہ شہداء اکرام نہ صرف زندہ و جاوید ہیں بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں سے رزق بھی پاتے ہیں لیکن تمہیں اس بات کا شعور نہیں۔

اب آپ ہی بتاؤ جس پیغمبر علیہ السلام کا کلمہ پڑھنے والا طبعی موت کو پائے تو فنا فی اللہ ہوا کرے اور شہادت کی موت پائے تو زندہ و جاوید رہے، وہ میرا پیارا نبی عام انسانوں جیسا کیسے ہوا اور وہ محبوب خدا خود کیسے فوت شدہ ہو سکتا ہے…؟

ہاں یہ ممکن ہے کہ تمہیں عظمت رسول علیہ السلام کا صحیح ادراک و شعور نہ ہو اور یہ بات بھی قرآن پاک نے ہی بیان کی ہے کہ تمہیں ان باتوں کا قطعاً شعور نہیں۔

حدیث قدسی کا فرمان ہے‌:
لولاک لما خلقت الافلاک، کہ آپ علیہ السلام اگر رب کریم کے مرکز نگاہ نہ ہوتے تو یہ کائنات تخلیق ہی نہ ہوتی، جب دوعالم میں میر مجلس اور صاحب لولاک آپ علیہ افضل الصلواۃ و السلام ہی ہیں تو آپ کی خصوصی حیثیت، عظمت اور برتری تمام مخلوقاتِ عالم پر واضح ہو جاتی ہے، جب یہ کائنات بنی ہی حضور اکرم علیہ السلام کی ذات اقدس کیلئے ہے تو یہ سفر اور معجزات ان کیلئے خادمین کے سوا کچھ بھی نہیں، یہ ساری کائنات ان کی خادم ہے اور وہ محبوب دوجہاں ہیں۔

ایک اور حیرت انگیز بات دیکھئے کہ معجزات کے برحق ہونے کے بارے میں آپ کو ٹھوس سائینٹیفک دلائل درکار ہیں اور سائینٹیفک معاملات کو آپ بغیر کسی ٹھوس دلیل کے محض ایک خبر کی بنیاد پر ہی سچ مان لیتے ہیں۔

سبحان الذی اسریٰ بعبدہٖ کا کلام حضور کا بلندی کی طرف جانا بیان کرتا ہے، قرآن پاک میں معراج کیلئے اتنا ہی کافی تھا، وہاں پورا واقعہ بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی اسلئے کہ صاحب لولاک علیہ السلام کا اپنا بیان بھی اہل ایمان کیلئے حرفِ آخر ہے۔

جب اہل ایمان کو بیشتر معاملات کی تفصیلات کیلئے حضور علیہ السلام کے ارشادات کی طرف ہی رجوع کرنا پڑتا ہے تو تعقل پسندوں کو معراج شریف کے معاملے میں اپنی اپنی عقلوں کی کسوٹیاں گِھسانے کی کیا ضرورت ہے…؟

اس سفر کے دیگر مقاصد کے علاوہ معراج شریف کی اہمیت مشاہدات کے حوالے سے بہت اہم ہے، اللہ کریم سے ملاقات کے احوال، جنت دوزخ کا بیان، نیکوں اور گنہگاروں کے اخروی احوال، اخلاقیات اور حدود کی پاسداری نہ کرنیوالوں کے احوال، منکرین، مشرکین اور سرکشوں کے احوال اور منشائے الہیٰ سے متعلق بہت سے امور کی وضاحت شب معراج کے سفر نامے سے ہی متشق ہے۔

معراج شریف سے انکار کا سیدھا سا مطلب بس یہی ہے کہ احادیث کے ایک بڑے علمی ذخیرے سے راہ فرار اختیار کرنے کی جگہ تلاش کی جائے تاکہ مذہب کے تقاضے کم سے کم ہوں اور معراج شریف کی تصدیق و اقرار کا مطلب یہ ہے کہ اس علمی ذخیرے سے رہنمائی، تقویٰ اور نور الہٰی حاصل کیا جائے، آگے عوام کی مرضی، ہمیں کیا؟

ایک اور حیرت انگیز بات دیکھئے کہ معجزات کے برحق ہونے کے بارے میں آپ کو ٹھوس سائینٹیفک دلائل درکار ہیں اور سائینٹیفک معاملات کو آپ بغیر کسی ٹھوس دلیل کے محض ایک خبر کی بنیاد پر ہی سچ مان لیتے ہیں۔

چاند پر جانے والوں کا ثبوت کیا ہے…؟

ایک معاصر خبر کے سوا اس معاملے میں کوئی ایک ثبوت بھی میسر نہیں، جو کچھ دستیاب ہے وہ سب یوٹیوب پر چیلنج ہوا پڑا ہے اور مغرب کے لوگ ہی اسے ٹوپی ڈرامہ اور ہالی ووڈ میں فلمائی ہوئی فلم قرار دیتے ہیں، یہی حال مریخ کے معاملے میں ہے۔

ہمارے پاس ایک معاصر خبرنامے کے سوا کوئی خاص ثبوت دستیاب ہی نہیں جس کے ذریعے سے ہم ان دونوں خبروں کو کاؤنٹر چیک کر سکیں، اس کے باوجود کوئی ٹھوس ثبوت مانگے بغیر ہی ان خبروں پر ہم یقین بھی کر لیتے ہیں، اس یقین کی اکلوتی وجہ صرف ہمارا یہ اندازہ ہے کہ چاند یا مریخ کی تسخیر کیلئے جو قوت اور اختیار درکار ہے وہ معاصر علوم اور ٹیکنالوجی کے پاس دستیاب ہو سکتا ہے اس ظن کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی دلیل ہے ہی نہیں۔

جب قوت اور چاہت سائنس کے پاس دستیاب ہوں تو سائنسی سفر کا اقرار اور جب خدا کے پاس قدرت و اختیار موجود ہو تو معجزاتی سفر کا انکار ایک عجیب سی بات ہے، اس طرح کے بے معنی اعتراضات تو ہم آرٹس گروپ والے چاند اور مریخ پر عام انسان کے پہنچنے پر نہیں کرتے جیسے یہ تعقل پسند اور فزکسئینز کہلانے والے حضرات سفر معراج پر کرتے ہیں حالانکہ انبیاء اکرام کے معجزات بارہا اس دنیا کے سائنسی اصولوں کو روند چکے ہیں۔

آج کے دور میں لاکھوں عام سے لوگ ہر روز فضاؤں میں بے دریغ سفر کرتے ہیں، میں خود ایک ادنیٰ سا بندہ ہوں اور یہ پوسٹ میں نے اسلام آباد سے کراچی تک فضائی سفر میں چھتیس ہزار فٹ کی بلندی پر دورانِ پرواز لکھی ہے، اسوقت یہ پوسٹ لکھنے میں جو لطف آیا وہ بھی بیان سے باہر ہے۔

الغرض یہ کہ ہمیں تو بہت خوشی ہے کہ ہماری جان و ایمان کے وارثِ کریم کو ربِ کریم نے معراج پر وہ توقیر اور عزت افزائی بخشی ہے جو کسی اور کو نصیب ہو ہی نہیں سکتی اور اس میں ناممکن بھی کچھ نہیں۔

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکا لے
گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے
کسے بتاۓ کدھر گئے تھے
وہی ہے اول وہی ہے آخر
وہی ہے ظاہر وہی ہے باطن
اسی کے جلوے اسی سے ملنے
اسی سے اسکی طرف گئے تھے

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: