خبر کے چھے ”الف“ —– محمد عثمان جامعی

0
  • 243
    Shares

خبر کی دنیا میں آنے والا ہر شخص یہ سبق پڑھ کر آتا ہے کہ خبر چھے کاف سے مل کر وجود میں آتی ہے، یہ کاف انگریزی کے ”فائیو ڈبلیوز اور ایک ایچ“ (HowWhy، Where، When، What، Who) کی اردو شکل ہیں۔ پہلے پانچ کاف سے کام چل جاتا تھا، اب گوروں نے ایک ایچ کا اضافہ بھی کردیا ہے، یوں انھیں ”اُردواتے“ ہوئے ہمارے ہاں چھے کاف ہوگئے ہیں، یعنی کون، کیا، کب، کہاں، کس وجہ سے اور کیسے۔ کسی واقعے کے وقوع پذیر ہوتے ہی ان چھے سوالوں کے جواب انھیں خبر کی صورت دیتے ہیں۔

لیکن اے نوواردانِ صحافت، اے طلبائے ابلاغ عامہ، اے قارئین اخبار اور ناظرین ٹی وی، ہم نے یہ جو کچھ کہا اسے بکواس سمجھو، یہ چھے کاف اب کسی کام کے نہیں، اب کسی واقعے، حادثے، سانحے، ماجرے کو خبر کی شکل دیتے ہوئے چھے کاف نہیں اسی تعداد میں چھے عدد الف درکار ہوتے ہیں۔ آج کی میڈیا نگری میں خبر بناتے اور دیتے ہوئے ہوئے یہی چھے الف پیش نظر ہوتے ہیں، ان میں سے کوئی ایک الف بھی خبر سے ٹکرا جائے تو رپورٹر اور متعلقہ مدیر کی اچھی طرح خبر لی جاتی ہے، اور کبھی کبھی انھیں ساتویں الف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ہے ملازمت کا ”انجام۔ “ اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ چھے الف کیا ہیں:

1۔ اشتہار
خبر دینے سے پہلے یہ سوچا اور یقین کرلیا جاتا ہے کہ کہیں اس خبر سے کوئی ”کلائنٹ“ تو متاثر نہیں ہوگا؟ یہ کلائنٹ کوئی بلڈر بھی ہوسکتا ہے، میک اپ کی پوری صنعت بھی، کوئی سرکاری ادارہ بھی۔ بس میاں نوں سمجھو کہ اگر ابلیس بھی کسی ٹی وی چینل اور اخبار کو تواتر سے اشتہار دیتا ہے تو اس کے خلاف بھی خبر نہیں دی جاسکتی نہ کوئی مضمون شایع ہوسکتا ہے۔ معاملہ ناگزیر ہو تو خبر اور مضمون میں شیطان کا تذکرہ یوں ہوگا، ”مولانا غیض وغضب جلال پوری نے اپنی تقریر میں مبینہ طور پر انسانوں کو ورغلانے والی مخلوق کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ “ ابلیس کی طرف سے اشتہار زیادہ ملتے ہوں تو ”تنقید“ کی جگہ ”ہرزہ سرائی“ کی ترکیب استعمال کی جائے گی۔ یاد رکھیے کے مارکیٹنگ کے شعبے کا کوئی ایک ٹائی لگا اہل کار اور اس کے منہہ سے نکلنے والا لفظ ”کلائنٹ“ کوئی خبر رکوانے اور خبر آجانے کی صورت میں دینے والے کو نکلوانے کے لیے کافی ہے۔

2۔ ادارہ
اسے عام معنی میں ادارہ نہ سمجھیں، یہ بڑے خاص معنی میں ہے، اچھا زیادہ بنیے مت، سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔ چلیے پھر بھی بتادیں کہ ہم اس ادارے کی بات کر رہے ہیں جسے پیار سے مقدس گائے کہا جاتا ہے اور اگر اس سے متعلق کوئی منفی خبر ہو تو میڈیا کا کوئی ادارہ نہیں چاہتا کہ ”آ بیل مجھے مار“۔ اگر کوئی اسے اللہ میاں کی گائے سمجھ کے چھیڑچھاڑ کردے تو اس پر گوبر کی وہ برسات ہوتی ہے کہ سر سے پاو¿ں تک لتھڑ جاتا ہے اور اسے پیغام مل جاتا ہے کہ اب پچھتاتے رہو اور ”سر پکڑ کے جیو۔“

3۔ اونر
اپنے اپنے میڈیا گروپ کے سیاہ سفید کے یہ مالک سیاہ کرتے ہیں نہ سفید بل کہ زیادہ تر ”زرد” کرتے ہیں، کیوں کہ زیادہ سے زیادہ زر کمانے کے لیے زرد رنگ ہی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ان کی ملازمت کرنے والے بعض بھولے صحافی اس بھول میں ہوتے ہیں کہ وہ صحافت کر رہے ہیں، حالاں کہ وہ ان کے کاروبار کا بس ایک اوزار ہیں، اور مالکان صرف کاروبار کر رہے ہیں۔ سمجھ دار صحافی یہ حقیقت جانتے اور ہر وقت ذہن نشیں رکھتے ہی، چناں چہ کوئی خبر دینا ہو، مضمون لکھنا ہو، فیچر تحریر کرنا ہو، رپورٹ کی اشاعت ہو یا ٹی وی کا کوئی پروگرام، وہ یہ جاننا ضروری سمجھتے ہیں کہ جو وہ پیش کرنا چاہتے ہیں وہ کسی ایسے شخص کے خلاف تو نہیں جاتا جو مالک کا دوست، رشتے دار یا جیمخانے میں اس کا ہم پیالہ ہم نوالہ ہو؟ ایسا ہو تو صحافی فیصلہ کرتا ہےخاک ڈال آگ لگا نام نہ لے یاد نہ کرنوکری بچا پیارے۔

4۔ اعلیٰ ترین افسر
سی ای او (چیف ایگزیکٹیو آفیسر) کہلانے والی یہ مخلوق میڈیا گروپ کی کرتا دھرتا ہوتی ہے۔ ان کے دل میں مالک کے لیے اس کی ماں سے زیادہ مامتا ہوتی ہے، جس کا ثبوت وہ مالکان کے کاروبار کو وسعت دے کر، ٹیکس بچانے کے طریقے بتاکر اور ملازمین کی حق تلفی کے ذریعے حاصل ہونے والے مال کا خُشک دودھ پلاکر دیتے ہیں۔ صحافیوں کو پورا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اُن کی کوئی کاوش اعلیٰ ترین افسر کو ناراض نہ کردے، ایسا کرنا صحافیوں کے لیے بدترین نتائج لاتا ہے۔ سو اس الف کے دوستوں، رشتے داروں اور پیاروں سے واقفیت بھی ایک صحافی کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔

5۔ انتقام
اگر میڈیا گروپ کے مالک کی کسی سیاست داں سے ٹھن جائے یا کسی اور شخصیت سے ان بن ہوجائے، کسی ادارے سے اشتہار نہ مل رہے ہوں، تو ایسے میں ”انتقامی صحافت“ غراتے ہوئے ہدف پر حملہ کردیتی ہے۔ ایسے میں حکم ملتا ہے، ”فلاں کے خلاف خبر چلانی ہے“، یہ حکم ملتے ہی ایک اچھا رپورٹر ہدف کا برُا کرنے کے لیے اس کے خلاف خبر کی تلاش شروع کردیتا ہے، نہیں ملتی تو اپنی تخلیقی صلاحیت سامنے لاتے ہوئے خبر گڑھ لیتا ہے۔ صحافی کو اس حقیقت سے بھی باخبر رہنا ہوتا ہے کہ کون کون مالک کا مخالف ہے، اس کی ناپسندیدہ شخصیت ہے، کیوں کہ اگر ایسے شخص کے حق میں کوئی خبر شایع ہوگئی تو خبر دینے والے کے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔

6۔ ابن الوقتی
میڈیا مالکان چڑھتے سورج کے پجاری تو ہوتے ہی ہیں، ساتھ ہی اپنے کاروبار کے ستارے چمکانے کے لیے یا ”فور اسٹارز“ سے روشنی پاکر کسی کا سورج چڑھاتے ہیں تو کسی کا چاند گہناتے ہیں۔ ان کی سوچ، نظریات اور عمل وقت کے تابع ہوتے ہیں۔ ویسے تو یہ ابن الوقت ہوتے ہیں، لیکن وقت پڑنے پر گدھے کو باپ بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے، اور وقت گزرنے پر گدھے کو ایسی دولَتّی رسید کرتے ہیں کہ گدھا حیران رہ جاتا ہے۔ ان کے ملازم صحافیوں کو بھی یہ ولدیت اپنانی پڑتی اور وہ وقت کو اباجی بناکر مالکان کی پیروی میں جُت جاتے ہیں۔

یہ چھے الف خبر کے ستون ہی نہیں، یہ ریاست کے چوتھے ستون کے چھے کھمبے بن چکے ہیں، یہ کھبے نیزے بن کر روز نہ جانے کتنی خبروں کے سینے کے آرپار ہوجاتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: