اقبال اور معروف مغالطے سیریز 2: اقبال اور مذہبی رواداری — احمد الیاس

0
  • 66
    Shares

بعض حلقوں کی جانب سے یہ بات سننے میں آتی ہے کہ اقبال صرف مسلمانوں کے شاعر ہیں۔ اسی بات کو بڑھا کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے بھی ایک مخصوص طبقے کے شاعر ہیں۔ یہ مغالطہ مخالفیِن اقبال کے ہاں تو ہے ہی، محبانِ اقبال میں بھی کسی نہ کسی شکل میں عام ہے۔

انیس سو اکیس میں اقبال نے اپنے فارسی مترجم جناب نکلسن کو ایک خط میں وضاحت کی تھی کہ ان کا مقصد عالمی نظام کا متبادل پیش کرنا ہے۔ اسلام کی شکل میں ایک ایسی زندہ قوت موجود ہے جو اس سلسلے میں مددگار و معاون ہے۔ لہزا حکمت کا یہی تقاضا ہے کہ اس سے مدد لی جائے۔ وہ اس خط میں خود کو تمام انسانیت کا محب بتاتے ہیں۔ لکھتے ہیں:-

” …it is in view of practical and not patriotic considerations … that I am compelled to start with a specific society (i.e. Islam) which, among the societies of the world, happens to be the only one suitable to my purpose . . . All men and not Muslims alone are meant for the Kingdom of God on earth, provided they say good-bye to their idols of race and nationality, and treat one another as personalities.”

” یہ عصبیتی نہیں بلکہ عملی تفکرات کے پیشِ نظر ہے کہ میں ایک مخصوص جماعت یعنی اسلام سے آغاز کرنے پر مجبور ہوں جو کہ دنیا کی جماعتوں میں واحد ہے جو میرے مقصد سے مطابقت رکھتی ہے۔ زمین پر خدا کی شہنشاہیت کے لیے صرف مسلمان نہیں بلکہ تمام انسان ہیں۔ بشرطیکہ وہ نسل و قومیت کے بتوں کو توڑ کر ایک دوسرے سے شخصیات کے طور پر معاملہ کریں۔”

اقبال کو غیر مسلم جرمن ادیب گوئٹے سے بہت عقیدت تھی۔ سٹرے ریفلیکشنز میں اقبال لکھتے ہیں کہ گوئٹے کی دریافت نے انہیں خود شناسی میں مدد دی۔ پیامِ مشرق گوئٹے کی دیواِن مغرب کا جواب ہے۔

تو گویا اقبال کو اسلام کا شاعر تو کہا جاسکتا ہے مگر وہ صرف مسلمانوں کے شاعر نہیں کہلا سکتے۔ اقبال کے ہاں اسلام اور امت کا تذکرہ قوم پرستانہ بنیادوں پر نہیں بلکہ انسان دوستی اور عالگیریت کی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اسلام تمام انسانیت کے کئی مسائل کا حل ہے۔ یہ نکتِہ نگاہ صرف اقبال نہیں بلکہ تمام مکاتبِ فکر کے کئی مسلم حکماء کا رہا ہے۔ عبیداللہ سندھی کے الفاظ اس نظریہ کو بیان کرتے ہیں:-

قومی ذہن کا انسانی تصور سے عاری ہونا زوال کی طرف اسکا پہلا قدم ہوتا ہے۔ اسلام کے حق میں یہ دوام کا وعدہ محض اس بناء پر تھا کہ وہ انسانیت عامہ کا تصور پیش کرتا ہے۔ فی الحقیقت مسلمان وہی ہے جس کے ذہن میں کل انسانیت کی گنجائش ہے۔
(شعور وآگہی… افادات مولانا عبیداللہ سندھی)

اب بڑھتے ہیں اقبال کے ہاں مذہبی روشن خیالی کی مثالوں کی طرف۔ اپنے استاد تھامس آرنلڈ کا شاندار مرثیہ، گوئٹے کو خراج تحسین اور اس جیسی متعدد مثالیں موجود ہیں جن میں اقبال نے غیر مسلم شخصیات سے بھرپور عقیدت کا اظہار کیا۔

اقبال کا سب سے زبردست کارنامہ جاوید نامہ کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں بہائی مقتولہ قراۃ العین طاہرہ کو اس کی اخلاقی جرات کے سبب ہیروئین کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ متعدد غیر مسلم شعراء اور حکماء کو بہشت کا باسی بتایا گیا ہے۔ پیغمبروں کے گوشے میں پیغمِبر آخر الزمانﷺ اور سیدنا عیسیٰ مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ زرتشت ایرانی اور مہاتما گوتم بدھ بھی موجود ہیں۔ مذہبی رواداری اور روشن خیالی کی ایسی مثال شاید ڈھونڈے سے نہ ملے۔

وفات سے ساڑھے چار ماہ قبل، یکم جنوری 1938 کو ان کا آخری خطاب بھی انسانیت سے ان کے لگاؤ کا آئینہ دار ہے۔ (مذکورہ خطاب اس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے)

ذاتی زندگی میں بھی شاعرِ اسلام بہت روشن خیال انسان تھے۔ جاوید اقبال اور منیرہ اقبال کی اماںّ کی وفات اقبال کی زندگی میں ہوگئی۔ بچوں کا خیال رکھنے کے لیے ایک جرمن مسیحی خاتون مِس ڈورس کی خدمات حاصل کیں گئیں۔ اقبال انہیں بہنوں کی طرح احترام دیتے اور بچے آنٹی ڈورس کہہ کر پکارتے۔ ڈورس کے آنے سے اقبال کے گھر میں نظم و ضبط آگیا جس سے اقبال بہت خوش تھے۔ اقبال چاہتے تھے کہ ان کے بچے جرمن سیکھیں۔ آنٹی ڈورس اور بچوں کو ساتھ بٹھا کر جرمن میں گفت گو کرتے تھے۔

اقبال نے اپنی لاڈلی بیٹی منیرہ کو کنیئرڈ سکول میں داخل کرایا۔ یہ کرسچن مشنری سکول تھا۔ آنٹی ڈورس کو معلوم ہوا کہ سکول میں بائبل پڑھنا لازمی ہے۔ وہ خود کرسچن ہونے کے باوجود پریشان ہو گئیں۔ اقبال کے پاس گئیں اور انہیں بتایا۔ ڈورس کا خیال تھا کہ شاید مسلمان بچی کا بائبل پڑھنا مناسب نہیں لہزا سکول تبدیل کروالینا چاہیے. اقبال نے جواب دیا ” یہ بری بات نہیں‘ بچی کو مختلف مذاہب کی تعلیمات کا علم ہونا چاہیے‘ آپ گھر میں قرآن مجید پڑھانے کے لئے کس معلمہ کا بندوبست کر لیں“۔ (اس حوالے سے منیرہ کا انٹرویو اس لنک میں ملاحظہ فرمائیں)

ذیل میں بانگِ درا سے اقبال کی دو نظمیں پیش کی گئی ہیں جن میں سے ایک گرو نانک سرکار کی شان میں ہے اور دوسری شری رام کی مدح میں۔ نانک والی نظم میں مہاتما گوتم بدھ کی بھی کھل کر مدح کی گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر اقبال پر مذہبی تنگ نظری کے الزام کی زندہ تردید کیا ہوسکتی ہے۔

رام

لبریز ہے شرابِ حقیقت سے جامِ ہند
سب فلسفی ہیں خطۂِ مغرب کے رامِ ہند
یہ ہندیوں کی فکرِ فلک رس کا ہے اثر
رفعت میں آسماں سے بھی اونچا ہے بامِ ہند
اس دیس میں ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت
مشہور جن کے دم سے ہے دنیا میں نامِ ہند
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہی
روشن تر از سحر ہے زمانہ میں شامِ ہند
تلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھا
پاکیزگی میں جوشِ محبت میں فرد تھا
—–

نانک

قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی
قدر پہچانی نہ اپنے گوہرِ یک دانہ کی
آہ بد قسمت رہے آوازِ حق سے بے خبر
غافل اپنے پھل کی شیرینی سے ہوتا ہے شجر
آشکار اس نے کیا جو زندگی کا راز تھا
ہند کو لیکن خیالی فلسفہ پر ناز تھا
شمعِ حق سے جو منور ہو یہ وہ محفل نہ تھی
بارشِ رحمت ہوئی لیکن زمیں قابل نہ تھی
آہ شودر کے لیے ہندوستاں غم خانہ ہے
درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں
شمعِ گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں
بتکدہ پھر بعد مدت کے مگر روشن ہوا
نور ابراہیم سے آزر کا گھر روشن ہوا
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے


اس سیریز کا پہلا مضمون “اقبال اور حکمائے مغرب”  اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: