تخیل سے حقیقت تک: سحرش عثمان

0
  • 40
    Shares

پہلے بنا مرضی کے زمیں پر بھیجا۔ پھر زمیں والوں نے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی زندگانی کا پیٹرن ترتیب دے لیا۔
یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔
ہم سے پوچھا تو جانا چاہیے تھا نا کہ سکول جانا ہے ہم نے یا نہیں؟
آج آئینے میں خود کو دیکھا تو خود پر رونا آیا یہ ہم ہیں؟
ہاتھ میں او ہنری آنکھوں پر ریڈنگ گلاسسز سائڈ پر گلاس میں شفاف پانی پیر میز کے نیچے گھسائے نیم دراز یہ ہم تھے۔۔
فیس واش سے دھلا منہ آنکھوں میں کاجل ہاتھوں کے نیلز پر فرنچ مینی کیور۔۔ حتی کہ بالوں سا گھونسلہ بھی تقریبا سلیقے سے بندھا۔
آپ سب شائد یقین نہ کریں۔ لیکن یہ سچ ہے خود کو بہت سالوں بعد دیکھا۔

منیر نیازی یاد آئے

ہن جے ملیں تے روک کے پُچھاں
ویکھیا ای اپنا حال!
کتھے گئی اوہ رنگت تیری سپاں ورگی چال
گلاں کردیاں گُنڈیاں اکھاں وا نال اُڈدے وال
کتھے گیا اوہ ٹھاٹھاں ماردے لہو دا انہاں زور

آئینے میں کھڑا یہ کوئی اجنبی تھا ہم تو نہ تھے۔ اتنی تہذیب چھلکاتا چہرہ کوئی اور تھا۔
فراق کے عشق نے،اور ہمارے زندگی نے سارے کس بل نکال دیئے۔
ہم نے نیازی کی نظم زیر لب گنگناتے عہد رفتہ کو آواز دی۔ہم خود کو روک کر پوچھنے کا فیصلہ کیا کہ۔۔۔۔ویکھیا ای اپنا حال۔
مصرعے کی تکرار سے گھبرا کر یا اکتا کر اندر کے جنگلی نے لٹھ مار انداز میں پوچھا کیا ہے۔

ہم نے پوچھا ویکھیا ای اپنا حال؟
جواب آیا ہمارا حال ویسا ہی ہے یہ تم ہو جو بدلی ہو۔
جواب نے گھڑوں پانی ڈال دیا۔ یعنی ہمارے اندر وہ جو مستقل ناراض روٹھی روٹھی سی روح ہے وہ ہم ہی ہیں۔
گویا
یہ مجلسی تبسم میرا رازداں نہیں ہے۔
آپ سب بھی سوچ رہے ہوں گے کہ ایسا کیا کر دیا زمانے نے ہمارے ساتھ جو ہم پہلیاں بجھوا رہے۔
ہوا کچھ یوں کہ آئینے میں خود کو دیکھ کر شدید دھچکا لگا۔
خود کو پہچان نہ پانا کیسا جانگسل ہوتا ہے یہ اس پر دیسی سے پوچھے کوئی جو جیسا دیس ویسا بھیس اپناتے اپناتے خود سے اجنبی کی طرح ملنے لگتا ہے۔ خود کو اوروں کی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔
کیسا کرب ہوتا ہوگا نا۔
ویسا ہی کرب تھا،اداسی تھی۔
یہ تخیل نہیں۔ حقیقت ہے۔

اگر سکول نہ بھیجتے تو بہت سی کرئیر اوپرچیونیٹیز ہوتیں ہمارے پاس۔ گینکسٹر بن جانا کیسا رہتا۔ جنگل میں ایک ٹری ہاؤس بناتے دو درختوں کے درمیان جھولے پر بیٹھے ہم رابن ہڈ سا ایک کردار ہوتے۔زور آور کے لئیے جھانسی سی نخوت لیے ہوئے۔ کمزور کے لیے نظام اور اپنے جیسے کے لیے گاڈ فادر۔۔
ناقابل فہم ناقابل اصلاح۔ جو کہ ہم اب بھی ہیں۔
لیکن اس زندگی میں ہم سے کہیں زیادہ ہمارے اردگرد کی خوشی ان کا اطمینان ہے۔
ہم ہوتے تو گینکسٹر ہوتے پائریٹ ہوتے۔ ہمارا نام بیک وقت خوف کی اور امید کی علامت ہوتا۔
ہم ہر بے جاں تکلف سے بغاوت کردیتے۔

جنگل میں نشانہ بازی کرتے دشمنوں سے لڑتے ایک جنگجو۔ جس کے ماورا عقل قصے مقامی آبادیاں خود گھڑ لیتیں۔
اور جو سمندر کی آنکھ میں موجزن طوفانوں کے آنے سے پیشتر اپنی سپاہ کو جزیروں کے سکون میں اتار لیا کرتے۔
دشمنوں اور دوستوں دونوں کو اغوا کرلیا کرتے۔
دشمنی میں حد سے گزرنے کے لیے۔
اور دوستی حد سے گزارنے کے لیے۔
بلا کے شدت پسند تو ہم اب بھی ہیں۔
تب ہمارے شدت پسندوں انتہاپسندوں گویا حکومتوں سے رابطے رہا کرتے۔
ہمارے جنگلوں جزیروں پر پولیس نہ ہوتی۔ کیونکہ استحصال کی کسی صورت اجازت نہ ہوتی۔ وہاں جرم ہی نہ ہوتا تو پولیس کی کیا ضرورت۔اب آپ سب سوچ رہے ہوں گے کہ کیسی مجرمانہ ذہنیت پائی ہے ہم نے کیسا انتہا پسند رویہ ہے۔ اور کیسی ایروگینس ہے۔
ارے بھائی رکھئے چیف جسٹس صاحب اتنے ججمنٹل مت ہوئیے آپ کو اس کی ہرگز تنخواہ نہیں ملتی۔
گویا آپکو بھی لگتا ہے یہ سب نہیں ہوتا ہمارے خاندانی روایات والے معاشرے میں؟
آپ بھی یہ سمجھتے ہیں مشرقی روایات والے معاشرے کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہآں خواتین مجرمانہ نہیں سوچتیں۔
ہماری بچیاں بڑی نیک ہوتی ہیں ایسے سوچ ہی نہیں سکتیں کرنا تو درکنار۔ وہ تو کاکروچ اور چھپکلی سے ڈر جاتی ہیں کہاں جنگلوں میں رہ سکتی ہیں۔
وہ تو کچن نائف بمشکل ہینڈل کرتی ہیں۔ اسلحہ کہاں چلا پائیں گی۔

سوال۔۔آپ نے پوچھا اپنی بچیوں سے؟
الجواب
پوچھنے کی کیا ضرورت۔۔ ہمیں سب معلوم ہے۔
گویا آپ غیب کے علم جانتے ہیں؟
توبہ استغفار یہ کیسی بات ہے۔
بھئی ہمیں معلوم ہے تو معلوم ہے۔
منطق کو ناک آؤٹ کرنے والے اس استدلال پر ہم سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں کہہ دیا۔

ہم بھی عجیب ہیں۔
اتنے عجیب کہ بس!!
جہالت کا نام معصومیت رکھ چھوڑا ہے۔
شعور کا چالاکی
آزادی اظہار پر قدغن لگا کر “تربیت” کرتے ہیں
اور منافقت معاشرتی اقدار کہلاتی۔
چوں چوں کا مربہ ترتیب پانے کے بعد خاندانی نظام کہلاتا ہے۔
اور استحصال کا نام ہے محبت۔
ہم بھی عجیب ہیں۔

منیر نیازی کہتا ہے۔

اس شہر سنگدل کو جلا دینا چاہیے
پھر اس کی راکھ کو بھی اڑا دینا چاہیے

خاموشی ہمارے ہاں ایمانداری کہلاتی ہے۔
اپنے حق کے لیے ڈٹ جانا بے شرمی۔
کیسا خوبصورت معاشرتی نظام ترتیب دے رکھا ہے ہم نے۔
اور ہر دوسرا شخص مستقل ناخوش ہے۔
ہر گھر میں یہ کہانی ہے مائیں بچوں کو ددھیال سے ملنے نہیں دیتیں۔
ایک صاحب کو کہتے سنا میرے بچے مجھے ولن سمجھتے ہیں۔ بچے سمجھتے ہیں سارا ددھیال ان کے خلاف سازش میں شریک ہے۔
بظاہر یہ کتنی عام کتنی سطحی باتیں ہیں۔ ذرا ویژن براڈ کر کے دیکھیں تو سارا معاشرہ اسی گھن۔چکر کا شکار ہیں۔
ہر شخص کو لگتا ہے دوسرا اس سے حسد کرتا ہے اس کے خلاف سازش میں شریک ہے۔
اور اس پر ہمارا یہ دعوی کہ کل عالم ہمارے اسی استحصالی خاندانی نظام کو تباہ کرنے پر تلا ہے کہ اس کے سوا چارہ نہیں۔

لوگو!جس خدا کہ ان دیکھے احکامات کی آڑ میں آپ زمینی خدا کا عہدہ پا چکے ہیں اس کا خوف کھائیے۔ استحصال کو محبت کہنا ہی چھوڑ دیجئے۔
وگرنہ جس تیزی سے آپ کا فیملی سسٹم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے مستقبل اس کی توڑ پھوڑ میں سپیڈ لمٹ بڑھانے ہی آئے گا۔ جس قدر گھٹن بڑھے گی اتنی تیزی سے مصنوعی لحاظ کے پردے چاک ہوں گے۔
کسی دن ججمنٹل ہوئے بغیر صرف مشاہدے کی غرض سے اپنے معاشرے کا مشاہدہ کیجئے۔ اندازہ ہوگا کہ بھس کے ڈھیر پر دیا سلائی لیے ہم بیٹھے ہیں۔ اب دیکھیئے کب یہ بھس آگ پکڑ لے اور کب یہ اعلی روایت کا حامل معاشرہ اپنی ہی آگ میں جل کر خاک ہوجائے۔
اس سے پہلے اگر کچھ سو خالص تقاضوں کی قربانی دے کر کچھ بچا سکتے ہیں تو بچا لیں۔ کیونکہ جب دریا چڑھ جاتے ہیں تو بندھ توڑنے پڑتے ہیں اسباب بچانے کے لیے طوفان کو راستے دینا پڑتے ہیں۔
وگرنہ مکمل تباہی زیادہ دور کا قصہ نہیں۔ دیوانے کی بڑ سمجھ کر خواب غفلت جاری رکھ سکتے ہیں۔

جاتے ہوئے آئینے والے اجنبی کو سنائی ہوئی نظم سنیے

ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻢ بھی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ !
ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ
ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﮭﯽ !۔۔۔
ﺑُﮩﺖ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮩﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ
ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﻈﻢ ﻟﮑﮫ ﮐﮯ
ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺟﮭﯿﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﮐﻮ ﺳُﻨﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺟﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺗﮭﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﻧﺌﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣُﺴﺎﻓﺖ، ﺟﺐ ﮐﺮﻥ ﮐﮯ
ﺳﺎﺗﮫ آﻧﮕﻦ ﻣﯿﻦ ﺍُﺗﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﻣﯽ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺮ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ
ہمیں ماﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ
ﮨﻢ ﮐﻮ ﺗﺘﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ
ﺟﮕﻨﻮؤﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﺲ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ۔۔
ﮨﻤﯿﮟ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﮕﻨﻮ، ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﯽ
ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ آﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻧﺌﮯ ﺩﻥ ﮐﯽ ﻣُﺴﺎﻓﺖ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺑﯽ ﮨﻮﺍ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑُﻼﺗﯽ ﮨﮯ
ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﮧ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﻭ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: