فیس بُک: اخلاقی معیار کا جھوٹا پلندہ —- اظہار احمد باچہ

0
  • 159
    Shares

فیس بک: چوری پہ بنیاد
فیس بُک تصویریں شائع کرنے کے لئے بننے والے فیس میش کی جدید قسم ہے۔ جس کا بانی بخدا ایسا قابل کہ اسے سوچ کے لحاظ سے اس صدی کا آئن سٹائن/1000 کہا جا سکتا ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ یہ ایجاد جہد مسلسل سے پروان چڑھنے والا کوئی عظیم کارنامہ نہیں بلکہ ایک آئیڈیا یا ایک لمحہ پر مشتمل ذہن میں تیزی سے گزرنے والا ایک خیال تھا جس سے فیس میش وجود میں آئی۔ یاد رہے کہ عام ذہنوں سے ایسے کئی آئیڈیاز ہر روز گزرتے ہیں لیکن محدود وسائل اور غیر متعلقہ ماحول کی کمی سے ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے مارک تقریباً خوش قسمت تھا کہ اسے امریکہ جیسا ماحول اور ایک عدد فائینینسر مل گیا۔ وگرنہ تو اگر وہ صومالیہ میں ہوتا تو آج دنیا کا کم عمر ترین بلئینئیر نا ہوتا۔ فیس بُک کی ابتدا کیسے ہوئی؟ مارک زکر برگ کی زندگی اس وقت بدلی جب ایک کلاس میٹ نے اس کے ساتھ بیوفائی کی۔ یوں تو مغرب میں بے وفائی اتنا بڑا روگ ہوتی نہیں ہے لیکن مارک نے اسے دل پر لیا۔ وہ یونیورسٹی کا مین سرور ہیک کر کے وہاں موجود تمام لڑکیوں کی تصویریں “چوری” کرتا اور ہر دو دو لڑکیوں کی تصویریں ایک فریم میں جڑواں کر واپس اوپن یونیورسٹی سائیٹ پر پبلکلی پوسٹ کر دیتا اور اوپر عنوان ہوتا کہ ‘ان میں سے کون سی اچھی ہے’۔

آگے کا قصہ کافی لمبا چوڑا ہے لیکن ابتدائی طور پر یہ چوری کی بنیاد پر کھڑا آئیڈیا تھا جس سے بعد میں فیس میش اور فیس بُک وجود میں آئی۔ تو فیس بُک پر اخلاقیات کا ڈھنڈورا پیٹنا بالکل ایسے ہے جیسے ایک بندہ کوڑے کے ڈھیر پر جائے نماز بچھا کر نماز ادا کرنا شروع کر دے۔

اخلاقی معیار پر مبنی کمیونٹی پالیسی اور دوغلا پن
فیس بُک مسلسل آفینسو ورڈز کے نام پر آزادی اظہار رائے کا حق چھین رہی ہے لیکن یہ کمیونٹی معیار صرف اور صرف چند ایک ممالک کے شہریوں اور ایک خاص مذہب کے پیروکاروں کے لیے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ اپنے اکاؤنٹ میں کومینٹ میں کسی کو قاتل، چور، ڈاکو، جنسی زیادت کار یا ریپسٹ کہے تو فوراً فیس بُک آپکو کمیونٹی اسٹینڈرڈ میں بلاک کر دیتا ہے بجائے اس امر کے کہ آپکی بات مدلل ہو اور مخاطب کھلے عام نہتے شہریوں کے ساتھ یہ تمام جرائم کرنے میں ملوث بھی ہو تو بھی آپکو بولنے پر قدغن ہے لیکن برملا یہ تمام جرائم کرنے والوں کے لئے فیس بُک نا صرف ایک پروپیگنڈا کا ذریعہ ہے بلکہ کبھی کبھار انکے دفاع میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ اچھے ہو کر بھی صرف کسی گروپ مثلاً سرمایہ داروں کے لئے لفظ چور استعمال کرے تو آپ بلاک ہوجائینگے لیکن سرمایہ داروں کے برے ہونے کے باوجود بھی فیس بُک انکے لئے پروپیگنڈا کا ایک ذریعہ ہے۔ لہذا فیس بُک کو جو کرنا ہے کرے لیکن موریلیٹی اور اخلاقی معیار کو کم از کم بیچ میں نا لائے۔ یہاں ایسے ایسے وحشیوں کا بھی بسیرا ہے جنھیں ماں کی گود میں بھی اخلاق اور انسانی اقدار نام کی کوئی چیز نہ دکھائی نہ پڑھائی گئی اور جو کم سن بچوں کو ہزاروں کی تعداد میں مار کر بھی اسکو جسٹیفائی کرتے ہیں۔ایسے میں انکی موجودگی سے خود فیس بُک ہی ایک گالی بن گئی ہے۔

کیمبرج اینالیٹیکا اور عام صارف کی معلومات کو بیچنا
ہم میں سے بہت سے ناسمجھ سوچتے ہیں کہ کیا مجھ سے فیس بُک کو کوئی فائدہ ہوتا ہے کیونکہ نا تو میں کسی اشتہار پر کبھی کلک کرتا ہوں نا کبھی فیس بُک پر دیکھی پراڈکٹ خریدتا ہوں تو جناب اسکا جواب ہے’ ہاں ‘ آپ فیس بُک کو کچھ نہیں لیکن اپنی سب سے قیمتی شے “راز اور معلومات” دیتے ہیں۔ معلومات سے کیا ہوتا ہے۔؟ فیس بُک کے ابتدائی دن سے لے کر اس لمحے تک فیس بُک آپکو مسلسل دیکھتا آیا ہے۔ آپکے ہر لائیک ہر کومینٹ ہر لفظ حتیٰ کہ ایک نئے کانسپریسی تھیوری کے مطابق فیس بُک میسنجر کے ذریعے آپکے موبائل مائیک سے آپکے منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کا ایک سٹریم یا دھاگہ بنتا ہے۔یہ معلومات کا خزانہ فیس بُک کا اصل ذریعہ معاش ہے۔سن 2013 میں بیک وقت پاکستان، انڈیا اور امریکہ میں الیکشنز ہوئے تھے۔ایک برطانوی کمپنی جو ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کمپین چلاتی تھی اور جسکا نام کیمبرج اینالیٹیکا ہے نے فیس بُک سے 87 ستاسی ملئین یوزرز کا ڈیٹا خریدا(کچھ رپورٹس کے مطابق ڈیٹا چوری ہوا)کیا؟ جی ہاں فیس بُک نے تقریباً ستاسی ملین افراد کا ڈیٹا کیمبرج اینالیٹیکا کو بیچا جس سے لوگوں کے رجحانات، ضروریات اور خواہشات کے تقاضوں کے مطابق کیمبرج اینالیٹیکا پاکستان بھارت اور امریکہ سمیت تقریباً دس ممالک میں الیکشن پر اثر انداز ہوئی۔ ایک بار پھر کہہ دوں کہ یہ اخلاقی معیاروں اور آزادی رائے عامہ کا شوشہ چھوڑنے والا فیس بُک ہے جس نے میرے اور آپ کے استصواب رائے کے حق کو بھی اپنے ہاتھوں میں لینے سے گریز نہیں کیا۔

کیا فیس بُک کا متبادل کچھ ہے؟
جی جناب! فیس بُک کا بخار ہمیں اس شدید نوعیت سے کیوں پڑا اسکا جواب شاید کم ہی لوگ جانتے ہوں۔ فیس بُک کے فساد برپا ہونے سے پہلے تک ڈائیری نویسی تقریباً ہر تعلیم یافتہ بندے کا شغل تھی جہاں آپکی زندگی کا ایک سٹریم بنتا۔ آپکی حسین یادیں لفظوں کی صورت میں بغیر کیمرے کے موجود ہوتی تھیں اور آپکی معلومات آپکی اتھارٹی تھیں کسی اور کی نہیں ڈائیری نویسی شروع کریں اور زندگی کے لمحات اور ساعات کے دھاگوں کو ایک مظبوط شکل و صورت میں اپنے ساتھ محفوظ رکھیں تاکہ وہ صرف آپکی پراپرٹی ہوں اور کسی کو اس میں کچھ ناپسندیدہ لگنے پر وہ آپکو بلاک نا کرے اور آپکی سال ہاسال کی محبتوں اور خوشیوں بھری ریکارڈ کو ضبط نا کرے۔

دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے کل کے دشمن آج کے دوست ہیں اور مظلوم کے لیے کوئی حق رائے دہی نہیں ہے۔ یہ سب صرف ایک دھوکا اور فریب ہے گزارش ہے کہ دوستوں اپنے فیس بُک اکاؤنٹس کو اپنی سی وی نا بنایئے۔ حتیٰ الامکان کم سے کم معلومات فراہم کریں۔ اپنے پیدائش کے دن سے لے کر اپنی ایک تصویر تک کسی بھی معلومات کو فضول نا سمجھیں۔ آج کی دنیا میں ہر کسی کے پاس ہر قسم کا ہتھیار ہے اگر جدوجہد ہے تو وہ صرف اور صرف معلومات کے لیے ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: