خلافت عثمانیہ کا زوال اور سعودیہ: مقتدا منصور کے جواب میں — علی عبداللہ

0
  • 49
    Shares

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہم تحقیق کم اور سنی سنائی پر کان زیادہ دھرتے ہیں جس بنا پر اکثر و بیشتر حقائق آنکھوں سے ہٹ جاتے ہیں اور باطل طاقتوں کا ایجنڈا غالب آنے لگتا ہے۔ بد قسمتی سے عام لوگ تو اس کے عادی ہیں ہی لیکن جب کچھ صاحبان علم اور نامور اخباری باشندے بھی گمراہ کب تاریخ بیان کرنے لگیں تو دلی افسوس ہوتا ہے۔ گو کہ میں کوئی صحافی یا اعلی درجے کا مصنف نہیں اور نہ ہی میں صحافت کے پیشے سے وابستہ لوگوں سے بحث و مباحثہ کرنے کا عادی ہوں کیونکہ ان لوگوں کی عمریں صحافت میں گزر چکی ہیں لہذا میرا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہے لیکن تاریخ اور تحقیق کا ادنی سا طالب علم ہونے کے ناطے میں تاریخی حقائق کو مسخ ہوتا یا انہیں پیچیدہ اور مبہم بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنے کو مناسب نہیں سمجھتا۔

ایک روز پہلے جناب مقتدا منصور صاحب کا کالم پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سعودی عرب میں تبدیلی کی لہر نامی اس کالم میں انہوں نے سعودی شہزادے کے حالیہ انٹرویو کا ذکر اور اسکے اثرات کا جائزہ لیا اور یہ حقیقت ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان جدیدیت کی حمایت میں سعودی و اسلامی روایات کو پس پشت ڈالنے کی کوشش میں ہے- لیکن اس کالم کی اہم بات وہ تاریخی حقائق تھے جن کا انہوں نے غیر منصفانہ ذکر کیا – مقتدا منصور صاحب کا کہنا تھا کہ جنگ عظیم اول میں ترکی کی شکست کے بعد حسین بن علی نے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کر دی اور 1916 میں ہی حجاز پر اپنی حکمرانی کا اعلان کر دیا اور 1925 تک حکمران رہا- دوسری بات انہوں نے یہ لکھی کہ برطانیہ کی یہودی تنظیم کے سربراہ لارڈ روتھ چائلڈ کو آرتھر بالفور نے اسرائیلی ریاست کی یقین دہانی کروائی اور جب حسین بن علی نے فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی مخالفت کی تو برطانیہ نے شاہ عبدالعزیز سے رابطہ کیا اور ابن سعود نے اس شرط پر اسرائیلی ریاست کے قیام کو قبول کر لیا کہ بدلے میں پورے جزیرہ نما پر ان کا حق حکمرانی تسلیم کیا جائے گا- تیسری بات انہوں نے یہ لکھی ہے کہ اسرائیلی ریاست کی مخالفت میں چونکہ دنیا بھر کے مسلمان کمربستہ ہو چکے ہیں تو یہ سعودی عرب کی مجبوری ہے کہ وہ برطانیہ سے لیا گیا معاہدہ پس پشت ڈال کر مسلمانوں کا ساتھ دیں۔

تاریخ یہاں مختلف ہے اور کالم نگار شاید یہ بات بھول گئے کہ استنبول میں پیدا ہونے والا یہ شخص حسین بن علی حجاز میں عثمانیوں کا آخری امیر تھا_ آغاز میں یہ خلافت عثمانیہ کے ماتحت اور ترکی اتحاد کے ساتھ تھا اور جرمنوں کے ساتھ جنگ میں بھی موجود تھا_ انگریزوں کی جانب سے جب یہ افواہ پھیلائی گئی کہ جنگ کے اختتام پر اسے معزول کر دیا جائے گا تو اس نے جاہ پرستی میں مبتلا ہو کر بغاوت کا آغاز کیا _ حسین میک موہن معاہدے کے تحت حسین بن علی کو شام کے ساحلی علاقے اور بحر احمر کا سارا علاقہ دینے کا وعدہ کیا گیا اور اس سلسلے میں حسین بن علی نے بغاوت کا باقاعدہ آغاز کر دیا_ شریف مکہ کا بیٹا فیصل اول تھا جس نے ٹی ای لارنس جو کہ لارنس آف عریبیہ بھی کہلاتا ہے کے ساتھ مل کر بغاوت کے لیے تیاریاں جاری رکھیں_ یاد رہے بغاوت کا آغاز مکہ سے ہوا اور جون 1916 میں شریف مکہ نے ہاشمیہ محل سے فائر کیا جو کہ بغاوت کا اشارہ تھا اور اس کے ساتھ 5000 ہزار غدار اور بھی تھے_ جبکہ 1916 میں ہی شریف مکہ کے بیٹوں کی سرکردگی میں مدینہ پر حملہ کیا گیا_ عبداللہ بن حسین, علی بن حسین اور فیصل بن حسین نے فرانسیسی افسروں سے مل کر مدینہ کا محاصرہ کر لیا اور یہ محاصرہ 1919 کے آغاز تک جاری رہا_ اسی محاصرے میں لارنس آف عریبیہ بھی شامل تھا- فروری 1919 میں شریف مکہ کے بیٹے علی اور عبداللہ مدینہ میں داخل ہو گئے_ کالم نگار یہاں شاید یہ بھی بھول گئے کہ اس کے بعد بجائے اس کے کہ شریف مکہ کو معاہدے کے تحت بادشاہت دی جاتی غداروں سے بھی غداری ہوئی اور picot” sykes معاہدہ جو کہ فرانس اور برطانیہ کے بیچ جنگ عظیم اول میں ہوا تھا سامنے آیا_ اس معاہدے کے مطابق شام اور لبنان فرانس جبکہ باقی عرب برطانیہ کے حصے میں آیا اور حسین بن علی منہ دیکھتا رہ گیا لیکن اسکے باوجود 1924 میں شریف مکہ نے اپنی باقاعدہ خلافت کا اعلان کیا جسے انگریزوں نے قبول نہ کیا۔

حسین بن علی

دوسری بات یہ کہ حسین بن علی کی بجائے ابن سعود نے اسرائیلی ریاست کے قیام پر آمادگی ظاہر کی تو شاید یہاں بھی کالم نگار نے عبدالعزیز اور صدر روز ویلٹ کے مابین 1938 میں ہونے والی ملاقات اور خطوط کے بارے میں نہیں پڑھا۔ شاید وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ابن سعود اور امریکی صدر روز ویلٹ کے مابین خط و کتابت اور ملاقات کی تفصیل اسرائیلی اخبارات اور دیگر مغربی میڈیا پر موجود ہے جس میں انہوں نے یہودیوں کو غدار، دھوکے باز اور خانہ بدوش کہا ہے- نومبر 1938 میں ابن سعود نے امریکی صدر روز ویلٹ کو لکھا کہ یہودیوں کا فلسطین پر کوئی حق نہیں اور ان کی طرف سے یہ مطالبہ نا انصافی پر مبنی ہے۔عبد العزیز ابن سعود نے یہ بھی لکھا کہ فلسطین تاریخی طور پر عربوں سے منسلک ہے اور یہ عرب ممالک کے مرکز میں ہے۔ ابن سعود نے انتباہ کیا کہ اگر یورپ کے یہودی فلسطین داخل ہوئے تو آسمان پھٹ جائے گا، پہاڑ لرز جائیں گے اور زمین ہل جائے گی – پانچ سال بعد 1943 میں ابن سعود نے ایک اور خط لکھا جس میں مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات کا تاریخی جائزہ بیان کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی یہودی مسلمانوں کے دشمن رہے ہیں۔اس کے دو سال بعد فروری 1945 میں صدر روزویلٹ اور ابن سعود کی کی نہر سویز میں ایک جہاز پر پہلی ملاقات ہوئی۔ابن سعود نے ایک خطیر امریکی امداد یہودیوں کو فلسطین لانے کے عوض رد کر دی اور انتباہ کیا کہ امریکہ کو عربوں یا یہودیوں میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا اور عرب یہودیوں کو یہ سرزمین دینے کی بجائے مرنے کو ترجیح دیں گے۔ اسی سال 5 اپریل کو صدر روزویلٹ نے ابن سعود کو خط لکھا اور یقین دہانی کروائی کہ امریکہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے عربوں کی سلامتی کو خطرہ ہو۔ دو ماہ بعد ہی صدر روزویلٹ کی وفات ہو گئی اور ابن سعود کی تمام جدوجہد ماند پڑ گئی اور اسے فلسطین کی سرزمین پر خونی فسادات کی پیشگوئی حقیقت کے روپ میں دیکھنا پڑی۔

سیاست اپنی جگہ لیکن تاریخی حقائق کا قلع قمع کرنا اور عوام کو کشمکش میں مبتلا کرنا ایک سینئر صحافی کو زیب نہیں دیتا- سعودی عرب کے سیاسی حالات کی بنیاد پر حکمران متنازعہ فیصلوں پراتر آئےہیں لیکن اس کے باوجود تاریخی حقائق جوں کے توں ہیں- ان حقائق کو چھپانے یا بدلنے سے عوام وقتی طور پر پیچیدگی کا شکارہو سکتی ہے لیکن ذرا سی بھی تحقیق ان تمام لکھاریوں کا پردہ فاش کر سکتی ہے بس ضرورت سنی سنائی پر اکتفا کر لینے کی بجائے خود بھی ہاتھ پاؤں ہلانے کی ہے- ابن سعود کی اسرائیل مخالفت اور امریکی امداد درشت لہجے میں رد کرنا اس بات کی نفی ہے کہ حسین بن علی کی بجائے ابن سعود نے اسرائیلی قیام کی حامی بھری تھی اور اب سعودی کسی مجبوری کے تحت مسلمانوں کا ساتھ دے کر صیہونی ریاست کی مخالفت کرتےہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: