عسکری کاروبار اور رئیل اسٹیٹ کی بحث: کچھ پہلو —- محمد خان قلندر

0
  • 39
    Shares

ہمارے ہاں افواج پاکستان پہ جایز ناجایز تنقید کرنا ایک فیشن بن گیا ہے اور کچھ نام نہاد دانشور اس تنقید میں یہ حد بندی کرنا بھی بھول چکے ہیں کہ افواج کا آئینی اور قانونی کردار کیا ہے اور کہاں سے اس سے ماورا کردار شروع ہوتا ہے۔ زیر نظر مضمون میں محمد خاں قلندر نے افواج کے قانونی مناسب و اختیارات کی کچھ وضاحت کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی راے سے کامل اتفاق لازم نہیں ہے۔


افواج پاکستان ملکی سلامتی، بیرونی جارحیت کے دفاع کےساتھ اندرونِ وطن دشمن عناصر کی بیخ کنی، امن و امان اور قدرتی آفات سے نپٹنے کی منصبی طور پر ذمہ دار ہیں۔ اسی طور ریاست کے دیگر اداروں کے ملازمین کی طرح ان کے افسران و جوان بھی مروجہ مراعات اور ریٹائرمنٹ پر دی جانے والی سہولیات کے حقدار ہیں۔ بطور ریاستی ادارہ اپنے ارکان کی حفاظت، ویلفیر، بحالی اور خوشحالی کے اقدامات کے لئے ذیلی ادارے بنانے کی مجاز ہیں۔ آباد کاری کی سرکاری سکیموں کی طرح ان کو بھی ہاؤسنگ اتھارٹی بنانے اور دیگر رفاعی، تعلیمی، تنظیمیں قائم کرنے کا استحقاق ہے۔

کئی عشرے قبل کراچی میں ریٹائرڈ نیول آفسیرز نے، نیول آفیسرز پرائیویٹ کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی لمیٹڈ متعلقہ قانون کے تحت رجسٹرڈ کرائی۔ جو اس وقت ملک میں بننے والی ایسی سیکڑوں سوسائیٹیز میں سے ایک تھی، منتظمین کی دیانت اور محنت سے ترقی کرتے ملک میں دیگر ڈیولپمنٹ اتھاریٹز کی طرح یہ بھی ڈیفنس آفسیرز کوآپرٹیو سوسائیٹی اور بعد میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بن گئی۔

مروجہ انجنیئرنگ افسران اور ٹھیکہ دار کے کرپشن کے گٹھ جوڑ سے محفوظ اور بہترین تنظیمی مہارت سے اعلی معیار کی سہولیات کی فراہمی سے اور ملک میں مکانوں کی کمی پوری کرتے اب یہ لاہور، اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں میں قائم ہو چکی ہیں۔

یہ بنیادی طور پر افواج کے ریٹائرڈ ملازمین کو پلاٹ مہیا کرنے والا پرائیویٹ سیکٹر میں اب سب سے بڑا ادارہ ہے۔ جس کے مقابل پبلک سیکٹر میں قائم ہر شہر کی ڈولپمنٹ اتھارٹیز، امپرومنٹ ٹرسٹ اور دیگر تعمیراتی ادارے ہیں۔ جن کے ساتھ اب تو ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی ہر جگہ بھر مار ہے، لیکن سب میں کرپشن، لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔

اسلام آباد میں کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی جو اس شعبے کا ملک کا سب سے بڑا ادارہ تھا اسکی کرپشن تو ایک تھیسس کی متقاضی ہے۔ اب یہاں ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاؤن ہاؤسنگ انڈسٹری میں سر فہرست ہیں۔ سی ڈی اے عالم نزع میں ہے!

یہ مغالطہ دور کرنا ضروری ہے کہ صرف افواج کے افسران کو کینٹ ایریا میں پلاٹ الاٹ ہوتے ہیں۔

مرکزی حکومت کے تمام افسران کو بشمول جج صاحبان اسلام آباد میں کوٹے مطابق رہائشی سیکٹرز میں پلاٹ ملتے ہیں اب تو ہاؤسنگ فونڈیشن کو پورا سیکٹر دیا گیا ہے، دیگر ملازمین کو بھی فلیٹس دیئے جاتے ہیں۔
اسی طرح کینٹ ایریا میں افسران کو پلاٹ اور دوسرے ریٹائرڈ رینکس کو فلیٹ بنا کے دیتے ہیں یہ کام ویلفیر ڈائریکٹوریٹ کرتا ہے۔ کینٹ ایریا میں ساری الاٹمنٹ لیز پر کی جاتی ہے۔
ہاؤسنگ سیکٹر میں کسی بھی فوجی ادارے کو دوسرے اداروں کے مقابل کوئ ترجیح حاصل نہیں۔
ڈی ایچ اے کے علاقے میں تو فوجی اور سویلین آبادی برابر ہو گی لیکن کینٹ میں تو غیر فوجی زیادہ مقیم ہیں
یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ افواج کے سابقہ ملازمین کی پنشن کے علاوہ انکی بہبود کے کسی پروگرام یا ادارے
کے لئے نہ کوئ بجٹ مختص ہوتا ہے اور نہ ہی ریاست سے کوئ گرانٹ دی جاتی ہے یہ سارے پراجیکٹس اپنی مدد آپ اور کوآپریٹیو کے اصول پر چلتے ہیں۔

اس کے مقابل سویلین سائیڈ پے ملازمین کی فلاح کے ادارے بطور ذیلی سرکاری ادارہ سرکار کے بجٹ سے فنڈزلیتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر میں دس سے بیس مستقل ملازم رکھنے والے ادارے کو رجسٹر کر کے ماہانہ سوشل سیکورٹی وصول کی جاتی ہے جس کی ڈسپنسریاں اور دیگر سہولیات کے فراہمی کا حشر متاثرین کی داستان عبرت ہے۔ ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹ یا ای او بی آئ کے سیکنڈل تو زبان زدِ عام ہیں۔ ورکرز ویلفیر فنڈ اور پرافٹ پارٹیسیپیشن فنڈ کی وصولی بطور ٹیکس کی جاتی ہے لیکن اس کو کہاں خرچ کیا جاتا ہے اگر کسی کو علم ہے تو سب کو خبر کرے۔

ایک اور اہم امر مربعوں یعنی زرعی زمین کی الاٹ منٹ ہے جس کا چرچا تو کیا جاتا ہے لیکن حقائق بتائے نہی جاتے
یاد رہے کہ تقسیم کے بعد کینٹ ایریا کی زمین ملٹری اسٹیٹ آفس، مستقل مالکان کی ملکیت بدستور اور باقی ساری زمین صوبائ حکومتوں کو ٹرانسفر ہوئ۔ 1956 تک پرائیویٹ ملکیت کے مالکانہ حقوق موجود رہے۔ قابضین مزارعے اور غیر مستقل مالکان اس کے بعد ملکیت کے حقدار بنے۔ سرکاری املاک وفاق، صوبائ حکومت اور سرکاری محکموں کی ملکیت تھیں۔

پنجاب کے نہری نظام میں آباد کاری کے لئے سرکار کی خدمات دینے والوں کو برطانوی دور سے یہ الاٹ ہوتی آئیں۔ یہ طریقہ اب بھی مروج ہے غیر آباد زمین الاٹ کی جاتی ہے اور الاٹی اسے آباد کرتے ہیں۔ گھوڑی پال سکیم بھی اس کا حصہ ہے۔ ان زمینوں میں سے کچھ رقبہ صوبائ حکومت افواج کے لئے بھی مختص کرتی ہے جس متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے فوجیوں کو بھی الاٹ کیا جاتا ہے۔ آبادکاری کے ضمن میں یہ حقیقت بھی مد نظر رہے کہ فوج کی اکثریت زرعی بیک گراؤنڈ سے آتی ہے اور بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کی بھی اہلیت رکھتی ہے۔

سیاسی مفاد اور مخاصمت کی وجہ سے افواج کی کردار کشی کے مذموم پروپیگنڈہ سے جھوٹ اور فرضی الزامات لگانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے، غیر فوجی اداروں کے پاس اجتماعی طور پر فوج کے مقابلے میں کیئ گنا زیادہ وسائل ہیں لیکن بد انتظامی اقربا پروری، نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے کوئ ادارہ تسلی بخش کام نہی کرتا، اپنی ناکامی چھپانے کے لئے فوج کو بد نام کرنا بدترین وطن دشمنی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: