خاکہ —- عارفہ رانا کا افسانہ

0
  • 44
    Shares

’’کیسی جا رہی ہے تمہاری جاب؟‘‘دوسری جانب سے پوچھا گیا۔۔
مہر نے لمبا سانس لے کر فون دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا اور بولی۔۔
’’پولیس کی نوکری بہت ہی اعصاب شکن ہوتی ہے خاص کر فرانزک لیب میں۔ اور کام خاکہ نویسی ہو۔بے شمار لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور ان کے بتائے ہوئے نقش و نگار کے مطابق خاکہ بنانا پڑتا ہے‘‘۔۔
’’مطلب تم کارٹونز بھی بناتی ہو۔۔‘‘ دوسری جانب سے کھنکھتی ہوئی شرارتی آواز ابھری۔۔
’’ارے نہیں یار۔ لیکن کسی حد تک کچھ لوگ اس دنیا کے نہیں لگتے۔۔‘‘ مہر نے سنجیدگی سے کہا۔۔ پھر گویا ہوئی۔۔
’’کیمرہ کی فوٹیج سے خاکہ بنانا پھر بھی آسان کام ہے لیکن لوگ تو ایسی ایسی باتیں بتاتے ہیں اور ایسے ایسے چہرے کے نقوش بنواتے ہیں کہ ہنسی نہیں رکتی ،یعنی بقول تمہارے کارٹونز، لیکن کیا کروں کام ہی ایسا ہے اب لوگوں کے سامنے ہنسا بھی تو نہیں جا سکتا۔ورنہ آفیسرز کے سامنے خوامخواہ میں کلاس لگ جاتی ہے۔ مجھے تو کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ شائد دنیا میں اتنے لوگ نہیں ہیں جتنے خاکے میں پچھلے چند ماہ میں بنا چکی ہوں اور شائد لوگ اتنے عجیب بھی نہیں ہیں جتنا ان سکیچز میں نظر آتے ہیں ــ‘‘اس نے عجیب سا منہ بناتے ہوئے جواب دیا۔
مہر اپنی جاب کے فارغ وقت میں فون پر اپنی واحد دوست کے ساتھ گپیں لگا کر ٹائم پاس کر رہی تھی۔ تقریبا سارا دن معمول کے مطابق ہی گزرا تھا یعنی مصروف اور ابھی ہی کچھ فراغت ملی تھی۔وہ پولیس فرانزک لیباٹری میں بطور FS (Forensic Scientist) کام کر رہی تھی۔
اچانک اس کا انٹر کام بجا۔ اور وہ اپنی دوست کو ہولڈ کروا کر انٹر کام کی طرف متوجہ ہوئی۔ دوسری جانب اس کے سیکشن آفیسر تھے جو اس کو اپنے آفس آنے کو کہہ رہے تھے۔ مہر نے جلدی سے اپنے سیل فون پر آئی کال کو بنا بتائے کاٹا۔ اور بالوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو ٹھیک کرتے ہوئے آفس سے نکل کر باس کے کیبن کی طرف بڑھ گئی۔
فرانزک سیکشن ٓفیسر افضل صاحب اپنے ہاتھ میں چند کاغذات تھامے ہوئے بیٹھے تھے۔ اور ان کے سامنے ایک سانولی خاتون جو 70کے قریب ہوں گی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کے بال عمر کے ساتھ سفید ہو چکے تھے۔ ناک پر نظر کے چشمے کا نفیس سا فریم ٹکا تھا۔ مجموعی طور پر ان کی شخصیت اس عمر میں بھی اثر انگیز تھی۔ مہر نے دھیرے سے دروازہ بجایا۔۔۔
مہر اندر آجائو‘‘۔ افضل صاحب اسی کے منتظر بیٹھے تھے۔۔۔
اس نے اندر داخل ہونے کے بعد ایک نظر اس خاتون کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرائی۔ افضل صاحب کی زیرک نگاہ سے یہ بات چھپی نہ رہ سکی انہوں نے فورا پوچھا۔۔’’ کیا آپ ایک دوسرے کا جانتے ہیں‘‘؟۔
مہر اور خاتون جن کا نام سکینہ تھا ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ مہر نے فورا سیدھے ہوتے ہوئے جواب دیا ’’نہیں ہم پہلے کبھی نہیں ملے‘‘۔۔۔
’’ارے مس مہر میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا۔ ‘‘ افضل صاحب نے اپنے ہاتھ میں پکڑے کاغذات مہر کی جانب بڑھائے۔۔۔
’’یہ دیکھیں، شہر کے مشہور بزنس مین کبیر ملک کا مرڈر ہو گیا ہے۔یہ ان کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ ہے۔ یہ خاتون موقع پر موجود تھیں۔ ان کا فلیٹ کبیر ملک کے سامنے والے دونوں فلیٹس میں سے ایک ہے۔ انہوں نے قاتل کی شکل دیکھی ہے۔ یہ آپ کو خا کہ بنوائیں گی۔ با قی ڈیٹیلز کے لیے آپ ان رپورٹس کو دیکھ لیں۔‘‘ مہر نے خاموشی سے کاغذات پکڑے اور خاتون کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
مہر نے اپنے کمرے میں آتے ہی رپورٹس پڑھنی شروع کی جبکہ خاتون اس کے سامنے کی نشست پر بیٹھ کر اس کو دیکھ رہی تھی اور ان کے ہونٹوں پر ایک بار پھر سے مبہم سی مسکراہٹ تھی۔

رپورٹس کے مطابق کبیر ملک کو انتہائی قریب سے گولی ماری گئی، جبکہ ان کے دونوں بیٹے اور ایک بیٹی سبھی اس وقت کہیں اور موجود تھے جس کا ان کے پاس مناسب ثبوت اور گواہی (ایلی بائی) بھی موجود تھی۔اس صورت میں کوئی سراغ لگانے کے لیے کسی قسم کی مدد تو درکار تھی۔ وہ مدد ان کے فلیٹ کے سامنے والے فلیٹ میں رہنے والی خاتون کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قاتل کو انہوں نے اپنے دروازے کی جھری سے بھاگتے ہوئے دیکھا ہے اور اس دوران جس حد تک دیکھ سکتی تھی وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں بتا سکتی۔ افضل صاحب کو ہائی پروفائیل مرڈر کیس کو کسی طرح تو حل کرنا تھا۔ ایک تو کبیر ملک کی شہرت بہت اچھی تھی۔ بہت برس پہلے ان کی بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنے بچوں کوخود ہی پالا۔ اب شائد وہ سب کچھ ان کے نام کر کے ریٹائرڈ زندگی اسی فلیٹ میں گزارنا چاہتے تھے جہاں انہوں نے اپنی شادی شدہ زند گی کا آغاز کیا تھا۔
مہر نے پیپر اور پنسل سمبھالی اور خاتون سے مخاطب ہو کر کہا ’’ جی میڈم آپ ڈیٹیلز بتاتی جائیں جہاں تک آپ کو یاد ہو جیسا بھی یاد ہو۔ کچھ بھی مت بھولیے گا‘‘۔۔۔

اسی دوران عثمان جو اس کے ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھتا تھا وہ ان کی جانب متوجہ ہوا۔۔ عثمان نے حال ہی میںCSI (Crime scene investigation Unit) کو جو نیئر فارنزک آفسیر جوائن کیا تھا اس نے بھی مہر کی طرح فائن آرٹس میں ماسٹرز کیا تھا ابھی اس لیے اس کو CISS ( criminal identification and sketching system) کے پروسیجرز اور کام کو فی الحال کا سیکھنے کے لیے مہر کے ساتھ اٹیچ کیا گیا تھا۔۔
سکینہ خاتون ایک مسکراہٹ کے ساتھ مہر کو ڈیٹیلز بتاتی رہیں اور مہر ان کے بتائے کے مطابق اسکیچ بناتی رہی۔ اس دوران عثمان جو کہ ابھی بہت کچھ سیکھنے کے مراحل میں تھا اس کو اسکیچ بنوانے والی خاتون کا رویہ کچھ عجیب سا لگا۔
عثمان کے والد پولیس کے ایک نہائیت قابل آفیسر تھے اور ایک دہشت گرد حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ تب عثمان بی اے فائن آرٹس میں پڑھ رہا تھا۔ اس کے والد کی خواہش تھی کہ وہ فورس جوائن کرے اس لیے وہ اس کی بنیادی تربیت گھر پر ہی کر رہے تھے جن میں کسی بھی انسان کو جج کرنا اور اس کی باتوں سے اپنے مطلب کی بات نکالنا جو آگے جا کر کیس میں ہیلپ کرے غرض وہ اس کو دماغی طور پر ہر طرح سے اس جاب کے لیے تیار کرنا چاہ رہے تھے مگر زندگی نے ساتھ نہ دیا۔ پھر بھی اس کو وہ بہت کچھ سیکھا گئے۔۔۔۔ اور یہی وجہ تھی کہ عثمان کو مہر کی جانب اس خاتون کا عجیب رویہ کھٹک گیا تھا۔ اور انتہائی غور سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھا۔۔۔ مہر کو اس کے ارتکاز کا احساس ہوا۔تو اس نے اس کی جانب دیکھ کر ایک دوستانہ مسکراہٹ اچھالی اور دوبارہ سے اپنے کام میں لگ گئی۔ اس مسکراہٹ نے عثمان کو ارتکاز توڑنے پر مجبور کر دیا۔۔۔
’’ بہت شکریہ میڈم سکینہ آپ نے ہماری مدد کی ‘‘ یہ کہہ کر مہر نے اس خاتون سے ہاتھ ملایا۔۔۔
’’ لڑکی تم بہت محنت طلب کام کرتی ہو ‘‘ یہ کہتے ہوئے خاتون مڑی اور باہر کی جانب چل دی۔۔۔
مہر نے میز پر بکھرے اسکیچ پیپرزاکھٹے کیے اور پنسلزکو پینسل ہولڈر میں ڈالا اس دوران عثمان اس کے بنائے اسیکچ کو غور سے دیکھتا رہا نہ جانے کیوں وہ شخص اس کو جانا پہچانا لگا۔۔۔ مہر نے اپنی چیزیں سمیٹنے کے بعد اسیکچ اس کے ہاتھ سے پکڑا اور اپنے سیکشن آفیسر کی افضل صاحب کی جانب چل دی تاکہ قاتل کا خاکہ ان کو دے دے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افضل صاحب نے خاکہ نقلیں کروانے کے بعد مختلف تھانوں میں بھجوا دیا اور کریمنلز کے موجود ریکارڈز سے بھی میچ کرنے کے لیے بھی بھجوا دیا۔۔ لیکن جوں جوں وہ خاکہ دیکھتے جاتے تھے وہ الجھتے جا رہے تھے۔کہیں تو کوئی گڑ بڑ تھی جو ان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اسی اثناء میں عثمان کسی کام سے ان کے کمرے کے آگے سے گزرا اس نے ان کو اس اسکیچ کی جانب گھورتے ہوئے دیکھا تو ان کی جانب چل دیا۔ اجازت لے کر وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
’’آئو عثمان آئو۔ خیریت سے آئے۔ کچھ سیکھ بھی رہے ہو مہر سے یا نہیں۔‘‘ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا اسکیچ ایک جانب رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
’’ جی سر آبزرو کر رہا ہوں ان کو اچھا کام ہے ان کا اور طریقہ بھی۔ بلکہ آج جو انہوں نے اسیکچ بنایا تب بھی ان کے ساتھ ہی تھا‘‘۔ عثمان نے تفصیل سے بتایا۔۔۔
’’ اوہ ہاں یہ اسکیچ۔۔ اس میں کچھ عجیب ہے جو سمجھ نہیں آرہیــ‘‘۔ انہوں نے ایک بار پھر سے اسیکچ کو غور سے دیکھا۔۔۔
عثمان نے وہ اسیکچ ان کے ہاتھ پکڑا اور غور سے دیکھا۔ اچانک ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور اس نے افضل صاحب سے پوچھا۔۔۔’’ سر اگر مناسب سمجھیں تو کیس کی ڈیٹیلزشئیر کر یں شائد میں کچھ سمجھ پائوں‘‘۔۔۔۔
’’ عثمان یہ تمہارا کام نہیں ہے۔ لیکن ہم چونکہ کرائم سین انوسٹی گیشن ٹیم کا حصہ ہیں۔ اس لیے میں اس کو تم سے ڈسکس کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ میں تمہاری ذہانت جانتا ہوں اس لیے تم سے شئیر کرتا ہوں‘‘۔ افضل صاحب یہ کہتے ہوئے کرسی پر سیدھے ہو کر بیٹھے، اور اپنی بات کا آغاز کیا۔۔
’’ اس قتل کا مقصد واضح نہیں ہے۔ کبیر ملک ساری جائیداد کی وصیت بنوا چکا تھا۔ اور اس بات کا علم اس کی اولاد کو بھی تھا اور وہ اس کی گئی تقسیم سے خوش بھی تھے۔ اس کے علاوہ اس کے کوئی وارثین بھی نہیں تھے۔ قاتل نے گھر کے کسی سامان کو چھوا تک نہیں حالانکہ تجوری میں کافی نقدی اور سونا موجود تھا۔ گولی قریب سے لگی اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو کوئی ہے جاننے والا ہے۔ بلڈنگ کے چوکیدار کے مطابق کوئی نیا شخص اندر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی انجان شخص کبیر ملک سے ملنے آیا۔ سامنے کے ایک فلیٹ میں رہنے والی خاتون نے جو اسکیچ بنوایا وہ نہ جانے کیوں مجھے الجھن میں ڈال رہا ہے۔‘‘ افضل صاحب نے تمام باتیں تفصیلا بتائیں۔۔۔۔
عثمان نے اسکیچ اٹھایا اور غور سے دیکھا اور میز پر رکھ دیا۔۔’’سر ایک بات کہوں؟۔‘‘ اس نے کچھ کہنے کی اجازت مانگی۔۔ افضل صاحب نے اس کی طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
عثمان نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن پھر کچھ سوچ کر خاموش ہو گیا۔۔ پھر بولا ’’ کچھ نہیں سر بس اب میں چلوں گا۔‘‘ عثمان جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر کچھ سوچ کر واپس مڑا اور بولاــ’’ چونکہ میں CSI کا آفیسر ہوں لیکن جونئیر ہوں۔ اس لیے بس ایک دفعہ مجھے موقع پر جانے کی اجازت چاہیے۔ کیونکہ آپ سیکشن انچارج ہیں۔‘‘۔۔۔
افضل صاحب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔اور بولے ’’ میں FSI (Forensic scene investigator)سے بھی کہہ دیتا ہوں کہ وہ انفارمیشن تم سے شئیر کر لے‘‘۔۔
’’جی سر‘‘۔۔عثمان کا ہاتھ سیلیوٹ کے لیے ماتھے تک گیا اور مسکرا کر پلٹا اور دروازے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
چند روز بعد عثمان، افضل صاحب کے کمرے میں بیٹھا کچھ تفصیلات بتا رہا تھا۔ جنہیں سن کر ان کو حیرت ہو رہی تھی کہ کسی کا راز بھی اس کی جان لے سکتا ہے۔ اور وہ بھی اتنے عرصہ بعد جب کہ اس کے فاش ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑے۔۔۔
افضل صاحب نے مہر اور سکینہ خاتون کو بھی بلایا تھا لیکن نہ تو مہر کو ان کے آنے کا پتہ تھا اور نہ سکینہ خاتون کو مہر کے اس طرح سے بلائے جانے کا علم تھا۔
اب کیس کھلی کتاب کی طرح واضح تھا اور مجرم پر حیرت بھی تھی اور جو مجرم تھا اس کا مجرم ہونا ناقابل یقین سا لگتا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
افضل صاحب نے اسی شام اپنی ٹیم کی میٹنگ کانفرنس روم میں بلوائی تھی۔
افضل صاحب، مہر اور عثمان کانفرنس روم میں خاموش بیٹھے تھے سامنے ملزم کا خاکہ پڑا تھا اس خاکے پر کچھ نشان لگے تھے۔۔۔۔
انٹر کام کی گھنٹی نے سکوت توڑا۔۔۔ افضل صاحب نے انٹر کام اٹھا یا اور مخاطب کی بات سن کر کہا ’’ میں نے ہی بلایا ہے اندر بھیج دو۔۔‘‘
چند منٹوں کے بعد سکینہ خاتون اپنی گریس فل پرسانلٹی کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔ آج ان کے چہرے سے وہ مسکراہٹ غائب تھی جو ان کے ساتھ چپکی رہتی تھی شائد کچھ پریشان تھیں۔۔۔۔
’’ میڈم سکینہ۔۔ کیا آپ ٹھیک ہیں۔؟‘‘ افضل صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا۔۔
’’جی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کہیں کس لیے یاد کیا مجھے۔ ؟جہاں تک مجھے یاد ہے جو کچھ مجھے معلوم تھامیں بتا چکی ہوں۔ ۔۔‘‘ سکینہ خاتون نے جلدی جلدی اپنی بات مکمل کی اور سب کی طرف ایک طائرانہ نظر ڈالی۔۔۔
افضل صاحب نے عثمان کو اشارہ کیا۔۔ اس نے ایک اسکیچ اپنی فائل سے نکالا اور اس کی ایک کاپی مہر اور ایک سکینہ کے آگے رکھ دی۔ دونوں نے حیرت سے اسکیچ کی طرف دیکھا اور جہاں کی تہاں رہ گئیں۔وہ اسیکچ کسی مرد کا نہیں تھا بلکہ وہ ایک عورت کا تھا۔ جس کی ناک بالکل اس مرد کے اسیکچ جیسی تھی، جو پہلے بنوایا گیا تھا۔۔۔۔
’’ سر یہ تو ووو۔۔۔؟؟‘‘ مہر نے اسیکچ کی جانب اشارہ کیا
’’ جی مس مہر جو آپ دیکھ رہی ہیں وہ ہی درست ہے۔‘‘افضل صاحب نے اسکیچ کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
’’لیکن یہ کس نے بنوایا۔۔‘‘ مہر نے بے ساختہ پوچھا
’’مس مہر میں رات بھر اس اسکیچ کو سوچتا رہا اور پھر خواب میںیہی اسیکچ نظر آتا رہا اور اچانک اس کی لائنز تبدیل ہونا شروع ہو گئیںاور ایک نیا خاکہ ابھر جس کو میں نے خواب میں ہی کاغذ پر اتار لیاــ‘‘۔۔ عثمان نے مزے لے لے کر بتانا شروع کیا۔۔۔
’’ عثمان۔۔‘‘ افضل صاحب نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔۔۔۔۔
’’بات کچھ یوں ہے کہ، اس قتل کا کوئی مقصد اور وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی۔ جس دن مہر نے اسیکچ بنایا اس روز عثمان بعد میں میرے آفس آیا کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن کہا نہیں۔۔ اس سے اگلے روز میں نے اس کو بلا کر اعتماد دلایا کہ میں اس کی بات کا یقین کروں گا اگر وہ کوئی مدد کر سکتا ہے تو۔۔ اسی روز عثمان نے کہا کہ قتل کہ وجہ واقعی دولت نہیں ہے بلکہ کسی کی جذباتی وابستگی اس قتل کی وجہ ہے اور وہ ایسا قریبی شخص ہے جس کو کبیر ملک سے کسی نہ کسی طرح کی امید تھی شائد وراثت میں سے حصہ کی یا کچھ اور۔۔۔۔‘‘ افضل صاحب ڈیٹیلز بتاتے ہوئے رکے۔۔ سب کو غور سے دیکھا۔ قریبا سب کے سانس رکے تھے۔ انہوں نے پانی کی بوتل اٹھا ئی اور میز کے درمیاں پڑے گلاس کو پانی سے بھر دیا۔۔۔۔ اور پھر سے بولنا شروع ہوئے۔۔۔
’’جب میں نے اسیکچ بنوانے سے قبل فارنزک تحقیقات کا آغاز کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ کبیر ملک کے دونوں بیٹوں اور بیٹی کا واقعی اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور ان کے پاس مناسب ایلی بائی بھی موجود ہے۔ کچھ تو تھا جو مسنگ تھا۔میں میڈم سکینہ جو کہ ٹیم کے مطابق واحد عینی شاہد تھیں۔ ان سے ملنے ان کے فلیٹ گیا وہاں جا کر مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا دروازہ تو اس اینگل سے ہے کہ وہ کبیر ملک کے گھر سے نکلنے والے کسی شخص کو ٹھیک سے نہیں دیکھ سکتیں۔ مگر اس بات کا ذکر ان سے نہیں کیا۔بس دل میں کچھ کھٹک گیا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ـــ‘‘ وہ ایک لحظہ کے لیے رکے اور سکینہ کی جانب دیکھا۔۔
’’ مگر میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ جو بھی مجھے معلوم تھا وہ میں نے بتا دیا بنا کچھ بھی چھپائے۔ ٹھیک کہتے ہیں کہ پولیس کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیشہ بھاری پڑتی ہے۔۔۔‘‘ سکینہ خاتون نے برا سا منہ بناتے ہوئے ان کی بات دوبارہ شروع ہونے سے پہلے کہا۔۔
’’ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ کبیر ملک نے اپنی بیوی کے مرنے کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی۔۔‘‘ افضل صاحب کی بات کو ایک بار پھر انٹر کام کی گھنٹی نے روکا۔ انہوں نے مخاطب کی بات سن کر انہوں نے کچھ ہدایات دیں اور پھر سے اپنی بات کی طرف پلٹے۔۔
’’ جی تو میں کہہ رہا تھا کہ ان کی کوئی دوسری شادی نہیں تھی۔ اور ان کا کوئی اور بہن بھائی بھی نہیں تھا۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی تھا جس کی کافی عرصہ پہلے وفات ہو گئی تھی اور اس کی تمام دولت کے بینیفشری کبیر ملک تھے۔ اور انہوں نے ایک اور شادی بھی کی جس کا بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ اس بیوی کو انہوں نے سوسائٹی میں متعارف نہیں کرایا اور تمام عمر جب تک وہ زندہ تھے ان کی اس سے یہی کشمکش تھی کہ وہ اپنا مقام چاہتی تھیں اور کبیر ملک جنہوں نے عرصہ دراز سے یہ بات چھپا رکھی تھی اس عمر میں فاش کر کے وہ لوگوں کو بات کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔ اور ان کی اس بیوی سے اولاد بھی تھی ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ سانس لینے رکے اور سب کی جانب ایک نظر دیکھا۔ سب ساکن ہو کر سن رہے تھے۔۔۔۔
’’جب انہوں نے اپنی وصیت بنائی تو ساری جائیداد اپنے بچوں کے نام کر دی۔ ان کی دوسری بیوی نے ساری عمر اپنی حق تلفی برداشت کی تھی لیکن اپنے بچوں کی حق تلفی برداشت نہیں کرسکیں۔ اور وہ بات کرنے کے ارادے سے ان کے فلیٹ پر جا پہنچی۔ اس وقت فلیٹ پر کوئی موجود نہیں تھا۔ اچانک سامنے والے فلیٹ سے نکلنے والی خاتون کی نظر ان پر پڑی اور وہ ان کی پرانی دوست نکلیں ان کو اپنے فلیٹ پر لے آئیں۔۔۔‘‘ ان کی اسی بات کے دوران کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور کوئی اندر داخل ہوا۔ افضل صاحب نے اپنی بات کچھ لمحوں کے لیے روک دی۔۔۔
ایک خاتون جو دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں۔شکل سے دلگرفتہ اور پریشان۔۔۔ان کو دیکھ کر مہر اور سکینہ دونوں چونک اٹھیں اور پریشانی سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔۔۔
’’ اب آگے کیا ہوا یہ آپ کو یہ محترمہ بتائیں گیں۔۔‘‘ افضل صاحب نے آنے والی خاتون کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ ’’جی مسز سامعہ کبیر۔۔ آپ لب کشائی فرمائیں۔ تاکہ اس کیس کو کلوز کیا جائے اور ہم کسی اور کام لگیں۔‘‘افضل صاحب نے چبا چبا کر کہا۔۔
انہوں نے مہر اور سکینہ کی جانب دیکھا اور لمبا سانس لے کر ان کو کہا ’’مجھے معاف کرنا میں راز نہ راز رکھ سکی۔شائد کبیر کے راز کو سمنبھال سمنبھال کر مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ میں مزید کوئی راز چھپا سکوں۔ اور جن بچوں کے لیے میں نے ساری زندگی یہ مصیبت سہی ان کا مستقبل تاریک ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کر کیے اور دوبارہ گویا ہوئیں۔۔۔
’’ میں اکژ کبیر کے فلیٹ پرجاتی رہتی تھی۔ اس روز بھی میں گئی تھی لیکن کبیر فلیٹ پر نہیں تھے۔ وہاں مجھے اپنی ایک پرانی سہیلی مل گئی اس کا فلیٹ بھی وہیں تھا۔ اس کو میں نے کبیر کی وصیت کے بارے بتایا۔ تو اس نے کہا کہ اگر میں اس کو کبیر کی جائیداد میں سے کچھ حصہ دے دوں تو وہ میرا ساتھ دے گی۔میں نے اس کو سب حالات بتا کر کہا کہ کبیر جب آ جائے تو اس کو سمجھانا کہ اتنی زیادتی نہ کرے۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی۔۔ پھر آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں ـ’’میں نے ہر گز نہیں چاہا تھا کہ وہ نہ رہیں۔ ابھی تو بات کرنے کی بات سمجھانے کی بہت گنجائش تھی‘‘۔۔۔
افضل صاحب نے میز پر آگے جھکتے ہوئے کہا ’’اب بات میں پوری کروں یا کوئی اور کرے گا۔۔‘‘سب طرف خاموشی تھی۔۔۔اچانک مہر بول اٹھیـ ’’لیکن یہ سب کیسے۔۔۔ خاکہ توانہوں نے بنوایا تھا‘‘۔۔۔اس نے سکینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
’’اور قتل بھی انہوں نے ہی کیا ہے۔‘‘۔۔۔ افضل صاحب نے میز پر رکھا پانی کا گلاس جس کو ابھی تک کسی نے بھی نہ چھوا تھا سکینہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ اور سکینہ خاتون نے لرزتے ہاتھوں سے گلاس پکڑا اور ایک سانس میں خالی کر دیا۔۔۔ سب نے سکینہ خاتون کی طرف دیکھا۔۔۔۔
’’وہ۔۔ مم۔۔میں سامعہ کے کہنے پر کبیر ملک سے ملنے گئی تھی۔ مگر اس نے میری بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ لیکن میں اس کو مارنا نہیں چاہتی تھی۔۔ــ‘‘ سکینہ خاتون نے لرزتے لہجے میں بتایا۔۔۔۔
’’عثمان۔۔ باقی ڈاکیومنٹس بھی سامنے رکھو ذرا‘‘۔۔۔ افضل صاحب نے عثمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔
عثمان نے فائل میں سے کچھ اسٹیمپ پیپر نکالے اور سامعہ کبیر کے آگے رکھ دیے۔۔ یہ کاغذات ایک نئی وصیت تھے اس کے مطابق سکینہ خاتون کواور ان کی بھانجی کو جس کا سکینہ خاتون کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ دونوں کو ان کی تمام جائیداد کا بینفشری بنا دیا گیا تھا۔ جبکہ سامعہ کبیر کا شئیر صرف 10%تھا۔ سکینہ نے کبیر کو دھمکی دی تھی کہ وہ اس کی بات مان لے ورنہ وہ ان کا وہ راز، جس کو عرصہ دراز سے وہ راز رکھ رہے تھے، اس کو ثبوتوں کے ساتھ سب کے سامنے فاش کر دے گی۔ سکینہ کو لگا تھا کہ وہ اس طرح اپنی ساری زندگی جو انہوں نے مشقت میں گزاری تھی اس کا آخر سنوار لے گی اور ساتھ ہی بھانجی کا مستقبل بھی سنور جائے گا۔۔ مگر تکرار میں جو پستول وہ کبیر ملک کو ڈرانے کو لائی تھی وہ چل گئی اور گولی سیدھی سینے کے پار ہو گئی۔ اس وقت کبیر ملک کے فلیٹ پر کوئی بھی نہیں تھا۔ سکینہ خاتون وہاں سے اپنی تمام چیزیں اٹھا کر واپس چلی آئیں۔ اور فوری اپنی بھانجی کو کال کی اور اس کی ہدایات کے مطابق دوبارہ فلیٹ پر گئی اور اپنے فنگر پرنٹس مٹا کر آئی اور جب کبیر ملک کے بچے واپس آئے۔ تو باپ کی لاش کو دیکھ کر پولیس کو کال کی۔ اور پولیس کی تفتیش میں سکینہ خاتون نے وہی کہا جو اس کی بھانجی نے کرنے کو کہا تھا۔ باتیں سب صاف تھیں مجرم سامنے تھا اور اقرار بھی کرچکا تھا۔ کمرے میں سکینہ خاتون کی ندامت سے بھری سسکیاں گونج رہی تھیں اور سامعہ کبیر ملک کے خاموش آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے۔ افضل صاحب نے لیڈیز پولیس کو بلا کر سکینہ کو ان کے حوالے کیا۔۔
اچانک سامعہ کی آواز گونجی ’’میں سکینہ کی بھانجی سے ملنا چاہتی ہوں‘‘۔۔۔
ــ’’آپ کے سامنے ہیں۔ مل لیجئے‘‘۔۔۔ عثمان نے مہر کی جانب اشارہ کیا۔۔۔ مہر کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔
’’جی مس مہر جس روز یہ قتل ہوا۔ اس روز آپ اپنی میز پر بیٹھی کچھ ہدایات دے رہی تھیں۔ آپ نہیں جانتی تھیں میں واش روم میں تھا اور آپ میری موجودگی سے آگاہ نہیں تھیں۔ پھر آپ کو یہ کہتے سنا کہ خاکہ میں نے بنانا ہے، بس دو یا تین لوگوں کی شکل کے فیچر ملا کر بنوا دیں۔۔ سکینہ خاتون نے وہی کیا وہ خاکہ بنوانے کے دوران سکینہ خاتون جس طرح آپ کی طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھیں میرا شک مزید پکا ہو گیا۔۔۔ اور جب خاکہ میں نے افضل صاحب کے روم میں غور سے دیکھا۔ تو سمجھ آئی اس کی آنکھیں آپ جیسی اور ناک سکینہ جیسی تھی اور فیس کٹ کبیر ملک جیسا۔۔ مطلب خاکہ ایسا تھا کہ سب ڈھونڈتے رہ جاتے۔۔ اس وقت تو افضل صاحب کو کچھ نہ کہا۔ میں خود معاملے کی تصدیق اور تحقیق کرنا چاہ رہا تھا۔ شکریہ سر کا کہ انہوں نے مجھے اس کی اجازت دی۔ اور اپنے ایک جونئیر آفیسر پر اعتماد کیا۔‘‘ عثمان نے تفصیلا بتایا۔۔۔
’’اور زیادہ مشکل اس لیے نہیںہوئی کہ سامعہ کبیر ملک کا بیٹا میر اکلاس فیلو ہے‘‘۔۔ یہ کہہ کر عثمان نے اپنی بات مکمل کی۔۔
’’ مس مہر آپ جانتی ہیں مجرم کا ساتھ دینے والا بھی مجرم ہوتا ہے۔ اور آپ نے تو اپنے محکمہ کو بھی دھوکہ دے دیا۔ افسوس ہو رہا ہے کہ آپ جیسا قابل اور محنتی انسان نے ایسا کیا۔۔‘‘ افضل صاحب نے تاسف سے مہر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
’’ سر۔۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ تومیں آنٹی کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔میں نے کبھی ایسا نہیں چاہا۔۔ میں آنٹی کے بنا کیا کرتی۔مم۔مم۔۔ میرا اور کوئی نہیں ہے۔۔‘‘ مہر نے روتے ہوئے بات مکمل کی۔۔
’’ مس مہر آپ شریک جرم نہیں تھیں۔لیکن آپ نے مجرم کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ ڈپارٹمنٹ کے لیے خاص کر میرے یونٹ کے لیے آپ کی خدمات قابل ذکر ہیں بہت سے کیسز میں آپ کے بنائے گئے اسکیچزسے بہت مدد ملی۔ شائد اسی بناء پر ڈیپارٹمنٹ نرمی کرے۔لیکن سزا ضرور ملے گی۔۔‘‘ افضل صاحب یہ کہتے ہوئے اٹھے اور چل دیئے ان کے ہمراہ عثمان بھی باہر کی جانب چل دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں لیڈیز پولیس نے آکر سکینہ کو گرفتار کر کے متلقہ تھانے منتقل کر دیا۔۔۔
مہر وہیں بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ سکینہ کو اس کے لالچ کی سزا تو مل ہی گئی۔ مگر اس نے جیسے خود غرض ہو کر صرف اپنے اور اپنی آنٹی کے بارے سوچا۔ ایک بے گناہ شخص کا قتل چھپانے کی کوشش کی۔اس کو تو اس کی قانونی سزا ملنی ہی ہے۔ مگر کیا وہ ساری عمر خود سے نظریں ملا پائے گی۔ اس کی اس ایک غلطی نے اس کا کیرئیر اور اعتماد دونوں ہی ختم کر ڈالے تھے۔۔
دنیا مکافات عمل ہے اور ہر کسی کو اس کی کرنی کا پھل اسی دنیا میں مل جاتا ہے کسی نہ کسی صورت، مگر ہم سمجھتے نہیں ہیں۔۔۔

رہی بات کبیر ملک کی تو اس نے ساری عمر ایک وفا شعار عورت اور دو بچوں کی حق تلفی کی شائد اس کو اس کا بدلہ ملا ہو۔۔۔ مگر اس سارے معاملے میں سامعہ کبیر ملک بالکل بے قصور تھی۔ وہ ایک عورت تھی جو مرد سے صرف وفا نبھا تی رہی اس آس میں کہ شائد وہ کبھی اس کو دنیا کے سامنے اس کی قرار واقعی عزت دے دے۔ لیکن وہ ایک ماں بھی تھی اپنے بچوں کے حق کے لیے غلط سہارا لے بیٹھی۔ اور دیکھا جائے تو غلطی کبیر ملک کی بھی نہیںتھی اس معاشرے کی تھی جو اس طرح کے رشتے قبول نہیں کرتا، برداشت نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے سانحے جنم لیتے ہیں۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: