جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا‎ : سید مظفر الحق

0
  • 65
    Shares

منیر نیازی نے پتہ نہیں کس عالم میں اور کس کرب سے گزر کر کہا ہوگا کہ

واپس نہ جا وہاں کہ ترے شہر میں منیر
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا

شہرِ نگاراں کراچی بھی اب وہ نہیں رہا اس کی فضائیں اور ادائیں کچھ بھی تو وہ نہیں

یہ کون تیرے شہر کے آداب لے گیا

کھلی فضاؤں کو لوہے اور گارے کے سربلند عفریت نگل گئے نسیمِِ برّی و بحری کو مسموم آلودہ ہوائیں ناپید کرچکی ہیں۔ کتنے ہی اہلِ ہنر شہر کیا وطن ہی چھوڑ گئے۔

یوں تو اس شہر کے ہر گوشے کی اپنی ادائیں تھیں لیکن کچھ مقامات ایسے بھی تھے کہ اس شہر کی سوچ اور سرگرمیوں کے عکّاس تھے اور وہاں سے چائے کی پیالیوں میں اٹھنے والے طوفان بہت کچھ اڑا کر لیجاتے تھے۔ کچھ جام بدست مدہوش دانشور مستقبل کی صورت گری کے دعویدار بن جاتے تھے۔

Old books at Regal Chowk

ایمپریس مارکیٹ سے لے کر اکبر روڈ کے سنگم تک کا علاقہ شام کے لمبے ہوتے سائے کے ساتھ ادبی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن جاتا تھا۔

سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور جلوسوں کی آماجگاہ بھی یہی مقام تھا۔ ہم نے یہیں نوابزادہ نصراللہ خان، ڈاکٹر امیر احمد، پروفیسر غفور اور معراج محمد خان کو نعرے لگاتے اور پولیس سے نبرد آزما ہوتے دیکھا، یہ جو آج حکومتی وزیر مشاہد اللہ خان ہیں وہ نواز شریف کی گزشتہ حکومت کی برطرفی کے بعد اسی ریگل چوک پہ درجن بھر افراد کے ساتھ مظاہرہ کرنے اور گرفتار ہونے کے صلے میں وزارت سے نوازے گئے ہیں۔

یہیں ایک پرانی سی سالخوردہ عمارت میں صاحبِ علم و عزیمت مولانا شاہ احمد نورانی محفل سجاتے تھے اور یہیں وہ روما شبانہ کلب اور دیگر کئی میخانے تھے جو اکثر روایتی حلیہ و انداز کےمالک صحافیوں اور شاعروں سے آباد رہتے تھے مگر اب اکثر اجڑ چکے ہیں ان کی جگہ شاپنگ مال اور فلیٹ بن چکے ہیں ان میخانوں کے رندوں کے لئےفضائیں نوحہ کناں ہیں۔ویراں ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہیں۔

ہے ہر مکاں کو اہنے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

ریگل سنیما کے بس اسٹاپ سے متصل جو مثلث نما فٹ پاتھ یا پکّی جگہ ہے اس کے دونوں جانب مصروف ترین سڑکیں ہیں اور اس مثلث میں اخبارات و کتب کے تین اسٹال تھے جہاں شام کے وقت شہر کی اکثر ادبی، سیاسی اور صحافتی شخصیات اخبارات و جرائد کی چھان پھٹک کرتے نظر آتے تھے۔ سڑک کے پار ایرانی ریستوران تھا جہاں ایک میز پہ علی مختار رضوی عرف علامہ اپنے الجھے بالوں اور آوارہ سوچوں کے ساتھ براجمان ہوتے تھے، دوسری سڑک جو فریئر روڈ (اب شاہراہِ لیاقت) کا نقطہ آغاز ہے اس پہ کیفے جارج اور بختیاری و شرکا نامی ریستوران میں نسبتاً اعلیٰ معیار اور گراں نرخ کی وجہ سے اعلیٰ متوسط طبقے کے لوگوں کی نشست و برخاست رہتی تھی۔

وہیں اس سڑک سے متصل عبداللہ ہارون کے آغاز پہ جو ایم اے جناح کے ساتھ ہے کونےمیں مخصوص دانشوروں کا پسندیدہ زیلن کافی ہاؤس تھا اور اسی سڑک پہ آگے جا کر ریگل سنیما کے قریب ہی صدر پوسٹ آفس کے مقابل ایک کتابوں کی دوکان تھی جس کا نام “کتاب گھر” تھا یہ دوکان نجیب و نفیس آغا سرخوش قزلباش کی تھی جو آغا شاعر قزلباش کے بیٹے اور سحاب قزلباش کے بھائی تھے۔

اب وہاں سے گزر ہو تو سب کچھ اجنبی سا لگتا ہے بھیڑ بھڑکا، ہجوم اور ٹریفک کو اژدہام سب کچھ پہلے سے بڑھ کر ہے لیکن بڑا بے روح اور بے مقصد، صرف تن کی دنیا کے مظاہر جو من کے دنیا کو خاشاک کر چکے ہیں

اعلیٰ ادبی اور چنیدہ کتابوں کے شو کیس کے پیچھے ہمیشہ سفید ململ کے کرتے اور پاجامے میں ملبوس آغا صاحب دلّی کی تہذیب کا نمونہ تھے۔ مشتاق یوسفی نے اپنی کتاب میں جس صبغے اینڈ سنز کا ذکر کیا ہے اس کے محلِ وقوع اور بیان سے گمان اغلب ہے اس سےمراد یہی کتاب گھر ہے۔ اسی کے پیچھے اور ریگل سنیما کے بس اسٹاپ کی مخالف سمت میں وہ سڑک ہے جس پہ آج کل پرانی کتابوں کا اتوار بازار لگتا ہے اور علم و ادب کے قدردان عقیل عباس جعفری، راشد اشرف، محمود شام اور دیگر علم کے جویا ہر اتوار کی صبح ان کتابوں کی چھان پھٹک کر کے گوہر مقصود حاصل کرنے کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔

مگر یہ تو آج کی بات ہے کبھی اسی گلی کے نکڑ پہ جہاں الیکٹرونکس کے سامان کی دوکان ہے وہاں فریڈرکس کیفِ ٹیریا ہوا کرتا تھا جو اس علاقے کا اعصابی مرکز تھا اس میں بار بھی تھا اور لان بھی، یہ ممتاز سیاسی اور صحافتی شخصیات کی بیٹھک بھی تھا اور ملاقاتوں کے ساتھ صلاح مشوروں کا مرکز بھی، اس کیف ٹیریا میں دختِِ رز کے رسیا اندر بار میں ناؤ نوش کی پذیرائی کرتے جبکہ لان میں بیٹھ کر چائے یا جوش کی چسکیاں لے کر سیاست، ادب اور فلسفے کی گتھیاں سلجھاتے تھے۔ بیشتر طالب علم لیڈر اور کئی سیاسی شخصیات کی یہاں موجودگی کی وجہ سے اس کے باہر سادہ لباس میں پولیس اور سی آئی ڈی کے اہلکار بھی آس پاس منڈلاتے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک جو غالباً سب انسپیکٹر تھے اپنی مخصوص وضع قطع کی وجہ سے دور سے پہچانے جاتے تھے وہ چچا صابر کہلاتے تھے اور ہمیشہ بشرٹ اور پتلون میں ملبوس سرپہ جناح کیپ لگائے رکھتے تھے اور ان کی سراغرسانی اور رپورٹنگ کا منبع وہ معلومات ہوتی تھیں جو کیف ٹیریا سے نکلنے والوں سے حاصل کرتے تھے، مثلاً اندر کون کون ہے، کس موضوع پہ کیا بات ہوئی وغیرہ۔

اب وہاں سے گزر ہو تو سب کچھ اجنبی سا لگتا ہے بھیڑ بھڑکا، ہجوم اور ٹریفک کو اژدہام سب کچھ پہلے سے بڑھ کر ہے لیکن بڑا بے روح اور بے مقصد، صرف تن کی دنیا کے مظاہر جو من کے دنیا کو خاشاک کر چکے ہیں جیسے راوی بڈھا ہوگیا اور جمنا کی جگہ جوہڑ نظر آتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: