معروف اشتراکی دانشور اقبال احمد، ہود بائی اور جامعہ خلدونیہ : احمد الیاس

0
  • 782
    Shares

ہمارے وفاقی صدر مقام اسلام آباد میں کشمیر ہائی وے اور مری روڈ کے سنگم پر، راول جھیل اور شکرپڑیاں کے درمیان اسلام آباد کلب کا گولف کے لیے وسیع و عریض میدان ہے۔ مگر یہ میدان پہلے اتنا وسیع نہ تھا۔ 2008 میں اشرافیہ کے لیے مخصوص اس کلب میں تقریباً 150 ایکڑ کا اضافہ کیا گیا۔ یہ 150 ایکڑ ایک زمانے میں حکومتِ پاکستان نے اقبال احمد کو دینے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ ادھر ‘جامعہ خلدونیہ’ (ابنِ خلدون انسٹیٹیوٹ آف لبرل آرٹس) قائم کرسکیں۔

جامعہ خلدونیہ کیا تھی اور کیوں نہ بن سکی۔ یہ ہماری قومی تاریخ کا ایک بہترین خواب اور بدترین ناکامی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

اقبال احمد بین الاقوامی شہرت یافتہ دانشور، بائیں بازو کے سول سوسائٹی ایکٹیوسٹ اور متعدد امریکی جامعات کے استاد تھے۔ وہ 1990 میں امریکہ سے پاکستان آئے۔ ان کی نظر میں ایک منفرد یونیورسٹی کا خواب تھا۔ ایسی یونیورسٹی جس کا معیار اور سٹرکچر امریکی جامعات جیسا ہو مگر نصاب روایتی مسلم علوم اور جدید مغربی علوم کا امتزاج ہو۔ یہ یونیوسٹی ظاہری لحاظ سے ایم آئی ٹی اور پرینسٹن جیسی مگر اپنی روح کے اعتبار سے زیتونہ اور الاظہر کا احیاء ہونی تھی۔ مدرسے اور سکول کی قائم کردہ خلیج کو ختم کرنا اس ادارے کا مقصد تھا۔ اس ادارے نے عالمی تعلیمی معیارات کے مطابق مسلم روایت پر عبور رکھنے والی ایسی ماڈرن کلاس پیدا کرنی تھی جو اسلام کو ری کلیم کرسکے۔

سرسیّد کولونیل دور کے انسان تھے اور ان کی تعلیمی مساعی کا مقصد اسلامی تمدن کی کولونیل ماحول سے مطابقت پیدا کرنا تھا۔ اقبال احمد کی پہچان ہی اینٹی کولونیل ازم کی وجہ سے اور پوسٹ کولونیل ازم کے تناظر میں رہی ہے۔ ان کا وژن اسلام کو پوسٹ کولونیل دنیا میں اعتماد سے آگے بڑھنے اور جمود کو اپنے زور پر ختم کرنے کے قابل بنانا تھا۔

دراصل اقبال احمد خلدونیہ میں ایک ایسا جدت پسند طبقہ پیدا کرنا چاہتے تھے جو اسلامی علوم پر ایسا زبردست عبور رکھتا ہو کہ رجعت پسند علماء سے مکالمہ کرسکے۔ یہ مکالمہ ضرورت پڑنے پر بحث کی شکل بھی اختیار کرے تو جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو اسلامی روایت کے حوات سے کم علمی کے باعث خفت نہ اٹھانی پڑے۔ یہ نشاۃ ثانیہ کا ایسا وژن تھا جس کی ایک مثال کسی حد تک علیگڑھ کالج کی شکل میں ملتی ہے۔ مگر علیگڑھ اور خلدونیہ میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ سرسیّد کولونیل دور کے انسان تھے اور ان کی تعلیمی مساعی کا مقصد اسلامی تمدن کی کولونیل ماحول سے مطابقت پیدا کرنا تھا۔ اقبال احمد کی پہچان ہی اینٹی کولونیل ازم کی وجہ سے اور پوسٹ کولونیل ازم کے تناظر میں رہی ہے۔ ان کا وژن اسلام کو پوسٹ کولونیل دنیا میں اعتماد سے آگے بڑھنے اور جمود کو اپنے زور پر ختم کرنے کے قابل بنانا تھا۔

اقبال احمد سوشلسٹ تھے اور سیکولر شناخت رکھتے تھے۔ مگر ان کے اس منصوبے کی مخالفت مذہبی طبقات کی طرف سے نہیں بلکہ پاکستان کے بائیں بازو اور مغرب زدہ طبقے کی طرف ہوئی۔ ان کے اپنے کامریڈز نے اس منصوبے کو نہ صرف رد کردیا بلکہ سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کی پہلی وجہ اس ادارے کا ایک مردِ عرب یعنی ابنِ خلدون سے منسوب ہونا ہے جو لبرل آرٹس کے متدد شعبوں (فلسِفہ تاریخ، معاشیات، سماجیات) کے بانی مانے جاتے ہیں اور اسلامی تمدن کے سنہری دور کا آخری بڑا نشان ہیں۔ پاکستان کے سیکولر طبقے کو امت، اسلامی تمدن اور اسلامی نشاۃ ثانیہ کے تصورات سے ہی نفرت ہے۔ ایک پاکستانی ادارے کے عرب حکیم سے منسوب ہونے سے ان تمام تصورات کی بو آتی تھی۔

دوسری اہم وجہ خلدونیہ کے مجوزہ نصاب میں اسلامی علوم کا موجود ہونا تھا۔ خلدونیہ میں اسلامیات کا کوئی علیحدہ شعبہ نہ تھا مگر عمرانیات کے تمام شعبوں کے نصاب میں متعلقہ مسلم مفکرین اور شعبے کے اسلامی تناظرات سے متعلق متعدد کورس شامل کیے گئے تھے۔ عربی تعلیم پر خاص زور دیا گیا تھا۔ اقبال احمد کے نزدیک اس کا مقصد تھا کہ جدید تعلیم یافتہ کلاس اسلامی علوم سے لیس ہو کر رجعت پسند طاقتوں (ملا، ڈکٹیٹرز، جاگیر دارانہ اشرافیہ) کا معاشرے کی اسلامی امنگوں کے مطابق موثر مقابلہ کرسکے۔ مگر ہمارے ہاں سیکولر کلاس خود درحقیقت ایک رجعت پسند طاقت ہے جو مغربی ایمپائر کی تشکیل کردہ اشرافیہ سے تعلق رکھتی ہے یا اشرافیہ کا کھلونا ہے۔ (اس اشرافیہ کو اقبال احمد کے دوست ایڈورڈ سعید کی اورئنٹلزم تھیوری اور اقبال احمد کے استاد فرانز فینن کی کتب میں مزکور تیسری دنیا کی نفسیات کے تناظر میں دیکھیں)۔ چانچہ سماجی تقسیم کو ختم کرنے والا یہ منصوبہ ہمارے حکمرانوں اور دانشوروں کو قطعاً قبول نہ تھا۔

رہی سہی کار اقبال احمد ہی کے لیفٹ ونگ دوستوں کی جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت نے نکال دی۔ خلدونیہ کی زمین پر اس وقت کے مردِ اول آصف زرداری نے قبضہ جما لیا۔ اقبال احمد نے احتجاج کیا تو ان کی دوست بے نظیر بھٹو سخت بگڑ گئیں، یہاں تک کہ اقبال احمد سے ہاتھ ملانے تک سے انکار کردیا۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں: مسلم امہ: خود سے برسرپیکار ۔۔۔ پرویز ہود بھائی

 

نوجوانوں کی خلدونیہ کو اشرافیہ کے گولف کورس میں بدلنے میں جس طبقے کی مخالفت نے کردار ادا کیا اس میں اقبال احمد کے اپنے بھانجے پرویز ہودبھائی بھی شامل ہیں۔ 1999 میں جب اقبال احمد کینسر کے سبب بستر مرگ پر تھے تو ان کے ایک دوست کی اہلیہ ان کی صحت کی خاطر ان کے بستر کے پاس قرآن خوانی کرنے لگیں۔ پرویز ہود بھائی نے بہت چڑ کر خاتون کو روکنا چاہا۔ اقبال احمد کو اس حرکت سے شدید تکلیف ہوئی اور انہوں نے تقریباً روہانسا ہوکر پرویز کو ایسا کرنے سے منع کردیا

“Pervaiz, what do you guys want. For God sake, I am a Muslim”

اقبال احمد کے آخری دنوں کا یہ واقعہ مقامی بائیں بازو کے تمام المیے کی مختصر سی تمثیل ہے، وہ بایاں بازو جو جامعات پر گولف کورس کو ترجیح دیتا ہے۔


ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا مسئلہ ۔۔۔۔ اعجازالحق

ڈاکٹر ہود بھائی کا علمی قد کیسے ناپیں؟ کبیر علی

 

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: