اقبال احمد: ایک سچا اشتراکی ——- احمد الیاس

0
  • 73
    Shares

پاکستان سمیت دنیا بھر کے علمی و فکری حلقوں میِں ایڈورڈ سعید کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اورئینٹلزم کے علاوہ آپ کی کتاب کلچر اینڈ ایمپیریلزم بھی مغرب کی ادبی و فکری تاریخ کے ضمن میں معروف ہے۔ 2014 میں جب یہ کتاب پہلی مرتبہ زیر مطالعہ رہی تو انتساب اقبال احمد کے نام تھا مگر اقبال ‘آئی’ کہ بجائے ‘ای’ سے لکھا تھا لہذا میں یہ سمجھا کہ کوئی عرب، ایرانی یا ترک دانشور ہوں گے۔ مگر کچھ عرصے بعد طارق علی کے ایک لیکچر میں معلوم ہوا کہ اقبال احمد پاکستانی دانشور تھے۔ تجسس پیدا ہوا کہ ایسا کون سا پاکستانی دانشور ہے کہ ایڈورڈ سعید نے اس کے نام اپنی پوری کتاب کردی۔

جب تحقیق کی تو آنکھیں کھلی رہ گئیں۔ خوشی اور افسوس کے ملے جلے جزبات۔ خوشی اس بات کی کہ ایسا زبردست شخص پاکستانی تھا۔ اور افسوس اس بات کا کہ ہم اس کے بارے میں جانتے تک نہیں۔

میں اپنے آپ کو دائیں بازو سے وابستہ کرتا ہوں۔ مگر علی شریعتی اور اقبال احمد اسلامی بائیں بازو کی دو ایسی شخصیات ہیں جن کی تحریروں ہی نہیں، زندگی سے بھی میں نے بہت سیکھا ہے۔ ایسے دانشور ہماری ماؤں نے تھوڑی سخاوت سے جنے ہوتے تو شاید نشاۃ ثانیہ کا ہمارا سفر کئی منزلیں آگے ہوتا۔

اقبال احمد بہاری مسلمان برادری سے تھے، بہاری مسلمان برادری جو ہجرت اور تعصب زدگی کی دہری تہوں میں گھری رہی ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جب ان کے علاقے کے اکثر مسلمان مشرقی بنگال کی جانب ہجرت کررہے تھے، آپ لڑکپن کی عمر میں اپنے بھائی کے ساتھ پیدل سفر کرکہ لاہور آئے۔ آپ کے والد جاگیردارانہ چپقلش کے سبب اقبال احمد کی آنکھوں کے سامنے چند سال قبل قتل ہوچکے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد اقبال احمد نے کشمیر جہاد میں شرکت کی جہاں انہوں نے قبائلیوں، مسلم لیگیوں اور کمیونسٹوں کو دوش بدوس لڑتے دیکھا۔ بعد ازاں ایف سی کالج لاہور سے اکنامکس پڑھنے کے بعد 1958 میں سکالر شپ پر امریکہ گئے جہاں پرنسٹن یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور ادب کا انتھک مطالعہ کیا، عربی زبان اور مسلم فکر و تمدن پر عبور حاصل کیا۔

1960 کی دہائی کے آغاز میں اقبال احمد شمالی افریقہ میں تھے جہاں الجزائر میں فرانسیسی سامراج کے خلاف تاریخی جہاد چل رہا تھا۔ اقبال نے تیونس میں تحقیقی مقالے پر کام کرتے ہوئے اس جہاد کی معاونت بھی کی اور فرانس کی سامراجیت اور شمالی افریقی عرب معاشرے کو قریب سے دیکھا۔ آپ کو کئی ماہ تک معروف سیاہ فام دانشور فرانز فینن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن کے اقبال احمد کی فکر پر گہرے اثرات ہیں۔ فینن کے شریعتی پر بھی گہرے اثرات ہیں۔ جس طرح میلکم ایکس نسل پرستی سے اسلام کی طرف آئے اسی طرح فینن نسل پرستی اور قوم پرستی سے بتدریج اشتراکیت کی طرف آئے تھے۔ مگر آپ کی اشتراکیت تیسری دنیا کی اشتراکیت تھی، یہاں کی مٹی، مذہب اور روایات میں جڑیں رکھنے والی، یہاں کے ماحول سے مطابق نہ کہ مغرب سے درآمد شدہ۔ یہی وہ خاصیت ہے جو فینن، شریعتی اور اقبال کو دیگر اشتراکیوں سے ممتاز اور سنجیدگی سے لیے جانے کے قابل بنا دیتی ہے۔

امریکہ واپسی کے بعد اقبال احمد نے درس و تدریس اور سیاسی ایکٹوازم شروع کیا۔ زندگی کا بڑا حصہ آپ وہیں مقیم رہے اور امریکہ کے اکیڈیمیا اور سول سوسائٹی میں خوب نام کمایا۔ وہیں پر شادی کی مگر اس کے باوجود تمام زندگی امریکی شہریت اختیار نہیں کی اور صرف پاکستانی پاسپورٹ پر تمام دنیا بھر کی جامعات میں لیکچر دینے جاتے رہے۔ نوم چومسکی جیسے لوگ اقبال احمد کے شاگردوں میں سے ہیں۔

الجزائر اور فلسطینی تحریک آزادی کے بلند آہنگ حامی ہونے کے سبب عرب دنیا میں آپ کا مقام اس قدر تھا کہ عرب ریستورانز کے مالک یہ کہہ کر آپ سے بل لینے سے انکار کر دیا کرتے تھے کہ ہم اپنے محسنوں سے بل نہیں لیتے۔ ایڈورڈ سعید اور ابراہیم ابولغید جیسے متعدد عرب دانشور آپ کے بہت قریبی دوست تھے۔ ایڈورڈ سعید اقبال احمد کو ‘گرو’ کہا کرتے تھے۔

اقبال احمد کی زندگی کا ایک اور اہم باب ویتنام جنگ کے خلاف تحریک میں میں آپ کا مرکزی کردار ہے۔ اس دوران امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے اغواء کی سازش کے الزام میں آپ کو سات مسیحی مذہبی شخصیات کے ساتھ ایک مشہور مقدمے کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر عدالتوں نے اقبال احمد کو بری کردیا۔

ایرانی انقلاب کے بعد جب امریکی سفارتخانے کا محاصرہ ہوا تو صلح کار کے طور پر انقلابیوں کی جانب سے اقبال احمد کا نام بھی تجویز کیا گیا۔ یہ ان کی عالمی سطح پر شہرت اور عزت کی ایک مثال ہے۔ اس بحران کو سفارتی سطح پر حل کروانے میں اقبال احمد نے کردار ادا کیا اور ایران کا ایک یادگار دورہ کر کہ امام خمینی کا یادگار انٹرویو بھی لیا۔ اقبال احمد انقلاب کے مستقبل کے متعلق ٹھیک ٹھیک پیش گوئی کرنے والے پہلے شخص تھے۔ اسی دور میں اقبال احمد نے امریکی پالیسیوں کے ردعمل میں اسلامی بنیاد پرستی کے متشدد ہوجانے کی پیش گوئی کی جب اس بارے میں کسی کو گمان بھی نہ تھا۔

یہ بھی دیکھئے: معروف اشتراکی دانشور اقبال احمد، ہود بائی اور جامعہ خلدونیہ : احمد الیاس

اقبال احمد پہ ایک مفصل گفتگو:

(Visited 291 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20