فوجی ایمپائر حقائق اور تاثر‎ : چوہدری محمد خان قلندر

0
  • 84
    Shares

افواج پاکستان کے پاکستان میں کردار پہ، چار مارشل لگنے کے منفی اثرات کے علاوہ سب سے زیادہ تنقید ان کے ذیلی رفاعی اور سابقہ فوجیوں کی ویلفیر کے اداروں کے وجود پے کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے نقاد ان کے قیام کی تدوین سے واقف نہیں ہوتے آج دفاعی پیدوار، انجینئرگ، ایٹمی پروگرام، صنعتی پراجیکٹس، تعمیراتی ادارے، تعلیم کے مراکز، ہسپتال، ہاؤسنگ اتھارٹیز، سب کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ حکومتی وسائل سے بنائے گئے ہیں جو سراسر بے بنیاد اور اصل حقائق کے برعکس ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کے وقت پاکستان میں پشاور سے کراچی اور کوئٹہ سمیت موجود ساری چھاؤنیاں موجود تھیں۔ ان کے پاس ساری اراضی برٹش سرکار نے کینٹونمنٹ کے لئے الاٹ کی تھی، جو ہر شہر میں کینٹ ایریا تھا۔ جنگ عظیم دوم میں برصغیر سے خاص طور پنجاب سے کثیر تعداد فوج میں بھرتی کی گئی، جنگ کے بعد ان فوجیوں کی بحالی کے لئے برطانوی سرکار نے رینک کے مطابق ایک اور دو روپے ماہانہ فوجیوں کی تنخواہ سے کاٹ کر ایک “پوسٹ وار سروسز ری کنسٹررکشن فنڈ۔ پی ڈبلیو ایس آر“ قائم کیا۔ قیام پاکستان کے وقت اس فنڈ سے ملکی حصہ جو ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ تھا دیا گیا۔

راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب میجر غلام حسین کے بنگلہ میں دفتر بنا جو بعد میں ہارلے سٹریٹ میں نئی عمارت میں شفٹ ہوا۔ اس فنڈ میں کولمبو پلان اور دیگر سکیموں سے بھی پیسے موصول ہوئے۔ ایک بورڈ قائم کیا گیا جس نے اس رقم کو سابقہ فوجیوں میں تقسیم کرنے کی بجائے ان کی بحالی، ملازمت، صحت اور بچوں کی تعلیم کے مستقل بندوبست کے ریگولر ذرائع آمدن بنانے کے لئے انڈسٹری میں انوسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں راولپنڈی کے قریب ہسپتال بنایا گیا جس میں جنگ کے دوران ضائع ہونے والے فوجیوں کے اعضاء کی بحالی کے لئے لمب سنٹر قائم کیا گیا، اور جہلم کے قریب کالا گاؤں میں ایک ٹیکسٹائل مل لگائی گئی جہاں سابقہ فوجیوں کو ملازمت دی گئی،ان کے بچوں کی تعلیم کے لئے وظائف دینے کا مربوط نظام قائم کر دیا گیا۔

ادارے کا نام فوجی فونڈیشن رکھا گیا اور بورڈ آف ڈائرکٹر میں ریٹائرڈ فوجی افسران کے ساتھ سویلین ماہر اقتصادی امور بھی شامل کئے گئے۔ شفاف اور دیانتدارانہ ایڈمنسٹریشن سے چند سالوں میں، مشرقی پاکستان میں متعدد پراجیکٹس کے علاوہ یہاں تین شوگر ملز تین ٹیکسٹائل ملیں، سیریل فیکٹری، فان گیس، کے پراجیکٹس کا اضافہ ہو گیا۔

شمالی پنجاب میں تین ہسپتال بنائے گئے، وظائف کا ملک بھر میں انتظام کیا گیا، ہزاروں سابقہ فوجی برسرروزگار ہو گئے، جن کے ساتھ سویلین کی برابر تعداد بھی شامل ہے، فرٹیلائزر کے پلانٹ لگائے گئے۔

آرمی ویلفیر ٹرسٹ بننے اور اس کے ادارے شامل ہونے سے ملک میں پرائیوٹ سیکٹر میں، چیریٹی و اینڈومنٹ ٹرسٹ کے یہ رفاعی ادارے سب سے بڑا گروپ ہیں، کمرشل اداروں کے منافع پر ٹیکس ادا کرتے ہیں جس میں ویلفیر کے اخراجات کی حد تک چھوٹ ہے، ہر ادارے کا باقاعدہ سالانہ آڈٹ رجسٹرڈ فرمیں کرتی ہیں، آڈٹ رپورٹ اور سالانہ اکؤنٹنٹس اعلی ترین افسران پر مشتمل کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن منظور کرتی ہے، مالیاتی قوائد و ضوابط کی نظیر کسی اور ادارے میں نہیں ملتی۔ کیش کنٹرول کا سنٹرل اور مستعد نظام، فاضل فنڈز کی انٹر پراجیکٹس قرض داری کی ہی مثال لیں تو بنک میں ڈپازٹ پے اگر اوسط شرح منافع چھ فیصد ہو تو بنک سے قرضہ لینے کی شرح بارہ فیصد ہوتی ہے، یہی قرضہ سسٹر سے پراجیکٹ سے بنک ریٹ پر لیا جائے تو حتمی طور پر سنٹرل سسٹم میں سود کی ادائیگی میں پچاس فیصد کی بچت ہوتی ہے۔ اگر فوجی فونڈیشن اور آرمی ویلفیر ٹرسٹ کا سویلین اداروں پی آئ اے، سٹیل ملز اور ریلوے سے کیا جائے تو ہمارے سویلین منتظمین کی بد انتظامی، لوٹ مار اور کرپشن منہ چڑھانے لگتی ہے۔

فوج کہیں اوپر سے نہیں اتری، فوجی ہم میں سے ہیں، فرق ادارے کے ڈسپلن۔ نظم۔ احتسابی ضابطوں کے نفاذ کا ہے۔ فوج کے دیگر اداروں بارے اگلی نشست میں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: