باجوہ ڈاکٹرائن اور منظور پشتین : محمد اسرار مدنی

0
  • 122
    Shares

منظور پشتین کا جلسہ پشاور میں اختتام پذیرہوا۔ پشتونوں کےحقوق کیلئے گرما گرم نعرے لگے، پاکستان آرمی کو مسائل کی جڑ قرار دیا گیا، منظور پشتین کی تقریر میں”یہ جو گردی ہے اس کے پیچے وردی ہے“ کے نعرے بلند ہوئے۔ بلکہ دلچسپ بات یہ تھی کہ کہ اگر ایک نعرے میں طالبان گردی کا تذکرہ تھا تو تین میں وردی کا، عام آدمی اس تحریک کے بارے میں جاننا چاہتا ہے لہذا اس حوالے سے چند اصولی گزارشات پیش خدمت ہیں۔

۱:  منظور پشتین اور پشتون تحفظ مومنٹ کا آغاز نقیب محسود کے قتل سے شروع ہوا، اس قتل کا الزام پاکستان آرمی پر نہیں بلکہ کراچی کے ایک پولیس آفیسر راو انور پر ہے۔

۲:  جنرل راحیل سے پہلے طالبان کو جرگے کا اختیار آرمی نے نہیں بلکہ مقامی قبائل نے دیا تھا، کیانی دور میں تو آرمی سے زیادہ لیویز اور خاصہ دار تھے، مگر ان قبائلی عمائدین سے درجنوں ملاقاتوں میں یہی سنا کہ مجاہدین (طالبان) ہمارے اصل رہنما ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے درجنوں ملکان کے چہرے اب بھی یاد ہیں۔ اس وقت آرمی نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ طالبان کو جج اور حکمران قبول کریں۔ اگر ماضی کا الزام یا افغان وار کی طرف بات کو لیجانا ہے تو پھر صرف وردی نہیں پوری قوم شریک تھی۔

۳:  آپریشن ضرب عضب جنرل راحیل نے لانچ کیا تھا۔ اس وقت طالبان کی کیا پوزیشن تھی، کے پی کے پشاور کے تاجروں سے انٹرویو کریں، کوئی تاجر نہیں بچا جس نے طالبان کو لاکھوں اور کروڑوں میں بھتہ نہ دیا ہو۔ میرے پاس درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ کتنے تاجر پنجاب اور بیرون ملک بھاگ گئے اور کتنوں کو طالبان نے مار دیا۔ جس سے کے پی اور فاٹا کی معیشت تباہ ہوئی۔

۴:  جنرل راحیل نے عجلت میں آپریشن کا آغاز کیا، اور ان قبائل سے میں نے سنا ہے کہ وہ “مجاہدین” (طالبان) کو مارنا چاہتا ہے، مگر آپریشن کے سال اور اس کے ایک سال بعد خودکش حملوں، بھتہ خوری میں پچانوے فیصد کمی آئی ہے، یہ اعداد و شمار آرمی کے نہیں بلکہ گلوبل ٹیرارزم انڈکس کے ہیں۔ طالبان کے دور میں اظہار آزادی رائے کی پوزیشن یہ تھی کہ ایک بار قاضی حسین احمد نے ٹی وی شو میں طالبان پر معمولی تنقید کی تو قاضی حسین احمد کے قتل کا فتوی جاری کردیا گیا، تو دیگر لبرل اور آزاد خیالوں کی کیا پوزیشن ہوگی یہ خود سوچ لیں؟

۵:  آپریشن میں بسا اوقات غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں، بے گناہ لوگ نشانہ بھی بنتے ہیں، آپریشن کے بعد سول انگیجمنٹ انتہائی اہم ہے تاکہ سوسائٹی کے خوف کو ختم کیا جائے اور ان کے شبہات کا ازالہ کیا جائے۔ علاقہ کلئیر کرنے کے بعد لوکل انتظامیہ کو حوالے کیا جائے۔ مگر افسوس کہ یہ عمل نہیں کیا گیا اور یہ وہی فرسٹریشن ہے جس نے پشتون تحفظ مومنٹ کا روپ دھار لیا۔ اس میں سول اورملٹری دونوں کی غلطی ہے۔

۶:  جنرل راحیل کے دور میں کسی کو ہمت نہیں تھی کہ ان امور پر احتجاج کرے، مگر باجوہ ڈاکٹرائن اس سے مختلف رہا، انہوں نے آتے ہی سوسائٹی کے تمام طبقات کو سپیس دی۔ باجوہ پہلے شخص تھے جو پارلیمنٹ میں پیش ہوئے، عوامی نمائندوں کے سامنے اپنا موقف دلائل کیساتھ پیش کیا، مولانا فضل الرحمن کیساتھ فاٹا کے حوالے سے دو بار ملے، فاٹا کے جو مدارس آپریشن میں بند ہوئے ہیں ان کو بحال کرنے کا عندیہ دیا۔ مولانا سمیع الحق کیساتھ تفصیلی ملاقات کی۔ یہ باجوہ ہی تھے جنہوں نے پیغام پاکستان کے ذریعے پرائیویٹ جہاد کا راستہ روکا۔

یہ باجوہ ہی ہیں جس نے صحافیوں کی عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کیا کہ جمہوریت کو چلنا چاہئے۔

مگر باجوہ ڈاکٹرائن کا ایک منفی اثر یہ سامنے آیا کہ سوسائٹی اپنے آپ کو آزاد سمجھنے لگی۔ ان کے خلاف نعرے لگنا شروع ہوئے۔ کراچی سے اٹھنے والی تحریک ان کے گلے پڑ گئ۔ تمام برائی کی جڑ آرمی کو قرار دیا گیا۔ اور کل جو طالبان کے خوف سے تیز آواز میں بات نہیں کرسکتے تھے آج باجوہ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

۷:  تین سال پہلے پشاور ترناب فارم کے ساتھ پولیس چیک پوسٹ پر کسی کام سے رک گیا۔ راقم نے پولیس والوں کو چھیڑا کہ ان چیک پوسٹوں کا کچھ فائدہ نہیں۔

اس نے کہا ہم بھی آپ کی طرح سوچتے تھے تھے مگر ایک سال میں پانچ خودکش حملہ آور کو ہم نے قابو کیا ہے اگر وہ پشاور شہر پہنچ جاتے تو بڑی تباہی پھیل جاتی۔ متنی چیک پوسٹ پر بم بلاسٹ کی ریشو معلوم کریں تو اندازہ ہوجائیگا۔
اب یہ آرمی اور ایجنسیوں کی مجبوری ہے کہ وہ ایسے واقعات کو پبلک نہیں کرسکتے۔

۸:  سرچ آپریشن میں بہت سے لوگوں کو اٹھایا گیا مگر اس میں ستر فیصد کو رہا کیا گیا۔ دو مذہبی جماعتوں کے قائدین کی سفارش پر مولانا صوفی محمد تک لوگوں کو رہا کیا گیا۔ بہت سارے اور لوگ بھی۔ اسی طرح اس وقت طالبان کے اثر و نفوذ کی وجہ سے بھت سے نوجوان ان سے متاثر ہوئے۔ کئی لوگ طالبان کی گواہی پر پکڑے گئے مگر والدین کا اصرار تھا کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں۔ اس معمے کو عدالت کے ذریعے حل کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

۹:  فاٹا ریفارمز کا مقصد یہی ہے کہ فاٹا سے “آرمی کی اجارہ داری” ختم ہوکے پشتونوں کو دیا جائے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ریفارمز کے پیچے بھی “وردی” ہے۔ جبکہ پشتوں رہنما اس کو مسلسل لیٹ کرنے پر تلے ہیں۔

۱۰:  میرے خیال سے نفرت کے بجائے محبت سے ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا جائے اور جینون مطالبات کی ایک فہرست تیار کی جائے کور کمانڈر کے پی اور آرمی چیف سے بات کی جائے۔ مجھے باجوہ ڈاکٹرائن سے توقع ہے کہ وہ ضرور مفاہمت کی راہ تلاش کرتے ہوئے ان مسائل کو حل کریں گے۔


ادارہ کا مصنف کی رائے سے اتفاق یا اختلاف ضروری نہیں۔ دانش کے صفحات اس موضوع پہ کسی بھی نقطہ نظر کے لئے دستیاب ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: