شادی کرلو: اسمارٹ فون محبت کی میں مبتلا نوجوانوں سے —– فواد رضا

0
  • 85
    Shares

آج کی تاریخ میں پاکستان کے معاشرے کی سب سے اہم ضرورت نوجوانوں کی سمت کا تعین کرنا ہے، آج کے ٹین ایجرز کے نزدیک زندگی کا مقصد محض ایک اسمارٹ فون، گاڑی، برانڈڈ ملبوسات اورایک لڑکی بن کر رہ گیا ہے جب کہ نوجوان لڑکیوں کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد شادی کرنا رہ گیا ہے۔ نوجوانوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آپ کی یہ ضروریاتِ زندگی انتہائی قابلِ احترام ہیں اور والدین کو حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ جنسی ضروریات کی تکمیل کے لیے جلد شادیوں کا اہتمام کردیا کریں۔ لیکن کسی بھی آسمانی صحیفے میں نہیں لکھا کہ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کوئی دنیا نہیں ہے، آپ کی عمر میں تعلیم، کچھ عرصے بعد ایک باعزت روزگار (چاہے وہ جاب ہو یا کاروبار) اور ایک منظم خاندان کی ابتدا آپ کے بنیادی مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔

یاد رکھیے! خواب سے خواب گاہ کا سفر طے کرتے ہی محبت کے سارے بھوت آپ پر لاحول پڑھتے ہوئے دفعان ہوجاتے ہیں اور اگر آپ نے خاندان کی ابتدا مناسب تیاری سے نہیں کی ہے تو آپ بیچ میدان میں کھڑے سر کھجارہے ہوتے ہیں کہ اب درپیش سنگین مسائل کاسامنا کیسے کیا جائے۔آپ یقیناً اپنا شریکِ حیات منتخب کرنے کا حق رکھتے ہیں اور اس کی سمجھ بھی ‘ لیکن ایک بات جو آپ کی عمر میں سمجھ نہیں آتی وہ یہ ہے کہ محض شادی کرلینا کامیابی نہیں ہے بلکہ اس شادی کو تمام عمر باعزت خوشی اور خوشحالی کے ساتھ نبھانا اصل ٹاسک ہے جسے حاصل کرنا انتہائی مشکل عمل ہے۔

اگر آ پ واقعی اس شخص کے ساتھ مخلص ہیں اور محبت کی انتہا پر ہیں جیسا کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے تو آپ کے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یقیناً آپ اپنے محبوب کو بیچ بازار میں رسوا کرنا پسند نہیں کریں گے، آپ کو سمجھنا ہوگا کہ شریکِ حیات کا حصول اپنی پسند کا اسمارٹ فون خرید لینے یا کوئی اچھی سی گاڑی لے لینے کا نام نہیں بلکہ اس سے بھی آگے کی بات ہے۔ آپ کی جنسی ضروریا ت یقیناً اتنی ہی اہم ہیں جتنی آپ کی شکمی ضروریات یعنی آپ کے لیے ایک ہمسفر ایسے ہی ضروری ہے جیسا کہ آپ کے لیے کھانا۔ لیکن یاد رکھیے کھانے کے ساتھ اگر آپ غیر مناسب رویہ اختیار کریں گے تو وہ آپ کو ردعمل نہیں دے گا تاہم آپ کا شریکِ حیات ضرور آپ سےاس معاملے میں احتجاج کرے گا۔

آپ جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں، سو بسم اللہ! اسلام بھی یہی چاہتا ہے، جسے آپ فی الحال دلیل بنا کر اپنے والدین کے سامنے پیش کررہے ہیں لیکن ایک منٹ رکیے، اسلام نے زوجین پر ایک دوسرے کے ایک نہیں کئی حقوق عائد کیے ہیں جن کو اگر آپ پڑھ لیں یا آپ کے والدین آپ کو وہ پڑھ کر سنادیں تو آپ کی ساری اسلامیات دھری کی دھری رہ جائے گی اور آئندہ آپ کسی بھی معاملے میں مذہب کا حوالہ دینے کی جسارت نہیں کریں گے۔ آپ کی معلومات کے لیے محض دو نکات آپ کو سمجھا دوں کہ اگر آپ مرد ہیں تو آپ کی بیوی آ پ کی نوکرانی نہیں ہے، نہ ہی وہ آپ کی ماں بہنوں کی خدمت پر مامور ہےآپ کسی صورت اس سے گھر میں جبری مشقت نہیں لے سکتے۔ اگر آپ خاتون ہیں تو آپ کا شوہر آپ کی بنیادی ضروریات جن میں محض روٹی کپڑا اور مکان شامل ہیں، کا ذمہ دار ہے، کہیں نہیں لکھا کہ نئے ماڈل کا فون، ہر سیزن کے ڈیزائنر ملبوسات اور ہفتہ وار آؤٹنگ شریعت نے اس پر فرض کردی ہے، اگر آپ عمر کے اس ابتدائی حصے میں ایک بردبار زندگی گزارنے کے قابل ہیں تو ایک بار پھر سو بسم اللہ! اور اگر نہیں تو اپنے ممی پاپا کے خرچے پر اس وقت اپنے جذبات قابو میں رکھیے جب تک آپ اپنی خواہشات کی تکمیل کے قابل نہیں ہو جاتے۔

اسلام نے زوجین پر ایک دوسرے کے ایک نہیں کئی حقوق عائد کیے ہیں جن کو اگر آپ پڑھ لیں تو آپ کی ساری اسلامیات دھری کی دھری رہ جائے گی.

سب سے اہم بات! آپ کی عمر میں اپنی ذات پر بے پناہ غرور ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ یہ جوانی کا تقاضا ہے اور وہ جوانی کیسی جو سر چڑھ کر نہ بولے، لیکن اب کیونکہ آپ شادی کا فیصلہ کرچکے ہیں تو پھر ایسے کام نہیں چلے گا، کہ آپ بغیر کسی منصوبہ بندی کے کہہ دیں کہ میں کرلوں گا، یا ہم اپنی محبت کے سہارے گزارا کرلیں گے۔۔ سانس لیجیے جناب! آپ کو دنیا کی کوئی دکان محبت کے عوض مہینے کا راشن نہیں دے گی اور ایزی لوڈ تو کسی صورت نہیں ملے گا۔والدین سے لڑنا جھگڑنا، انہیں بلیک میل کرنا، بے تکے طریقے اپنا کر انہیں دباؤ میں لانا بے سود ہے، وہ آپ کی شادی پر تب ہی رضامند ہوں گے جب آپ، جی ہاں آپ خود یہ ثابت کریں گے کہ آپ اس اہل ہیں کہ شادی کرکے والدین کی معیشت پر جو آپ پہلے ہی بوجھ ہیں مزید بوجھ نہیں بنیں گے۔

اگر آپ واقعی شادی کا فیصلہ کرچکے ہیں تو اب آپ پر دو چیزیں لازم ہیں۔

ایک یہ کہ جوانی کا سارا جوش ایک طرف رکھیں، دوستیاں یاریاں گئی بھاڑ میں۔۔ کمر کس کر شادی کے لیے ضروری اہتمام میں جت جائیں۔۔ آپ نے اپنی تعلیم پر پہلے سے زیادہ دھیان دینا ہے کہ اچھی تعلیم بہتر مستقبل کی سب سے بڑی ضامن ہے، دوئم یہ کہ آپ معاشی طور پر مستحکم ہونے کے لیے انتظار نہیں کرسکتے لہذا آج ہی اپنے تعلیمی اوقات کے بعد کوئی کام دھندا شروع کیجئے۔ یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔ اس مضمون کا مصنف اپنی تعلیم کے دوران ہی ایک اچھی آمدنی کمارہا تھا اوروہ بھی جائز ذرائع سے۔ بس آپ نے کرنا کیا ہے؟ آپ نے یہ کرنا ہے کہ معلوم کریں آپ کیا کام کرسکتے ہیں؟ اگر کچھ نہیں کرسکتے تو اپنے مزاج کے مطابق کوئی ہنر سیکھیں، کچھ ایسے شارٹ کورسز کریں جو آئندہ تعلیم اور جاب کے حصول میں آپ کو مدد فراہم کرسکیں۔

یاد رکھیے! سچی محبت رات گئے تک محبوب کو سرخ اور ہرے دل واٹس ایپ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ قربانی مانگتی ہے۔ صبح اٹھیے کہ اگر آپ ۲ بجے تک سونے کے عادی ہیں تو اپنا خود بھی بیڑہ غرق کریں گے اور شریکِ حیات کا بھی، زندگی کو معمول پہ لائیے، یہ مت سوچیے کہ آپ ابھی بچے ہیں ان سب کاموں کے لیے عمر پڑی ہے۔ اگر آپ شادی کے خواہش مند ہیں تو آپ کسی بھی صورت بچے نہیں رہے اور اگر آپ عمر کی اٹھارہ بہاریں دیکھ چکے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو بچہ تسلیم نہیں کرواسکتی۔ آپ بڑے ہوچکے ہیں۔

ہمت کریں! اب آپ نے بڑوں کی طرح اپنی زندگی گزانی ہے، سب سے اچھی مثال آپ کے گھر میں آپ کے والدین ہیں کہ کس طرح وہ اپنے آرام اور سکون کو تج کر آپ کے لیے آسائشاتِ زندگی کا سامان کرتے ہیں، یہی سب اب آپ نے بھی کرنا ہے۔

آپ کے اچھےمستقبل کے لیے ڈھیروں دعائیں۔

یہ بھی پڑھئے: شادی شدہ مرد اور فلرٹ: طیبہ زیدی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: