نابھہ روڈ کا بھولا بسرا خان —– تحریر: عزیز ابن الحسن

0
  • 170
    Shares

یادش بخیر لاھور میں نابھہ روڈ پر اگلے وقتوں کے ایک خان صاحب ہوا کرتے تھے جنکے ساتھ لاھور میں بہت وقت گزرا۔

انکا ذکر لاھور آنے سے بہت پہلے سانگھڑ میں سعید الدین اور اکبر معصوم سے سنا تھا۔ سعید الدین حیدرآباد سے سانگھڑ کالج میں وارد ہوئے تھے۔ بہت اچھی غزلیں کہتے تھے مگر غزل چھوڑ نثری نظم کے ہو بیٹھے تھے انکی نظمیں بہت منفرد موضوعات اور فضا لیے ہوتیں تھیں۔ افضال احمد سید انکے آدرشی شاعر تھے۔ اکبر معصوم غزل کے منفرد شاعر ہیں علاوہ ازیں مصوری اور خطاطی سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ سعید شاعری کے ساتھ ساتھ جدید فکشن اور خاص طور پر روسی ناولوں کا بہت عمدہ ذوق رکھتے تھے اور انکے کتب خانے میں ناولوں اور افسانوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ تھا۔ وہ ایک ناول “آفت کا ٹکڑا” کی بہت تعریف کیا کرتے تھے جس کے مصنف کا نام خان فضل الرحمن تھا۔ انہی کا ایک اور ناول یا افسانوی مجموعہ “ادھ کھایا امرود” بھی تھا۔ من جملہ اور باتوں کے ان دونوں ناولوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئ تھی کہ ان میں جنس کا چٹخارہ کچھ زیادہ ہی ہے۔ لیکن اسے محض جنسی ناول کہنا زیادتی ہوگی۔ زبان و بیان اور ایک خاص طرح کا نثری مزاج اور اچھوتا اسلوب ان کی اصل پہچان تھی۔

1987 میں جب میں لاھور آگیا تو امجد طفیل آفتاب حسین اور ضیا الحسن کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کی ادبی نشستوں میں جانا شروع کیا۔ حلقہ اربابِ ذوق اور دیگر ادبی حلقوں کے ہفتہ وار اجلاسوں کے مستقل حاضر باشوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی ادبی حیثیت سے قطع نظر بھی کچھ خاص اسباب کی بناپر اس فضا کا ایک حصہ بن چکے تھے۔ انہی میں ایک طویل القامت منحنی جسامت والے بزرگ بھی ہوتے تھے۔ انہیں دبلا پتلا کہنے سے بات پوری نہیں ہوتی۔ یوں سمجھئے جیسے کسی لمبے تڑنگے سرکنڈے کو ہاتھ پاؤں لگا کر کپڑے پہنا دیئے جائیں۔ چلتے تو ڈر رہتا کہ ہوا کا کوئی آوارہ جھونکا انہیں اڑا کر ہی نہ لے جائے۔ یہ اکثر اجلاس سے پہلے ہی موجود ہوتے یا اسکے دوران آجاتے۔ عمر ان کی اس وقت ستر پچہتر کے درمیان ضرور ہوگی۔ جس مستقل مزاجی سے وہ ادبی پروگراموں میں شریک ہوتے ان کی صحت اور جسمانی نحیفی کے پیشں نظر اسپر حیرت ہی کی جاسکتی تھی۔ حلقے کے اجلاس ٹی ہاؤس کی اوپر والی منزل میں ہوتے تھے۔ یہ بزرگ بڑی مشکل سے سیڑیھیاں چڑھتے ہوئے بڑی باقاعدگی سے نہ صرف شریکِ محفل ہوتے بلکہ کچھ لگے بندھے انداز میں تازہ پیش کی جانے والی تخلیقات پر اظہار خیال بھی کیا کرتے تھے جو عموماً کسی مذہبی و اخلاقی اعتراض کی صورت میں ہوتا اور کبھی کبھار خود بھی تنقید کیلیے کوئ تخلیق پیش کیا کرتے تھے۔

ویسے تو کلین شیو تھے مگر بعض دنوں میں ڈاڑھی بڑھی بھی رہتی۔ گاہے ماہے تازہ بنائی ہوئی شیو کے ساتھ بھی آتے تھے۔ قرائن بتاتے تھے کہ یہ کام خود ہی کیا کرتے ہونگے۔ اس کا اندازہ گردن اور ٹھوڑی کے نیچے بچ جانے والے چند بالوں سے ہوتا تھا جو انکے کپکپاتے ہاتھوں میں پکڑے ریزر اور نظر کی زد سے بچ جایا کرے تھے۔ سر پہ سفید بال آنکھوں پہ موٹے شیشے کی عینک ہاتھ میں کبھی کھونٹی کبھی کاغذوں کا کوئ پلندہ، پتلی مہین ٹانگیں جن پر چڑھی پتلون یا پاجامہ ہوتا۔ سردیوں میں عموماً ایک موٹا سا کوٹ اور بے ڈھنگے پن سے بندھی ٹائ جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ سوتے میں بھی لگائے رکھتے ہونگے۔ اس حلیے کے ساتھ ان بزرگوار کو پچاسیوں دفعہ پرانی انارکلی یا موج دریا روڈ کی طرف سے پیدل چلتے مال روڈ پار کر کے ٹی ہاؤس میں آتے جاتے دیکھنے کا موقع اس دور کے ادیبوں کو ملتے رہنا معمول کی بات تھی۔ انکی ایک اور مستقل عادت یہ تھی کہ پاک ٹی ہاؤس میں نیچے کرسیوں پہ بیٹھے یا اوپر حلقے کے اجلاس کے دوران جب بھی ان کے حساب سے نماز کا ٹائم ہوجاتا تو وہیں بیٹھے بیٹھے، منہ خواہ کسی بھی طرف ہو، نماز کی نیت باندھ لیا کرتے تھے۔ سر کے اشارے سے رکوع اور ذرا سا جھک کر سجدہ بھی کرلیتے۔ اب صورت یہ ہوتی کہ اجلاس جاری ہے افسانہ پڑھنے والا پڑھنے میں محو ہے حاضرین ہمہ تن گوش ہیں اور یہ صاحب یکایک ہاتھ کانوں تک اٹھائیں گے اور نماز پڑھنے لگیں گے سلام پھیرتے ہی دعا کیے بغیر کاروبارِ حیات یعنی حلقے کی کارروائ میں اسی خشوع و خضوع سے شریک ہوجائیں گے۔

پتا چلا کہ انکا نام فضل الرحمن ہے لیکن یہ سان گمان میں بھی نہ تھا کہ یہی بڑے میاں “آفت کا ٹکڑا” کے مصنف خان فضل الرحمن ہیں۔

انہی دنوں انارکلی میں پرانی کتابوں کی دکان سے “آفت کا ٹکڑا” بھی خرید لیا تھا اور اسے مزے لے لے کے پڑھ بھی چکا تھا۔ مگر اب بھی ان خان صاحب کو اس ناول کے مصنف کے طور پر قبول کرنے پر دل کسی طرح بھی آمادہ نہیں ہوتا تھا لیکن حقیقت یہی تھی کیونکہ سراج بھائ نے بھی اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ یہی وہ بزرگوار ہیں جن کے ناول اور چند دیگر افسانوں پر فحش ہونے کا باقاعدہ الزام ہے اور شاید سنسر کی زد میں بھی آچکے ہیں۔ لیکن سراج بھائ خان فضل الرحمن کے زیادہ مداح انکے اسلوب نثر کی وجہ سے تھے اور کہتے تھے کہ اچھی نثر کا ذوق پیدا کرنے کیلیے ان کی تحریریں ضرور پڑھنی چاہییں۔

یہی وہ موقع تھا جب خانصاحب سے باقاعدہ تعلق ہوا۔ سردیوں کا آغاز تھا ایک روز یوں ہوا کہ انارکلی سے ہرمن ہسے کا ناول “سدھارتھ” خریدا اور پاک ٹی ہاؤس میں آبیٹھا اور پڑھنے لگا۔ اسی دوران ساتھ والی کرسی پر یہ بزرگوار آ بیٹھے اور نماز کی نیت باندھ لی۔ فارغ ہوئے تو بغیر کسی تعارفی کلمے کے بولے “لائیے دکھائیں کیا پڑھ رہے ہیں” ناول دکھایا تو جیب سے کاغذ قلم نکال کر اس کا عنوان نوٹ کیا اور بولے “میں نے بھی مہاتما بدھ پہ بہت سی کہانیاں لکھی ہیں”۔

اول اول ان سے ملاقاتیں ٹی ہاؤس ہی میں ہوتیں جہاں وہ باتوں کے دوران اچانک ہر شے سے منقطع ہوکر نماز کی نیت باندھ لیتے تھے اور میں دل ہی دل میں حیران ہوتا کہ فیاللعجب ایک طرف وہ “جنس نگاری” اور دوسری طرف یہ یہ پارسائی کہ نماز کسی صورت نہیں چھوڑنی!

جب ان سے بے تکلفی ذرا زیادہ ہوگئ تو ایک دن یہ معمہ ان سے پوچھ ہی لیا کہ خانصاحب یہ راز تو کھولیں کہ یہ سب آخر کیا ہے؟

ویسے خانصاحب بہت معصوم سے انسان تھے۔ فحاشی والی بات سن کر ذرا سا مسکرائے مگر قدرے انجان پنے سے بولے “نہیں، ایسی تو کوئی بات نہ ہے میں فحش نگاری تو بالکل نہ کروں ہوں۔ معلوم نہیں لوگ ایسا کیوں سمجھیں ہیں”

پھر کہنے لگے “درست بات یہ ہے کہ میری کہانیوں کی ہیروئن ہوتی ہی ایسی ہے کہ اسے دیکھ کر خود پر قابو رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسلیے میں موقع کی مناسبت سے ساری بات سچ سچ لکھ دیتا ہوں۔ لیکن ایک بات پر آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ میرے مرد کردار جس حالت میں بھی ہوں وہ نماز کسی صورت قضا نہیں کرتے؟” خانصاحب یہ باتیں اتنی معصومیت سے کرتے تھے کہ ان سے خواہ مخواہ الجھنے کو جی بھی نہیں چاہتا تھا۔

پیشے کے اعتبار سے خان فضل الرحمن وکیل تھے۔ ان کی ہیئت کذائی دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ کوئی انہیں اپنا مقدمہ بھی دیتا ہوگا۔ تس پہ یہ کہ اس عمر میں عدالت جانے پر تیار رہتے تھے۔ مجھے ان کے وکیل ہونے کا کبھی یقین نہ ہوتا اگر میں نے بچشم خود ان کے گھر میں قانون کی موٹی موٹی کتابیں نہ دیکھی ہوتیں۔ ان کے کتب خانے میں تاریخ مہمات ادب اور مذہبیات پر انگریزی اردو میں سیکڑوں کتابیں تھیں۔

ان کے گھر جانے کا قصہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں جو پرانی انار کلی کے آخر میں بائیں طرف والی اس سڑک پر تھا جسے نابھہ روڈ کہتے ہیں اور غالباً کلیم میں آئ ایسی عمارتوں میں سے ایک میں تھا جس کے مختلف حصوں میں متعدد مکین رہتے ہیں۔ نابھہ روڈ پر ایک طرف کو ایک بہت بڑی سرکاری بلڈنگ تھی اسکے دوسری طرف فوٹو کاپیوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ بیچ بیچ میں کچھ ہوٹل بھی تھے۔ انہی دکانوں کے بیچ میں انکا گھر تھا۔ ہوا یوں کہ خانصاحب نے ایک روز مجھے کچھ کتابیں دکھانے کیلیے شام کو اپنے گھر بلایا۔ چلتی سڑک دائیں بائیں دکانیں اور بیچ میں وہ بڑی سے بلڈنگ جسمیں خانصاحب کا گھر تھا۔ کسی دکاندار سے پوچھا تو اسنے دروازہ بتایا جو کھلا ہوا تھا۔ ادھر ادھر گھنٹی کا بٹن تلاش کیا جو نہیں ملا۔ پس و پیش دیکھ کر دکاندار نے بتایا اندر چلے جائیں۔ اٹھے ہوئے شٹر میں داخل تو ہوگیا مگر وہ ایک پراسرار اندھیری فضا والی عجیب سی لمبوتری سرنگ نما عمارت تھی۔۔ یہاں وہاں گرد سے اٹی کچھ کرسیاں بیچ میں بڑا سا میز کچھ فرنیچر، دیواروں کے ساتھ الماریاں کچھ کے دروازے کھلے کچھ بند۔ ہر طرف بوسیدگی اور گرد کا راج تھا۔

خانصاحب کے طور طریقوں ہیئت اور حلیے کے پیش نظر یہ سب اگرچہ کچھ انہونا تو نہیں تھا مگر پھر بھی خاصہ وحشت انگیز سماں تھا۔ اس میں سے گزرتا آگے بڑھ گیا تاآنکہ اس سیلن زدہ نیم تاریک ماحول میں ایک طرف کو سیڑھی اوپر چڑھتی نظرآئ۔ اب یاد پڑتا ہے کہ باہر دکاندار نے ہی بتادیا تھا کہ سیڑھیاں چڑھ جانا وہی انکا گھر ہے۔ مگر یوں ایک اجنبی جگہ پر بنا اجازت کسی گھر کی سیڑھیاں پھلانگنا اچھا نہ لگا تو نیچے ہی سے دو تین دفعہ زور زور سے خانصاحب کو پکارا مگر جواب نہ دارد۔ ذرا ہمت پکڑی اور پانچ سات قدم اوپر چڑھ کر ایک دفعہ پھر خانصاحب کا نام لیکر انہیں پکارا۔ ابھی اندر سے کسی ردعمل کا انتظار ہی کر رہا تھا کہ اچانک اندھیری سیڑھی کا اوپر والا دروازہ کھلا اور ایک گڑوی یا لوٹا نما کوئ برتن تیزی سے آیا اور میرے سر کے پاس سے ہوتا ہوا دیوار سے ٹکرایا اور وہاں سے ہوتا ہوا کسی کتابوں کی الماری کا شیشہ توڑتا ہوا زمین پر گر گیا۔ ساتھ ہی ایک چیخ نما کرخت سی زنانہ آواز آئ جو پنجابی میں کہہ رہی تھی کہ “کتنی دفعہ تو کہا ہے کہ اوپر آجا مگر تو ہے کہ خانصاحب خانصاحب کیئے جارہا ہے”۔

یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ خانصاحب کے مہمانِ عزیز کے تو اوسان ہی خطا ہوگیے جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ قریب تھا کہ الٹے قدموں بھاگ پڑتا اور رہی سہی کسر سیڑھیوں سے گر کر ہڈیاں تڑوا کر پوری کر بیٹھتا کہ خانصاحب کی پچکارتی ہوئی آواز سنائ دی “ڈریں مت یہ پگلی ہے یہ ایسے کرتی رہتی ہے”۔ وہ ایک ہاتھ سے اس عورت کو پکڑ پکڑ کر دلاسے سے ایک طرف کو ہٹا رہے تھے اور دوسرے ہاتھ سے مجھے اوپر بلا رہے تھے۔ اِدھر اس تھوڑے سے وقت میں جو کچھ بیت چکا تھا اس کی وجہ سے اس خوبصورت نثر لکھنے والے وکیل افسانہ نگار کا پُراسرار گھر اور اسکی کتابیں دیکھنے کی خواہش میرے اندر سے بلکل ہی ختم ہوچکی تھی۔ سو ان سے کہا کہ میں پھر کبھی آؤنگا اور باہر کی طرف دوڑ لگادی اور ٹی ہاؤس جا کر دم لیا جو وہاں سے زیادہ دور نہیں تھا۔

اگلی دفعہ ملے تو یوں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بلکل رواروی میں باتیں کرتے رہے۔ جبکہ میرے دماغ سے اس عجیب واقعے کا اثر کئ روز تک نہ گیا۔ لیکن کچھ عرصے کے بعد ایک اور واقعہ ہوا جس نے پہلے واقعے کی خاصی تحلیل کر کے میرے اُس روز والے بھیانک خواب کو قدرے معمول کی بات بنادیا۔

حلقے کا اجلاس جاری تھا شاعر/افسانہ نگار اپنی تخلیق پیش کرہا تھا اگلی ہی کسی نشست پر خان فضل الرحمن بھی نماز سے فارغ ہوکر ابھی سنبھل ہی رہے تھے کہ سیڑھیوں پر چڑھتی کسی خاتون کی آوازیں آنے لگیں۔ کیا دیکھتا ہوں کہ پنتالیس پچاس برس کی ایک عورت حال اور مستقبل کے ادیبوں کی اس محفل داخل ہوتی ہے، گردش حالات سے اسکا رنگ روپ اڑا ہوا، سر دوپٹے سے عاری اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ یہ خاتون اونچی آواز میں بولنا شروع ہوجاتی ہے۔ راست خطاب اسکا خانصاحب ہی سے تھا مگر گاہے گاہے دوسرے حاضرین کی ادبی سرگرمیوں کی شان میں بھی کچھ بول جاتی ہے۔ خانصاحب پہلے ہی کی طرح بڑی سہجتا سے اسے پچکارنے اور شانت کرنے لگتے ہیں۔ اس دوران حلقے کی کارروائی بھی قدرے معمول پر جاری رہتی ہے گویا مستقل کے حاضرین کیلیے یہ کوئ اتنی انہونی بات نہ ہو۔ اتنے میں خانصاحب بھی اپنی کوشش میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خاتون کچھ شانت ہوکر جاری کارروائ کو کبھی سنجیدگی اور گاہے نیم متبسم نظروں سے دیکھتی ہے گویا سب ٹھیک چل رہا ہے پھر خانصاحب اسے سیڑھیوں کی طرف بھیجنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور وہ بھی یوں چلی جاتی ہے جیسے ادیبوں کی سرگرمیوں کا معائنہ کرنے آئ تھی اور سب کچھ احسن طریقے پر ہوتا پاکر بطیبِ خاطر لوٹ رہی ہے۔

بعد میں دوستوں سے معلوم ہوا کہ یہ خاتون خان فضل الرحمان کی دوسری یا تیسری بیوی ہے اور پاگل ہے اور کبھی کبھی ٹی ہاؤس میں شوہر کی خبر گیری کیلیے آ جاتی ہے۔ اس کے بعد بھی یہ مناظر جب متعدد دفعہ دیکھے تو میرے لیے بھی یہ شے معمول کا حصہ بن گئ۔ تب میں نے دوستوں کو خانصاحب کے گھر میں اپنے ساتھ بیتنے والا ماجرا سنایا تو سب خوب ہنسے۔

خانصاحب کا اصل وطن سہارنپور یا مظفر نگر تھا اور پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر کے لاہور آبسے تھے لب و لہجہ تو اردو تھا مگر قصباتی انداز کا۔ ممکن ہے جوانی میں خوش کلام اور وجیہہ و شکیل بھی رہے ہوں مگر اس بڑھاپے میں کلام اور صورت دونوں گہنا چکے تھے۔ بڑھاپے اور دانتوں کی بناوٹ کی وجہ سے اب بولتے بھی کچھ پوپلا کر تھے اور بات بات پر قہقہہ نما کوئ آواز بھی ان کے منہ سے نکلتی تھی۔ خوش مزاج اور متحمل اطوار یقیناً تھے۔ ٹی ہاؤس میں بیٹھے چھوٹے بڑے ادیبوں کی موجودگی میں اچانک وارد ہوکر خانصاحب سے نِت تکرار کرتی سرعام بگڑتی اور مائل بہ پیکار رہتی بیوی کو جس لاڈ دلار اور پیار چمکار سے وہ مناتے اور گھر لاتے تھے وہ انہی کا حوصلہ تھا۔ معلوم نہیں کہ گھر میں کھانے دانے اور پکانے ریندھنے کے معاملات کیسے چلتے تھے مگر خانصاحب کی حالت اور پہناوے دکھاوے سے لگتا تھا کہ اس عمر میں یہ ساری مشقت بھی وہ خود ہی کرتے ہونگے۔

ایک دفعہ خان صاحب نے حلقے کے اجلاس میں اپنی ایک فارسی غزل سنائی۔ جی چاہا کہ یادگار کے طور پر ان سے ہاتھ سے لکھوا لوں لیکن اسکے بعد وہ کافی دنوں تک ٹی ہاؤس نہ آئے تو میں انہیں دیکھنے اسی گھر میں چلا گیا۔ سارا نقشہ وہی تھا مگر اب کے میں قدرے بے دھڑک تھا۔ سیڑھی پر آواز دینے سے خاتونِ خانہ سامنے آئ اور لگی تفتیش کرنے۔
“کون ہے تو کیا کرنے آیا ہے جب ایک دفعہ کہہ دیا تھا تو اوپر کیوں نہیں آیا بہرا ہے کیا تو، وغیرہ وغیرہ”

وہ چلائے جا رہی تھی کہ بیچ میں خانصاحب کی آواز بھی شامل ہوگئ جو بہت کمزور اور دور سے آتی محسوس ہورہی تھی: “چپ کر پاگل کہیں کی، کتیا نہ ہوتو، چپ ہوجا۔ کتنی دفعہ کہا ہے کہ مہمان کا خیال کر لیا کر”۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے انکی آواز میں کچھ درشتی محسوس کی تھی ورنہ اس سے پہلے انہیں بیوی سے ہمیشہ بہت دھیمے لہجے میں بات کرتے ہی سنا تھا۔ انکی آواز سنکر کچھ ڈھارس بندھی اور میں اوپر چلا گیا۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جسکی حالت نیچے سے مختلف نہ تھی۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک کھٹولے پہ لیٹے ہوئے ہیں جس پر پھیلا بستر شاید برسوں سے نہیں دھلا تھا۔ ایک طرف رکھی چھوٹی تپائی پر ان کی کچھ دوائیں کچھ ادھ کٹے ادھ کھائے پھل ڈبل روٹی کے چند ٹکڑے اور ایک کپ میں ٹھوڑی سی چائے پڑی تھی جو جانے کب سے ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ نیچے ایک کاغذ میں مٹی پڑی ہوئ تھی جس پر وہ کھانس کھانس کر تھوکتے جاتے تھے۔ پوچھنے پر بتایا کہ کئ روز سے بخار میں مبتلا ہیں۔ چاروں طرف اور خصوصاً بستر سی ناگوار سی بو اٹھ رہی تھی۔ مارے بے دمی کے ان کےلیے اٹھ کے بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ میں ٹھوڑی دیر ان کے پاس رکھی کرسی پر بڑی مشکل سے بیٹھ سکا تھا کہ یہ ماحول اور یہ بُو تادیر وہاں بیٹھنے کیلیے بالکل ناسازگار تھی۔ جتنی دیر خانصاحب سے باتیں رہیں خاتونِ خانہ مسلسل بڑبڑاتی رہی۔ وہ مجھ سے معذرت کرتے رہے کہ “پگلی ہے یہ آپ برا مت ماننا”

اس دن معلوم ہوا کہ خانصاحب کا ایک بیٹا بھی ہے جو کسی کالج میں انگریزی پڑھاتا ہے اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ماڈل ٹاؤن میں رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ضیاءالرحمن جب کبھی آتا ہے ان کیلیے دوا دارو کچھ کھانے پینے کا اہتمام کر جاتا ہے۔ مگر اِدھر کافی دنوں سے وہ آیا نہیں تھا۔ کہنے لگے کہ “میرا ایک کام کر دیں تو شکرگزار رہوں گا”۔ ایک کاغذ پر نقشہ بنا کر مجھے سمجھایا کہ لاج روڈ پر سیٹھ یاسین رہتے ہیں۔ انہیں کہیں کہ “میرے لڑکے کو فون کردیں کہ تمہارا باپ کئ دنوں سے بیمار ہے آکر اسے دیکھ جاؤ”
اس دوران بیگم صاحبہ بالکل نارمل ہوچکی تھی اور بیچ بیچ میں لقمے بھی دینے لگی تھی۔ میں نے خانصاحب کو ہاتھ میں پکڑی ایک کتاب دی کہ بعد میں جب ٹھیک ہوں تو اس پر اپنی وہ فارسی غزل لکھ دیں۔ بولے وہ تو ابھی لکھ دیتا ہوں بستر کے ساتھ بکھرے کاغذوں میں سے غزل نکالی اور اپنے شکستہ قلم سے لکھنے لگے۔ بیگم اب بالکل ٹھیک تھی اور لگی بڑھ بڑھ کر مجھ سے باتیں کرنے۔ غزل تمام ہوئ تو میں اسے باآواز بلند پڑھنے لگا تاکہ ان کے رعشہ زدہ ہاتھوں کے سبب رہ جانے والی غلطیاں درست کروا لوں۔ جونہی کوئ مصرع پڑھتا انکی بیگم بھی اول فول الفاظ میں میری نقل اتارتی جیسے فارسی بول رہی ہو۔ خانصاحب تصحیح کرتے جاتے۔ جب تک میں غزل پڑھتا رہا بیگم مسلسل اپنی “فارسی” بولتی رہی۔

یوں میرے آنے پر اس روز خانصاحب بہت خوش تھے۔ بار بار کہتے “یہاں کاغذ پر اپنا پتہ لکھ جاویں تاکہ میں اپنے مہربان کو یاد رکھ سکوں”۔ اس روز انہوں نے اپنے بارے میں بہت کچھ بتایا۔ کہا کہ پاکستان بننے کے بعد میں لاھور آگیا تھا۔ گورنمنٹ کالج سے بی اے ایل ایل بی کیا پھر وکالت شروع کی۔ پھر حسبِ عادت اپنے افسانوں ناولوں کا بتانے لگے: میں نے کرشن جی پر بہت افسانے لکھے ہیں۔ کشمیر ترکی اور ٹرائے کی تاریخ کو موضوع بنایا ہے۔ مہاتما بدھ پر لکھا ہے۔ ہمالیہ کے کئ سفر کئے ہیں ان سفروں کا حال لکھا ہے۔ کہا کہ وہ سامنے والے شیلف پر جو رجسٹر رکھے ہیں وہ سب میرے افسانے اور کہانیاں ہیں۔ مگر میرے اب تک صرف ساتھ مجموعے ہی شائع ہوئے ہیں۔ کہنے لگے کہ “آفت کا ٹکڑا” کے ابھی دو حصے اور بھی ہیں۔ دوسرے حصے کا نام “آفت کی پڑیا” اور تیسرے کا “آفت ہی آفت” ہے۔ آفت کی پڑیا ایک عورت ہے۔ یہ دونوں جب مل جاتے ہیں تو پھر آفت ہی آفت ہوگی۔ بتایا کہ کُل ملا کر بارہ سو صفحے کا ناول ہوگا۔ کہا کہ میرے ایک ناول پر ڈاکٹر وحید قریشی مقدمہ بھی لکھ رہے ہیں۔

پوچھا کہ خانصاحب آپکے پسندیدہ مصنفین کون کون ہیں؟ تو جواب دیا کہ اردو ناول تو میں پڑھتا نہیں انگریزی میں مجھے ہارڈی اور جیمس جوائس بہت پسند ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے انہیں غالب کے علاوہ کوئ شاعر بھی پسند نہیں تھا بلکہ شاید انہوں نے کسے اور شاعر کو پڑھا بھی نہ ہو!

اس دوران میں نے دیکھا کہ انکی بیگم بھی بڑی توجہ سے یہ باتیں سن رہی تھی۔ دور دور تک پاگل پن کا کوئ نشان نہیں تھا۔ بس کبھی کبھی مسکراتی جاتی تھی جیسے کسی اور ہی دنیا میں ہو۔
آدھ پون گھنٹے میں جب میں سیڑھیاں اتر کے نیچے آنے لگا تو اس کے “فارسی” بولنے کی آوازیں پھر سے آنے لگیں۔ لمحہ بھر رک کر واپس جو نظر کی تو خانصاحب کو اپنے کاغذ سمیٹتے پایا جو بیگم دوبارہ اٹھا اٹھا کر بکھیر رہی تھی اور ان پر جھک جھک کر انہیں “فارسی” بھی سنارہی تھی۔ خانصاحب ہلکے ہلکے ہلکورے لیکر ہنس رہے تھے جیسے کسی بچے کی حرکتوں پر پیار آرہا ہو۔
باہر نکلا تو دل پر عجیب سے فسردگی طاری تھی۔ اسی عالم میں لاج روڈ پر خانصاحب کے بیٹے کیلیے ان کا پیغام چھوڑا کہ “کبھی آکے اس بوڑھے کی خبر لے جائے”

واپس آکر رات دیر تک میں خانصاحب کی اس حالت زار پر سوچتا رہا۔ انہوں نے ناول کے اگلے دو حصوں میں نہ جانے کیا لکھا ہوگا مگر مجھے تو یہ عورت ہی آفت کی پڑیا معلوم ہو رہی تھی جسکی وجہ سے خانصاحب کی زندگی آفت ہی آفت تھی۔
اسی رات میں نے ایک خط میں اکبر معصوم کو خان فضل الرحمن کی زندگی کے ان المیوں کے بارے میں ایک خط لکھا جسمیں لکھا تھا کہ معلوم نہیں کہ “خانصاحب نے اس عورت کو پاگل کیا ہے یا اس عورت نے خانصاحب کو زندگی کی اس انوکھی کہانی کا کردار بنا دیا ہے”

اس روز ان کی یہ بے کس زندگی دیکھ کر ازحد افسوس ہوا تھا۔ خدا کا شکر کہ کچھ دنوں بعد خانصاحب پھر سے بھلے چنگے ہوگئے۔ ٹی ہاؤس میں آنا جانا، حلقے کے جلسوں میں شرکت کسی کونے میں کرسی پر بیٹھ کر نماز اور بیوی کے ساتھ پِیٹک پیا پھر سے شروع ہوگیا۔ بس یہی اس منفرد نثر نگار ادیب اور فکشن نگار کی زندگی تھی جسکی بیوی اور بیوی کے ساتھ اس کا تعلق اور سلوک دیکھ کر روسی ناول نگاروں کے اینڈے بینڈے کردار یاد آتے تھے۔

خان فضل الرحمن کا شاہکار ناول “آفت کا ٹکڑا” 1962 میں مکتبہ جدید نے شائع کیا تھا اور افسانوں کا مجموعہ میری لائبریری کی طرف سے چھپا تھا۔ یہ دونوں اردو اشاعتی دنیا کے وہ ادارے تھے جن کی ایک دور میں جدید اردو ادب پر بلاشرکت غیرے اجارہ داری تھی۔ جدید اردو فکشن اور شاعری کا کون بڑا نام تھا جو ان چودھری برادران کے ادارے سے نہیں چھپا تھا۔ معروف مصور مصنف دانشور اور سیاست دان حنیف رامے بھی کا تعلق بھی اسی اشاعت گھر سے تھا۔ اس مؤقر ادارے کا خانصاحب کی تحریریں شائع کرنا بذات خود ایک اعزاز تھا تس پہ یہ کہ “آفت کا ٹکڑا” کا دیباچہ معروف افسانہ نگار ادیب اور خوش گفتار وکیل اعجاز حسین بٹالوی نے لکھا تھا۔

آج پچیس برس بعد خانصاحب کا یہ خاکہ لکھتے ہوئے میں نے اپنی کتابوں میں دو چیزیں گھنٹوں کوشش کر کے تلاش کیں۔ ایک ناول “آفت کا ٹکڑا” اور دوسری اپنی وہ ڈائری جس پر اُس زمانے میں روز بیتی لکھا کرتا تھا۔ یاد پڑتا ہے اس ڈائری میں خانصاحب سے ملاقاتوں کا حال بھی کہیں لکھا تھا۔ آج ناول تو نہ ملا البتہ ڈائری مل گئ۔ یہ سب کچھ اُس ڈائری سے اور کچھ یاداشت کے بھروسے پھر سے تازہ کیا ہے۔

“آفت کا ٹکڑا” کی کہانی دو کرداروں کے تقابل پر بُنی گئ ہے: رومنےگاٹ اور روز بے۔ رومنے ایک آدرشی انسان ہے جو اپنے مقصد کے حصول کیلیے دکھ بھوگنے کو زندگی کا لازمہ جانتا ہے۔ اس لیے وہ دنیوی وجاہت کو قربان کر کے دکھ کی چتا کے بھوبل سے مسرت کے پھول چنتا ہے۔

اسکے متضاد کے طور پر روزبے ہے۔ یہی آفت کا ٹکڑا ہے جو جسمانی حسن و جمال میں یکتا ہے لڑکیا اسپر فدا رہتی ہیں اور وہ ان کے جسم کی رعنائیوں میں شانتی تلاش کرنے والا ہے لیکن آخر آخر رومنے گاٹ کے برعکس یہ جنسی زندگی اسکے لیے وحشت و سراب بن جاتی ہے۔

ناول کی اصل خوبی اس کی زبان نثر اور وہ معاشرت اور فضا ہے جو اب نایاب ہوچکی ہے۔ واقعات اور کرداروں کے حوالے سے زبان کے بدلتے ذائقے ناول میں خاصے کی چیز ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اس نثر میں برتی جانے والی نادر تشبیہیں کلمات مناظر کی عکاسی اور کردار نگاری ہیں جن سے لطف اٹھائے بنا آگے پڑھنے والا محض جنس کے چٹخارے میں مست رہ جائے تو اسکی بد ذوقی میں کوئ شک ہی نہیں۔ جنس اور آرٹ کا موضوع ہمیشہ سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ لیکن بقول ہمارے ایک بڑے نقاد کے آرٹ کے برعکس فحش وہ شے ہے جس سے انسان دوسری دفعہ ویسا لطف کشید نہیں کر سکتا۔ جبکہ آرٹ من کی وہ موج ہے جو فحش کے اتار کے برعکس ہمیشہ مائل بہ مد رہتی ہتی۔ اس ناول میں ایسا بہت کچھ ہے جو محض جنس نگاری سے آگے کی شے ہے۔

سب سے بڑھ کر اسکی زبان جس میں اگرچہ شعری تراکیب بھی ہیں مگر اس کی اصل وہ ندرتِ بیان، منظر نگاری اور نثری تشبیہیں ہیں جن پر رک رک کر لطف لینا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک مقام پر ناول نگار ایک پہاڑی لڑکی کے جوان جسم کے کساؤ کے بیان میں کہتا ہے کہ
‘اس کا جسم ایسا گتھا ہوا تھا جیسے تازہ بان سے بُنا کوئ پلنگ جسپر خوب دل کھول کر بان خرچ کیا ہوا ہو اور اگر اس پر پانی انڈیلا جائے تو ایک بوند تک نیچے نہ گرے’

‘نامحرم نگاہوں کے تیر اس کے جسم پر یوں گڑتے جیسے سیہہ کے جسم پر تکلے جیسے تکیے میں جڑی ہوئ پنیں چبھتیں’

ناولوں اور افسانوں کے علاوہ انہوں نے کچھ سفر نامے بھی لکھے ہیں جو کوہِ شوالک، دُون اور ہمالیہ کے دامن کی پیدل سیروں کی داستان ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوا ان کے ناول “آفت کا ٹکڑا” پر بوجہ فحش نگاری کچھ عرصہ پابندی بھی رہی تھی۔ جب کوئ ایسی صورت ہو تو کہنہ فروشوں کی بن آتی ہے اور وہ بیٹھے بٹھائے کتاب مہنگی کردیتے ہیں۔ مجھے خود یہ ناول پرانے کتابوں میں سے پچاس روپے کا ملا تھا جو اس دور میں خاصی رقم تھی۔

ایک دفعہ خاص صاحب نے بتایا کہ انہوں نے چار دفعہ پیدل حج کیا ہے اور “چہار سفر” کے نام سے اسکا سفر نامہ بھی لکھا ہے۔ پوچھا کہ “خانصاحب وہ تو معرکے کی شے ہوگی اسے آپ چھپواتے کیوں نہیں؟”
اپنے مخصوص بھولپن سے ہنستے ہوئے بولے:
“وہ ذرا فحش زیادہ ہوگیا ہے”!

انکی کسی کتاب کے پُشت ورق پر انکے تعارف میں یہ جملہ لکھا گیا ہے کہ “انکا موضوع حُسن اور اسلام ہے”۔
حسن اور جنس پر تو انکی اکثر تحریریں گواہ ہیں باقی جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ ادیبوں کی مجلس کے بیچ و بیچ ہر طرف سے یک سو کر کرسی پر بلا کھٹکے نماز کی نیت باندھ لینے تک میں نظر آتا تھا۔ البتہ زہد و پارسائی کی غیر معلمولی حسیّت ان میں اتنی تھی کہ ادبی حلقوں کے اجلاس میں پڑھے جانے والی تحریروں کا کوئ مخرب اخلاق جز انکی سماعت سے بچ نہ پاتا اور فورا اسکی نشاندہی کر کے اپنے کسی افسانے کی ہیروئین کی جسمانی تراش خراش پر لگ جاتے تھے۔ جنس سے دلبستگی انہیں اتنی تھی کے کہ انکا “چہار سفر” بھی اس کے اثر سے نہ بچ سکا تھا اور اسی سبب سے انہوں نے اسے شائع کرنا مناسب نہ جانا تھا۔ یہ بات اپنی جگہ معمہ تھی کہ حج کے سفر نامے میں جنس کا موقع نکلا کیسے ہوگا!

اس میں کوئ شک نہیں کہ خان فضل الرحمن ایک انتہائ سادہ اور پرلے درجے کے بھولے افسانہ و ناول نگار تھے۔ ایسے لوگوں کی طرف تو یقیناً اللہ میاں بھی اک گونہ نگاہِ تبسم سے دیکھتا ہوگا۔

اس خا کے میں خان فضل الرحمن کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سب آنکھوں دیکھے کانوں سنے واقعات و حالات ہیں۔ بعد میں خانصاحب پر کیا بیتی وہ زندہ ہیں یا فوت ہو چکے کن حالات میں فوت ہوئے ان کے مسودات و کتب خانے کا کیا بنا وہ پُر اسرار گھر اب بھی ویسا ہے یا کسی منفعت بخش کاروبار کا مرکز بن گیا وہاں ٹکاٹک کی دکانیں کھل گئیں یا وہاں ان کے صاحبزادے نے آن بسیرا کیا اور باپ کے سرمائے کو سنبھال لیا، اس بارے میں میرے دماغ میں مکمل اندھیرا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: