عمرچھپانے کا سرطان —— ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 98
    Shares

جب امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن (APA) نے پہلے ڈائیگنوسٹک اینڈ اسٹیٹکل مینول (DSM) کو ترتیب دینے کی سعی کی تو اس کے سامنے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی کتاب کو ترتیب دینا کہ جس میں تمام ذہنی امراض کا اندراج ہو اور ان کی علامات خالص سائنس طور سے مذکور ہوں مشکل کام تھا۔ الگ الگ کتب اور الگ الگ تحقیقی مقالہ جات میں کئی نفسیاتی عوارض درج تھے مگر ظاہر ہے کہ ہر محقق اور مصنف کی اپنی نظریاتی بنیاد تھی جو دوسرے مصنفین سے منفرد ہو سکتی تھی۔ مثلاً فرائیڈکے تحلیل نفسی کے نظریات اور واٹسن اور اسکنرکے بیہوئیرز (Behaviourism) کے نزدیک بیماری کے تصور اور علامات کی تفصیل ہی مختلف تھی۔ مگر امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن نے اس مشکل کام کا بیڑا اٹھایا اور اب تک ایسے 5 مینول منظر عام پر آچکے ہیں۔ ہر ہر مینول میں نفسیاتی بیماریوں کی تعداد بدل جاتی ہے۔ بعض بیماریوں کا اندراج سابقہ مینولز میں تھا مگر اب وہ کسی اور عنوان اور کسی اور بیماری کے ذیل میں درج ہیں اور بعض کی اقسام ختم کر دی گئیں مثلاً شیزو فرینیا۔ بہرحال جو بھی ہو، ہر ہر مینول میں نئی نئی بیماریاں نفسیاتی عوارض کے مینول میں درج ہوتی جاتی ہیں۔ بحیثیت نفسیاتی معالج، میں محسوس کرتا ہوں کہ جلد یا بدیر عمر چھپانے کی بیماری کا اندراج بھی اس مینول میں ضرور ہونا چاہیے۔ اگر عمومی کیٹیگری میں نہیں تو کلچرل اسپیسفک کیٹیگری (Cultural Specific Category) میں تو ضرور ہی اس بیماری کا اندراج ہونا چاہیے۔

Author

میری بات اگر آپ کو انتہا پسندانہ معلوم ہو تو فریحہ الطاف صاحبہ کو ملاحظہ کر لیجئے۔ حال ہی میں مغرب میں چلنے والی ’’Me Too‘‘ تحریک میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے محترمہ نے فرمایا کہ وہ جب 6 سال کی تھیں، گھر کے باورچی نے ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ ہم کو فریحہ صاحبہ کے اس غم میں ان سے سچی ہمدردی ہے، واقعی بچوں پر اس نوع کے مظالم کوئی آج کی ایجاد نہیں۔ ان کے بیان کا اگلا حصہ دلچسپ ہے، وہ فرماتی ہیں اب “34” سال کی عمر میں ان کو ہاروے وینسٹائن (Harvey Weinstein) کے خلاف چلنے والی تحریک کی وجہ سے اپنا غم بیان کرنے کی ہمت ملی۔ یعنی فریحہ الطاف صاحبہ “34” سال کی ہیں! یادش بخیر، فریحہ صاحبہ نے پی ٹی وی کے مشہور ڈرامے ’’مس روزی‘‘ میں بھی کام کیا تھا جس میں یہ بآسانی 25، 30 سال کی معلوم ہو رہی تھیں اور یہ ڈرامہ 90 کی دہائی کے اوائل میں نشر ہوا تھا۔ یعنی یہ کوئی 50، 55 سال کی خاتون ہیں جو بڑے دھڑلے سے خود کو 34 سال کا کہہ رہی ہیں۔ حقیقت سے اس طرح کی دوری کیا کسی ذہنی طور پر صحت مند انسان میں ہو سکتی ہے؟

یہ اس نوع کی پہلی مثال ہے بھی نہیں۔ اداکارہ نور صاحبہ نے جب حال ہی میں شوبز سے اسلامی وجوہات سے رٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو ایک انٹرویو انگریزی روزنامہ میں شائع ہوا۔ اس انٹرویو میں اپنے بدلے ہوئے خیالات اور نظریات کے علاوہ انہوں نے فرمایا تھا کہ جب انہوں نے ’’مجھے چاند چاہیے‘‘ میں اداکاری کی تھی تو وہ محض 12 سال کی تھیں! اب جن لوگوں نے وہ فلم یا اس کے گانے کبھی دیکھے ہیں، وہ کان کھول کر سن لیں کہ محترمہ اس وقت 12 سال کی تھیں اور 12 سال کی بچیاں ایسی ’’بھرپور‘‘ ہوا کرتی ہیں۔ یعنی محترمہ نور صاحبہ اسلامی ہو گئی ہیں، شوبز چھوڑ رہی ہیں مگر جھوٹ بولنا نہیں چھوڑ سکتیں۔ مگر لطیفہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ آج سے کوئی 4 یا 5 سال قبل نادیہ خان صاحبہ کا انٹرویو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ وہ ڈرامہ ’’پل دو پل‘‘ میں اتنی کم عمر تھیں کہ جب وہ سیٹ پر اداکاری کرتے ہوئے بور ہو جاتیں تو ڈائریکٹر صاحب ان کوٹافیاں دے کر بہلاتے!

ایسی مثالوں کا ذکر ہو اور میرا صاحبہ کو نظر انداز کر دیا جائے یہ تو بہت ہی بڑی زیادتی ہو گی۔ آپ کے ایک حالیہ انٹرویو میں مذکور ہے کہ ان کو جب پہلی فلم میں سائن کیا گیا تو ڈائریکٹر صاحب نے ان کا شناختی کارڈ بنوا دیا، اس لیے کہ ان کا پاسپورٹ بننا تھا (محترمہ شاید جانتی نہیں کہ پاسپورٹ کے لیے شناختی کارڈ ضروری نہیں ہوتا) اور اس شناختی کارڈ مین ان کی عمر بڑھا کر لکھوا دی تاکہ ڈائریکٹر پر چائلڈ لیبر کا الزام نہ لگ جائے! مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ ہماری فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں چائلڈ لیبر ہی کا رواج ہے۔ فریحہ الطاف صاحبہ اپنی بتائی ہوئی عمر کے لحاظ سے مس روزی میں ’’چائلڈ‘‘ تھیں۔ پل دو پل میں نادیہ خان صاحبہ ’’چائلڈ‘‘ تھیں۔ ’’مجھے چاند چاہیے‘‘ میں نور صاحبہ ’’چائلڈ‘‘ تھیں اور میرا صاحبہ تو ابھی تک ’’چائلـڈ‘‘ ہی ہیں۔ مگرچائلڈ لیبر کا یہ سلسلہ ان اداکارائوں پر ہی ختم نہیں ہو جاتا۔ آج سے کوئی 3 سال قبل ہمارے شعبے کے دفتری عملے کے ایک صاحب رٹائر ہوئے تو ان کی الوداعی دعوت رکھی گئی۔ اس دعوت میں ان سے لوگوں نے پوچھا کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں تو اپنے فطری دکھ کے اظہار کے بعد انہوں نے فرمایا کہ انہوں نے 12 سال کی عمر میں جامعہ میں نوکری شروع کر دی تھی مگر یہاں پر کیونکہ نوکری کرنے کے لیے عمر کی 18 سال تھی۔ اس لیے ان کو اپنی عمر بڑھا کر لکھوانی پڑی ورنہ ابھی ان کی رٹائرمنٹ کی عمر تھوڑا ہوئی ہے۔ ۔ خیر ایک انسان کی مثال کیوں دی جائے جب سارا کا سارا معاشرہ ہی اس بیماری کا شکار ہے۔ ایک دور میں یہ مسئلہ خواتین کا تھا مگر اب مردوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس عادت میں عورتوں کا مقابلہ کرنے کی فکر میں ہیں۔

اسی لیے اگر بیماری عام ہو جائے تو وہ بالآخر بیماری کے عنوان سے ہی نکل کر عام رویے کے درجے میں آ بھی سکتی ہے۔ یعنی عمر چھپانے کے اس سرطان کو ہم بیماری ہوتے ہوئے بھی بیماری نہیں کہہ سکتے

خیر اس نفسیاتی بیماری کی وجوہات کیا ہیں، یہ بات بھی جاننا ضروری ہے۔ فرائیڈ بچوں کے حوالے سے ایک بہت اہم رویے کا ذکر کرتا ہے جسے اُس نے رگریشن (Regression) کا نام دیا ہے۔ رگریشن میں بچہ اپنی موجودہ عمر کے بجائے اچانک اپنی عمر کی کسی سابقہ منزل کے مطابق رویہ ظاہر کرنے لگتا ہے۔ مثلاً جس بچے کو چلنا آ گیا ہو، وہ گھسٹنے لگتا ہے اور جو ٹھیک بولنا سیکھ گیا ہو وہ کچی پکی بولی بولنے لگتا ہے۔ فرائیڈ کے نزدیک بچہ زندگی کی نئی منزل سے گھبرا جاتا ہے اور سابقہ منزل پر وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہے اور اس کو یہ بھی لگتا ہے کہ اس طرح اس کو زیادہ توجہ ملے گی۔ (اگر یہ رویہ آپ کو زیادہ آسانی سے سمجھنا ہے تو شرمیلا فاروقی کی والدہ کا مشاہدہ کر لیں)۔ خیر! معلوم یہ ہوتا ہے کہ عمر چھپانے کے مریض لوگ دراصل اپنی حیات کی نئی منزل سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور اس سے آسان ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ منزل پر ہی پڑائو کر لیں۔ اس بات کی ایک بڑی دلیل ہمارے معاشرے کے افراد کا فیشن بھی ہے۔ لوگوں کی ایک جمیع تعداد اس قسم کا فیشن کر رہی ہے جو دراصل ’’ٹین ایج‘‘ کے لیے موزوں ہے۔

ایک اور مسئلہ ہے شادی/ غیر شادی شدہ افراد کو اپنی عمر اس لیے بھی چھپانی پڑتی ہے کہ جب بھی ان کا شادی کا معاملہ ہو، اس میں عمر ایک بہت اہم معاملہ Bargaining Point کا نکتہ ہوتا ہے۔ جتنی بھی عمر عموماً بتائی جاتی ہے اس میں خود سے کچھ سال بڑھا کر سوچ لیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ پورا معاشرہ ہی انسان کو چیز سمجھتا ہے، رشتے اسی طرح تلاش کیے جاتے ہیں جیسے بقر عید کے موقع پر گائے بکرے خریدے جاتے ہیں۔ چلوا کر، دانت گن کر۔ ظاہر ہے لڑکیوں کو اسی معاشرے میں بیاہا جاتا ہے تو اسی حساب سے لوگوں کو چلنا پڑتا ہے۔ یہ معاشرہ ظاہری چیزوں کے، صرف بیرونی چیزوں کے اس قدر سحر میں ہے کہ اس میں کسی بھی انسان کی بحیثیت انسان تحسین ہے ہی نہیں۔ یہاں کیونکہ انسان آج تک ’’چیز‘‘ ہی ہے، اس لیے ہی ہمیں شادیوں کے مواقع پر ایسے جملے سننے کو مل جاتے ہیں کہ ’’اس نے بڈھی سے شادی کر لی، لڑکا کتنی بڑی عمر کا لگ رہا ہے، حور کے سنگ لنگور‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

چند سال قبل فیس بک پر ایک تصویر بڑی شیئر ہوئی تھی جس میں ایک سرخ و سفید لڑکی کو ایک افریقی لڑکے کے ساتھ عروسی لباس میں ملبوس دکھایا گیا تھا۔ اس جوڑے پر لوگوں نے فیس بک پر بڑی ’’تفریح‘‘ لی اور اس نوع کی باتیں تحریر کیں کہ ’’کیا یہ لڑکی اندھی ہے؟‘‘ اِس معاشرے کے لیے وہ بیچارہ افریقی شخص محض ایک سیاہ جسم ہے۔ ایک سیاہ چیز، نہ اس کی شخصیت اس معاشرے کے لیے کسی اہمیت کی حامل ہے نہ اس کا اور اس لڑکی کا تعلق۔ یہ معاشرہ کیونکہ اس ظاہری وضع، کپڑوں، رنگت، عمر سے ورا کسی بھی چیز کی کوئی تحسین رکھتا ہی نہیں، اسی لیے یہاں پر صرف سطحی چیزیں لوگوں کو متاثر کرتی ہیں اور صرف چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی ان کو پاگل بنائے رہتی ہیں۔ اسی لیے عمر جیسی چھوٹی سی چیز فریحہ الطاف سے سنبھل رہی ہے نہ ہی اس معاشرے کی اکثریت سے۔

ایک مشکل سوال ایک مرتبہ میری ایک طالبہ نے مجھ سے غیر عمومی نفسیات ( Abnormal Psychology) کے کورس میں پوچھا تھا کہ اگر کوئی بیماری اس قدر عام ہو جائے کہ وہی روش عام بن جائے اور ذہنی بیماری کا کمیاب (Statistically Infrequent) ہونے کا پیمانہ (Criteria) ناقابل اطلاق ہو جائے تو کیا وہ پھر بھی نفسیاتی بیماری کے ہی زمرے میں آئے گی؟ میں نے جواب دیا کہ بالکل رہے گا اس لیے کہ اور بھی کئی پیمانے (Criteria) موجود ہیں جیسے داخلی کرب) (Subjective Distress کا پیمانہ یعنی یہ کہ اگر کوئی کیفیت بیماری ہے تو وہ مریض کو پریشان رکھے گی۔ طالبہ نے کہا کہ کئی بیماریوں میں داخلی کرب کا شعور بھی تو ختم ہو جاتا ہے جیسے مینیا (Mania) میں تو پھر کیا ایسی بیماری جو عام ہو جائے اور فرد کو اس سے ہونے والی تکلیف کی حالت کا شعور ہی نہ ہو تو کیا وہ نارمل ہو جائے گی؟ میں نے کہا ہر گز نہیں۔ دفتری یا تعلیمی کارکردگی کے متاثر ہونے کا پیمانہ بھی تو موجود ہے۔ اس نے کہا کہ فرض کریں کہ یہ معاملات بھی زیادہ متاثر نہ ہوں تو کیا ہم ایسی بیماری کو نارمل مان لیں گے یعنی یہ بیماری نہیں مانی جائے گی؟ میں لاجواب ہونے لگا تو کہا کہ فرد کی پچھلی حالت بھی تو اسے یاد ہو گی، یعنی جب وہ صحت مند تھا، وہ خود کا موازنہ اس سے کر سکتا ہے۔ طالبہ نے کہا کہ اگر کوئی بیماری ہمیشہ سے ہو تو؟ یعنی خود سے موازنہ کرنے کے لیے کوئی بہتر حالت اپنے پاس بھی موجود نہ ہو تو؟ میرے پاس اب کوئی جواب نہ تھا۔ واقعی موجودہ علم نفسیات کے پاس اس ذہنی بیماری کا تو تصور ہے مگر ذہنی صحت کا کوئی واضح تصور موجود نہیں۔ اسی لیے فرد اور معاشرے کے تناظر سے ہی ذہنی صحت کا تعین ہوتا ہے۔ اسی لیے اگر بیماری عام ہو جائے تو وہ بالآخر بیماری کے عنوان سے ہی نکل کر عام رویے کے درجے میں آ بھی سکتی ہے۔ یعنی عمر چھپانے کے اس سرطان کو ہم بیماری ہوتے ہوئے بھی بیماری نہیں کہہ سکتے، اس لیے کہ بیماری کا ہر پیمانہ ہی یہاں پر غلط ہونے لگتا ہے۔ اس لیے Enjoy کیجئے، آپ کم عمر ہیں، آپ ابھی ترتازہ ہیں۔ نہ آپ پر نمک لگانے کی ضرورت ہے، نہ برف۔ ابھی آپ کے پرزے نہیں گھسے اور آپ کی ’’ری سیل ویلیو‘‘ ہے، خوش رہیے!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: