افتخار عارف : زندگی، فن اور افکار —– ایک بھرپور انٹرویو (دوسرا/ آخری حصہ)

0
  • 30
    Shares

اس انٹرویو کا پہلا حصہ اس لنک پہ دیکھئے


اب دیکھئے، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ میں چلا گیا لندن۔ وہاں میری ملازمت کسی اور طرح کی تھی۔ وہاں میں نے اردو مرکز قائم کیا اور اردو مرکز دنیا کا سب سے بڑا مرکز تھا جنوبی ایشیا کے بعد۔ جتنا فعال وہ مرکز اپنے زمانے میں اتنا مشہور تھا، اتنا مین لینڈ اردو میں بھی مرکز کوئی ایسا برابر کا نہیں تھا۔ اس کی مجھے اتنی شہرت ہوئی کہ کسی دنیا کے ادارے میں اتنے بڑے لوگ بیک وقت تشریف نہیں لائے، جتنے کہ اردو مرکز میں آئے۔ اس لئے کہ وہاں ہندوستانی بھی آتے تھے۔ آل احمد سرور بھی آتے تھے۔ قرۃ العین حیدر بھی آتی تھیں اور اختر الایمان بھی آتے تھے۔ سردار جعفری بھی آتے تھے، خورشید الاسلام بھی آتے تھے۔ شمس الرحمن فاروقی بھی آتے تھے۔ گوپی چند نارنگ بھی آتے۔ این میری شمل بھی آتی تھیں۔ ممتاز مفتی اور فیض اور یوسفی، جمیل جالبی، وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب، احمد فراز، فارغ بخاری اور شہرت بخاری اور زہرہ نگار اور ادا جعفری اور مختار مسعود یہ سب آتے تھے۔

نتیجہ کیا ہوا کہ وہ ادارہ جو تھا، وہ بڑھتا چلا گیا۔ اب نام اس کا تھا اردو مرکز اور وہ اردو مرکز کیا تھا؟ وہ صرف ایک آدمی تھا۔ افتخار عارف اور ان کا چار آدمیوں پر مشتمل عملہ۔ یہ کل اردو مرکز تھا۔ لندن کے قلب میں ہم نے ایک جگہ لے رکھی تھی۔ آغا حسن عابدی اور الطاف گوہر صاحب نے قائم کیا تھا اور یوسفی صاحب اس کے ٹرسٹی تھے۔ اب وہ اردو مرکز دور تھا نا، تو اب پاکستان والے بھی مجھے جان رہے تھے سب۔ ہندوستان والے بھی سب مجھے جان رہے تھے اور ساری دنیا والے مجھے الگ سے ایک شخصیت کے طور پر جان رہے تھے۔

تو اب وہ ریڈیو پاکستان کے افتخار عارف ریڈیو پاکستان میں بہت مشہور تھے۔ کسوٹی کے افتخار عارف اور پاکستان ٹیلیویژن کے افتخار عارف، اردو مرکز کے افتخار عارف۔ میں اردو مرکز میں تھا، تو بے نظیر بھٹو صاحبہ کا جو آبائی گھر تھا۔ آبائی ان معنوں میں کہ لندن کا جو ان کا پرانا گھر تھا، وہ میرے بالکل سامنے تھا۔ اس طرف میں رہتا تھا۔ بیچ میں سڑک تھی اور اس طرف وہ رہتی تھیں۔ اب جناب والہ میں پہلا پاکستانی تھا، جسے ملک سے باہر بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اعزاز دیا تھا۔

میری پہلی کتاب مہر دو نیم آئی تھی، تو میں باہر تھا ملک سے اور مجھ کو یہ ایوارڈ ملا۔ اسی زمانے میں میرے انگریزی میں ترجمے ہوئے اورگولف مین، مین لینڈ کے ایک پبلشر تھے۔ فارن بک شاپ، جنہوں نے میری کتاب چھاپی اور وہ کتاب نصاب میں وہاں شامل ہوگئی۔ روس میں میرا ترجمہ ہوا۔ جرمنی میں میرا ترجمہ ہوا۔ اسکینڈے نیوین میں میرا ترجمہ ہوا۔ مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے۔

اب میں آگیا پاکستان میں۔ میں ڈی جی ہوا پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کا۔ میں ڈی جی ہوا پاکستان رائٹرز اینڈاسکالرز ویلفیئر فائونڈیشن کا۔ میں چیئرمین ہوا مقتدرہ قومی زبان کا۔ میں چیئرمین ہوا اکیڈمی آف لیٹرز کا۔ میں چیئرمین ہوا مقتدرہ قومی زبان کا۔ قائم مقام ایم ڈی رہا نیشنل بک فائونڈیشن کا۔ جتنے بڑے علمی ادارے تھے، میں نے سب کی سربراہی کی ہے۔ سیاسی طور پر میری کسی سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو میں پسند کرتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کومیں اس لئے پسند کرتا تھا، کیونکہ غریب گھرانے سے میرا تعلق تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ وہی آدمی ہے، جو ملک کو کسی نہ کسی طریقے سے ڈلیور کر سکتا ہے اور میں سندھ کا رہنے والا ہوں اور سندھ سے اپنی شناخت رکھنا چاہتا تھا۔

بڑا حق ہے اس زمین کا جو ہمارا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ فرمان میرے سامنے تھا اور میں ہمیشہ سے ایک بات کہتا ہوں کہ کوئی آدمی مقامی ہوئے بغیر آفاقی نہیں ہو سکتا۔ کوئی ادیب مقامی ہوئے بغیر آفاقی نہیں ہو سکتا۔ کوئی آدمی یہ سمجھتا ہے کہ عالم انسانیت کی خدمت کرنا چاہتا ہے، تو پہلے اس کو اپنے گوٹھ اور اپنی بستی اور اپنے علاقے کی خدمت کرنی چاہیے۔ اپنی زبان، اپنی زمین، اپنا زمانہ ان کے حق ضروری ہوتے ہیں۔ پھر آپ دائرے کو بڑھاتے جاتے ہیں، بڑھاتے جاتے ہیں۔

تو یہ جو آپ کا پہلا سوال تھا، جو آپ نے اشو اٹھایا تھا، اس میں محنت کا بدل نہیں ہے۔ ریاضت کا بدل نہیں ہے۔ توفیق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ افراد کو محنت کرنی چاہیے۔ پروردگار عالم نے کبھی کسی شخص میں کوئی ایسی خواہش اور کوئی ایسی آرزو اور ایسی تمنا نہیں پیدا ہونے دی، جس کی تکمیل کی قدرت اور استعداد اس میں ودیعت نہ کر دی گئی ہو۔

مگر کیا ہوتا ہے کہ ہم عام طور پر پہچان نہیں پاتے کہ ہمیں جانا کدھر چاہیے۔ اگر ہم پہلے سے یہ طے کر لیں کہ ہمیں جانا کدھر ہے۔ کون سی منزل تک ہمیں پہنچنا ہے۔ میں کہتا تھا کہ پچاس سال کی عمر میں میرے بچوں کی شادیاں ہو جائیں گی اور میں آزاد ہو جائوں گا اور پھر میں لکھوں پڑھوں گا۔ پچاس سا ل کی عمر میں میں سب کام سے فارغ ہو گیا تھا۔ اب یہاں سے وہ شروع ہوتا ہے کہ میں کچھ سوچتا ہوں، قدرت کچھ سوچتی ہے۔

میں آیا، تو جو میری بہن تھی، وہ بیوہ ہو گئی۔ اچانک میرے والدین رخصت ہو چکے تھے۔ بیوہ بہن تھی۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں، بیٹا تھا۔ اچانک بہن بھی رخصت ہو گئی۔ اب اس کی تین بیٹیاں تھیں، بیٹا تھا۔ میرے بچے اپنے گھروں کے ہو گئے۔ وہ لندن میں رہ گئے۔ اب میں اکیلا ہو گیا۔ اب میری شاعری آپ دیکھ لیجئے اور میری زندگی ملا کے دیکھ لیجئے دونوں۔ کوئی آپ کو فاصلہ نظر نہیں آئے گا۔ جو میری زندگی ہے، وہی میری شاعری ہے۔ میں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں لکھی، جس کی صداقت میرے اندر سے نہ آئی ہو۔ میں گناہگار آدمی ہوں۔ میں نے لکھا ہے کہ میں گناہگار آدمی ہوں۔ غالب نے کہیں لکھا تھا کہ میں موت سے نہیں ڈرتا، راحت کے فقدان سے ڈرتا ہوں۔ یہ وہ صداقت ہے، جو اس زمانے کی تھی۔

آسودہ رہنے کی خواہش مار گئی
ورنہ آگے اور آگے تک جا سکتا تھا
ہوس لقمۂ تر کھا گئی لہجے کا جلال
راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

مگر اگر آپ کو یہ احساس ہے کہ یہ ہو گا، تو بس اسی میں سب کچھ ہے۔ ’’کتاب دل و دنیا‘‘ میں نے اپنی کتاب کا نام رکھا۔ تو میری زندگی میں ہمہ وقت یہ تصادم رہا کہ میں دل کی طرف جائوں کہ دنیا کی طرف جائوں۔ اللہ نے مجھے بہت قوت عطا فرمائی کہ میں اپنے دل کے ساتھ رہ سکا، زندگی گزار سکا۔ میں نے ویسے زندگی گزاری، جیسے میں زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے اپنی شرطوں پہ زندگی گزاری۔ میں نے کبھی کسی کی شرطوں پہ زندگی نہیں گزاری۔ اللہ نے مجھے اس قابل کیا کہ میں اپنی زندگی اپنی شرطوں پہ گزار سکوں۔

جوہری محلہ افرنگی محل جہاں میرے والد رہتے تھے، داد ا رہتے تھے۔ میرے نانا رہتے تھے۔ میں ان دو محلو ں کے درمیان پھرتا رہتا تھا۔ کبھی نانا کے ساتھ رہ رہا ہو ں، تو کبھی داداکے ساتھ رہ رہا ہوں۔ جہاں پر میرا گھر ہے، اگر میں اس کی چھت پر کھڑا ہو جائوں، تو سامنے ایک بزرگ کی قبر تھی، ایک مزار تھا۔ ان کا نام تھا حضرت شاہ عبدالرحمن سندھی مواحد۔ ان کا تعلق سندھ سے تھا، مگر وہ جا کر ہندوستان میں آباد ہو گئے۔ اس وقت یہ مجھے بات نہیں معلوم تھی، جب میں وہاں رہتا تھا۔ مگر یہ معلوم تھا کہ یہ وہ ہیں، جو برصغیر کے سب سے بڑے وحدت الوجودی ہیں۔ حضرت شاہ عبدالرحمن، ہم ان کو اس حیثیت سے جانتے تھے۔ مواحد ان کے نام کا جزو ہے۔ کلمۃ الحق ان کی کتاب ہے۔ جس کی شرح لکھی ہے حضرت مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے۔ ان کا مزار تھا۔

ان کا جو سماع خانہ تھا، اس کا فرش فرشِ مسجد سے ملا ہوا تھا۔ وہاں سماع کی محفلیں ہوتی تھیں، جو برصغیر میں سب سے بڑا سماع خانہ کہا جاتا تھا۔ بچپن سے میں وہاں جاتا تھا۔ میں نے برصغیر کے جو مشہور قوال تھے، ان سے فارسی کی تہذیبی روایت میں سماع کی۔ وہ کلام سنا تھا، جو اہل سماع سنتے تھے۔ ان سے سو قدم پر قطب عالم حضرت مخدوم شاہ مینا رحمۃ اللہ علیہ صاحب ملفوظات کا مزار تھا، جو جانشین اور خلیفہ تھے حضرت مخدوم شیخ سارنگ رحمۃ اللہ علیہ کے۔ ان کے جو وارث تھے۔ اب جو تھے، وہ وہ ہیں، جن سے قرۃ العین حید ر بیت تھیں۔ آپ اگر میرا انٹرویو چھاپیں، تو اس میں وہ ضرور لکھئے گا ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ ایک باب ہے تیسری جلد میں، جو میرے بارے میں اور میری والدہ کے بارے میں ہے۔ تذکرہ ان کا کیا ہے

تو یہ تصوف کی جو روایت تھی، یہ وہاں تھی۔ سماع کی روایت بھی تھی۔ میری والدہ بیت تھیں خانوادہ چشت میں۔ چشتیہ مینائیہ سلسلے سے بیت تھیں۔ چنانچہ میں اس طرف کو راحج تھا۔ میرے نانا شیعہ تھے۔ ان کے نام کے ساتھ کشمیری لگتا تھا۔ میرے ماموں مرزا محمد ابراہیم تھے، ملا کشمیری۔ یہ لوگ تھے شیعہ۔

میرے گھر سے تین رخ پرتین بڑے شیعی ادارے تھے۔ مدرسۃ الواعظین، سلطان المدارس اور اعزا خانۂ غفراماب۔ اعزا خانہ غفراماب وہ اعزا خانہ ہے شیعوں کا، جوسلاطین اودھ شیعہ تھے، ایرانی شیعہ تھے۔ شاید ہمارے علاقے کے لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم ہوئی کہ برصغیر میں پہلی شیعہ مسجد لکھنو میں قائم کی گئی تھی اورپہلا شیعہ طریقے سے جمعہ کی نمازسید دلدار علی مجتہد نے لکھنو میں پڑھائی تھی۔ تو میں یہ بات کہتا ہوں کہ لکھنو کا جو ہندو ہوتا تھا، وہ بھی شیعہ ہوتا تھا۔ ٹھیک ہے جی؟

یہ ہے وہ پس منظرکہ میں اپنے والد کی طرف سے سنی تھا۔ والدہ میری شیعہ نہیں تھیں، لیکن میرے نانا شیعہ تھے۔ مجھ پر ان کا بہت اثر تھا۔ چنانچہ میں بچپن سے مجلسیں سنتا تھااور وہ جو میرے بچپن کا لکھنو تھا، اس میں کون کون لوگ تھے؟علامہ ابوالحسن علی ندوی۔ علامہ نیاز فتح پوری۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی۔ مولانا صبغت اللہ شہید۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلی۔ مولانا ہاشم فرنگی محلی۔ مولانا محمد رضا انصاری۔
دوسری طرف علامہ سید علی نقی نقوی صاحب شہید انسانیت۔ ادھر جوش تھا، ادھر یگانہ، ادھر َآرزو، ادھر سراج، ادھر مجاز، سجاد ظہیر، احتشام حسین، مسعود حسین رضوی ادیب۔ وہ جو تہذیبی فضا تھی، میری جو ذہنی ساخت تھی، اس میں کہیں شیعیت تھی، کہیں ایودھیا مت تھا۔ یہ رامائن، مہابھارت۔ اتنا مجھے یاد ہو گا۔ مندروں میں جانا، میلوں میں جانا۔ تو جو تہذیبی فضا تھی، وہ میرے اندر تھی۔
دوسری بات یہ کہ کسی نے کوشش نہیں کی کہ میں کچھ بنوں۔ سب نے مجھ کو آزاد چھوڑا ہوا تھا۔ دیکھئے نا کہ مثلاًمیں تو اپنے بچوں کو بنانا چاہتا تھا کچھ یا میں اپنے پوتی کو بنانا چاہتا ہوں کچھ یا میں اپنی نواسی کو کچھ بنانا چاہتا ہوں۔ مجھے تو کسی نے کچھ بنانا نہیں چاہا

فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

تو بس اللہ نے چاہا کہ ایسے ہی ہو۔ اب نتیجہ کیا ہوا کہ مجھے اپنی مسلم تہذیبی شناخت عزیز تھی بہت۔ اب میرے نزدیک جو مسلم تہذیبی شناخت تھی، وہ اس زمانے کا نصب العین کچھ اور تھا آج کچھ اور ہے۔ میرے خیال میں ایک مسلم قوم تھی، جو برصغیر کی ایک مسلم قومیت تھی۔ جو ہندوستان میں بھی رہتی تھی۔ پاکستان میں بھی رہتی تھی، بنگلہ دیش میں بھی رہتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔ یہ لمبا قصہ ہے۔

اس زمانے میں بھی مجھے اقبال اچھے لگتے تھے۔ مجھے حالی اچھے لگتے تھے۔ میں نے بچپن میں پورا پورا شکوہ یاد کیا ہوا تھا۔ مناجات بیوہ وغیرہ وغیرہ۔ جو ہوتا تھا، یاد کر ا لئے جاتے تھے۔ قرآن کی باتیں یاد کرا لی جاتی تھیں۔ درود شریف یاد کرا لئے جاتے تھے۔ مرثیے یاد کرا لئے جاتے تھے۔ مرثیوں کی محفل میں جاتا تھا۔ مرثیوں کے بند کے بند میں ابھی آپ کو سنا سکتا ہوں۔

اب میری والدہ ہیں، جو پڑھ رہی ہیں شجرہ نماز عصر کے بعد۔ سلسلہ چشتیہ میں شجرے پڑھے جاتے ہیں۔ میرے کانوں میں پڑتا رہتا تھا کہ حضرت مولانا اسحق دمشقی تھے۔ مودود چشتی تھی۔ حضرت معین الدین چشتی تھے۔ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی تھے۔ خواجہ فرید الدین گنج شکر تھے۔ نظام الدین اولیا تھے۔ ان کے ساتھ نصیر الدین چراغ اورفخرا لدین فخرجہاں اور سلیمان تونسوی تھے اور اللہ بخش تونسوی تھے۔ نور محمد مہاروی ہیں۔ یہ جتنی تینوں چاروں گدیاں ہیں۔ سیال شریف والی، تونسہ شریف والی، گولڑہ شریف والی۔ ان کے بزرگوں کے تذکرے ہم سنتے رہتے تھے۔
اب کیا تھا کہ جو چشتیوں کی تہذیبی ساخت ہے، اس کی زمین میں جڑیں ہیں۔ اب فرید الدین گنج شکررحمۃ اللہ علیہ کو آپ دیکھو ناکہ وہ اردو اور پنجابی کے پہلے شاعر کہے جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ لوگوں سے بات کرنا چاہتے تھے۔ عوام سے بات کرنا چاہتے تھے، تو انہوں نے اپنی اپنی زبانوں میں بات کی۔ صوفیا کو دیکھو۔ چاہے وہ سچل ہو ں، شاہ عبدالطیف بھٹائی ہوں، چاہے وہ بلھے شاہ یا سلطان باہو ہوں۔ یہ سب اپنے اپنے لوگوں سے بات کرنا چاہتے تھے یاشاہ حسین ہوں، فارسی کی بجائے اپنی اپنی زبان میں بات کر رہے تھےThey wanted to talk to people اب ہم کوئی صوفی نہیں تھے، مگرہمارے ذہن میں، اسی طریقے سے شیعیت کا اور بھی بہت کچھ ہو گا۔ لیکن ظلم کے خلاف نفرت ان کی بنیادی تربیت تھی۔ آئمہ کا قیام ظلم کے خلاف۔ حسین تم نہیں رہے۔ تمہارا گھر نہیں رہا، لیکن تمہارے بعدظالموں کا ڈر نہیں رہا۔ سید سلیمان ندوی کا شعر ہے

ہزار بار مجھے لے گیا ہے مکتب میں
وہ ایک قطرۂ خون جو رگ گلو میں ہے

ہر انسان کے دل میں لہو کی ایک بوند ہوتی ہے، جو اس سے مطالبہ کرتی رہتی ہے کہ بھائی سچ بول دے۔ یہی ہے تعلیم ساری کی ساری۔ نظام عدل کا قیام بہت ضروری ہے۔ یہ وہ سب تعلیمات تھیں، جو کہیں نہ کہیں اندر سے آتی ہیں۔

اب میں آیا یہاں اور میں تو تھا غریب اور ترقی پسند مصنفین کا جو قیام عمل میں آیا، وہ میرے گھر اور سکول سے سو گز کے فاصلے پر رفاہ عام کلب تھا، جہاں پہلاجلسہ انجمن ترقی پسند تنظیم کا ہوا تھا۔ پریم چند نے اس کی صدارت کی تھی اور پنجاب سے جو وفد گیا تھا، اس میں صاحبزادہ محمود احمد ظفر کے ساتھ فیض صاحب بھی گئے، جو ابھی جوان تھے۔ 20 کے عشرے میں تھے اور اس کے ڈرافٹنگ کمیٹی میں شامل تھے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ وہاں سے میں نے ابھی کل ہی منگوایا ہے۔ لندن میں ایک شفع ہوٹل تھا۔ وہاں پرلندن یونیورسٹی کے طالبعلم جاتے تھے۔ پانچ طالبعلم تھے۔ تو آنند صاحب، جن کا میں نے بی بی سی سے انٹرویو کیا تھا، فرماتے ہیں کہ میں، پرٹود سنگھ گپتا، جیٹی گھوش، محمد بن تاسیم، ہم سب اپنے اپنے ڈرافٹ لے کروہاں گئے اور اپنے اپنے ڈرافٹ سجاد ظہیر، ِجنہیں بنے بھائی کہتے تھے، کو دے دیئے۔ انہوں نے اس پر ایک ڈرافٹ لکھا۔ وہ ہے ترقی پسند تحریک کا پہلا منشور۔

تو میں سمجھتا تھا کہ ترقی پسند تحریک، یعنی لیفٹ کا جو ہے، وہی آدمی ہمیں ڈلیور کرا سکتا تھا۔ سوشلزم ہی ہمارے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے۔ چنانچہ جب ہم پاکستان آئے، تو دوطرح کے لوگ تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی تھی اور پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آرہا تھا۔ ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت میں سمجھ آرہا تھا کہ یہ ڈلیور کردیں گے۔ تاریخ پاکستان میں وہ پہلے آدمی ہیں، جنہوں نے عوام کو ایک احساس ان کی آواز کا اور ان کے ووٹ کا اور ان کی آزادی کا دلایا۔
یہ سب چیزیں مختلف ادوار میں ہوتی جاتی ہیں۔ آپ بدلتے جاتے ہیں۔ انسان بدلتا رہتا ہے۔ لیکن کچھ چیزیں آپ کے ہاں راسخ ہوتی جاتی ہیں او وہ تمام عمر چلتی رہتی ہیں۔ مثلاًمیرے ہاں بولے ہوئے لفظوں کی بہت حرمت تھی۔ اگر میں نے کسی کو بہن کہا ہے، تو وہ ساری عمر بہن رہے گی۔ کسی کو میں نے بڑے بھائی کے طور پر لیا ہے یا کوئی دوست ہے، تو میری وفاداریاں دوستو ں سے اس لئے رہیں۔ اس لئے کہ میں سمجھتا تھا کہ جو لوگ اپنے رشتوں میں خالص نہیں ہیں، وہ اچھے انسان نہیں ہوسکتے۔ میں ہمیشہ سے کہتا ہوں کہ جیسے محبت کا رشتہ ہے، اسے قائم رہنا چاہیے۔ محبت قوت عطا کرتی ہے۔ وفا اور محبت وہ تصورات ہیں، جو زندگی سے معنیٰ رکھتے ہیں۔ بہت سی چیزیں اضافی ہوتی ہو ں گی، لیکن عمومی فضا میں یہ زندگی کی اوّلیات اور ترجیحات ہیں۔ انسانوں اور جانوروں میں فرق کیا جانا چاہیے اور ہونا چاہیے۔ پیٹ اہم ہے، لیکن سب کچھ پیٹ نہیں ہے۔ دل اور شکم کے درمیان فاصلہ ہے، جس میں فرق کیا جانا چاہیے۔

اچھا، اب جو صوفیا کے ملفوظات تھے، وہ میں نے بہت یاد کئے ہوئے تھے۔ چاہے وہ حضرت نظام الدین اولیا کے ملفوظات ہوں۔ حضرت بابا فرید الدین شکر کے ملفوظات ہوں۔ حضرت داتا صاحب کے ملفوظات ہوں۔ ظاہر ہے کہ یہ ملفوظات حکمت کی سب باتیں ہیں۔ کوئی تحریر آپ پر اثر کئے بغیر کیسے نکل جائے گی؟یاد تو دلاتی رہتی ہے۔ مثلاً امیر المومنین ابو طالب کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں:جیسے بدن تھک جاتے ہیں، ایسے روح بھی تھک جاتی ہے۔ حکمت کی باتیں سنا کر روح کو تازہ دم رکھا کرو۔ تو میں نے یہ بھی کیا۔ کوشش کی اور اللہ نے بہت عطا کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں

داد او را قابلیت شبیست

ان کی عطا کے لئے استعداد لازم نہیں ہے۔ مگر جب وہ عطا کرتے ہیں، تو وہ استعداد بھی دے دیتے ہیں۔ بس ا س کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔ اور وہ کر لے آدمی، تو بہت نہال ہو جاتا ہے، بہت نہال ہو جاتا ہے۔ وہ میں نے کیا۔ دعا میں نے مانگی اور دعا راستے بناتی ہے۔ دعا ستون ہے۔ دین کا بھی ستون ہے۔ یہ دین کو مستحکم کرتی ہے۔

ایک مفسر ہیں۔ انہوں نے تفسیر میں یہ فرمایا ہے۔ قرآن حکیم میں سورہ بقرہ کی 186 ویں آیت ہے و اذا سالک عبادی عنی فانی قریبکہ میرے حبیب، میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں پوچھتے ہیں کہ میں کہاں ہو ں۔ تو بتا دو کہ میں تمہارے بہت قریب ہوں۔ پکارنے والا جب پکارتا ہے، تو میں اس کی آواز سنتا ہوں۔ جب بھی پکارے، مجھے پکارے۔ سات دفعہ پروردگار عالم نے واحد متکلم میں ’’میں، میں، میں، میرے‘‘کہا ہے۔ اور وہ انہیں اچھا لگتا ہے۔ اور کہا ہے کہ اگر تم نہیں مانتے ہو، توجائو، مجھے بھی تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔

اب کیسی کیسی دعا ہے رب لا تذرنی فرداً و انت خیر الوارثین پروردگار عالم مجھے اکیلا نہ چھوڑنارب زدنی علما۔ ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃوقنا عذاب النار۔ رب شرح لی صدری ویسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی یفقہوا قولی۔ ربنا تقبل من انک انت السمیع العلیم مانگے چلے جاتے ہیں، اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم مانگے چلے جاتے ہیں۔ پیغمبران کرام دعائیں مانگے چلے جاتے ہیں۔

یہ دعا کا مانگنا اور ہاتھ کا اٹھنا بتا رہا ہے کہ یقین ہے۔ دعا وہی مانگتا ہے، جس کو یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہے، میری دعائوں کو سننے والا ہے۔ مسلسل دعا کی طرف اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے متوجہ کیا ہے۔ قرآن متوجہ کرتا ہے۔ کہتا ہے، دیکھو، ابراہیم کیسا اچھا بندہ تھا۔ پلٹ کے آتا تھا، رجوع کرنے والا تھا۔ اچھا لگتا ہے، اس کو جو اس کے سامنے مانگتا ہے اور کیسے؟ روتے روتے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ یہ قرآن کا فیصلہ ہے۔ قرآن نے فیصلہ سنایا ہوا ہے کہ تم کہیں اطمینان نہیں پائو گے الا بذکر اللہ صرف ذکر الٰہی ہی تمہیں طمانیت قلب عطا فرمائے گا۔ یا یتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃاے اطمینان والی روح، تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ اس طرح کہ تواس سے راضی ہو، وہ تجھ سے راضی۔

ختم شد

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: