ہماری ’دانش’ کا ایک برس —– ڈاکٹر نجیبہ عارف

0
  • 27
    Shares

’’دانش‘‘ کی بنیاد رکھے ایک برس بیت گیا۔ یہ ایک برس، اس علمی و فکری فورم کےلیے کئی کامیابیوں کا پیغام لایا۔ یہ کامیابیاں وہ نہیں جنھیں کسی ایوارڈ یا سندِ تحسین و ستائش کے ذریعے ماپا جا سکے یا ٹرے میں رکھ کر پیش کیا جا سکے۔ سماج میں ذہنی و فکری تبدیلی پیدا کرنے کا سفر سست رو اور غیر محسوس ہوتا ہے۔ ج

یسے بچے کی عمر کے ساتھ اس کا قد بڑھتا رہتا ہے لیکن کسی خاص لمحے میں قد بڑھنے کے عمل کو دکھایا یا ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو اچانک ایک دن جب پچھلے برس کے کپڑے چھوٹے پڑتے معلوم ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ قد بڑھ چکا ہے۔ اسی طرح ذہنی و فکری ارتقا کسی ایک لمحے یا عمل کا نتیجہ نہیں ہوتا لیکن اس عمل میں حصہ دار ہونے والے بہت سے عوامل ہمہ وقت مصروف کار رہتے ہیں۔

’’دانش‘‘ نے ایک برس قبل ایسا ہی ایک محرک بننے کا ارادہ کیا تھا اور اس ایک برس کے دوران اس فورم پر ایسی بیسیوں تحریریں پیش کی گئیں جنھوں نے انسانی ذہن کو جھنجوڑنے، سوال اٹھانے پر اکسانے اور جواب تلاش کرنے پرآمادہ کرنے کا فریضہ سر انجام دیا۔ ان کے موضوعات میں تنوع اور نیرنگی دکھائی دیتی ہے۔ یہ فلسفیانہ گتھیاں کھولنےکی کوشش بھی کرتی رہیں اور جذباتی الجھنیں سلجھانے پر بھی مامور رہیں۔ان تحریروں میں برسوں کی ذہنی کدو کاوش کے حاصلات بھی بیان کیے گئے اور نوخیز ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات بھی پیش کیے گئے۔ یہ تحریریں سماجی مسائل، معاشرتی رویوں، مرد و زن کے بیچ پیش آنے والے سماجی معاملات، سیاسی اتارچڑھاؤ، قومی بیانیوں اور بین الاقوامی منظر ناموں پر فکر انگیز مباحث کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئیں۔ اس ایک سال کے دوران ہزاروں افراد نے ان تحریروں اور صوتی و بصری ٹکڑوں سے استفادہ کیا، اپنی رائے کا اظہار کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قلم اور قرطاس سے رشتہ استوار کیا۔ اس فورم پر نہ صرف ماہرین، اساتذہ اور پختہ کار ادیبوں کو تلاش کر کے انھیں لکھنے کی دعوت دی گئی بلکہ نئے اور نوجوان لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی اور اس ایک سال کے دوران کئی نوجوانوں نے اس فورم کو اظہار رائے کا ذریعہ بنایا۔

کامیابی کا یہ سفر حقیقتاً ’’دانش‘‘ کے لیے باعث تبریک و تہنیت ہے اور اس پر ہم جناب شاہد اعوان اور دانش سے وابستہ تمام فعال خواتین و حضرات کو تہ دل سے مبارک پیش کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: