دھرتی زادہ‎ —— سائرہ ممتاز

0
  • 57
    Shares

یزدان ازل کے ازن سے مہکتی باد نسیم سبز ہریالی گھاس کے تنکوں کو چھو کر ڈل کے پانیوں کو مہکا کر گزر رہی تھی اور سیب کے شگوفوں میں خوشبو بھرنے ہی والی تھی جب مسافر نے ایک ارغوانی آنچل کو شکارے کے یاقوتی پردے کے پیچھے سے لہراتے دیکھا۔

سائرہ ممتاز

تم نے یہ وادی دیکھ لی؟ آنے والی نے پوچھا۔
روز دیکھتا ہوں مگر بصارت باقی رہتی ہے بصیرت زائل ہو جاتی ہے۔
تم۔ یہ اتنی مشکل باتیں کیوں کرتے ہو؟
“میں یہاں شنکر آچاریہ کا سایہ ڈھونڈ رہا ہوں۔ اس نے دور کہیں دیکھا۔ ” وہاں فطرت نے لداخ کے پہاڑوں پر نقرئی ابرہن اوڑھ رکھا ہوگا۔۔ اس نے دل میں سوچا! جیسے کاجل کوٹھے سے روشنائی پھوٹ کر کالے کو اجالا کر دیتی ہے۔
“ایشور جانے تم کیا کیا باتیں کرتے ہو۔ کل پورا دن میں تمہارا رستہ دیکھتی رہی۔ تمہیں یہاں آئے ایک مہینہ ہو چکا ہے اور تم اپنا کام ابھی تک شروع بھی نہیں کر سکے” نازک اندام نے سوال داغا۔

اس نے ایک گول چکنا پتھر اپنی گود سے اٹھا کر ڈل کے سینے پر پٹخا۔ چھپاک کی آواز ابھری اور ڈل میں دور تک پانیوں کے دائرے بنتے بگڑتے رہے۔ “میرے قدموں سے یہ زمین لپٹ گئ ہے اور دھرتی نے اکتشاف کیا یے کہ پہلے معلوم کو نامعلوم سے جدا کرو”
مسافر نے بے رخی سے جواب دیا
اور وہاں تین رنگوں کے پہاڑ تھے۔ سفید مرغابیوں کے غول اور ڈل پر جمی ہریاول کائی تھی۔ گلابی کنول تھے اور ہاں! وہاں رنگ برنگ طیور بھی تھے ایک آوارہ مسافر کی روح پرواز کر رہی تھی اور اسے آزادی کا استعارہ سمجھنا تھا۔۔۔۔ آزادی جو صرف آزادی ہوتی ہے خودداری سے کشید کردہ۔۔۔
“مانا کہ میں اردو بہت اچھی سمجھتی ہوں لیکن تم آسان زبان میں گفتگو کیوں نہیں کر سکتے اے گیسو دراز مسافر۔ “کشمیری لباس میں ملبوس برہمن زادی نے تنک کر پوچھا۔
“میرے ابجد اور حروف اور تختی سب چھن چکے ہیں۔” مسافر آزردہ ہوا
“پھر سنتے کیا ہو اور بولتے کیا ہو؟ ” برہمن زادی کا دہن شگافتہ ہوا
” میں شکار کرنے آیا تھا اور اب۔۔ پابند سلاسل ہوں” مسافر اٹھ کھڑا ہوا اس کے سر پر سواتی تاج سجا ہوا تھا۔
“اب کہاں جاتے ہو۔ ؟ میں جبر کے خلاف ہوں، روز بندوقیں دیکھتی ہوں۔ ظلم کا فسانہ لکھتی ہوں۔ جانے والوں پر ستم نہیں کر سکتی۔ مگر جاتے کہاں ہو؟ ” برہمن زادی چٹخی اور اس کے وجود میں دراڑ پڑتی گئ
” میں ایک مسافر ہوں، آوارہ گرد! کہیں بھی جا سکتا ہوں، ہمالہ کےبرفیلے سر سے لے کر جہلم کے آخری سرے تک جہاں سرکنڈوں کے جھنڈ میں مرغابیوں کے غول اترتے ہیں”
منظر بدل جاتا یے!
” کیا تم مذہب بیزار ہو”
” نہیں” یک لفظی جواب ملتا ہے
کیا مذہب پرست ہو۔
“شاید نہیں” اب کے جواب دو لفظوں میں بدل جاتا ہے
لیکن وہاں بہت سے مذہب پرست تھے جنہوں نے موسم گل میں، جب گل انداموں کی بیضہ دانیوں میں کیسری پھول شگفتہ ہونے والے تھے۔ انھیں بام پر آنے اور کھلنے سے قبل ہی نوچ ڈالا۔ بندوقوں کی نالیوں سے، ترشولوں سے، چاقوؤں خنجروں سے اور کبھی بھگوان شیو کی طاقت کے استعارے سے۔
جہاں مائیں جگر گوشوں کے لب لعلیں، دودھیائی سیال میں زعفرانی ست ملا کر شب زفاف سے پہلے ہی سرخ کرتی آئی ہیں وہاں اب سفید و سبز علم میں لپٹے ایک بے روح بدن میں وہی سیال انڈیلتے انڈیلتے ان ماؤں کے کلیجے فولاد بن چکے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ہنسا اور اہنسا کے قوانین جدا ہیں۔ وہ ایک سے ہی ہیں۔

اے برہمن زادی تم جانتی ہو؟” تم جانتی ہو کہ بہت پہلے یہاں شاکیہ منی کا بھگوان اترا تھا جو شیریں دہن اور سخی قلب تھا
تمام مخلوقات پر ترس کھاتا اور رحم کرتا تھا۔ شکار کو چلا تیر چلے پر چڑھا ہوا تھا شست لگا لی تھی، کچھ کچھ کمان بھی تان لی، مگر دیکھتا ہے کہ بھولا بھالا ہرن بے خبر بے کھٹکے ننھے ننھے دانتوں سے پتلی پتلی گھاس کی پتیاں کھا رہا تھا بس وہیں کمان کو چھوڑ دیا اور فکر میں ڈوب گیا! افسوس! اس معصوم جانور نے میرا کیا بگاڑ اہے؟ یہ کسی کو ستاتا ہے جو میں اسے ماروں؟ تیر ترکش میں ڈال لیا۔ اور واپس گھر چلا گیا۔ گھڑ دوڑ میں شامل تھا، گھوڑے کو ہوا کر رکھا تھا، اغلب تھا کہ بازی جیتے گا مگر منزل پر پہنچنے سے ذرا پہلے گھوڑے کے ہانپنے اور زور زور سے سانس لینے کی طرف دھیان جا پڑا، بس وہیں رک گیا ہے اور پشیمان ہے افسوس! کیا تفریح کی خاطر اس بے گناہ وفادار جانور کو ایسا ستانا روا ہے؟ تفریح جائے مگر گھوڑے کو دکھ دینا واجب نہیں ہوا۔ گھڑ دوڑ سے علیحدہ ہوا اور گھوڑے کو چمکارتا دلاسا دیتا ایک طرف لے گیا۔

ایک روز بہار کے موسم میں باپ نے کہا کہ آؤ باہر چلو، دیکھو درختوں اور کھیتوں پر کیا جوبن چھایا ہوا ہے۔ باپ بیٹا آہستہ آہستہ چلے جاتے تھے جدھر دیکھتے تھے بہار کا عالم تھا۔ باغ ہی باغ نظر آتے تھے۔ کونٹیں چل رہی تھیں۔ زمین پر ہری ہری گھاس کا فرش تھا۔ ہری بھری کھیتیاں لہلہا رہی تھیں۔ درختوں کی شاخیں میوے کے بوجھ سے جھکی جاتی تھیں۔ گوتم اس منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر کیا دیکھا کہ ایک کسان ہل چلا رہا تھا بیل کمزور تھا اور پیٹھ زخم خوردہ تھی۔ کسان تک تک کر اس کو لکڑی سے مارے چلا جاتا تھا اور بیل تھا کہ بے چارہ درد کا مارا بیٹھا جاتا تھا پھر کیا دیکھا کہ باز نے کبوتر پر جھپٹا مارا اور اسے کھا گیا۔ آگے بڑھ کر اسی قسم کی ایک اور بات دیکھی۔ ایک کبوتر مکھیوں پر ٹھونگ مارتا ہے اور دانے سے چبا رہا ہے۔ ان سب باتوں نے باغ اور بہار کے تماشے کا مزہ تلخ کر دیا۔ دل میں یہ خیال آیا کہ دنیا ہیچ ہے جی کا بیری جی ہے۔ کیسا تماشا؟ چل اپنے گھر۔ وہ اہنسا اور ہنسا میں فرق کرتا تھا۔ ” یہاں رک کر۔ مسافر ہانپ گیا۔
برہمن زادی ڈل کے نیلگوں پانی پر۔ جھکی اور ایک کنول اٹھا لیا۔ ” یہ سرسوتی اور لکشمی کا آسن ہے مسافر!”
” میں صدیوں سے جاگتا ہوں یشودھا کی بیٹی”
یہیں کڑچھے والا بھی آیا تھا اور ڈمبرو والا بھی اور یہیں نند لال بھی اترا تھا اسی پہاڑ کے دامن میں گوپیوں کا رقص ہوا تھا۔ اور اس نے کہا۔ تھا جب جب دھرتی پر ظلم ہوا میں آؤں گا برہمن زادی۔۔
مسافر کا جگر سوختہ ہو چکا تھا!
میں نے سارے دھرم پڑھے ہیں، دھرم سنکٹ اپنے من میں اتارے ہیں میں یہاں مارنے آیا تھا لیکن مر چلا ہوں۔
مجھے فریب زادوں نے جنم۔ دیا اور دھرتی کا پیٹ کاٹتے رہے لیکن اب میں مر چلا۔ ہوں۔۔۔۔
کل شب ایک دھرتی جائے نے یہ کہا کہ میرے دھرم کے آخری داعی نے آخری سبق میں کہا تھا دین و مذہب اور دھرم کے سبھی نیک کاموں میں سب سے بڑی نیکی اور اس سے بھی بڑا کرم یہ ہے کہ جب تمہارے پاس کوئی امن کا پیغام لے کر آئے تو جلدی کرو۔۔۔ امن لانے میں جلدی کرو۔۔

لیکن سیب کے شگوفے مرجھا چکے ہیں ڈل کے پانیوں میں کاہی رنگ کی کائی جمی ہے۔ تین رنگوں کے پہاڑ صرف سرخ رنگ کا لاوا اگلتے ہیں۔ زعفران کے زردانے بار آور نہیں ہوتے۔ میری روح آزادی کے استعارے تلاش کرتی ہے لیکن یہاں ہنسا اور اہنسا میں فرق کرنے اب کوئی نہیں آتا
برہمن زادی کوئی نہیں آتا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: