وشال بھر دواج اور شیکسپیئر کا جادو — ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 75
    Shares

شیکسپیئر بلامبالغہ انگریزی ادب کے ہی نہیں عالمی ادب کے عظیم ترین فنکاروں میں سے ہے۔ اس کے تحریر کردہ ڈرامے اپنے دور سے لے کر آج تک لوگوں کو متاثر کرتے آئے ہیں۔ یہ ڈرامے دنیا کی تقریباً ہر زبان میں ترجمہ ہوچکے اور جب سے موشن پکچر اور پھر ٹی وی ڈرامے کا عہد آیا تو شیکسپیئر کی تحریر کردہ تماثیل کی ڈرامائی تشکیل بھی دنیا بھر میں ہو ئی۔ مگربھارتی ہدایت کار وشال بھردواج نے شیکسپیئر کے تجربے کو آگے بڑھانے کی سعی کی ہے۔ ایسا نہیں کہ وشال سے قبل دنیا میں کسی نے شیکسپیئر کی کہانیوں کو اپنے وطن کی ثقافتی فضا میں ڈھال کر پیش کرنے کی کاوش نہ کی ہو۔ مگر وشال کا تجربہ بڑی حد تک نیا اور منفرد نظر آتا ہے۔ یقینی طور پر اگر خود شیکسپیئر بھی وشال کی بنائی ہوئی یہ فلمیں دیکھ سکتا تو بعض مقامات پر وشال کی پیٹھ ضرور تھپکتا۔

شیکسپیئرکا ’’اوتھیلو‘‘ جب وشال کا ’’اوم کارا‘‘ بنتا ہے تو وہ وینس (Venice) کے حبشی سالار سے دیکھنے میں تو مختلف نظر آتا ہے مگر وشال بڑی خوبصورتی سے محلاتی سازشوں کے ِاس جال کو ایک (متشدد) سیاسی جماعت کی اندرونی حرکیات اور سازشوں میں ظاہر کر دیتا ہے۔ چیزوں کی روح میں اتر کر اُن کی مماثلتیں دیکھ لینا وشال کی ممتاز خصوصیت ہے۔ شیکسپیئر کا آئیگو( Iago) وہ( تنظیمی )مقام حاصل کرنا چاہتا تھا جو اوتھیلو کی مہربانی سے کاسیو (Cassio) کو مل جاتا ہے۔ یہ بات ’آئیگو‘ کو ’کاسیو‘ کا دشمن بنا دیتی ہے اور یہ دشمنی اس خوفناک اور ڈرامائیت سے پر کہانی کی بنیاد بنتی ہے۔ وشال نے اس صورتحال کو ہم برصغیر والوں کے لیے بالکل آسان مثال سے پیش کر دیا۔ اب آپ وینس کے دربار کی سیاست میں وشال کے دیے ہوئے لنس (Lens) کی مدد سے بڑی آسانی سے الطاف حسین کو بھی دیکھ سکتے ہیں، عمران فاروق کو بھی اور عظیم احمد طارق کو بھی۔ اسی بے پناہ تاثیر نے وشال کے کام کو کسی جوہری بم کی سی قوت دے دی ہے۔ حقیقی ادب، حقیقی فن، حقیقی شاعری ہمیشہ ہی خطرناک رہے ہیں۔

محمد حسن عسکری نے لیڈی میکبتھ (Lady Macbeth) کو ’’جدید عورت کی پرنانی‘‘ کہا ہے۔ مگر وشال بھردواج کی میکبتھ پر مبنی فلم ’’مقبول‘‘ کی ہیروئن ’’ نمی‘‘ تو اپنی ’’پرنانی‘‘ سے بھی چار ہاتھ آگے ہے۔ شیکسپیئر والی لیڈی میکبتھ Ambitious تھی۔ وہ اپنے شوہر میکبتھ سے تقاضہ کرتی ہے کہ وہ بادشاہ ’’ڈنکن‘‘ کو قتل کرکے اُس کے تحت پر قابض ہو جائے۔ مگر وشال کی ’’نمی‘‘ ایک اور ہی بلا ہے۔ وہ شیکسپیئر کی کہانی کے برخلاف میکبتھ (مقبول) کی بیوی نہیں بلکہ خود شہنشاہ (اباجی) کی بیوی ہے۔ اب اس کا مقبول سے یہ تقاضا کہ وہ ’’ابا جی‘‘ کو مار کر اُن کا مقام حاصل کر لے اور خود ہی مافیا کا سربراہ بن جائے کہیں زیادہ سفاک ہے۔ اِس عورت کے کہنے پر اپنے آقا سے غداری پر مقبول کو صرف بادشاہ کا رتبہ ہی نہیں ملے گا بلکہ اس کو خود لیڈی میکبتھ بھی ملے گی۔ مگر شیکسپیئر اور وشال بھردواج دونوں کو المیائی اختتام ہی بھاتے ہیں۔ دونوں ہی سفاک معلوم ہوتے ہیں ہیں لیکن یہ سفاکی نہیں بلکہ فنکار کی بہادری ہے کہ وہ بے ڈرے، بغیر ہکلائے، بغیر ڈگمگائے تلخ دنیا کی سچی منظر کشی کر دے۔

وشال بھردواج ہندوستان کا بہادر ترین ہدایت کار ہے۔ اتنا بہادر کہ ’’ہر ہر مہادیو‘‘ کے نعروں اور گیروے رنگ کی سیاست کے دور میں بھی جب وہ ’’ہیملٹ‘‘ (Hamlet) کو یورپ کے برف پوش پہاڑوں سے ہندوستان لاتا ہے تو اسے آزادی ٔ کشمیر کی تحریک کے ایک خفیہ ہمدرد کا بیٹا بنا دیتا ہے۔ اب ہیملٹ، ’’حیدر‘‘ بن جاتا ہے۔ یہ وشال کی شیکسپیئر کے حوالے سے سب سے بڑی جست ہے۔ ’’اوم کارا‘‘ میں وشال نے دور قدیم کی بادشاہت کے پس منظر کی کہانی کو تیسری دنیا کی اسلحے میں ڈوبی سیاسی تحریک میں ڈھالا تھا۔ مقبول میں وشال نے اِس سے بڑا قدم اٹھایا اور بادشاہت کی کہانی کو ایک مافیا کی کہانی میں ڈھال دیا مگر حیدر تک آتے آتے وشال اس طاقت و سیاست کے تناظر کو قائم رکھنے کی نفسیاتی ضرورت سے بھی آزاد ہو جاتا ہے۔ اب بادشاہ کی کہانی ایک ڈاکٹر کے گھرانے کی کہانی بن جاتی ہے۔ ایک ایسے علاقے میں وقوع پذیر ہونے والی کہانی جہاں سات لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور جہاں کسی کو بھی عسکریت پسند کہہ کر گرفتار کیا جا سکتا ہے، کسی کو بھی مار کر چناب میں بہایا جا سکتا ہے۔ مگر ہیملٹ کا کرب وہی ہے۔ وہ اپنی ماں سے محبت کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ُاس کی ماں نے اُس کے چچا کے ساتھ مل کر اُس کے باپ کو مروایا ہے۔ اُس کا باپ اس سے کہتا ہے کہ ’’میرا بدلہ لینا‘‘۔ اور جب وہ اپنے چچا سے بدلہ لینا چاہتا ہے مگراُس وقت چچا ندامت کا شکار ہے اور رب سے دعا کر رہا ہے۔ حیدر نہیں چاہتا کہ وہ دعا کی حالت میں چچا کو مار دے۔ وہ مکمل بدلہ چاہتا ہے۔ بدلہ، بدلہ، بدلہ۔ مگر یہاں پر وشال شیکسپیئر کی بات کے درمیان اپنی بات کر جاتا ہے۔ وہ بات جو صرف حیدر، صرف کشمیر، صرف کسی ایک انسان، ایک سماج کے لیے نہیں ہے۔ جو بڑی آفاقی بات ہے، اور وہ یہ کہ ہمیں بدلے سے آزاد ہونا ہو گا۔ ہر ہر آزادی سے بھی بالاتر ہے یہ بدلے سے آزادی۔ جب وشال کا حیدر ایک کھوپڑی کو ہاتھ میں لے کر اس سے مکالمہ کرتا ہے تو خیال یہ آتا ہے کہ یہ کہانی واقعی شیکسپیئر نے ہی لکھی تھی یا اسے وشال نے ہی کشمیر کے تناظر میں پہلے بار تحریر کیا ہے۔ وشال بھردواج کی ہدایت کاری کا اس سے بڑا کارنامہ کیا ہو گا کہ اس نے سیف علی خان سے اداکاری کرا دی۔ حیدر سے بڑا کردار شاہد کپور بھی کبھی نہ کر سکا تھا اور اس کے والد پنکج کپور کے پاس بھی ابا جی سے بہتر کون سا کردار ہے؟

اگر وشال بھردواج ہمارے زمانے میں شیکسپیئر کی یوں تشریح نہ کر دیتا توشیکسپیئر ہماری نسل کے بہت سے لوگوں کے لیے ایک دور قدیم کی یادگارہی بنا رہتا، ایک ایسا نام جو سنتے سب ہیں مگر پڑھتے چند ہیں۔ بلا شبہ وشال بھردواج بھارتی فلمی صنعت میں شیکسپیئر کا سب سے بڑا شارح ہے۔ ایک ایسا شارح جس نے شیکسپیئر کو صرف پڑھا ہی نہیں ہے بلکہ وہ اس کو عہد حاضر میں ڈھال کر بھی آسانی سے دیکھ سکتا اور دکھا سکا ہے۔ وہ اُس کی کہانیوں کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے کہ اسے خود شیکسپیئر کی سی نظر حاصل ہو گئی ہے اور اس سے بڑی قدرت کسی فنکار کے لیے کیا ہو گی؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: