بچے دہشت گرد نہیں ہوتے — ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

0
  • 165
    Shares

خوف فرعون کے اندر کنڈلی مارے بیٹھا تھا، اس نے اے مارنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس نے بچوں کا قتلِ عام کیا لیکن انھی میں سے بچ جانے والے ایک بچے کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچا اور رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بن گیا۔انسانیت کی تاریخ میں بچوں کے قتلِ عام کی کئی اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ دور کیوں جائیں خود ہمارے ماضی قریب میں کئی دل دہلا دینے والے واقعات رو نما ہو چکے ہیں۔ لاہور میں سو بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد تیزاب میں جلا دینے والے جاوید اقبال کا چہرہ ذہن سے محو نہیں ہو سکا۔ قصور میں زینب اور کئی دوسری بچیوں کا تو ابھی کفن بھی میلا نہیں ہوا ہوگا۔ یہ انفرادی بربریت کے واقعات ہیں۔ ان کے جنسی اور نفسیاتی محرکات ہو سکتے ہیں۔ ان واقعات کی شدت کچھ کم نہیں ہے لیکن اے پی ایس پشاور میں بچوں کے اجتماعی قتل کی شدت کو تو پوری دنیا نے محسوس کیا۔ اس سانحے نے ہر پتھر آنکھ کو نم کردیا تھا۔کچھ درندوں نے چن چن کر بچوں کے نازک بدن میں بارود انڈیلا اور ڈیڑھ سو کے قریب معصوم پھولوں کو چشمِ زدن میں مسل کر رکھ دیا۔ اس سے پہلے ۲۰۰۷ ء میں ایک واقعہ دارالحکومت کے وسط میں بھی پیش آیا تھا، دہشت گردوں کو مارنے کے لیے جانے والوں نے کئی بچوں کو بھی بھون ڈالا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ فاسفورس بم مار کر ان کی راکھ بھی اڑا دی تھی۔ راقم نے اس وقت ایک نظم کہی تھی: الم نصیبو! تمھاری قسمت کے راستوں پر/یہ کون دربان آکھڑے ہیں۔۔۔۔ دوست بہت جز بز ہوئے تھے۔ کئی القابات سے بھی نوازا تھا۔ مگر راقم آج بھی اس مئوقف پر قائم ہے کہ بچے دہشت گرد نہیں ہوتے۔

اب پڑوسی ملک میں ۱۰۱ معصوم بچوں کے قتلِ عام نے ایک بار پھر خون رُلا دیا ہے۔ یہ ۱۰۱ معصوم حفظِ قرآن کی تکمیل کے بعد اپنی دستار بندی کے لیے مدرسے گئے تھے۔ بم مار کر انھیں خون میں نہلا دیا گیا۔ جواب وہی ایک گھسا پٹا سا کہ مدرسے میں دہشت گرد چھپے بیٹھے تھے۔ یقیناََ چھپے بیٹھے ہوں گے، ہمیں تمھارے انٹلی جنس ذرایع کی مضبوطی پر یقین ہے۔ تمھارے پاس دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی موجود ہے۔ تمھاری خبر غلط نہیں ہو گی۔ تم ہماری ہر چھوٹی سے چھوٹی حرکت کو نوٹ کر سکتے ہو۔ لیکن حیرت ہے کہ تمھارے ڈرون اور خلائی شٹل تمھیں یہ نہ دکھا سکے کہ یہاں سیکڑوں معصوم بچے بھی موجود ہیں، جو دہشت گرد نہیں ہیں۔ تمھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ صرف کفن کا کپڑا ہی سفید نہیں ہوتا۔ مسلمان اپنے مذہبی تہواروں اور تقریبات پر بھی سفید کپڑے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تم نے خود سے ہی یہ طے کرلیا کہ یہ سب خود کش حملے کے لیے سفید کفن پہن کے بیٹھے ہیں۔ تم نے یہ کیوں کر سمجھ لیا کہ ان کی سفید پگڑیوں میں بارود بھرا ہے جو باہر جا کر تمھارے کیمپوں میں پھٹ جائیں گی۔ تم وہاں موجود دہشت گردوں کو کسی اور وقت کسی اور طریقے سے بھی تو ٹارگٹ کر سکتے تھے۔ تم سے کیا چھپا ہے؟ پھر تم نے ان بچوں کا قتلِ عام کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ کیا تم یہ سادہ سی بات نہیں جانتے کہ بچے دہشت گرد نہیں ہوتے۔ ان کے کچے ذہن تو کچی مٹی کی طرح ہوتے ہیں۔ تم جو چاہو ان سے بنا لو۔ چاہو تو جام بنا لو، چاہو تو چراغ بنا لو۔ بچوں کو توجہ اور درست راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کو ملا عمر اور ملا فضل اللہ بنا آسان ہے تو انھیں ڈاکٹر عبدالسلام اور اسٹیفن ہاکنگ بنا نابھی کچھ زیادہ مشکل نہیں۔ آج تم نے افغانستان میں بچوں کا قتل عام کیا ہے، کل پاکستان میں بھی کرو گے۔ پاکستان میں تو ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے، یہاں تیس ہزار کے قریب دینی مدرسے فعا ل ہیں۔ جن میں پچاس لاکھ کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں، جن میں غالب اکثریت ۱۶ سال سے کم عمر کے بچوں کی ہے اور ان میں سے بیشتر وہ بچے ہیں جن کے والدین ان کی تعلیم تو کجا ان کے کھانے پینے کے اخراجات بھی نہیں اُٹھا سکتے۔ جس ملک میں ساٹھ فی صد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہوں وہاں اتنی بڑی تعداد میں بچوں کا مدارس میں زیر تعلیم ہونا کچھ اچنبھے کی بات نہیں۔ اس دعوے میں صداقت ہو سکتی ہے کہ ان مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے لیکن اداروں نے تا حال ایسے اعداد و شمار جاری نہیں کیے جن سے اندازہ ہو کہ کتنے اور کون کون سے مدارس دہشت گردی کے لیے فعال ہیں۔ چناں چہ یک جنبشِ قلم سب مدارس پر یہ الزام دھر دینادرست نہیں۔ گائوں، محلے کے جن مدرسوں کے اندر تک رسائی ہے، ان کی تو شہادت بھی دی جا سکتی ہے۔

بلاشبہ دہشت گردی اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ اگر غربت، بے روزگاری، جہالت اور مساوی تعلیم کی کمی اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے بجائے صرف دینی مدرسے کے بچے ہی دہشت گردی کی واحد وجہ ہیں تو اس مسئلے کی بیخ کنی کے لیے ہمیں درج ذیل میں سے کوئی ایک آپشن ضرور لینا پڑے گا:

۱۔  ان بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے،تا کہ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد یہ اپنی بکتر بند ذہنیتوں کے ساتھ پورے ملک میں قریہ قریہ،گائوں گائوں پھیل جائیں اور اپنا کام کریں۔ ان میں وہ بھی شامل ہونگے جو دہشت گردی کی تعلیم دیں گے۔گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں ہم پچاس ہزار طالبان کو تو سنبھال نہیں سکے، پچاس لاکھ کو کون سنبھالے گا۔

۲۔  ہیرو شیما اور ہو لوکاسٹ کی یاد تازہ کریں، نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔اس کام کے لیے اخلاقی جواز فراہم کرنے والے دانشور بکثرت مل جائیں گے۔

۳۔  ان بچوں کو قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی جائے۔ ان پر انویسٹ کیا جائے۔ قومی خزانے کو اللوں تللوں میں اُڑانے کے بجائے ان پر خرچ کیا جائے۔ان کے تعلیمی نصابات کو نئے سرے سے تشکیل دیا جائے۔ دینی علوم کے ساتھ ان کے نصاب میں جدید علوم کو بھی شامل کیا جائے۔ ان کے مدرسوں میں بھی آئی ٹی لیبز بنائی جائیں، انھیں بھی سرکاری لیپ ٹاپس دیے جائیں اور تعلیم کی تکمیل کے بعد ان کے لیے باعزت روزگار کا بندوبست کیا جائے تاکہ یہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔

۴۔  کوئی چوتھا آپشن تمھارے پاس ہے تو وہ تم بتا دو؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: