پیٹرول کی قیمت میں کمی: اونٹ کے منہ میں زیرہ — رئیس احمد صمدانی

0
  • 18
    Shares

حکومت ِوقت نے حاطم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے پیٹرلیم مصنوعات میں جو کمی کی اس کی مثال گویا اونٹ کے منہ میں زیرہ والی ہے۔ کس قدر افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ جب پیٹرولیم میں اضافہ کرنا ہوتا سخاوت دکھائی جائے اور جب کمی کا وقت آئے تو حکومت کو سانپ سونگھ جائے اور اسے عوام کی حالت زار کا احساس ہی نہ رہے۔ حکومت خواہ آپ کو تھالی میں رکھ کر ملی ہو، آپ کی لاٹری نکل آئی ہو، قسمت میں یہ منصب لکھا ہو جووجہ بھی رہی ہو کم از کم موجودہ وزیر اعظم کو یہ منصب ان میں موجود صلاحیت، ھنر مندی، ذہانت، بردباری، سیاسی فہم و ادراک کے باعث نصیب نہیں ہوا۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے آپ کو یہ سعادت مل ہی گی تو آپ کا فرض تھا کہ آپ شاہ کے وفادار ضرور رہتے لیکن اس منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ فیض پہنچاتے، ریلیف دیتے، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتے، اللہ آپ کو اس کا اجر ضرور دیتا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ قبلہ وزیر اعظم خاقان عباسی صاحب نے اللہ کی خوشنودی کا بہترین موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔ آپ نے اپنے مختصر سے اقتدارمیں صرف شاہ سے وفاداری نبھانے کو اہمیت اور فوقیت دی۔ آپ کی توجہ پاکستان کے غریب عوام پر نہیں رہی کہ کس حال میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مہنگائی نے ان کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ مَیں نے اپنے سابقہ کالم ’ عوام پر مہنگائی کا پیٹرول بم‘ اس وقت لکھا تھا جب حکومت نے عوام پر مسلسل ساتویں بار پیٹرول بم گرایا تھا۔ کہ’ کمزور، ناقص، بے اختیار، دوسروں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچنے والی حکومت سے عوام کی بھلائی کی، خیر خواہی کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے‘۔ جب پیٹرول مہنگا کرنے کی بات آتی ہے تو حکومت اوگرا کی سفارشات کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے اضافہ کردیتی ہے لیکن جب پیٹرول عالمی منڈی میں سستا ہوتا ہے اور اوگرا سفارش کرتی ہے کہ پیٹرل سستا کیا جائے تو حکومت کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ یکم مارچ 2018 میں منگائی کی شرح اور اس اضافے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کچھ اس طرح سے کیا گیا تھا۔ پیٹرول میںاضافہ 3.56کیا تھا جس کے بعد پیٹرول 88.7فی لیٹر ہوگیا تھا، پہلے پیٹرول 83.51روپے تھا۔ لائٹ ڈیزل: 64.30 روپے تھا ایک روپے اضافہ کیا اور وہ 65.30فی لیٹر کرہوگیا تھا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل: 95.83 روپے فی لیٹر سے 3.56کے اضافے کے ساتھ98.45فی لیٹر کر دیا گیا تھا۔ مٹی کا تیل 70.26 روپے سے بڑھا کر 6.28 روپے کیا گیا تھا جس سے اس کی قیمت 76.46 ہوگئی تھی۔ اس وقت حکومتی نے پیٹرول پر17فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر25فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھا تھا، مٹی کے تیل پر 7فیصدسے بڑھا کر 17فیصد اور لائٹ ڈیزل آئل پر سیلز ٹیکس کی شرح 7.50فیصدسے بڑھا کر17فیصد کر دی تھی۔ وجہ عالمی منڈی میں ہونے والے پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قراردیا تھا۔ اب جب کہ عالمی منڈی میں پیٹرول سستا ہوا تو حکومت نے پیٹرولیم کی قیمتون میں کمی اس شرح سے کم نہیں کیا۔ قیمتیں بڑھاتے ہوئے تمہارے ہاتھ ہاتھی جیسے ہوجاتے ہیں اور جب قیمتیں کم کرنے کی بات آتی ہے تو چینونٹی بن جاتے ہو۔ اس وقت عوام کا درد، عوامی مینڈیٹ تمہارے دل سے جاتا رہتا ہے۔ کیا یہ عوام کے جذبات کی توہین نہیں؟

نواز شریف حکومت اور عباسی حکومت نے پچھلے سات ماہ میں پیٹرلیم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا لیکن یکم اپریل 2018 ایسا خوش نصیب دن تھا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں کمی یا انہیں برقرار رکھنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ اب نہیں معلوم کہ حکومت خود فول بن گئی یا اس نے عوام کو فول بنا دیا۔ اس لیے یہ اضافہ اس قدر کم ہے کہ اس سے مہنگائی میں کمی ہر گز نہیں آئے گی۔ پیٹرول میں کمی کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ پیٹرول میں کمی صرف دو روپے سات پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزکی قیمت میں دو روپے فی لیٹر کمی، مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی بیشی نہیں کی گئی۔ اب پیٹرول 86روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 96روپے 95پیسے مقرر کی گئی ہے۔ جب قیمتیں بڑھانا ہوتی ہیں تو تمام طرح کی پیٹرولیم پر اضافہ کردیا جاتا ہے جب کم کرنے کا وقت آتا ہے تو عوام کو دھوکہ دینے کی خاطر دو طرح کی پیٹرلیم پر کچھ کمی کر کے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ حکومت کا بنیادی فرض غریب عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے ناکہ ان پر مہنگائی کا بوجھ لاد کر ان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا جائے۔ انہیں مشکل میں ڈال دیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اقتصادی طور پر مشکل حالات سے گزر رہا ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث حکومت کو مشکلات پیش آئیں گی۔ غیر ملکی قرضوں میں خود بخود اضافہ ہوجانا ہے۔ اس بوجھ کو اٹھانا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ برآمدات کے مقابلے میں درآمدات کا زیادہ ہوجانے سے توازن ادائیگی وقت کے ساتھ ساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ مہنگائی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ایسی صورت حال میں حکومت کے پاس جو آپشن رہ جاتے ہیں وہ پیٹرلیم مصنوعات کی قیمتوں کو مہنگا کرنا اور ملک سے مختلف مد میں ٹیکس جمع کرنا ہے۔ اگر حکومت مختلف مدد میں ٹیکس جمع کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ملک کی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے، جیسا کہ ایف بی آر نے ٹیکس وصولی میں اپنی کارکردگی کو مثالی قرار دیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 31 مارچ 2018 تک سابقہ مہینوں کے مقابلے میں 16 فیصد زائد ٹیکس جمع کر کے ریکار ڈ قائم کیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق 31مارچ2018تک انہوں نے 2621ارب روپے کا سیلز ٹکس، انکم ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹم ڈیوٹی اور ود ہولڈنگ تیکس جمع کیا ہے۔ ایف بی آر کے اعداد و شمار اور ان کی کارکردگی اگر درست ہے تو یہ ادارہ قابل مبارک باد ہے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 361ارب روپے زیادہ جمع کرنا نہایت خوش آئند ہے۔

ایف بی آر کی کرکردگی اس طرح رہی تو مستقبل میں یہ اعداد و شمار اور زیادہ ہوجائیں گے اور پاکستان کی معیشت کو سہارا ملے گا۔ ایف بی آر کی کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے اور دیگر اداروں کو بھی ملک و قوم کے مفاد میں ایسی ہی مثبت کرگزاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو حالات مشکل ہی نہیں بلکہ مشکل تر ہوجائیں گے۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو یہ اعزاز جاتا ہے کہ اس نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو قرضوں کی دلدل میں اس بری طرح جکڑ دیا ہے کہ برسوں اس سے نجات ملنامشکل ہوگا۔ موصوف کی قابلیت اور تجربہ ہر گز اس لائق نہیں تھا کہ اسے وزارت خزانہ جیسے اہم منصب پر براجمان کردیا جاتا۔ اس کی مثال تو ایسی ہے کہ ’’بلی سے چھچھڑوں کی رکھوالی‘دیکھ لیا انجام، پاکستان کا خزانہ کم اس شخص کا اپنا خزانہ زیادہ۔ ان کے ذاتی اثاثہ جات5 سالوں میں 9ملین سے 837 ملین ہوچکے ہیں۔ ایسی کونسی جادو کی جھڑی ان کے ہاتھ میں ہے ملک و قوم کو قرضوں کی دلدل میں پھنساتے رہے خود امیر سے امیر بننے کی دوڑ میں لگے رہے۔ آمدن سے زیادہ اثاثے بنالینے اور بد عنوانی پر نیب نے مقدمہ قائم کیا ہوا ہے، منی لانڈری کے مقدمے اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاچکے ہیں۔ میں نے بہت پہلے ایک کالم بعنوان ’’وزیر خزانہ پر قرض لینے کا بھوت سوارہے ‘‘ لکھا تھا۔ اسی طرح ایک اور کالم بعنوان ’ہر پاکستانی 94,800کا مقروض۔ ذمہ دار کون؟‘‘‘ میں لکھا تھا کہ ’ وزیر خزانہ اسحاق ڈار قرض حاصل کرنے کے ایکسپرٹ ہیں۔ موصوف نے ہر پاکستانی کو ایک لاکھ روپے کا مقروض کردیا ہے۔ ذاتی اثاثے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ دنیا مکافات عمل ہے، جس نے جو کیا اسے دنیا میں نہیں تو آخرت میں تو حساب دینا ہی ہوگا، وزیر خزانہ کی حکمت علمی تو دیکھیں کہ بیماری ختم ہوکر نہیں دے رہی، میاں صاحب کی ناک کا بال، اقتدار میںمشیر اول اور اب اپنے بادشاہ سلامت کی کوئی فکر نہیں، مشکل وقت میں ساتھ دینے کے بجائے لندن میں عیش و آرام۔ ایسے ہی ہوتے ہیں برے وقت کے ساتھی؟ وہ حقیقی ساتھی نہیں، مطلب پرست اور خود غرض ہے۔ اس سے بہتر تو نہال ہاشمی ہے جس نے اپنا سب کچھ قربان کردیا، اگر دوسری مرتبہ وہ گڑ گڑاکر عدالت سے معافی طلب نہ کرتا، بکری نہ بنتا تو نہ معلوم اسے کتنے سالوں کے لیے جیل جانا پڑتا۔ پانچ سال کے لیے نہ اہل اور سینٹ کی سیٹ تو پہلے ہی جاچکی ہے۔ میاں صاحب کی حکومت میں جس نے سب سے زیادہ عیاشی کی، دولت بنائی، جائیداد بنائی، بنک بیلنس بنا یا وہ یہی سابق وزیر خزانہ ہی تھ ہے۔ ذاتی خزانہ بھر ا اور پاکستان کا خزانہ خالی کردیا۔ اس کی سزا کسی اور کو نہیں بلکہ پاکستان کے غریب عوام کو بھگتنا ہوگی اور وہ یہ سزا بھگت رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: