یہ ثناء خوان تقدیس مشرق؟ شہزاد صدیقی

0
  • 28
    Shares

یہ نوے کی دہائی کی بات ہے جب پاکستان کی دو سیاسی جماعتوں کی سیاسی مخاصمت اپنے عروج پر تھی۔ وہ ایک عام سا دن تھا جب فضا میں ایک ہیلی کاپٹر نامعلوم سمت سے بلند ہوا۔ عین آبادی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے، اس ہیلی کاپٹر سے کاغذات کے پلندے گرائے گئے۔ تیز ہوا ان کاغذات کو، جو درحقیقت کسی کی تصاویر تھیں، اِدھر اُدھر اڑائے لیے جارہی تھیں۔ ایک خلقت ان تصاویر کی طرف لپکی۔ وہ بی بی کی والدہ نصرت بھٹو کی ذاتی تصاویر تھیں جن کو گھٹیا سیاسی عزائم کی تکمیل کی خاطر عوام میں جان بوجھ کر پھیلایا گیا۔ ہماری سیاست میں خواتین کی ذاتیات کو نشانہ بنانے کی غالباً یہ پہلی منظم کوشش تھی۔ عورت چونکہ کمزور سمجھی جاتی ہے اسی لیے اس وقت پیپلز پارٹی مخالف ایک سیاسی جماعت نے عورت ذات کی عزت کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا بھرپور استعمال کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پیپلز پارٹی نے ان ہتھکنڈوں کا ہمیشہ بھرپور جواب دیا لیکن اس حد کو کبھی نہ چھو سکی جو شریفوں کا طرہ امتیاز رہا۔

عمومی طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر سیاسی پارٹی کا کارکن اپنی جماعت کے مجموعی طرز عمل کو اپناتا ہے۔ اس معاملے میں لیگی کارکن اپنی جماعت و اپنے لیڈران کا ہوبہو عکس نظر آتا ہے۔ خواجہ آصف کی شیریں مزاری کے خلاف پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہوکر نامناسب فقرے بازی کو قوم ابھی تک بھولی نہیں۔ مخالف سیاسی جماعت کی خواتین کو نہ بخشنے کی جو روایات لیگی لیڈران نے قائم کیں، انکا سپورٹر بھی آج اسی روش پر چلتا دکھائی دیتا ہے۔ شکاری پرانا پر شکار نیا ہے۔ غصہ ہے اور بے انتہا ہے کہ ثاقب نثار، جسٹس قیوم کیوں نہ ثابت ہوئے! چیف جسٹس کے خلاف جو طوفان بدتمیزی مچایا جارہا ہے وہ خلاف توقع نہیں۔ پنجاب میں زیادتی کے کیسز میں ملوث مجرمان کا سرکاری جماعت کے جلسوں میں، بینرز میں اور لیڈرز کے ساتھ تصاویر کھنچواتے نظر آنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

کچھ دنوں پہلے یہ طوفان بدتمیزی اچانک تھم سا گیا۔ وجہ سمجھ سے بالاتر تھی۔ کنفیوژن بڑھ رہا تھا کہ ایسی کیا انہونی ہوگئی۔ ان ہی دنوں وزیراعظم کی چیف جسٹس سے ملاقات کی خبریں ہیڈلائنز میں جگہ پانے لگیں۔ ایک طبقے کو امید ہو چلی کہ کچھ ’معاملہ‘ بن جائے لیکن معلوم ہوا کہ دال کالی نہ ہوسکی۔ بس، اک اشارے کی دیر تھی، سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بدتمیزی برپا ہوگیا۔ نشانہ تو چیف جسٹس ہی تھے لیکن طریقہ واردات وہی آزمودہ تھا۔ عورت ذات۔ ڈھونڈ کر چیف جسٹس صاحب کی بیٹیوں کی تصاویر نکالی گئیں، انکو سوچے سمجھے پلان کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا۔

پچھلے دنوں، کتاب چہرہ کی چند دیواروں پر، کچھ معروف لکھاریوں نے چیف جسٹس صاحب کی فضائی عملے کے ساتھ کھنچوائی گئی تصویر کو انتہائی نازیبا الفاظ میں پیش کیا گیا۔ چیف جسٹس صاحب تو ہیں ہی نشانے پر، اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ تصویر میں موجود غیر جانبدار خواتین کے بارے میں نہایت نامناسب الفاظ کا کھل کر استعمال کیا گیا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کی اخلاقیات ہیں؟ ان خواتین کا تعلق نہ کسی سیاسی جماعت سے تھا، نہ چیف جسٹس صاحب کے خاندان سے۔ نہ وہ کسی قسم کے عدالتی فیصلے میں شامل رہیں۔ انتہائی بے ضرر سی خواتین جو اپنے گھر والوں کے لیے رزق حلال کی تگ و دو میں مصروف ہیں، انکی اس بے توقیری پر کوئی آواز اٹھائے گا؟

پاکستان میں مخالف جماعت سے تعلق رکھنے والوں کی عزت و حرمت کو سرعام اچھالنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں لیکن غیر جانبدار افراد خصوصاً خواتین کو نشانہ بنانا کہاں کی اخلاقیات ہیں؟ ہم مزید کتنا گریں گے؟ آخر اس اخلاقی گراوٹ کی حد کب آئے گی؟ خواتین کو کب تک نشانہ بنایا جاتا رہے گا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: