علماء اور سیاست : احمد الیاس

0
  • 54
    Shares

ہمارے کمزور سیاسی نظام کو کئی سوالات درپیش ہیں۔ علمائے دین کا سیاسی کردار ان میں سے ایک پرانا سوال ہے۔ یہ سوال قیام پاکستان سے بھی پہلے سے چلا آرہا ہے۔ علامہ اقبال کے چھٹے خطبے میں بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد تحریک پاکستان کے دوران علماء کے کردار نے بھی اس حوالے سے کئی تحفظات کو جنم دیا۔ ختمِ نبوت تحریک، جسٹس منیر رپورٹ، ضیاء آمریت میں مذہبی جماعتوں کا کردار، مسلکی کشیدگی، متحدہ مجلسِ عمل اور حال ہی میں توہین رسالت کے مسئلے پر سیاست ۔۔پاکستانی سیاست کا یہ عنصر متعدد نشیب و فراز سے عبارت ہے۔ کئی افراطی و تفریطی رویے ستر سال تک اس حوالے سے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

اس مسئلے کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پہلا زاویہ مذہبی اور دوسرا سیاسی۔

مذہبی زاویے سے ہم یہ طے کرنے کی کوشش کریں گے کہ اسلام میں علماء کا سیاسی اختیار اور ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اور سیاسی نکتہ نظر سے اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ موجودہ سیاسی و سماجی ڈھانچے میں علماء اس اختیار اور ذمہ داری کو کیسے نبھا سکتے ہیں۔

اسلامی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح علماء بھی سیاست کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ مگر مذہبی پیشوائی اور سیاست کو گڈمڈ کرنا کم از کم سنیّ اسلام کی رو سے غلط ہے۔ مذہبی عالم ہونے کے ناطے حِق قیادت نہیں جتایا جاسکتا۔

اہلسنت کے ہاں نظامِ حکومت کی شرعی اساس کم از کم اصول کی حد تک ہمیشہ سے شوریِٰ عام رہی ہے۔ شوریٰ کے اس عمل میں علماء بطور مشیر و ناصح تو شریک ہوسکتے ہیں مگر عامۃ الناس کے لیے فیصلہ لینے کا کوئی خداداد شرعی اختیار وہ نہیں رکھتے۔ کیونکہ خلیفۃ اللہ کوئی ایک فرد، خاندان یا طبقہ نہیں بلکہ بنی نوع انسان ہے اور ختمِ نبوت کے بعد پوری امتِ مسلمہ اس خلافت پر شاہد۔

البتہ اہل تشیع میں اس حوالے سے دو نکتہ ہائے نظر موجود ہیں۔ ایک جانب ولایتِ فقیہ کا نظریہ ہے جس کی رو سے علماء کو حکومت کی مکمل نگرانی کا اختیار حاصل ہے اور دوسرا ولایتِ جمہور کا نظریہ جس کی رو سے غیبتِ مہدی کے دوران اختیارات جمہور ہی کو حاصل ہیں اور علماء فقط جمہور کے مشیر۔

عالمِ مسیحیت میں پہلی صدی عیسوی ہی کے دوران اسرائیلی شریعت کو منسوخ کردئیے جانے کے باعث مسیحی برادی کے مذہبی معاملات کا دنیاوی یا خارجی پہلو کلیسا کے اختیار میں آگیا۔ اس کے برعکس اسلام میں کبھی بھی شریعت منسوخ نہیں ہوئی اور علماء کو کبھی کلیسا بننے کا موقع نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشروں میں سیکولر ازم کی ہر تحریک ناکامی سے دوچار ہوجاتی ہے کیونکہ یہاں سیکولر ازم کا مطلب علماء کی ریاست سے جدائی نہیں بلکہ قرآن کی ریاست سے جدائی ہوتا ہے۔

ہاں مگر قوم کی سیاسی تربیت اور قومی پالیسی سازی میں اثر و رسوخ بنائے رکھنا علماء کا منصب بھی ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ مگر یہ اسلام یا مسلک کے نام پر جماعتیں بنائے بغیر، عام سیاسی جماعتوں اور سیاسی دانشوروں میں فکری اثر و رسوخ قائم کر کے کیا جائے تو کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہوگا۔

لہذا اسلام میں بنیادی حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے ناکہ کلیسا یا علماء کو۔ اسی لیے مسلم اکثریتی ریاست میں اسلام کو خالصتاً سیاسی فکر کے طور پر رکھنا چاہیے، سیاسی شناخت کے طور پر نہیں۔ جب کوئی فیصلہ کرنا ہو تو براہ راست تعلیمات قرآن و صاحبِ قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لیں مگر سیاسی فائدے کے لیے اسلام کا ڈھول گلے میں ڈال کر پھرنا کسی طبقے کے لیے جائز نہیں۔ گویا سیاست مذہبی تعلیمات کے تحت رہے نہ کہ مذہبی طبقات کے۔ مذہب کسی طبقے کے سیاسی مفاد کے حصول کا ذریعہ نہ بنے بلکہ مذہبی طبقہ اسلام کے مقاصد کے حصول کا فقط ایک پرزہ بن کر رہے۔

عملی و سیاسی زاویے سے معاملے کو دیکھا جائے تو ایران اور مصر جیسے قدرے خالص شیعہ یا خالص سنّی مسلم معاشروں میں علماء نے بہت مثبت قائدانہ سیاسی کردار بھی ادا کیا۔ مگر ہمارے جنوبی ایشیائی مسلم معاشرے میں مسلکی تنوع بہت زیادہ ہے۔ خود اہلسنت بے مقصد قسم کی لمبی چوڑی فرقہ بندیوں کا شکار ہیں۔ ہر عالم کی کوئی نہ کوئی مسلکی شناخت ہے۔ لہزا سیاسی پیشوائی سے مذہبی رہنماؤں کو علیحدہ ہی رہنا چاہیے کیونکہ ان کی سیاست کو بہرحال اصولوں کی نہیں بلکہ شناخت اور مسلک کی سیاست کے طور پر لیا جاتا ہے جو منفی شئے ہے۔

اس امر کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سبب بھی یہی مسلکی تنوع ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی شکل میں تمام مسالک کے علماء کا متحد محاذ موجود ہے۔ مگر یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ ہر مکتب فکر اندرونی طور پر بھی بہت سے دھڑے رکھتا ہے۔ دیوبندی مکتب فکر میں اگر فضل الرحمٰن گروپ موجود ہے تو وہیں سمیع الحق فیکٹر موجود ہے۔ بریلوی مکتب فکر کی نمایندگی صرف جمعیت علمائے پاکستان نہیں کرتی بلکہ سنی تحریک، سنی اتحاد کونسل اور تحریک لبیک کے دو دھڑے موجود ہیں۔ اہلحدیث صرف جمعیت اہلحدیث کے ساتھ نہیں بلکہ بڑی تعداد میں جماعت الدعوة کا بھی حامی ہے۔ شیعہ سیاست کا چہرہ فقط تحریکِ جعفریہ نہیں بلکہ مجلس وحدت المسلمین بھی ہے۔ گویا علماء کا سیاست میں بہ طور علماء اور اسلامی فکر کی بجائے اسلامی شناخت کے ساتھ حصہ لینا فقط تقسیم در تقسیم کا راستہ ہموار کرتا اور اسلامی تحریک کی ناکامی کا باعث بنتا ہے۔

ہاں مگر قوم کی سیاسی تربیت اور قومی پالیسی سازی میں اثر و رسوخ بنائے رکھنا علماء کا منصب بھی ہے اور انہیں کرنا بھی چاہیے۔ مگر یہ اسلام یا مسلک کے نام پر جماعتیں بنائے بغیر، عام سیاسی جماعتوں اور سیاسی دانشوروں میں فکری اثر و رسوخ قائم کر کے کیا جائے تو کہیں زیادہ بہتر اور موثر ہوگا۔ عالمی سطح پر تیونس کی النہضہ پارٹی سے ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی، مصر میں اخوان کے سیاسی ونگ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی سے انڈونشیاء کی بیداری پارٹی تک۔۔ اسلامی جمہوری تحریک کا عمومی طریقہ کار یہی رہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: