جب جنگ میں سب جائز ہوجائے : عابد آفریدی

0
  • 22
    Shares

تاریخ گواہ ہے جب جب امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سخت ہزیمت کا سامنا کیا تو امریکہ “جنگ میں سب جائز ہے” کے فارمولے پر کاربند ہوا ہے۔۔

2001 میں جب امریکہ اپنے جنگی جنوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو انہی دنوں امریکہ نے قندوز میں اپنی تاریخ کا سیاہ ترین قدم اٹھایا۔ اعلان کیا گیا جو ہتھیار پھینک کر صلح کا ہاتھ بڑھائے گے انھیں محفوظ کرلیا جائے گا۔ اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔ ہتھیار پھینکنے والے سب امان میں رہیں گے۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے قندوز میں متحرک طالبان راہنماؤں سے رابطہ کیا، انھیں امریکی پیش کش قبول کرنے پر آمادہ کیا۔ اس پیشکش کے بدلے قندوز میں موجود طالبان قیادت نے ہتھیار پھینکنے کا فیصلہ کیا جن کی تعداد تین ہزار سے زائد تھی۔ سب نے گرفتاری دی امریکی اتحادیوں نے ان سے ہتھیار لے لئے۔ جب دیکھا کہ تمام لوگ غیر مسلح ہوگئے تو انھیں بندوق کی نوک پر کینٹرز میں ڈالا اور نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے۔

وعدے کے مطابق ان سب کو رہا کیا جانا تھا، انھیں محفوظ راستہ دیا جانا تھا۔ مگر نہ دیا گیا، سخت گرمی میں کئی دنوں تک ان قیدیوں کو ان سلگتے کنٹینرز میں بھوک پیاس کے عالم میں رکھا گیا۔ بالآخر انھیں اس بے دردی سے قتل کیا گیا کہ خود گولیاں چلانے والوں کی ذہنی حالت بگڑ گئی۔

اس واقعے پر بعد میں بی بی سی کے سابق جرنلسٹ اور مشہور ڈاکومنٹری میکر Jamie doran نے “The convoy of death” کے نام سے دستاویزی فلم بھی بنائی جسے دیکھنے کے لئے بڑا کلیجہ درکار ہے۔۔

جنگ میں اعتماد و بھروسہ ہتھیاروں سے زیادہ کام دیتا ہے۔ جبکہ امریکہ یہ ہتھیار اپنی جنگی حکمت عملی کے شروعات میں ہی کھوگیا۔

وقت گزرتا گیا ایک دن قندھار میں سب سے بڑے جنگی بیس پر حملہ ہوتا ہے جس میں اتحادیوں سمیت امریکی فوجی مارے جاتے ہیں۔ حملہ آور کی وڈیو جاری ہوئی ایک نوجوان لڑکا اپنے والد کی تصویر تھامے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اس حملے کو اپنے والد کے خون کا انتقام قرار دیتا ہے جن کا قتل ان کنٹینرز میں ہوا تھا جو قندوز سے روانہ ہوئے تھے۔

بدترین وقت وہ ہوتا ہے جب ایک بڑی طاقت ایک مخصوص قومیت کو بلا امتیاز قتل کرنا شروع کردے۔۔ یہ وہی عمل ہے جس کے نتیجے میں بغداد شہر کی گلیاں کھوپڑیوں سے بھر جاتی ہیں۔ اور کتابوں سے علم کی روشنی کے بجائے راستوں اور پلوں کا کام لیا جاتا ہے۔ ہٹلر جیسے لوگ ایندھن کا کام یہودیوں کے جسموں سے لینا شروع کردیتے ہیں۔ یوں نسل انسانی اپنا چہرہ داغ دار کرتے خاتمے کے جانب رواں ہوجاتی ہے۔۔

آج افغانستان میں امریکہ نے عسکریت پسندی کو وہاں آباد پختونوں سے نتھی کردیا ہے۔ اس کے لئے ہر اقدام کو جائز سمجھتے ہوئے وہ سنگین سے سنگین تر اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتا۔

جب جنگ میں سب کچھ جائز ہوجائے تو یاد رکھیں گلے کاٹنے کا عمل بھی جائز ہوجاتا ہے۔ عبادت خانوں پر حملے بھی جائز ہوجاتے ہیں۔ دشمن کے خلاف بدترین دشمنوں سے مدد لینا بھی جائز ہوجاتا ہے۔ بات و حالات بد سے بدترین کے ہی جانب جاتے ہیں۔

افغانستان میں امن اور جنگ کے دورانیے کو اگر تولا ناپا جائے یا گن لیا جائے تو امن کے دن انگلیوں پر ہی گنے جاسکیں گے۔ جبکہ بدامنی کو حساب کے پیمانے میں لانے کے لئے دفاتر کھولنا پڑے گے۔

امریکہ کی اس لڑائی کو آج سترہ سال ہوگئے ہیں۔ آثار و اخبار ایک ہی بات بتا رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی سمٹ کر واپس کابل تک محدود ہوگئے اور وہ طالبان جو مٹ گئے تھے پھیلتے پھیلتے کابل کے مضافات تک پہنچ گئے۔۔

امریکہ آج ہر دوسرے دن طالبان کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور طالبان ہر بار مذاکرات یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ افغانستان سے نکل جاو پھر بات ہوگی کیونکہ ہم تم پر بھروسہ نہیں کرسکتے۔

بے اعتمادی کی یہ فضا اسی قندوز سے اٹھی تھی جہاں سے دھوکے کے زریعہ لوگوں کو قتل کیا تھا۔ امریکہ و اتحادیوں نے اب پھر اسی قندوز میں معصوم بچوں پر بمباری کرتے ہوئے “جنگ میں سب جائز ہونے” کے فارمولے پر عمل کر دکھایا ہے۔ افغانستان میں تاش کے سارے یکے اب طالبان کے ہاتھوں میں ہے۔۔ امریکہ اور اتحادیوں کا مستقبل دن بدن دھندلا ہوتا جارہا ہے۔

اس سارے عمل میں سب زیادہ نقصان کس کو اٹھانا پڑا؟ طالبان یا امریکہ کو؟

دونوں صورتوں میں جواب نفی میں آئے گا کیونکہ سب سے زیادہ نقصان ایک عام افغان باشندے نے اٹھایا ہے جن کا ایک ہاتھ روس سے لڑائی میں ضائع ہوا تھا ان کا باقی سارا وجود امریکی جنگ کی نذر ہوگیا۔ جس نے روس کے خلاف مکان لٹایا تھا امریکہ کے خلاف جنگ میں اپنا سارا خاندان لٹا دیا۔

مزید یہ سلسلہ اور کتنا چلے گا یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔

افغان باقی، کہسار باقی

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: