کشمیر اب سرکاری طور پر پولیس سٹیٹ؟ ریاض مسرور

0
  • 19
    Shares

سٹیٹ کا لانگ ٹرم پلان ہوتا ہے کہ لہجوں کو اگر بدلنا ممکن نہیں تو انہیں کوئی نیا رُخ دیا جائے۔ گہری ریاست نے اس منصوبے کا خاکہ تیار کیا ہے، داخلہ سیکریٹری نے اسی منصوبے کی عمل آوری کے لئے ایگزیکیوشن شروع کیا ہے۔ غالب سیاسی لہجے کو نیا رُخ دینے کے لئے نیا منظرنامہ سجانے کی تیاری مکمل ہوچکی ہے، اب نئے کردار متعارف ہونگے، جوشروعات ہی تحریک کا ہمدر د ہونے اور دلی والوں کو کوسنے سے کریں گے۔ اس بار بوتل بھی نئی ہوگی اور شراب بھی نئی۔

26 اور27 مارچ کو حکومت ہند کے داخلہ سیکریٹری راجیو گاؤبہ نے جموں کشمیر کے دو روزہ دورے کے دوران نہ صرف امن و سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا، بلکہ انہوں نے حالات پر قابو پانے کے لئے ایک منصوبے کا خاکہ بھی پیش کیا۔ اُنہوں نے سیکورٹی اداروں سے کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کو یہاں ہونے والے ترقیاتی کاموں میں شامل کریں اور انہیں باہری دُنیا کا ایکسپوژر دیں۔ مسٹر گاؤبہ کے مطابق ایسا کرنے سے نوجوان ملی ٹینسی سے دُور رہیں گے۔ انہوں نے فوج، سول پولیس اور نیم فوجی اداروں کے سربراہوں کو یقین دلایا کہ نوجوانوں کو تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں شامل کرنے کے لئے مرکزی حکومت ان کی پوری مدد کرے گی۔ اشارہ صاف ہے کہ اس مقصد کے لئے خطیر بجٹ مختص کیا گیا ہے، جسے اب پولیس، فوج اور نیم فوجی اداروں کے سربراہ بالکل اسی طرح خرچ کریں گے، جیسے مختلف وزراء الاٹ شدہ بجٹ کو خرچ کرتے ہیں۔ اس منصوبے کی تصدیق وزیر اعظم دفتر میں خصوصی پوزیشن پر تعینات جتیندر سنگھ نے بھی کی جب انہوں نے کہا حکومت شدت کے ساتھ کوشش کررہی ہے کہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں واپس لایا جائے۔

داخلہ سیکریٹری نے اصرار کے ساتھ سیکورٹی اداروں کو ہدایت دی کہ نوجوانوں کی اپنی طرف راغب کرنے کی کوششوں میں تیزی لائی جائے، تاکہ مسلح تشد کی طرف نوجوانوں کے مائل ہونے کے رجحان کا قلعہ قمعہ کیا جائے۔ یہ کوئی نئی پالیسی نہیں ہے۔ سالہا سال سے نئی دلی کا یہی اپروچ رہا ہے، لیکن نیاپن اس میں یہ ہے کہ کشمیر میں تعمیراتی کاموں کو بھی ایک انسدادی آپریشن کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اب تو صاف دکھتا ہی کہ یہاں ایک ٹوکن حکومت قائم ہے، لیکن گورننس کے اختیارات فوجی اداروں کو بتدریج منتقل کئے جارہے ہیں۔ داخلہ سیکریٹری کے اعلان کا صاف مطلب یہ بھی ہے کہ اب باقاعدہ سرکاری طور پر کشمیر ایک پولیس سٹیٹ بن گئی ہے۔ لیکن اس پالیسی سازی کے محرکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ زمینی حقائق اظہرمن الشمس ہونے کے باوجود ہر بار دلی والے یہی رٹ کیوں لگا رہے ہیں؟ اس معمہ کو سمجھنے کے لئے اس کے پس منظر میں جانا ضروری ہے۔

کشمیر کے حوالے سے کوئی سٹینڈ لئے بغیر بات کرنے والوں کی بہتات ہے۔ اکثر مبصرین، دانشور، قلمکار یہاں تک کہ منجھے ہوئے ہند نواز لیڈر بھی کہتے ہیں کہ کشمیرمیں اصل مسئلہ Alienation کا ہے۔ ایلی نیشن سے اُن کی مراد یہ ہے کہ بھارت کی ناقص کشمیرپالیسی سے یہاں کے لوگ بھارتی مین سٹریم سے الگ تھلگ ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ پتھریا بندوق اُٹھاتے ہیں یا پاکستانی پرچم لہرتے یا پھر ہندمخالف نعرے بازی کرتے ہیں۔ لہٰذا اس ایلی نیشن کا علاج یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ نوجوانوں کو قومی دھارے میں لایا جائے۔ لیکن یہ کام کیسے اور کن ترکیبوں سے ہوتا ہے یا ہونے جارہا ہے، اُس پر ذرا دیر بعد آتے ہیں۔

ایلی نیشن کا یہ ڈسکورس اب باقاعدہ ایک سیاسی نظریہ بن گیا ہے، اور اکثر قلمکار اسی پس منظر میں تجزیاتی گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ جب کسی بیانیہ کو سماج کے بااثر طبقے کی تائید حاصل ہوجاتی ہے، تو وقت کے حکمران اسی بیانیہ کی بنیاد پر پالیسی سازی کرتے ہیں۔ اگر سماجی حلقوں کا غالب لہجہ کشمیر کی سیاسی تاریخ میں مضمر ہوتا تو پالیسی سازی کی نوعیت جو ہوتی سو ہوتی، لیکن عالمی طاقتوں کو کنفیوز کرنا دلی کے لئے بہت مشکل ہوجاتا۔

جن ممالک کے اقتدار اعلیٰ کو اُن کے زیرکنٹرول علاقوں میں چیلنج کیا جاتا ہے، تو اُس خطے کے لوگ یک زبان ہوتے ہیں، ان کے مواقف میں یکسوئی ہوتی ہے، ان کے سوچنے اور تاریخ کے تئیں اپروچ میں اتفاق ہوتا ہے۔ دوسری طرف حکومت تنازعہ کو منیج کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوتی ہے، اور اسی پالیسی کے نتیجہ میں وہ حالات کو عوامی ناراضگی پر محمول کرتی ہے اور اس نظریہ کی تائید کے لئے اتحادیوں کی تلاش شروع کرتی ہے، یہ اتحادی حکومت کو سیاسی حوصلہ مندوں، مفادت پرست تاجروں، خود پسند سماجی شخصیات اور نام نہاد رضاکاروں کی صورت میں میسر آتے ہیں۔ کیا یہی سب یہاں نہیں ہوتا آیا ہے۔

اب وہ بات کہ مبینہ ایلی نیشن کا علاج کیسے کیا جا رہا ہے۔ سیاحت ہو، تعلیم ہو، کھیل کود ہو، تفریح ہو ، تعمیروترقی ہو، شہری سہولات ہوں، ان سبھی کاموں کو ہمیشہ قیام امن (بالفاظ دیگر انسدد مزاحمت) کے طور پر متعارف کیا جاتا رہا ہے۔ کب یہاں حکومت نے کوئی بڑا تعمیراتی منصوبہ روبہ عمل لایا اور کہاکہ یہ حکومت کا آئینی فرض ہے، بلکہ دعوے یہ کئے گئے کہ تعمیر وترقی سے امن دشمن عناصر کمزور ہوجائینگے۔ دراصل یہی رویہ کشمیر میں معاشرتی سطح پر عوام کی سوچ کو برسہابرس سے عوام کو تقسیم درتقسیم کرتا رہا ہے، گو لہجوں پرایک ہی سیاسی خواہش حاوی ہے۔

اس سرکاری رویہ کو تقویت دینے میں بروقت نظریہ سازی میں مزاحمتی خیمے کی ناکامی بھی ایک محرک ہے، مزاحمتی قیادت کے یہاں مقامی انتظامیہ گویا کسی Vaccum میں فعال ہے اور لوگوں کا اس کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسی رویہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلی کے اتحادی دلی والوں کو جو چاہیں وہی پٹی پڑھا تے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ نتیجہ نہ دلی کی خواہش کے مطابق تعمیر و ترقی سے امن آتا ہے، اور نہ ہی واقعی تعمیر وترقی ہوتی ہے جو کہ لوگوں کا حق تھا۔ مزاحمتی قیادت کے یہاں اس نظریاتی جمود کے بارے میں ان ہی سطور میں کافی کچھ لکھا گیا ہے۔ فی الوقت مجموعی طور پر یہ سٹیٹ کا لانگ ٹرم پلان ہوتا ہے کہ لہجوں کو اگر بدلنا ممکن نہیں تو انہیں کوئی نیا رُخ دیا جائے۔ گہری ریاست نے اس منصوبے کا خاکہ تیار کیا ہے، داخلہ سیکریٹری نے اسی منصوبے کی عمل آوری کے لئے ایگزیکیوشن شروع کیا ہے۔ غالب سیاسی لہجے کو نیا رُخ دینے کے لئے نیا منظرنامہ سجانے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے، اب نئے کردار متعارف ہونگے، جوشروعات ہی تحریک کا ہمدر د ہونے اور دلی والوں کو کوسنے سے کریں گے۔ اس بار بوتل بھی نئی ہوگی اور شراب بھی نئی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: