توں کی جانے یار امیراں روٹی بندہ کھا جاندی اے : یگانہ نجمی

1
  • 22
    Shares

نظیر کو اس زمانے میں بطور شاعر تسلیم نہیں کیا گیا اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ نظیر نے اپنی شاعری میں جن موضوعات کو شامل کیا اس عہد میں ان پر سوچنا دھیان دینا اتنی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ لیکن نظیر نے آنے والے وقت کو اور اس کی نزاکت کو محسوس کرلیا تھا۔ جو کہ ایک بڑے شاعرکا وصف ہے۔ نظیر کے ہاں جس زبان کا استعمال کیا گیا۔ وہ زبان تھی جو عام لوگوں کی بولی تھی اور موضوعات بھی وہ تھے جن کا تعلق عوام الناس سے تھا۔

نظیر نے انسان کی جس بنیادی ضرورت کو اپنی نظم کا موضوع بنایا اس میں ان کی نظم ’’مفلسی‘‘ اور’’روٹی‘‘ قابل ذکر ہیں جس کو پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ شاعر نے مفلسی کی جو فلاسفی بیان کی ہے وہ حرف بہ حرف درست ہے۔

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
کس کس طرح اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی

مفلسی وہ لعنت ہے جو کسی بھی معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کردیتی ہے۔ اور اس نہج پر پہنچادیتی ہے۔ جس کا ہمیں اس وقت سامناہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کو اور ایک ماں اپنے دو چھوٹے بچوں کو صرف اس لیے زہر دے دیتے ہیں کہ ان کو روٹی فراہم نہیں کرسکتے تھے اور ساتھ خود بھی زہر کھا کر مر جاتے ہیں۔ یا پھر کوئی غربت کے مارے ماں باپ اپنے بچوں کو فروخت کرنے کے لیے سرِبازار لیے بیٹھے ہیں۔ ایسے تمام منظر صرف فلموں ہی میں دیکھنے کو ملتے تھے۔ یا پھر ڈراموں میں، شوکت حسین صدیقی کے ناول ’’خدا کی بستی‘‘ کی جب ڈرامائی تشکیل کی گئی۔ اور پی ٹی وی سے پیش کیا گیا تو دیکھنے والوں پر کپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ لیکن یہ کہا جاتا تھا کہ ایسی پسماندگی معاشرے میں کہاں ہے؟ ایسا تو صرف فلم اور ڈراموںمیں ہی ہوتا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس طرح کے واقعات خال خال دیکھنے اور سننے کو ملتے تھے۔ اور اسی لیے لکھنے والے پر بڑی تنقید کی جاتی تھی۔ کہ یہ فلم اور ٹی وی والے خوامخواہ بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں۔

لیکن اب ایسا حقیقتاََ ہوتا ہے اور روز ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب حقیقت میں ایسا دیکھ کر بھی ہمیں کچھ محسوس نہیں ہوتا۔
اوریہ سب کچھ اس ملک میں ہورہا ہے جس میں ہرروز ایک نئی فوڈ اسٹریٹ میں اضافہ ہوتا ہے اور جس کا مینیو ہزاروں سے شروع ہو کرلاکھوں میں چلا جاتاہے۔ وہاں دن اور رات میں لوگوں کا اژدہام دیکھ کر کیا کوئی یہ اندازہ لگا سکتا ہے۔ کہ یہاں غربت کی سطح یہ ہوگی کہ لوگ اپنے بچے فروخت کر رہے ہیں انھیں ہلاک کر رہے ہیں۔ صرف روٹی کی خاطر!

اس خبر پر کسی نے تبصرہ کیا کہ خودکشی اسلام میں حرام ہے۔ بالکل درست کہا۔ لیکن شاید کہنے والے صاحب اس بات کو بھول گئے کہ تنگدستی کو کفر کے نزدیک اسی لیے کہا گیا ہے اورخالی پیٹ توعبادت بھی نہیں ہوتی۔ کہا جاتاہے کہ بابا فرید کی خانقاہ پر کچھ مولوی حضرات تربیت کے لیے آئے۔ بابافرید نے ان سے پوچھا کہ اسلام کے کتنے ارکان ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا پانچ اس پر بابا فرید نے کہا نہیں چھہ، چھٹا رکن روٹی ہے مولوی صاحب اس بات کو نہیں مانے، پھر کچھ دنوں کی رخصت پر وہ گھر روانہ ہوگئے۔ راستے میں آندھی اور طوفان کے باعث وہ اپنے گھر کا راستہ بھول گئے۔ اس طرح کئی دن بھوک اور پیاس میں گزر گئے۔ ایک دن جب بھوک نے نڈھال کردیا تو دیکھا کہ دور سے کوئی شخص ہاتھ میں روٹی لیے ان کی طرف چلا آرہا ہے۔

اس شخص نے انھیں کھانے کے لیے روٹی دی لیکن اس سے پہلے یہ کہا کہ کیا آپ اس روٹی کے بدلے اپنی نمازیں میرے نام کرسکتے ہیں۔ مولوی صاحب نے سوچا کہ اس طرح اقرار کرنے سے کیا فرق پڑے گا۔ اس لیے ہاں کہہ دی۔ لیکن اس شخص نے کہا کہ یہ آپ مجھے لکھ دیں کہ میں نے اس روٹی کے عوض اپنی نمازیں اس شخص کے نام کیں مولوی صاحب نے چار و ناچار لکھ دیا۔ ا سطرح تین دن وہ شخص روٹی لاتا رہا۔ ا ور اس نے مولوی صاحب کی تمام نماز، روزہ اور دیگر فرض عبادتیں اپنے نام کروالیں۔ آخر کار طوفان تھما تو انھوں نے اپنے گھر کی راہ لی۔ کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دوبارہ خانقاہ پر حاضر ہوئے۔ توبابا فرید نے اپنا سوال پھر دہرایا کہ اب کیا کہتے ہیں آپ، کیا روٹی اسلام کاچھٹا رکن نہیں ہے؟ مولوی صاحب اب بھی ماننے کو تیارنہ ہوئے۔ بابا جی نے اپنے ایک مرید سے فرمایا۔ کہ اندر سے وہ کاغذ تو اٹھا کر لائو۔ آپ نے وہ کاغذ ان کو دکھایا جس پر انھوں نے روٹی کے بدلے اپنی ساری عبادتیں اس شخص کے نام تحریرکردی تھیں۔ جس نے انھیں روٹی کھانے کو دی تھی۔

پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کاہے کے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سوجھیں نہ سورج ہیں جانتے
بابا ہمیں تو یہ نظرآتی ہیں روٹیاں

اسلام دین ِفطرت ہے اس میں عبادت سے بھی ضروری اور اہم انسان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ ہمسائے کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، اولین ذمہ داری قرار دیا گیا۔ اور کہا گیا کہ اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو کوئی موسمی پھل بھی اگر خریدو جس کو آپ کا پڑوسی خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے کھا کر اس کے چھلکے دروازے کے باہر مت پھینکو۔

لیکن یہ سب تو انسانوں سے کہا گیاہے اور ہم تو انسان ہیں ہی نہیں، ہم تو فرشتے ہیں۔ مجبورِ محض، ہمیں تو کوئی اختیار ہی نہیں ہے کہ ہم اپنی مرضی سے کوئی کام کرسکیں۔
جب انسان، انسان سے بالاتر ہوجائے تو وہ کیسے اس طرح کے چھوٹے چھوٹے کام کرسکتا ہے۔ کہ اپنی بے جا ضرورتوں میں ہی سے کچھ حصہ اپنے پڑوسی، محلے کے بھوکے پیاسے بچوں کی ضرورت کو پورا کرنے پر خرچ کردے۔ پر یہ ذمہ داری تو انسانوں کی ہے نا! ہم تو فرشتے ہیں۔ اور فرشتے ایسا کام نہیں کرتے۔

ایسی ہی اک خبر گزشتہ دنوں سننے کو ملی کہ ایک باپ نے اپنے بچوں کو اس لیے ماردیا اور ساتھ خود بھی مرگیا تھا کہ وہ ان کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا تھا اسی سبب اس کی بیوی بھی اپنے میکے جا بیٹھی تھی۔ جب ٹی وی رپورٹر نے اس بارے میں لوگوں سے پوچھا تو ان کاکہنا تھا کہ یہ شخص کافی دنوں سے روز گار کی وجہ سے پریشان تھا۔

اس کا مطلب اہل محلہ اس بات سے واقف تھے کہ وہ کس کرب سے گزر رہا ہے۔ اور اسے کن مسا ئل کا سامنا ہے۔ تو کیا یہ سوال اہلِ محلہ سے نہیں بنتا کہ آپ نے اس کے روز گار کے لیے کیا کیا، اس کو مرنے سے کیوں نہیں بچایا۔ ہم ہر بات میں حکمرانوں کو مورد ِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ کیوں کہ وہ تو بے چارے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھے ٹی وی اسکرین پر یہ سب کچھ ڈرامے کے طور پر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ جیسے۔ ۔ ۔

’’ نو عمر گریجانند گنیش نے پلے کا بٹن دبادیا، سونڈ پھیلا کرآسائیش کی سانس لی اور اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھیں سامنے اسکرین پر جما دیں‘‘

وہ بھلا کیوں کر ان دکھ اور تکالیف کو محسوس کر سکتے ہیں۔ مگر ا ب کیا ایک عام آدمی بھی اسی انداز سے ہی نہیں سوچنے اور دیکھنے لگا!

کلمہ طیبہ کے بعد نماز اسلام کا دوسرا اہم رکن ہے۔ اسلام نے نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ محض اس لیے نہیں کہ اس کا مقصد اسلام کی شان و شوکت دکھانا ہے۔ بلکہ اس کی اہمت اس لیے اور بھی زیادہ ہے کہ یہ ایک ایسا سماجی رابطہ کا ذریعہ ہے جس سے لوگ ایک دوسرے کے حال اور دکھ درد سے واقف ہوسکتے ہیں۔ مگر اب ہوتا کیا ہے کہ مسجدیں ایک دوسرے کی عزت کو اچھالنے کے لیے رہ گئی ہیں۔ اورضروریات کی خبر گیری کسی کی ذمہ داری نہیں۔ اس لیے کہ سب نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لی ہے سارا ایمان صرف اور صرف اس بات کو پرکھنے پرصرف ہورہا ہے کہ کون کافر ہے اور کون مسلمان۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب ہم تو فرشتہ ہیں، اور فرشتے توبس گناہ اور ثواب درج کرتے ہیں۔ لوگوں کے مسائل حل کرنا ان کی ذمہ داری نہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: