سیاست میں غیر اخلاقی عنصر کاغالب ہونا اچھی روایت نہیں: ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 62
    Shares

پاناما لیکس اور ڈان لیکس جیسے اسکینڈل کے نتیجے میں میاں نواز شریف پہلے وزارت اعظمیٰ سے ناہل قرار پائے، گو عدالت نے انہیں بیٹے کی کمپنی میں ملازمت اور تنخواہ نہ لینے اور اسے ظاہر نہ کرنے کے جرم میں سزا دی، وجوہات صرف یہی نہیں اور بھی تھیں۔اس کی تفصیل میں جانا یہاں میرا موضوع نہیں۔ناہل ہونے کے بعد پارٹی صدارت سے بھی نا اہل قراردے دیا گیا۔ ایسا سب کچھ عدالت عالیہ کی جانب سے طویل کاروائی کے بعد ہوا۔ اس عمل کے بعد شریف خاندان کا آپے سے باہر ہوجانا، نواز شریف کا بوکھلاجانا قدرتی عمل تھا، نون لیگیوں کا بپھرے شیر کی مانند حملے کرنا لازمی عمل تھا۔ نواز شریف وزارت اعظمیٰ سے نا اہل ہوئے پھرپارٹی کی صدارت سے سبکدوش کر دیے گئے۔ گویا سونے پر سہاگا، اب کیا تھا آگ بگولہ تو ہونا ہی تھا۔ ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔ اب تو جناب بڑے میاں صاحب نے جو سیاسی کھیل شروع کیا۔ ساری اخلاقیات، ادب و آداب کو بالائے طاق رکھ کر سیاسی جلسوں اور پریس کانفرنسیز میں جو لعن طعن کا سلسلہ شروع کیا، ’مجھے کیوں نکالا ‘ ان کا بیانیہ قرار پایا، برا بھلا کہنے کے بعد ان کا تکیہ کلام مجھے کیوں نکالا بن گیا۔ وہ اور ان کی بیٹی جو ان کی سیاسی جانشینی کی جانب تیزی سے رواں دواں ہے نے بھی اپنے والد محترم کا لب و لہجہ اختیار کیا، بلکہ چار ہاتھ آگے ہی چلنے لگین۔ جب پارٹی کے سربراہان بے لگام ہوجائیں تو درباری جو کچھ کریں کم ہے۔ بد تہذیبی، بد گوئی، بد اخلاقی، بیہودگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ عمران خان اور ان کے بعض ساتھی بھی کم نہیں، ایک سیر ہے تو دوسرا سوا سیر۔

ابتدا سیاسی جلسوں میں مخالفین کے لیے غلیظ زبان کے استعمال سے ہوئی، دونوں جانب سے اس کا استعمال کیا جارہا تھا۔ لیکن نواز شریف کے درباریوں نے تمام حدود سے تجاوز کیا، اسحاق ڈار، پرویز رشید، عابد شیر علی، خواجہ سعد رفیق، دانیال عزیز اور انتہا کراچی کے نہال ہاشمی نے اپنے نااہل قائد کے واری قربان جانے میں عدالت کی ایسی توہین کی کہ اپنی سینیٹر کی نشست، پانچ سال کے لیے نہ اہل اور ایک ماہ کی قید ان کا مقدر ٹہری، قید کاٹ کر باہرآئے تو سبق سیکھنا تو دور کی بات تھی وہ تو ایسے جیل سے ایسے باہر نکلے جیسے شیر کئی دنوں سے اپنے شکار کی تلاش میں ہو اور اسے شکار مل گیا ہو۔ وہ جوش سے ہوش کی جانب آنے کے بجائے وہی جوشیلی اور بیہودگی والی ڈگر پر قائم دائم نظر آئے، ان کے کہنے کے مطابق وہ کل بھی وہی تھے، آج بھی وہی ہیں اور کل بھی وہی رہیں گے۔یعنی انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا، عدالت نے انہیں یوں ہی سزا سنائی، انہوں نے سزا کاٹی، دوسری مرتبہ پھر توہین کی اور عدالت نے طلب کیا تو بکری بنے ہاتھ جوڑتے نظر آئے۔ ایسی سیاست کس کام کی جس میں عزت تار تار ہوجائے۔ نواز شریف کے دیگر درباری جو توہین عدالت کے مرتکب ہوچکے اور عدالت انہیں طلب کرچکی، معزز ججز کے سامنے تحریری مافی مانگتے، توبہ تلا کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن زبان وہی بیہودہ، ناشائستہ، لغو، غیر مہذب رویے اور فضول گوئی، ھرزہ سرائی سے باز نہیں آرہے۔اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ لیڈر اپنی سرشت، اپنی خو نہیں بدلے گا، وہ اپنی زبان کو لگام نہیں دے گا، میاں صاحب تو میاں صاحب ان کی صاحبزادی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ان کے درباری بھلا کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ایک سیر تو دوسرا سواسیر دکھائی دیتا ہے۔ گویا مقابلے کی فضا ہے خراب سے خراب زبان استعمال کرنے کی۔

بات تقریروں میں بد کلامی، بیہودگی، لغویت، خرافات اور بازاری زبان کے استعمال تک محدود نہی رہی بلکہ اس سے بھی چار قدم آگے اس حد تک بڑھ گئی کہ بھری محفل میں لیڈروں پر جوتے اچھالے جانے لگے، چہرے سیاہی سے کالے کیے جانے لگے۔ ویسے تو سیاست دانوں اور لیڈروں پر جوتے اچھالنا، منہ کالا کرنا کوئی نئی بات نہیں ماضی پاکستان کے علاوہ کئی ممالک میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ امریکی صدر بش پر پریس کانفرنس میں یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینکے گئے، پھینکنے والا قاہرہ کاایک صحافی تھا اس نے 2008 میںیہ عمل کیا دو سال سزا بھگتنا پڑی۔ احمد رضا قصوری کے منہ پر سیاہی ملی گئی، ارباب رحیم پر جوتے برسائے گئے، موجودہ سیاست ایک دوسرے کو زبانی کلامی گالم گلوچ کے بعد منہ کالا کرنے اور جوتے لہرانے پر پہنچ چکی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر دوران تقریر بھرے جلسے میں ان کے منہ پر سیاہی پھینکی گئی۔

اس عمل کے بارے میں ٹی وی اینکر اسما شیرازی کا کہنا تھا کہ ’’وزیر خارجہ آصف کے منہ پر پھینکی جانے والی سیاہی دراصل اس معاشرے کی سوچ کا گند ہے، جتنی مذمت کی جائے کم اور اس سخص کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے تاکہ آئندہ یہ گند کسی اور کے منہ پر چاہے وہ کسی سیاسی جماعت سے ہو نہ پھینکا جاسکے یہ رجحان انتہائی خطرناک ہے‘‘۔ بات انہوں نے درست کی۔ اس عمل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کالم نگار ارشد قریشی نے کہا کہ ’چہروں پر سیاہی پھینکنے سے بہتر ہے انگوٹھوں پر سیاہی سے فیصلہ کریں‘۔ یہ بات بھی درست ہے۔ سیاہی کے بعد جوتے چلنے لگے، عمران خان پر کوشش کی گئی لیکن میاں نواز شریف نہ بچ سکے۔ یہ کوئی اچھا عمل نہیں، کوئی بھی اسے اچھا کہنا تو دور کی بات جس قدر سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی جائے کم ہے۔ کالم نگار وصحافی عطا محمد تبسم نے کہا کہ ’’کمان سے نکلا ہوا تیر زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور منہ پر مارا ہوا جوتا واپس تو نہیں ہوسکتا البتہ اس کی مذمت ہی کی جاسکتی ہے‘‘۔ یہ طرزِ سیاست کسی طور بھی مناسب نہیں، سیاست میں مخالفت کا ہر گز مطلب ایک دوسرے کی تذلیل نہیں ہونا چاہیے۔سیاسی لیڈروں کو الفاظ اور جملوں کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کے لیڈر کو بازاری زبان سے مخاطب کریں گے، غلط زبان استعمال کریں گے، ناشائستہ الفاظ استعمال کریں گے۔ یہاں تک کے فحش قسم کی گالیاں ہمارے لیڈر بھرے مجمع میں دیں گے، تو اس کے اثرات کیا ہوں گے۔ کیا ہم جواب میں وہی کچھ نہیں پائیں گے۔ یہی کچھ ہماری سیاست میں ہورہا ہے۔ اس عمل کا تدارک کیسے ہوگا اور کون کرے گا؟ کیا سارے کام عدالتوں اور عسکری اداروں پر چھوڑ دیے جائیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے لیڈر پہلے تو خود اپنا محاسبہ کریں، اس طرز عمل پر سنجیدگی سے سوچیں، اس بیہودہ عمل سے پورا معاشرہ متاثر ہورہا ہے۔ نئی نسل کو غلط پیغام جارہا ہے۔لیڈر ان قوم پہلے اپنے آپ کو غلط گوئی، بہیودہ گوئی، الزامات در الزامات لگانے کی سیاست سے باہر نکالیں، شائستہ زبان استعمال کریں۔

اردو زبان میں اس قدر وسعت اور گہرائی ہے کہ جو بات گھٹیا انداز سے کہی جاسکتی ہے وہی بات شائستہ انداز سے بھی کی جاسکتی ہے۔ کیا بیہودہ زبان زیادہ اثر رکھتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ہمارے معاشرے میں بیہودہ گوئی عام ہوتی لیکن ایسا نہیں ہے، پاکستانی عوام کی اکثریت بیہودہ گوئی کو پسند نہیں کرتی، اپنے لیڈر کی دیوانگی میں اس کی ہر بات پر واہ واہ اور تالیاں بجاکر اسے خوش کرنے کی ڈگر پر چل پڑی ہے۔ اپنے لیڈر کے قریب رہنے والا یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ مخالفین پر جس قدر بیہودہ گوئی کرے گا، گندی زبان استعمال کرے گا وہ اپنے لیڈر کی نظروں میں اتنا ہی معتبر ٹہرے گا۔ اس سوچ اور اس عمل نے لیڈروں کو بے لگام کر دیا ہے۔ اس روش کو اگر کوئی روک سکتا ہے تو وہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان ہی ہوسکتے ہیں لیکن پہلے انہیں اپنی اصلاح کرنا ہوگی تاکہ ان کے پیروکار ان کی پیروی کریں۔ لیڈران قوم کو سنجیدگی سے اس اہم مسئلہ پر غور کرنا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: