بناسپتی دانشور: لالہ صحرائی کی “دانش” کی سالگرہ پہ خاص تحریر

0
  • 101
    Shares

پرانے وقتوں کے مسائل خود پرستوں کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے اور دانشور انہیں سلجھایا کرتے تھے، اب صورتحال اس کے برعکس ہے، آجکل جو دانشور ہے وہ خود بھی ایک مسئلہ ہے اور جو اصل مسئلہ ہے وہ کوئی مسئلہ ہی نہیں، مسئلہ صرف وہ ہے جسے مسئلہ قرار دے دیا جائے باقی مسائل بیشک چیختے چلاتے رہیں کہ ہم بھی پڑے ہیں راہوں میں لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا، یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

دانشور کی جو تعریف لغت کے اندر بیان کی گئی ہے، بیشتر اس سے واقف ہی نہیں، جو واقف ہیں وہ اس پر ناخوش ہیں، اسلئے اب یہ خود ہی اپنی تعریف کرتے ہیں یا ایک دوسرے سے کراتے ہیں جو کیس ٹو کیس مختلف ہوتی ہیں، دانشوری آجکل جن احوال سے دوچار ہے یہ ان لغویات کا ہی نتیجہ ہے جو لغوی تعریف کی جگہ در آئی ہیں۔

دانش کی دال کا تعلق نان سے نہیں بلکہ دال ہی دانشوری کی ابتدا ہے خواہ پھیکی ہی کیوں نہ ہو، اگلا ڈنڈا اس کا لازمہ ہے، اس کے بغیر کوئی بات سنتا ہے اور نہ ہی اس کے بغیر کوئی چپ ہی کرتا ہے، نون نہیں کیلئے ہے اور شین شرم کیلئے جو نہیں کے عین مترادف رہتی ہے، دانش کے ساتھ جو ور لگتا ہے یہ واز کی دوسری فارم ہے، یعنی کبھی ہوتی ہوگی مگر اب نہیں ہے، بلکہ ہر چند کَہیں کہ ہے مگر نہیں ہے۔

دانشور کی یہ تعریف لغو ہے نہ لغوی، نہ ہی یہ کوئی علمی تعریف ہے بلکہ اسے چٹکی کاٹنا کہتے ہیں، بناسپتی دانشوروں کی پیدائش ایسے ہی چٹکی کاٹنے سے ہوتی ہے، دانشور ہر کسی کے اندر موجود ہوتا ہے لیکن چٹکی کاٹے بغیر باہر نہیں آتا، بگ۔بینگ اور خودکش کے بعد جو سب سے زیادہ دھماکے ہوئے ہیں وہ ان چٹکیوں سے ہوئے جن کے عواقب میں بڑے پیمانے پر دانشوروں کی پیدائش واقع ہوئی۔

دانشور کی جو تعریف لغت کے اندر بیان کی گئی ہے، بیشتر اس سے واقف ہی نہیں، جو واقف ہیں وہ اس پر ناخوش ہیں، اسلئے اب یہ خود ہی اپنی تعریف کرتے ہیں یا ایک دوسرے سے کراتے ہیں، دانشوری آجکل جن احوال سے دوچار ہے یہ ان لغویات کا ہی نتیجہ ہے جو لغوی تعریف کی جگہ در آئی ہیں۔

دانشور کا پہلا شغف اپنی پہچان کرانا اور دوسرا اس پہچان کو قائم رکھنا ہوتا ہے، اس لئے یہ حضرات اپنی جملہ دانش اپنے چہرے پر مجتمع کرکے چلتے ہیں اور موقع ملتے ہی شاعر کی طرح جھٹ پٹ اپنا دیوان سنانا شروع کر دیتے ہیں، بیگمات کی طرح انہوں نے بھی اپنے سامعین کا نام اجی سنیئے رکھا ہوتا ہے، ہر بات میں دیکھیں جی، سنیں جی، اب ایسا ہے، بات یوں ہے کہہ کے شروع ہو جاتے ہیں اور ایک نیا مسئلہ پیدا کئے بغیر چپ نہیں ہوتے۔

ہمارے ہاں دیہاتوں میں ایک مداری آیا کرتا تھا، پہلے وہ دعویٰ کرتا کہ اس تھیلے کے اندر بکرا ہے، اگر کہو تو میں نکال کے دکھاتا ہوں، پھر قطع نظر اس کے کہ کوئی دیکھنا چاہتا ہے یا نہیں وہ تھیلے کے اندر ہاتھ ڈال کے بکرے کی ایک ٹانگ باہر کھینچ لاتا، بکرے کی ٹانگ ایسے مزاحمت کرتی ہوئی نظر آتی تھی جیسے واقعی اندر بکرا موجود ہے مگر باہر نہیں آنا چاہتا، کچھ دیر کوشش کرنے کے بعد مداری کہتا کہ جاؤ پہلے آٹا لاؤ پھر یہ باہر آئے گا لیکن آٹا واٹا وصول کرکے وہ اگلی بار بکرا دکھانے کا کہہ کے چل دیتا۔

ٹائیکونز نے جب کسی کو زچ کرنا ہو تو اس کیساتھ وابستہ کسی پرانے مسئلے کی ایک ٹانگ تھیلے سے کھینچ کر دکھا دیتے ہیں، پھر سب دانشور اس کے پیچھے ایک خطرناک وجود اور اس کے شر سے بچنے کی تدابیر پہ بحث کرنے لگتے ہیں اور کئی نئے مسائل پیدا کرکے اٹھتے ہیں پھر وہ ٹانگ واپس تھیلے میں چلی جاتی ہے اور نئے مسائل کا حل تلاش کرنے چل پڑتے ہیں۔

اس کھیل میں جیسے بچوں کی عقل میں یہ سادہ سی بات کبھی نہیں آتی کہ ٹانگ کا نظر آنا اپنی جگہ ایک سچ ہی سہی مگر اس چھوٹے سے تھیلے میں سالم بکرا بھلا کیسے سما سکتا ہے، ایسے ہی دانشور کا لفظی فسوں بھی عوام کو یہ سمجھ نہیں آنے دیتا کہ ٹانگ کے پیچھے کوئی حقیقی وجود بھی ہے یا نہیں، بیشتر مسائل تو بکرے کی ٹانگ پر دانشوروں کے مباحث سے ہی پیدا ہوئے، جوان ہوئے اور انڈے بچے دیکر اپنی موت آپ مر گئے لیکن یہ لوگ ابھی تک ان کے حل کیلئے بدستور بحث میں لگے ہوئے ہیں۔

محترم کرشن چندر صاحب نے بتایا تھا کہ بکرے کی ٹانگ کے پیچھے فیلا ہے، گھوڑا ہے، پیادہ ہے، کنگ ہے، رانی ہے یا کچھ اور ہے نیز یہ کس کی چال ہو سکتی ہے اور کیونکر چلی گئی، اس مسئلے پر دانشوروں کے درمیان ایک زورادار بحث و مباحثہ ہوا، بات شہہ یا مات تک پہنچ گئی، پھر ہاتھا پائی ہوئی جو جنگ کا موجب بنی اور پھر روایتی جنگ ایک خوفناک ایٹمی جنگ میں بدل گئی، معدودے چند انسانوں کا وجود اور سماج ملیا میٹ ہوگیا، جنگلی جانوروں نے اپنے بچوں کی تفریح کیلئے بچے کھچے انسانوں کو جمع کرکے پنجروں میں ڈال دیا، جانور اپنے بچوں کو ذُو دکھانے لاتے ہیں تو دو پنجروں میں بیٹھے ہوئے متحارب دانشور ہنوز اسی مسئلے پر بحث میں الجھے ہوئے ہیں جس کی بنا پر مباحثہ ہوا، پھر جنگ ہوئی، پھر ایٹمی جنگ اور پھر سب کچھ ملیا میٹ ہوگیا۔

دنیا باسی ہو سکتی ہے مگر دانشور اور بحث کبھی باسی نہیں ہو سکتے، ایسی تازگی کسی اور کام میں نہیں جتنی اس کام میں پائی جاتی ہے، صدیوں پرانے معاملات جن سے عصر حاضر کا کوئی واسطہ نہیں ان پر بھی سالہا سال تک نئی بحث کی جا سکتی ہے، اس کام کیلئے تازہ اصول گھڑے جاتے ہیں تاکہ معاملہ ہمیشہ تازہ رہے، متحارب دانشور بحث کو ہمیشہ اپنے اپنے اصولوں سے سمیٹنا چاہتے ہیں تاکہ بحث ختم ہونے اور اتفاق رائے پیدا ہونے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے۔

بناسپتی دانشوروں کو کسی قیمت پر کچھ سمجھایا نہیں جاسکتا البتہ کسی قیمت پر چپ ضرور کرایا جا سکتا ہے تاہم انہیں چپ کرانے کیلئے ایک کثیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے اور اتنا سرمایہ ٹائیکونز کے سوا کسی کے پاس نہیں ہوتا لیکن مسئلہ پھر بھی جوں کا توں رہتا ہے، جہاں ایک ٹائیکون ایک طبقے کو چپ کرانے پہ انویسٹمنٹ کرتا ہے تو دوسرا کسی دوسرے گروپ کو بولنے پر لگا دیتا ہے، پتلی تماشے جیسا خوبصورت اور حیرت انگیز فن دنیا سے مفقود ہوتا جا رہا تھا لیکن بھلا ہو ان ٹائیکونز کا جنہوں نے اس فن کی قدر دانی کا بیڑا نہایت احسن طریقے سے اٹھایا اور اس فن میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

بناسپتی کے بعد پوگو دانشوروں کا ایک نیا گروہ بھی سامنے آیا ہے جو دانشوری میں مفت کا سکوپ دیکھ کے پوگو کو روتا دھوتا چھوڑ کے سوشل میڈیا پر آدھمکا ہے، ایک ایسی گفتگو جو کسی موضوع پر تھوڑی سے چنگاری پھینک دے اس کا بھانبھڑ مچانا اور مخالفین کی تُرپائی کرنا انہوں نے اپنے سر لیا ہوا ہے، ان کی تُرپائی سے ایک نیا طبقہ پیدا ہوا جسے پیکو دانشور کہنا چاہئے، یہ ہر وقت اپنی ترپائی کا بدلہ لینے کے چکر میں رہتے ہیں۔

بناسپتی، پوگو اور پیکو دانشور کسی ایک طبقے کی میراث نہیں بلکہ ہر گروہ میں یہ ایک معقول تناسب کیساتھ موجود ہیں اور خود کو نہ صرف عظیم الشان مفکروں کے ہم پلہ گردانتے ہیں بلکہ ویسے ہی نام رکھ کے گھومتے ہیں، حالانکہ ان کے نام صرف اسرائیل کے ہم پلہ ہونے چاہئیں جیسے کہ لفڑائیل، پنگائیل، دنگائیل، گلوچمئیل اور چَولائیل وغیرہ جبکہ ثواب، سواد، معاوضے یا امیگریشن کے معاملات میں اپنی اپنی ترجیحات کے اعتبار سے سارے ہی شوہدائیل ہیں۔

ہمہ اقسام دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ سچ بولنا چاہئے مگر اس بات پر اتفاق رائے ممکن نہیں کہ کس کے خلاف سچ بولنا چاہئے، اس بات پر متفق ہونے کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ثواب، سواد یا معاوضہ ہاتھ سے جاتا رہے گا، اسلئے یہ مسائل کے حل پر متفق ہونے کی بجائے مسائل کے اندر حلول کرنے پر یقین رکھتے ہیں تاکہ جو مسئلہ حل ہونے لگے اس کی ٹانگ واپس تھیلے میں دھکیل کر کسی دوسرے مسئلے کی ٹانگ کھینچ کر سامنے لائی جائے اور نئی بحث شروع ہو سکے، یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک ان کا مستقبل نہیں بن جاتا، اس کے بعد یہ سارے مسائل اگلے دور کی زیرک اور بہادر نسل کے حوالے کر دیں گے تاکہ وہ اس چیلنج کو حل کرلے یہ الگ بات ہے کہ حل کی بجائے اگلی نسل کیلئے بھی ثواب، سواد یا کیرئیر ہی زیادہ اہم ہوگا۔

کہتے ہیں کسی مسئلے پر دو سرد ممالک کے درمیان طبل جنگ بج گیا لیکن اچانک برفباری کہ وجہ سے فوجوں کو واپس بیرکوں میں جانا پڑا، جنگ ٹلنے کی خبر سن کے ایک دانشور خوب رویا، کسی نے اس خوشخبری پر رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ یہ ہمارے لئے رونے کا ہی مقام ہے کہ ہمارے ہوتے ہوئے جنگ رکنے کی واحد وجہ موسم کی خرابی بتائی گئی ہے جبکہ اسے روکنا دانشوروں کا کام تھا۔

گزارش ہے کہ دانشوری کبھی بھی پیشہ نہیں تھی بلکہ بلاد عالم کے فکری محاذوں پر یہ سچائی کے دیوانے فلسفیوں کا میدان عمل تھا جو زندگی کے رازوں کو کھوجتے اور تسخیر کائنات کے گُر سکھاتے تھے، انسانیت کے مطالبے پر کوڑے کھاتے رہے، آباد گری کیلئے جلاوطنی کی نذر ہو گئے، سچ کی بقا کیلئے زہر کے پیالے بھی پی گئے اور اپنی ناکامیوں پر رو بھی دئے۔

فلسفی دانشور علمی اساس، عملی ذہن اور زمینی حقائق کے تحت معاملات کا ادراک کرکے معروضی حالات میں اپنی قوم کیلئے ایک مناسب ترین سمت متعین کرتے ہوئے ایسی راہیں بنا جاتے تھے جو کسی ایک طبقے کی بجائے سب کیلئے یکساں مفید ہوتی تھیں، ایسے دانشور اب مفقود ہیں البتہ اپنے افکار کے آئینے میں وہ آج بھی زندہ ہیں خواہ پہلے سراہے گئے ہوں یا دھتکارے گئے ہوں۔

آجکل فلسفے کی بجائے پروفیشنل ازم کا دور ہے جس میں سامنے ایک سسٹم اور پیچھے پروفیشنلز کا تھنک ٹینک ہوتا ہے جو سسٹم کو سائنٹفک تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرتا رہتا ہے، دنیا اب اسی اصول سے آگے بڑھ رہی ہے۔

ہمارا سسٹم بہت سادہ ہے، اس میں تھنک ٹینک کی بجائے ایسے ہنرمندوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ایک ٹائیکون کی غلطی پکڑے جانے پر دوسرے ٹائیکونز کی ویسی ہی غلطیاں سامنے لا کر حساب برابر کرتے جائیں۔

اس سادہ سے سسٹم میں مجبور و مقہور عوام کا کام بس اتنا ہی ہے کہ ہر کسی کے تھیلے میں بکرے کی ایک جیسی ٹانگ دیکھ کر ٹائیکونز کو داد اور ریونیو بورڈ کو آٹا پہنچا دے۔

ان حالات میں دانش نے اپنا ایک سال جس اعتدال اور وقار کیساتھ گزارا ہے اس پر دانش کا بورڈ آف گورنرز، مینجنگ ٹیم اور جملہ رائیٹرز بیحد داد و تحسین، مبارکباد اور قدر افزائی کے مستحق ہیں۔

دانش پر پیش کی جانے والی گزشتہ سال کی تحاریر کا جائزہ لیا جائے تو کسی بھی طبقے سے جانبداری کی بجائے حقیقی دانش کا واضح عکس نظر آتا ہے، خدا کرے معقولیت کی پاسداری کا یہ جذبہ ہمیشہ قائم رہے۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: