نا مرد ———– وقاص افضل

0
  • 45
    Shares

کہتے ہیں وہ شرو ع سے ایسا نہیں تھا، بلکہ اب بھی وہ کب ایسا تھا کوئی مان ہی نہیں سکتا کہ یہ واقعہ اُس سے سرزد ہوا۔ انہی گلیو ں میں اُس کا بچپن اور لڑکپن گزرا تھا۔ محلے میں بچے، بالے، نوجوان، بوڑھے، مرد و زن سبھی اُس کے حسن اخلاق کے معترف تھے۔ بستی کے نوجوانوں کے برعکس اُس کی تعلیم بھی بہتر تھی، گھر میں رنگ و روغن کروانے سے لے کر بچوں کی تعلیم و تربیت تک کے مشورے اُس سے لیے جاتے۔ یہ متوسط اور کمزور معاش والوں کی بستی تھی۔ ایسی بستیوں میں ہسپتال سے کسی بھی طرح وابستہ افراد، لیبارٹری سپر وائزر، وارڈ بوائے یا کمپوڈر وغیرہ شام کے اوقات میں چھوٹے چھوٹے مطب کھول کے بیٹھ جاتے۔ جہاں پر مریضوں کا تانتا سا بندھا رہتا، معمولی بیماریوں کے لیے عموما ایسے معالج کارآمد ثابت ہوتے۔ لیکن یہاں آنے والے مریضوں کو دوا سے زیادہ معالج کی باتوں سے افاقہ ہو جاتا کیونکہ مریض کی باتیں بڑے اطمینان سے سنی جاتیں اور تسلی آمیز جملوں سے اُن کا حوصلہ بڑھایا جاتا ہے۔

مصنف

احمد حسن بھی سرکاری ہسپتا ل میں وارڈ بوائے تھا اور شام کے اوقات میں چھوٹے سے مطب میں مریض دیکھتا تھا۔ اس حوالے سے قانونی سقم موجود ہو نے کا بھی اُسے فہم تھا اسی لیے وہ ہومیو پیتھی کے ایک کالج میں زیر تعلیم تھا۔ مطب پر سہ پہر سے ہی مریضوں کا رش لگنے کی بڑی وجہ معمولی فیس کے عوض اُس کا دوا تجویز کردینا تھا۔ زیادہ پیسوں کا اُس نے کرنا بھی کیا تھا گھر میں تھا ہی کون تھا جس کے لیے اُسے رقم کی ضرورت ہوتی ایک ماں ہی ماں تھی۔ باپ تو مدت ہوئی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں چل بسا تھا۔ چھو ٹی بہن کو بچپن میں موذی بیماری نے آن لیا اور وہ بھی باپ کے پاس چلی گئی۔

احمد حسن چند اُصولوں پر کاربند تھا معمولی نوعیت کی بیماریو ں کی تو دوا لکھ دیتا لیکن سنجیدہ نوعیت کے کسی بھی مرض کی صورت میں مریضوں کو فورا سے کہہ دیتا کہ آپ صبح ہسپتال آجا ئیں میں اُدھر آپ کو چیک کروا دوں گا۔ ایسی بستیو ں میں صحت کے معاملات ایسے ہی چلتے آئے ہیں اور شا ید ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ وہ بھی اپنے تئیں پوری آبادی کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور تھا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا جب احمد حسن کو عشق ہوگیا عشق بھی بے تال سا تھا، اُسے عشق کسی فرد سے نہیں بلکہ سراپا سے ہو ا تھا، کہتے ہیں بستی کے کسی خوشحال گھرانے میں مہما ن آئی لڑکی عزیزہ کے ساتھ بخا ر کی دوا لینے اُس کے مطب آئی۔ خاتون مریضوں کے چہرے کی طرف نگاہ کرتے اُسے لاج آتی تھی، بہت ضرورت کے تحت ایسا کرتا ورنہ اپنے میز پر رکھے قلم کاغذ پر نظریں جمائے رکھتا، اور مریض کی بات تسلی سے سن کر پہلے تو ایسا حوصلہ دیتا کہ مریض خوشگوار تبدیلی محسو س کرتا، پھر دوا تجویز کر دیتا۔ خاتون مریضہ کے ساتھ بھی اُس نے معمول کا برتاو کیا کچھ بھی نیا نہیں ہوا لیکن اُس کا سراپا احمد حسن کے ذہن میں ایسا نقش ہوا کہ تا عمر بھلایا نہ جاسکا۔ کچی عمر کے عشق ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔ خاتون کو تو چند دن کی دوا کے بعد افاقہ ہوگیا لیکن احمد حسن اس نفسیا تی عارضے سے صحت یاب نہ ہو سکا۔

احمد حسن کی تو کا یاپلٹ ہو گئی، کچھ سُجھائی نہ دیتا وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے کسے بتائے کس سے چھپا ئے، چند ہی دوست تھے اُنہیں اُس نے اپنی کیفیت بتا نے کی کو شش کی لیکن اُس کی بے ربط باتیں اُن کی سمجھ میں نہ آسکیں وہ اصرار کرتے کہ عشق کسی مخصوص فرد سے ہوتا ہے، سراپا سے کسی خاص جسمانی بناوٹ سے عشق یہ بے تُکی بات ہے۔ اب اُس نے لوگوں سے ایسی باتیں کرنا بھی چھوڑ دیں۔ لیکن احمد حسن کی آنکھیں، چہرہ دیکھے بغیر صنف نازک کے سراپا کو ٹٹولتی رہتیں، جیسے اُس کا کچھ کھو گیا ہو، اس ہیجان کی وجہ سے مطب پر بھی وہ یکسو ئی سے کام کرنے سے قاصر رہتا، اکثر کلینک بند رہنے لگا، ہسپتا ل میں بھی اُس کی متلا شی آنکھیں بے چین ہوتیں۔

جہاں سارے محلے نے اس تبدیلی کو محسوس کیا وہاں احمد حسن کی ماں کیسے ناواقف رہ سکتی تھی لیکن اُسے کچھ سمجھ نہ آتی یکایک اُ س کے جواں سال بیٹے نے کیا روگ پال لیا ہے۔ ایسے میں بوڑھی ماں نے بھی وہی کیا جو مائیں کیا کرتی ہیں، لاکھ پوچھا بیٹا بتا دے کہیں شادی کروانا چاہتا ہے تیری کوئی پسند ہے تو بتا، جو مجھ سے بن پایا کروں گی جس کا کہے گا وہی دُلہن لا نے کی کوشش کروں گی، لیکن احمد حسن کی چپ نہ ٹو ٹی، وہ بے چارا بتاتا بھی تو کیا؟ اُس کی باتیں کسی کی سمجھ میں نہ آتیں، ماں کو بتا کر دُکھی کیو ں کرتا؟ آخر جب کچھ سمجھ نہ آیا تو اُس کی والدہ نے رشتے کی تلا ش شروع کر دی اُسے ان باتو ں سے بھی کو ئی واسطہ نہ تھا، ویسے بھی اُسے ایسی باتوں سے لاج آتی تھی وہ تو اس حوالے سے بھی انجان تھا کہ جس خاتون کے سراپا سے اُسے عشق ہوا تھا وہ شادی شدہ ہے یا کنوا ری؟ نہ ہی وہ ماں سے ایسی کسی خاتون کا ذکر کرنا چاہتا تھا۔ ہاں اتنا ضرور تھا اُس نے اشاروں کنایوں میں ماں سے اپنے تخیل والی دُلہن کا سراپا بتا نے کی اپنے تئیں کو شش ضرور کی تھی اُس میں وہ کتنا کامیاب ہوا یہ تو بعد میں ہی پتا چلنا تھا۔

یہا ں تو چٹ منگنی پٹ بیا ہ سے بھی جلدی سب کچھ ہوا، دھڑکتے دل کے ساتھ اُس نے پہلی رات جب دُلہن کو دیکھا تو دل بیٹھ سا گیا، اُس نیک پروین کا سراپا اُس کے ذہن کے تخیل کردہ سراپا سے یکسر مختلف تھا۔ اس جھٹکے کے بعد دن اور راتیں گزاری نہیں کا ٹیں گئیں، وہ لا کھ کو شش کے باوجود کچھ بھی ایسا کرنے میں ناکام رہا جو رشتہ ازدواج کو قائم رکھنے کے لیے ضروری تھا، ایسا نہیں کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہو یا اُسے کو ئی جسما نی عارضہ لا حق ہو، اُسے تو بس عشق ایک خاص سراپا سے تھا۔ یہ عشق، ذہن کی خود ساختہ اختراع یا ہیجان تھا اُسے کچھ خبر نہ تھی۔

جو بھی تھا بہر حال اُس کے لیے سود مند نہ تھا، شادی زیادہ دن نہ چل سکی، چلتی بھی کیسے وہ دن خواب ہوئے جب عورتیں ایسے رازوں کو سینے میں چھپا کر، مصلحتوں کے پیش نظر حالات سے سمجھوتا کر لیتی تھیں اور شادی شدہ ہونے کے باوجود باکرہ ہی مر جاتی تھیں۔ خیر زمانہ تو کب کا بدل چکا تھا احمد حسن کو کون سمجھا تا اور اُس سے بھی بڑھ کر اُس کی ماں کو کون بتاتا جس نے اُوپر تلے احمد حسن کی تین شا دیاں کر دیں لیکن نتیجہ صفر، کسی نے ہفتہ صبر کیا تو کسی نے مہینہ، آہستہ آہستہ محلے میں مشہو ر ہونے لگا کہ وہ ڈاکڑ بابو تو نامرد ہے کچھ اُس سے بن نہیں پاتا، تبھی تو تینوں بیو یاں چھوڑ گئیں، محلے والیا ں باتیں کرتیں آئے ہا ئے کیا سوجھی تھی انہیں جو تین، تین لڑکیو ں کی زندگیاں برباد کر دیں۔ وہ کسی کو کیا بتاتا کہ وہ ٹھیک ہے لیکن اُس کا مسئلہ نفسیاتی ہے کون اُس کی لا یعنی باتیں سنتا اور سمجھتا۔

بوڑھی ماں کے پاس لے دے کے ایک بیٹا ہی بیٹا تھا جس کے کل تک سب معترف تھے آج ایسی ایسی باتیں ہو رہی تھیں جن میں کچھ سچ اور زیادہ مبا لغہ آرائی تھی۔ زیب داستان کے لیے ایسی باتیں بھی پھیلائی گئیں جن کا حقیقت سے دور کا واسطہ نہیں تھا۔ احمد حسن یہ من گھڑت باتیں جیسے تیسے برداشت کر لیتا، ویسے بھی اُسے کچھ احسا س نہ تھا وہ تو ابھی تک اُسی سراپا کے تخیل میں دن رات کاٹ رہا تھا، لیکن ماں ان طنزیہ باتو ں کو برداشت نہ کرسکی اور دائمی روگ پال لیا جس سے قبر میں جا کر ہی چھٹکارا مل سکا۔

ماں کی موت وہ پہلا حادثہ تھا جس نے احمد حسن کوتخیل سے حقیقی زندگی میں واپس لانے کا کام کیا۔ لیکن اب حالات بہت بدل چکے تھے محلے والو ں کی نظر میں اب وہ سب کی آنکھو ں کا تارا اور بستی کے لوگو ں کا سہارا احمد حسن نہیں رہا تھا، وہ تو اب ایک ایسا نامرد شخص تھا جو کسی خبط کاشکار تھا جس سے زمانہ نابلد تھا، لیکن اُس کی ناکام شادیو ں اور قصے کہا نیو ں نے اُس کے نامرد ہونے پر معاشرے کی نظر میں مہر ثبت کردی تھی۔ معا شرے کے لیے اب وہ ایک ایسا شخص بن چکا تھا جس نے دانستہ طور پر تین لڑکیو ں کی زندگیوں میں خلل ڈالا تھا اور عام زبان میں برباد کی تھیں اور اسی روگ نے اُس کی ماں کی جان لے لی تھی۔ سراپا کا عشق اور تخیل کی دنیا کا نشہ اب ہرن ہو چکا تھا، احسا س ندامت کچوکے لگاتا وہ اپنی خفت مٹانا چاہتا تھا، زمانے کو بتانا چاہتا تھا اُس کی مردانگی کو لے کر جتنے قصے ہیں سب افسا نے ہیں، کون اُس کی باتوں پر یقین کرتا اور لوگو ں کے پاس یقین کرنے کی نہ تو کوئی وجہ تھی اور نہ ہی اُنہیں ضرورت تھی کیو نکہ اب والے احمد حسن کی صورت اُنہیں ایک ایسا کردار مل چکا تھا جس کے حوالے سے جتنے چاہو، قصے تخلیق کر لو، محفل گرما نے کے لیے احمد حسن کی شادیو ں کے حوالے سے چٹ پٹی باتیں بہترین مواد کا درجہ لے چکی تھیں۔

احمد حسن کے پاس زندگی کا واحد مقصد اب خود کو زمانے کے سامنے مرد تسلیم کروانا تھا کیو نکہ اب اس دنیا میں کوئی بھی ایک ایسا شخص نہ تھا جسے اُس کی خوشی غمی سے واسطہ ہو ہسپتال کی نوکری سے اتنے پیسے مل جاتے جن سے اُس کے گزر بسر کے بعد بھی رقم بچ جاتی، اس رقم کو استعمال کر نے کی بھی اُس کے پاس کوئی جگہ نہ تھی۔ تھا تو بس صرف ایک خبط کہ وہ لوگو ں کو یہ باور کروالے کہ وہ نامرد نہیں ہے، کیونکہ یہ احساس اُسے اب بہت ستاتا تھا، ہر آنے والے دن کے ساتھ اس میں شدت آتی جارہی تھی کہ وہ کچھ ایسا کر جا ئے جس کے بعد لوگ اُسے نامرد کہنے سے باز آجائیں مگر اب یہ اتنا سہل نہ تھا اب کون اپنی لڑکی کا اُس کے ساتھ بیاہ کرتا؟ اور کیو ں کرتا؟

وہ اب ایک ایسا پریشر ککر بن چکا تھا جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا تھا، معاشرے کو اُس کے احساسات یا جذبات سے کیا واسطہ؟ کس کے پاس اتنا وقت تھا کہ وہ یہ جان سکتا ہمسایہ کس حالت میں جی رہا ہے۔ وہ کئی بار محلے کے ”بڑوں” سے اس حوالے سے بات کر چکا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اُس کے حوالے سے ہونے والی باتیں سب افسانے ہیں، ایسے القابات سے نہ پُکارا جائے اُس کی دل آزاری ہو تی ہے، لو گ اُس کی باتیں ہنسی میں اُڑا دیتے، ساری ساری رات وہ جاگتا رہتا منصوبے بنا تا، ترکیبیں سوچتا، مگر کو ئی راستہ سُجھائی نہ دیتا۔

اتوار کا دن تھا ساری رات جاگنے کے بعد سوجی ہوئی موٹی آنکھوں کے ساتھ وہ چائے بنا رہا تھا، جب اخبار والا غلطی سے اُس کے گھر اخبار پھینک گیا۔ اخبار پڑھے ایک مدت ہو گئی تھی، کبھی وہ روزانہ اخبار پڑھا کرتا تھا، اتوار کی اتوار انگلش اخبار بھی لیتا، جسے سارا ہفتہ لغت کی مدد سے پڑھتا، لیکن اب تو یہ باتیں بے معنی ہو چکی تھیں، اُسے تو بس خود کو ثا بت کرنا تھا، زندگی کا کو ئی اور مقصد نہیں بچا تھا۔ اخبار کو سرسری سا دیکھتے ہو ئے ایک خبر نے اُس کو چو نکا دیا، گویا اُسے راہ دکھا ئی دینے لگی۔

سائرن بجا تی پو لیس کی گا ڑیاں اُس کے گھر کی طرف دوڑ رہی تھیں، کچھ محلے دار گھر کے باہر جمع تھے، لو گ چہ مگو ئیاں کر رہے تھے، کسی کو یقین نہیں آرہا تھا لو گ یہ کہتے ہو ئے خود بھی پھیکے پڑ رہے تھے کہ نامرد بابو نے ایک عورت سے جنسی زیادتی کی ہے، سب بے خبر تھے پو لیس کو اطلاع کس نے دی؟ وہ عورت کون تھی؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: