دائیں اور بائیں بازو سے کیا مراد ہے : احمد الیاس

0
  • 53
    Shares

کچھ دن قبل راقم الحروف نے نظریاتی وابستگی کے حوالے سےایک سروے پول کیا۔ اس میں پوچھا گیا تھا کہ آپ خود کو دائیں بازو سے وابستہ کرتے ہیں یا بائیں سے۔ اس موقعے پر کئی دوستوں کی طرف سے ان اصطلاحات کی وضاحت کرنے کا کہا گیا، جو اس تحریر کی محرک ہے۔

دائیں اور بائیں بازو کی اصطلاحات کا پس منظر انقلابِ فرانس میں ہے، جب عوامی احتجاج کی لہر کے بعد بادشاہ نے قومی مجلس قائم کی۔ اس مجلس میں روایتی نظام کے حامی اور بتدریج تبدیلیوں کے خواہشمند لوگ صدرِ مجلس کے دائیں طرف بیٹھتے تھے۔ تیز رفتار اور بنیادی قسم کی تبدیلیوں کے حامی لوگ بائیں طرف۔ بائیں طرف والوں کو ریڈیکل اور پروگریسو کہا گیا یعنی ترقی پسند اور دائیں جانب والوں کو ری ایکشنری اور کنزرویٹو یعنی تحفظ پسند۔ چنانچہ بایاں بازو جب سماجی قدروں میں اساسی قسم کی تبدیلیوں کی بات کرتا ہے تو دایاں بازو ان تبدیلیوں کے عمل میں سٹیبلائزر کا رول پلے کرتے ہوئے پہلے سے موجود مثبت چیزوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔

دایاں اور بایاں، دونوں کیمپ بہت وسیع اور کثیر الجہتی ہیں۔ ان دونوں کی انتہاؤں پر اتھاریٹیرین ازم ہوتی ہے یعنی ریاست کا جابرانہ اختیار و تسلط۔ اور ان دونوں کی معتدل شکلوں پر لبرل ازم یعنی ریاست کے محدود اختیارات اور وسیع تر شخصی آزادی۔ دائیں بازو کی انتہاء مغرب میں فاشزم اور نازی ازم ہیں اور عالم اسلام میں قطب ازم کی مختلف شکلیں طالبان، القائدہ اور داعش۔ بائیں بازو کی انتہاء مارکسزم کی مختلف شکلیں لینن ازم، سٹالن ازم اور ماؤ ازم وغیرہ ہیں۔ یہ سب جابرانہ اور آزادی دشمن نظام ہیں۔ دائیں بازو کی نسبتاً نرم شکلیں کنزرویٹو ازم، نیشنلزم، سیاسی مسیحیت یا اسلام ازم ہیں تو بائیں بازو کی کمیونزم سے نرم شکل سوشلزم ہے۔ نیشنلزم، سیاسی مسیحیت یا اسلام ازم جب مزید معتدل ہوتی ہیں تو کنزرویٹو ڈیموکریٹک، کرسچن ڈیموکریٹک اور مسلم ڈیموکریٹک جماعتوں اور تحریکوں کا روپ دھار لیتی ہیں۔ ادھر بائیں جانب سوشلزم مزید نرم ہوکر سوشل ڈیموکریسی بن جاتی ہے۔ دنیا میں جمہوری معاشروں کی اکثر بڑی جماعتیں دائیں اور بائیں بازو کے اسی درجے پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اسے سینٹر-لیفٹ یا سینٹر-رائٹ کہا جاتا ہے۔

جہاں پر دائیں اور بائیں کے ملنے کا مقام آتا ہے وہاں پر لبرل ازم واقع ہے جس کا دایاں بازو مغربی کلاسیکی لبرل ازم اور اسلامی لبرل ازم ہے جبکہ بایاں بازو سوشل لبرل ازم۔ دائیں بازو کی لبرل ازم آزادی کی قدریں سماجی و قومی روایات یا مذہب سے تلاش کرتی ہے تو بائیں بازو کی لبرل ازم سوشلزم کے فسفے کو ہی لبرل رنگ میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری کے حوالے سے ان دونوں میں ایک فرق یہ ہے کہ دایاں بازو معاشرتی شعبوں میں ریاست کی عملداری چاہتا ہے اور معاشی شعبوں میں فرد کی آزادی۔ جب کہ بایاں بازو معاشی شعبوں میں ریاستی عملداری کا خواہشمند ہے اور معاشرتی حوالے سے فرد کی آزادی کا! چناں چہ بائیں بازو کے لوگ صنعتوں کی نیشنلائزشن، ٹیکسوں کی بلند شرح اور ان ٹیکسز کی مدد سے دولت کی تقسیم نو اور ویلفئیر سٹیٹ کے حامی ہوتے ہیں۔ دائیں بازو کے لوگ آزاد مارکیٹ، پرائیویٹائزشن، کم ٹیکسز، سرمائے کی خود کار گردش اور کاروبار کرنے کی آزادی کے قائل ہوتے ہیں۔ جب کہ معاشرت کے حوالے سے دایاں بازو اخلاقی قدروں، مذہبی ضابطوں یا ثقافتی روایات کو ریاستی حمایت سے نافذ کروانے کا کسی نہ کسی حد تک قائل ہوتا ہے۔ بایاں بازو پاکستان میں بلاسفیمی قوانین کے خاتمے سے لے کر مغرب میں ہم جنس پرستی کی شادی تک، مختلف سماجی ضابطے توڑنے کی بات کرتا ہے۔ یوں دایاں بازو اقتصادی کلاس کو سب سے زیادی اہمیت دیتا ہے اور دایاں بازو روایتی پہچان مثلاً مذہب، زبان، نسل یا خطے وغیرہ کو۔

اگر کچھ مثالوں سے بات سمجھائیں تو:

امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی بائیں بازو کی جماعت ہے اور اکثر سوشل لبرل رہی ہے اگرچہ اب برنی سینڈرز کا سوشلسٹ عنصر بھی زور پکڑا ہے۔ ریپبلکن پارٹی دائیں بازو کی جماعت ہے اور اکثر کلاسیکی لبرل رہی ہے اگرچہ اب ٹرمپ کی نیشنلزم نے بھی زور پکڑا ہے۔
برطانیہ کی ٹوری پارٹی کنزرویٹو اور کلاسیکل لبرل ہے اور لیبر پارٹی سوشل ڈیموکریٹک اور سوشلسٹ۔
جرمنی میں دائیں بازو کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین، بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہیں۔
ترکی میں دائیں بازو کی مسلم ڈیموکریٹک عدل و ترقی پارٹی ہے اور بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلکن پارٹی۔
بھارت میں کانگرس بائیں بازو کی جماعت جانی جاتی ہے اور بے جے پی دائیں بازو کی۔
پاکستان میں مسلم لیگ کے تمام دھڑے، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام دائیں بازو کی جماعتیں سمجھی جاتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم بائیں بازو سے وابستہ رہیں۔

اس حوالے سے دو غلط فہمیوں کا ازالی ضروری ہے۔
ایک یہ کہ مذہب کو لازمی طور پر دائیں بازو سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ مذہبی قوتیں اخلاقی اقدار پر زور دینے کے سبب اکثر دائیں بازو سے متصل ہوتی ہیں مگر ہمیشہ نہیں۔ اسلامی سوشلسٹ یا لاطینی امریکہ کے کرسچن ڈیموکریٹ وغیرہ مذہبی ہیں مگر بائیں بازو کے۔
دوسری غلط فہمی لبرل ازم کو بائیں بازو سے جوڑنے کے حوالے سے ہے۔ اس کی وضاحت پہلی کی جاچکی ہے کہ لبرل ازم دونوں طرف موجود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد الیاس ابلاغیات عامہ کے طالب علم ہیں۔ غیرنصابی مطالعہ، آوارہ گردی اور لکھنا ان کے مشاغل ہیں۔ تاریخ، ادب، مذہب اورسیاست خصوصی دل چسپی کے موضوعات ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: