کشمیریوں کا اہم کارنامہ —- ریاض مسرور

1
  • 19
    Shares

انسانی تاریخ ظالم حکمرانوں اور آمر بادشاہوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔چین، یورپ یا اسلامی دنیا میں بھی ایسے حکمران تھے۔ ہینری ہفتم نے تو مذہبی اختلاف کی بنیاد پر سیکڑوں پادریوں کو زندہ جلا دیا تھا۔ چنگیز اور ہلاکو سے کون واقف نہیں۔ اور ماضی قریب میں ہٹلر نے جبر کی خونین داستانیں رقم کردیں۔ آج کے دور میں بھی انسان کو جبر کا سامنا ہے،گو یہ جبر جمہوریت، لا اینڈ آرڈر اور انسدادِ تشدد کے نعروں میں ملفوف ہے۔ آج کل جو کچھ ہندوستان یا کشمیر یا شام و عراق میں ہورہا ہے اس کی نظیر تاریخ میں موجود ہے۔

جب ہر طرف ظلم و ستم کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے غیریقینی کا گردو غبار اُڑ رہا ہو تو عام انسان کو سجھائی نہیں دیتا کہ وہ کیا کرے، اسے ایک ہی فکر کھائے جاتی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے بال بچوں کی حفاظت کیسے کرے، ان کا پیٹ کیسے پالے۔

لیکن سقوط بغداد سے لے کر یورپ کے سیاہ دور (Dark Ages) تک، جب بھی معاشروں پر ظالم مسلط ہوگئے تو ان معاشروں کے ذہین اور حساس طبقوں نے عوام کو وقفوں میں جینا سکھا لیا۔ 1258 ء میں جب ہلاکو خان نے بغداد پر چڑھائی کی تو ایک ہفتے کے اندر دس لاکھ لوگوں کا قتل عام ہوا، گویا یہ تاریخ کا عظیم ترین ہالوکاسٹ تھا، منگولوں نے مسلمانوں کے سروں کے مینار چڑھا دئے اور المعتصم کو قالین میں لپیٹ کر گھوڑوں سے روندوایا گیا۔یہی نہیں، ہزاروں مساجد مسمار کی گئیں، کتب خانوں کو آگ لگادی گئی اور اُس زمانے میں پوری دنیا کے لئے علم و تحقیق کا مرکز کہلانے والا بغداد گوسٹ ٹاؤن بن گیا۔ سقوط بغداد کی کہانی اکثر دہرائی جاتی ہے، لیکن تاتاریوں نے جس تہذیب کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا تھا، وہ دوبارہ کیسے اُبھری اور کیسے اس نے اگلے 400سال تک افریقہ، ایشیا اور یورپ تک کو اپنے فکری دھارے میں پرو لیا؟ یورشِ تاتار کی کہانی کا اہم ترین پہلو یہی ہے کہ صنم خانے سے کعبہ کو پاسباں کیسے ملے؟

اس خونین جارحیت، تباہی اور ہلاکت نے مسلمانوں کو اپنی ذات اور رُوح کے اندر جھانکنے پر اُبھارا اورروحانی تطہیر کا رویہ پروان چڑھا جسے ہم تصوف کہتے ہیں۔ اسی تصوف کی بدولت بعد ازاں نہ صرف منگول مسلمان ہوئے بلکہ پوری دنیا پر مسلمانوں نے اخلاقی فتح پالی۔اس بربریت کے دوران مسلمانوں نے صرف روحانی محجوبات پر ہی فوکس نہیں کیا، بلکہ ساتھ ساتھ علمی روایات کو بھی بتدریج زندہ کیا اور ایک نئے ولولے کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔سقوط بغداد کے بعد بھی شورش جاری تھی، لیکن لوگ وقفوں میں زندہ رہے، اور حوصلوں کی شمع فروزاں رکھی۔

مسلہ کشمیر کی قانونی تاریخ جو بھی ہو، لیکن اس کا اخلاقی پہلو یہ ہے کہ کشمیر میں اکثریت کو بھارت کے اقتدار اعلیٰ پر اعتراض ہے۔ بھارتی فوج کی موجودگی اور بھارت کے زیرنگرانی مقامی سرکاری اداروں یا افسروں کو سماجی تقدس (Social Sanctity) حاصل نہیں ہے۔ اس ایک سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے دانشور حضرات حریت کانفرنس کی قیادت اور عوام پر نزلہ گراتے ہیں۔

کشمیر میں فی الوقت حالات دگرگوں ہیں اور مواقف کی گردش میں لوگ پریشان ہیں۔ مبصرین، قلمکار، مقررین اور دیگر حلقے جب بھی رائے زنی کرتے ہیں تو بچارے عام لوگوں پر برس پڑتے ہیں۔عام تاثر یہ بنایا گیا ہے کہ لوگ بے ضمیر ہیں، وہ اخوانی بھی ہیں، ملی ٹینٹ بھی ہیں، فوج میں جاتے ہیں، مین سٹریم سیاسی گروہوں کی پیادہ فوج بنتے ہیں، سرکاری ملازمت کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔لیکن کوئی خدا کا بندہ نہیں کہتا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیریوں کو سُست رفتار ہالوکاسٹ کا سامنا ہے، اور اس کے باوجود لوگوں نے اس میں سے زندگی کے وقفے کیسے چرائے۔ کیا کشمیر میں تعلیم کا معیار آگے نہیں بڑھا، کیا تجارتی مواقع میں وسعت نہیں ہوئی، کیا مفلوک الحالی سے لوگ آسودہ حالی کی طرف گامزن نہیں ہیں، کیا ہمارے یہاں خواتین بااختیار نہیں ہیں، کیا ہمارے لوگ امریکی اور یورپی یونیورسٹیوں میں تحقیق نہیں کررہے ہیں، کیا ہم لوگوں نے انگریزی بولنا اور لکھنا نہیں سیکھا، کیا اپنی تاریخ اور تمدن سے ہم پہلے سے زیادہ واقف اور حساس نہیں ہیں؟

مسلہ کشمیر کی قانونی تاریخ جو بھی ہو، لیکن اس کا اخلاقی پہلو یہ ہے کہ کشمیر میں اکثریت کو بھارت کے اقتدار اعلیٰ پر اعتراض ہے۔ بھارتی فوج کی موجودگی اور بھارت کے زیرنگرانی مقامی سرکاری اداروں یا افسروں کو سماجی تقدس (Social Sanctity) حاصل نہیں ہے۔ اس ایک سوال کا جواب ڈھونڈنے کی بجائے دانشور حضرات حریت کانفرنس کی قیادت اور عوام پر نزلہ گراتے ہیں۔ حریت قائدین کی ناکامیایوں یا کامیابیوں کا احتساب کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن معاشرے میں جب اجتماعی بیانیہ کچھ اسطرح بنے کہ ’’ہم سے کچھ نہیں ہوسکا، ہم ناکام ہیں، ہم کو اپنی غلطیوں نے لے ڈوبا‘‘ تو یہ ایک خطرناک بیانیہ ہے اور اس بیانیہ کو تقویت دینے والوں کے فہم و فراست پر کلام کیا جاسکتا ہے، کیونکہ انہیں اپنے ہی معاشرے کی حقیقت تک رسائی نہیں ہے۔ ہمالیائی سطح کی جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود کشمیری عوام نے اسی ’’خوبصورت قیدخانے‘‘ سے زندگی کے وقفے چراکر سفرحیات جاری رکھا ہوا ہے۔ہمارے یہاں کے تبصرہ نگاروں کو ہر بار آدھے بھرے گلاس کا آدھا والا خالی حصہ ہی کیوں نظر آتا ہے۔

دوسری جانب عوام کے حساس حلقوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ یورش تاتار کو اللہ کی مار سمجھ کر ختم بخاری سے نجات نہیں پاسکتے۔ انہیں وقفوں میں جینے کے گُر سیکھنا ہونگے۔ وقفوں میں جینے کا مطلب ہے کہ اپنی اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے حقوق کی حفاظت۔انسانی حقوق کی حفاظت ممکن نہیں ہے، کیونکہ عدلیہ، مقننہ، انتظامہ سبھی اس میں بے بس نظر آتے ہیں۔ لیکن سرکاری اداروں کو جوابدہ بنانے کے لئے عوام فعال کردار نبھاسکتے ہیں۔ چھوٹی سی مثال ہے کہ ہر روز ٹریفک پولیس ایک کروڑ روپے لوگوں سے جرمانے کے طور وصول کرتی ہے۔ کسی شہری نے عدالت میں رِٹ درخواست نہیں کی کہ حکومت کا مطلب کیا ہے؟ اگر حکومت آٹھ سال سے ایک پل تعمیر نہیں کرپائی، دس سال سے لال چوک میں چار پارکنگ لاٹ تعمیر نہیں ہوپائے، سڑکوں کو کشادہ کرنے میں سرمایہ داروں اور اہل اقتدار کی عالیشان کوٹھیاں حائل ہیں، تو پولیس کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے کہ وہ لوگوں سے چالان وصول کرتی پھرے۔ ایسی درجنوں مثالیں ہیں، لیکن حساس تبصرہ نگار جنوب ایشائی امور کے ماہر بنے پھرتے ہیں اور لوگوں کے ووٹ دینے یا نہ دینے پر طویل تبصرے جھاڑنے میں اپنی دانشورانہ حسِ کی مالش میں لگے ہیں۔

عوام مٹھی بھر کالم نگاروں، یا چند ہزار فیس بک یوزرس کا نام نہیں ہے۔ وادی میں 70لاکھ لوگ رہتے ہیں، اور انہیں ہر آن کسی نہ کسی ہلاکو خان کا سامنا ہے جو ان کے قرب و جوار میں لاشوں کے ڈھیر لگا رہا ہے۔ اسی خونریزی میں لوگ زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہے ہیں۔ یہ واقعی ایک غیرمعمولی رویہ ہے، جس کا مظاہرہ کل اربوں نے سقوط بغداد کے بعد کیا تھا اور آج کشمیری کررہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اربوں کے دانشور علمی روایات کے احیاء میں مصروف تھے اور ہمارے دانشوراپنے ہی عوام کی عیب جوئی اور چغل خوری میں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: