دانش ـــ اردو کی معیاری اور سنجیدہ ویب گاہ —- ہمایوں مجاہد تارڑ

0
  • 2
    Shares

دانش ویب سائٹ پر سنجیدہ اور معیاری مضامین چھپتے ہیں، اس لئے دانش سائٹ کے بارے میں یہ ایک سنجیدہ اور معیاری مضمون ہے۔ دانش سائٹ کو ہم ناچیز سے گہری نسبت ہے، چونکہ ہم خود ایک دانشمند انسان ہیں۔ یہ صرف دعوٰی نہیں، اس بات کا ایک بیّن ثبوت بھی ہے۔ بعض لوگوں کو ہم نے خود اپنے کانوں یہ کہتے سنا ہے: “آپ ایک معقول انسان ہیں۔” معقول انسان وہ ہوتا ہے جو قحط الرجال کے کٹھن وقتوں میں ناپید ہو۔ اسی سے کسی طور ثابت ہو گیا کہ ہم دانش مند بھی ہیں۔ تو گویا ہمارا پیدا ہو جانا ہی بڑی بات۔ ایک دوسرا بیّن ثبوت یہ ہے کہ دانش پر پہلے بھی ہماری ایک تحریر چھپی تھی۔ اس کی تحسین بعض قارئین نے ہراساں کر دینے کی حد تک مبالغہ آمیز انداز میں فرمائی۔ آپ بھی جان لیں، کہا:

“آپ اچھا لکھتے ہیں!”
اب بھی یقین نہیں آیا؟ ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت پیش کیے دیتے ہیں۔ وہ یہ کہ دانش پر ہماری دوسری تحریر بھی قابلِ اشاعت کیٹیگری میں شمار کی گئی۔ پھر وہ چھپ بھی گئی!
اب بھی یقین نہیں آیا؟ اِس سے آگے تو ہم بس اللہ کی قسم کھا کر ہی یقین دلا سکتے ہیں۔

رفتہ رفتہ یہ سرّ حیات ہم پر پوری طرح وا ہو گیا ہے کہ تحریر چھپ جانے کے بعد اگر آپ دنیا والوں سے منہ چھپائے نہ پھرتے ہوں تو لامحالہ آپ ایک دانش مند انسان ہیں۔خیر، یہ ہم بھی کیا لے بیٹھے۔

دانش کی مُنہ کشائی سن 2017 میں ہوئی۔ یہ ایک ویب سائٹ ہے۔ یہ انٹرنیٹ پر چلتی ہے۔ انٹرنیٹ اگر کسی مقام پر بند ہو تو یہ وہاں نہیں چلتی۔ بلکہ کسی دوسرے مقام پر جہاں انٹرنیٹ چل رہا ہو، یہ وہاں چل پڑتی ہے۔اس پر مضامین چھپتے ہیں۔اِس پر صرف دانشمند لوگ لکھتے ہیں۔کم آئی کیو لیول والے لوگوں کا یہاں گزر نہیں۔ ناں بھئی ناں، قطعی بین کر رکھا ہے شاہد بھائی نے۔ اس ویب سائٹ کی قدو قامت سے آگاہ ہونے کو ضروری ہے پہلے آپ اِس کے “موجد” کے حالاتِ زندگی پر ایک نظر ڈالیں۔

دانش کے موجد یا مینوفیکچرر شاہد اعوان ہیں جو 1876 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی کا نام مولوی پونجا جناح خان تھا جو ایک با خدا بزرگ تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج شورکوٹ میں حاصل کی۔آپ شور کوٹ کے شور شرابے سے کافی الرجک تھے۔ چنانچہ آپ سندھ مدرسۃ الاسلام تشریف لے گئے۔دن گزرتے گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ گبرو جوان ہو گئے۔ تلوار بازی میں آپ یگانہ روزگار تھے۔ دنیا آپ کو نادر شاہ کے نام سے بھی یاد کرتی ہے۔ 1738 میں آپ ہندوستان پر حملہ آور ہو گئے۔ اس کے بعد پانی پت کے میدان میں تیسری لڑائی کا وقت جب قریب آیا تو آپ سراج الدولہ کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔کافی لوگوں نے آپ کو وہاں دیکھ کر تالیاں بھی بجائیں۔ پھر آپ فی الفور وہاں سے غائب ہو گئے۔ پتہ چلا آپ اعلٰی تعلیم کی غرض سے انگلستان تشریف لے گئے ہیں۔وہاں آپ اِٹلی میں بنی ہارورڈ نیورسٹی میں چشمہِ علم سے سیراب ہوئے۔ہندوستان لوٹتے ہی آپ سرنگا پٹم کے مقام پر ایک قلعہ میں محصور ہو گئے۔آپ نے فرمایا ‘میرا یہ قول مبارک مشہور کر دینا: شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔’ یہ قول اسی لیے مشہور ہے۔آگے چل کرآپ نے اپنے خطبہ الٰہ اباد کے موقع پر قائدِ اعظم کے چودہ نکات پیش کر دئیے۔ پیش ہی کیے ہی تھے کہ پاکستان بن گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ سید احمد شہید بریلوی کی تحریک میں شامل ہو گئے، اور سکھوں کے خلاف جہاد کرتے رہے۔ تا وقتیکہ 1965 کی جنگ چھڑ گئی۔ سن 65 کی جنگ میں آپ کا سامنا ایک دشمن سے ہوا چونکہ پرانے زمانے کی جنگیں عام طور پر دشمن کے خلاف ہی لڑی جاتی تھیں۔آپ نے بہادری کے وہ جوہر دِکھائے کہ بس! آپ نے دشمن کو بھاگنے نہیں دیا۔ آپ نے اسے واپس بلایا۔دشمن واپس آگیا۔ اب آپ نے دشمن کو للکارا۔ للکارنے کے بعد کہا “آپ سب نہر بی آر بی کے کنارے پر لائن بناؤ۔” لائن بن گئی تو آپ نےانہیں بُھون ڈالا۔ آپ کو نشانِ حیدر عطا کیا گیا۔ آپ کا مزار۔۔۔۔۔ارر ہپ!

معاف کیجے گا، بچپن میں یاد کیے کچھ مضامین کی سطریں ابھرنا شروع ہو گئی تھیں، ذرا گڈ مڈ ہو کر۔حالانکہ شاہد اعوان بھائی نے صاف کہہ دیا تھا کہ کچھ نیا اور کریئیٹِو لکھنا ہے۔چلیں اب اِس سے آگے سب کریئیٹِو۔

تو بات چلی تھی دانش کی جو کہ ایک ویب سائٹ ہے۔ یہ سنجیدہ اور معیاری ہے۔ اس پر مضامین کے علاوہ کچھ نہیں چھپتا۔ سارے مضامین سنجیدہ نوعیت کے، یا پھر معیاری۔ تیسری بات یہاں کوئی نہیں۔ یعنی کسی قسم کی فضول بک بک۔اِس لیے ہم بھی مجبور ہیں کہ سنجیدہ افکار ہی لکھیں۔ اگر نہیں تو پھر کچھ معیاری ہی لکھ دیں۔ تا کہ اس کی سنجیدگی بھی متاثر نہ ہو، اور معیار بھی جوں کا توں برقرار رہے۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں ـــ کہ شاہد بھائی مزاجاً کِس قدر سخت واقع ہوئے ہیں۔ ایک لفظ بھی فالتو نظر آگیا تو ہماری شامتِ اعمال۔ تو بس یہ ساری وجوہات تھیں کہ کیوں شروع سے آخیر تک ہم صرف سنجیدہ ہی نظر آئے۔ البتہ اِس سے اگلی تحریر کے لیے ہم نے ذرا مختلف سوچا ہے ـــ یہی کہ ایک آدھ سطر ذرا مزاحیہ انداز میں بھی لکھ دیں۔تا کہ لوگ یہ نہ سمجھ بیٹھیں ہم فقط سنجیدہ و معیاری مضامین ہی لکھ سکتے ہیں۔ ہماری اگلی تحریر آپ اس کے بعد ہی پڑھ سکیں گے، نہ کہ پہلے۔ چونکہ اگلی تحریر ہمیشہ بعد میں لکھی جاتی ہے۔

والسلام
ہمایوں مجاہد تارڑ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: