ارزاں جہالت اور دانش کا سفر : چوہدری بابر عباس

0
  • 136
    Shares

دانش کے سینیر لکھاری اور ساتھی، چوہدری بابر کی دانش کی پہلی سالگرہ کے موقع پہ خاص تحریر


اگر سیاسیات سے آگاہی درکار ہو تو بد قسمتی سے نفسیات پر بھی مطلع ہونا پڑتا ہے۔جس طرح انسانوں کی سیرت میں اختلاف ہوتا ہے اسی طرح حکومتوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ کسی بھی مملکت کی نوعیت اسکے شہریوں کی طبعیت اور فطرت کے مطابق ہوتی ہے، نظریات کا پرچار اور نظریاتی حکومتیں کے قیام کے وعدے محض منشوری دعووں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتے۔ کم از کم اپنے ہاں کا تو یہ ہی عالم ہے۔ جب تک کسی معاشرے کے باشندے بہتر نہ ہوں مملکتیں بہتر نہیں ہو سکتیں، اور نہ جزو وقتی حلول اور معمولی تغیرات سے کسی قوم کے بنیادی مسائل میں کوئ فرق پڑتا ہے۔

آئیے ایک لمحے کے لیے اس انسانی مواد فطری کا جائزہ لیں،جو فلسفہء سیاست کا ایک اہم مو ضوع ہے۔اس حوالے سے افلاطون کہتا ہے کہ انسانی فعال عمل کے بڑے ماخذ تین ہیں۔ ایک خواہش دوئم جذبہ اور تیسرا اور اہم ماخذ علم ہے، اشتہا، آرزو، تشویش، جبلت سب خواہش ہیں۔ جذبہ، جوش، عروج، اور جرات و شجاعت یہ سب ایک شے ہیں۔ علم، فکر، عقل (بر بنائ فہم و استدلال) یہ سب ایک ہیں۔

یہ قوتیں اور اوصاف سبھی معاشروں اور انسانوں میں ہوتے ہیں۔اختلاف مدارج کا ہوتا ہے۔بعض لوگ تو خواہش کی تجسیم ہوتے ہیں (بے قرار اور آرزومند روحیں، جو مادی، مطلوب و اختلاف ہی میں منہمک رہتی ہیں) یہ ہر وقت تعیش اور نام و نمود کی آرزو کی بھٹی میں جلتے رہتے ہیں،طمع سے عبارت غیر قانع طبقہ ہے۔ملکوں کی کل دولت بھی انکی حریص نظر و بطن کی بھوک نہیں مٹا سکتی۔یہ ملک کا سرمایہ دار طبقہ ہے۔ اور صنعت و حرفت کے سر رشتے انہی کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔

انکے مقابلے میں کچھ اور لوگ بھی ہیں۔ جو گویا جذبے اور شجاعت سے لبریز ہیں۔ انکو اس بات کی اتنی پروا نہیں ہوتی کہ باعث نزاع کیا ہے۔ فقط فتح مندی ہی مقصود و مطلوب ہے۔ یہ طامع اور آرزومند ہونے کے مقابلے میں جارح زیادہ ہوتے ہیں۔کاملیت کے بجائے طاقت اور اقتدار انکا تفاخر ہوتا ہے۔ یہ بازار میں نہیں میدان کارزار میں خوش رہتے ہیں۔دنیائے عساکر ان ہی کے دم سے قائم ہے۔

جیسا کہ اوپر تین انسانی اوصاف فطری بیان کیے گئے ہیں،میں سے سب اہم علم ہے۔سب سے آخر میں بہت تھوڑے سے لوگ وہ ہوتے ہیں،جو سوچ بچار میں خوش رہتے ہیں۔عقل و فہم کے پروانے ہوتے ہیں۔انکو نہ تو متاع دنیوی کی ضرورت ہوتی ہے،نہ میدان جنگ میں فاتح کہلانے کا جنون۔ یہ عطشان علم گروہ بازار اور میدان کارزار کو پیچھے چھوڑ کر خلوت تفکر کی خاموش دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں۔ یہ نار پر نور کو ترجیح دیتے ہیں۔طاقت کے بجائے صداقت کی جنت میں رہتے ہیں۔یہ لوگ دانشور ہیں۔ “جن سے دنیا کوئ کام نہیں لیتی”۔

جس طرح موثر انفرادی عمل کے تناظر میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ، اگر چہ خواہش ہی جذبے کی محرک ہے مگر رہنمائ اور تکمیل علم و دانش سے ہی ممکن ہے۔اب اگر ان انفرادی انسانی فطری عوامل کا انضباط بالترتیب ایک کامل مملکت پر کریں تو صنعتی اور سرمایہ دار قوتیں دولت تو پیدا کریں مگر انکو حکومت سے دور رہنا چاہیے۔عسکری قوتیں سرحدوں کی حفاظت پر مامور رہیں کہ ایوان اقتدار ان کے لیے کسی میدان کارزار کا نام نہیں نہ یہاں سے کبھی داد شجاعت پائیں گے۔

تیسرا اور اہم انسانی مادہ ء فطری، علم،حکمت،دانش اور آج اسکی ارتقائی ترقی کی صورت میں سائینسی علوم ہیں۔ انکو پھولنے پھلنے کا موقع دیا جائے۔انکی کفالت اور حفاظت کی جائے۔اور رہبری بھی علم کو ہو ہی سونپی جائے۔علم رہبر نہ ہو تو قوم کسی بھی مذہبی،سیاسی اور سماجی تنظیم سے معرا ایک ہجوم سے زیادہ کچھ نہ کہلائے گی۔جس طرح افراد کو خواہشوں کے انتشار سے مغلوب ہوتے جذبوں کو ایک روش پر ڈالنے کے لیے علم اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ایک ریاست کو بھی رہبری کے لیے اہل علم اور دانشوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

جب ایک بددیانت اور نااہل تاجر ثروت کے پروں پر اڑتا ہوا اقتدار کے سنگھاسن پر آ پہنچتا ہے تو مملکت سودوں کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اور سرمایہ دار مضبوط مگر قوم کی معیشت تباہ ہو جاتی ہے،وقار اور ملی حمیت بے توقیر ہو جاتے ہیں قوم کے مستقبل اور اسکی خود انحصاری کے لیے بہترین فیصلوں کے بجائے ان کشکول بردار رہزنوں کے کارن اسکے سودے اغیار کے چوکھٹوں پر ہو رہے ہوتے ہیں۔

اسی طرح جب کوئی طالع آزما اپنی عسکری طاقت کو اقتدار پر قبضے کے لیے استعمال کرتا ہے اور ایک آزاد قوم پر آمریت مسلط کر دیتا ہے تو یہ بھی کسی طرح ریاست کے لیے کوئ نجات اور کار خیر نہیں ہے۔

تاجر اور سرمایہ دار دولت پیدا کرنے والے اقتصادی دائرے میں ہی بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اور ایک سپاہی کو میدان جنگ ہی سجتا ہے۔مگر جب ان لوگ کے ہاتھ میں انصرام حکومت اور عوامی دفاتر آجائیں تو یہ ایک یقینی اور “مجرب” تباہی ہے۔انکی لاعلمی اور نااہلیت کے باعث کارخانہء حکومت چلانے کے لیے درکار حکمت و تدبر پر تاجرانہ سودے بازیاں اور غاصبانہ اور ناجائز اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے قومی تباہی کے باعث بننے والی آئین شکنی اور جمیع الانواعی دستاویزات و اختراحات کا غلبہ تو یقینی ہوتا ہے۔ مگر عوام کی فلاح اور بہبود ندارد۔۔۔ بلکہ وہ تو کبھی ترجیح ہی نہ رہی ہے۔

اگرچہ آج کے جدید معاشروں میں جمہور کو اپنے حکمران منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ بات اپنے ہاں کی کی جائے تو یہ بات بھی ضرور ورطہ ء حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ ان سوداگروں اور طالع آزماوں کی صحبت میں پلی بڑھی عوام سیاسی عہدیداروں کا انتخاب کرے گی۔۔۔! جو دراصل سیاسی ناخواندہ اور سادہ لوح ہے اور متلون مزاج بھی مگر ایسی نسیان صفت کہ متواتر خود کو باآسانی ان ثروت پرست اور بد دیانت چالبازوں کے حوالے کر دینے کا عمدہ ریکارڈ رکھتی ہے۔ جو اس عمومیہ کی پتلیوں کو دراصل، اپنے گماشوں، پٹھووں، اثرو رسوخ اور مخصوص ہتھکنڈوں (کہیں مال و دولت اور کہیں اپنے اختیار اور طاقت کے مرہون سفاکیت) کے تاروں سے باندھ کر کھینچتے ہیں۔

مگر یہاں اس حریص، سفاک اور استبدادی گروہ سے کوئ شکوہ نہیں ہے۔ اس شکایت کو عوام کو اپنی ہی عدالت میں درج کروانا ہو گا، کہ اپنی انفرادی زندگیوں میں تو معمولی معاملات تک میں ہم انتہائ محتاط اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ایک سوٹ لینا اور بنوانا ہو تو ہم بہترین پارچہ کی خریداری کے ساتھ فن کے ماہر پارچہ تراش کا انتخاب کرتے ہیں۔ بیمار ہوں تو ایک تربیت یافتہ اور بہترین طبی اسناد کے حامل طبیب کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔نہ کہ کسی ایسے شخص کا جو مال و دولت اور جاہ جمال کا مالک ہو یا جو تکلم میں فصیح و بلیغ اور جوش خطابت میں طاق ہو مگر ماہر امراض نہ ہو۔ تو ایسے میں عجب حیرت ہے کہ ہم اپنے لیے حکمران جس نے آپکے اور آپکی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے فیصلے کرنے ہیں،ایک پوری ریاست کا نظم و نسق چلانا ہے معیشت کو ترقی دینی ہے اور آپکے جان و مال کو تحفظ اور ریاست کا دفاع کرنا ہے اسکے لیے آپکا معیار بجز یہ ہو کہ
“جسے ووٹ لینے کا گر آتا ہے وہ حکومت کرنے کا بھی اہل ہے”۔

تدبر اور دانش ایک آرٹ ہے جسکے پیچھے علم اور عقل و فہم جیسی کہنہ مشق ریاضتیں کار فرماہوتی ہیں۔ اور اس کے لیے ایک لمبی تیاری ہوتی ہے نہ کہ قلیل مدتی حلول اور وقتی تغیرات اور پر جوش و بے محل خطابت۔ اور اس سے بھی بڑھ کر اہم اور ضروری یہ ہے کہ عوام دانش اور تدبر کو اپنا اولین نصب العین بنائیں۔اور جہالت کی پیداوار اس کوڑھ کو خود سے الگ کریں اور آنے والی اپنی نسلوں کو ان جزامیوں سے محفوظ رکھنے کا کوئی چارہ کریں۔

بصورت دیگر
سیاسیات کی نفسیات یہ ہی کہے گی
“جیسی عوام ویسے حکمران”۔

معاشرے کی تعمیر و تربیت میں اپنے حصے کی بطریق احسن اینٹ لگانے پر دانش ا نتظامیہ اور قارئین کو دانش کا پہلا کامیاب سال مکمل کرنے پر مبارکباد۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: