کامیابی: قسمت یا محنت؟ —– عاطف حسین

0
  • 75
    Shares

راقم کے جس خیال کو بہت سے لوگ سب سے غلط اور مضر سمجھتے ہیں وہ کامیابی میں قسمت کا کردار ہے۔ اگرچہ اپنی کم علمی اور مفلس الکلامی کے باعث راقم زیادہ پرامید تو نہیں کہ اس انتہائی پیچیدہ موضوع کو پوری طرح نبھا پائے گا لیکن موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہے ایک کوشش کرلینے میں کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا۔

قسمت کے کردار کے موضوع میں بہت سی پیچیدگی خود قسمت کی تعریف اور اس سے جڑے مابعدالطبیعاتی و مذہبی تصورات کی ہے۔ لہذا واضح کرنا ضروری ہے کہ راقم قسمت سے مراد ان تمام حالات و واقعات کو لیتا ہے جو کسی فرد کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں۔ آگے چل کر ہم مثالوں سے اسے واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس موضوع پر بحث کے دوران یہ بھی تجربہ ہوا ہے کہ موضوع ایسا پیچیدہ اور کثیر الجہت ہے کہ ایک تو بحث کئی سمتوں میں چل نکلتی ہے اور دوسرا اتنی پیچیدگی کو ایک ساتھ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہذا راقم کوشش کرے گا کہ آسانی سے سمجھ میں آنے والی سادہ مثالوں سے شروع کرکے زیادہ پیچیدہ مثالوں کی طرف جائے تاکہ بحث کی مطلوبہ سمت بھی برقرار رہے اور  قارئین کو راقم کا نقطہ نظر سمجھنے میں بھی آسانی رہے۔ آسانی ہی کی غرض سے حتی المقدور راقم عام فہم اگرچہ کسی حد تک غیر معیاری انداز بیان بھی اختیار کرے گا۔

اس ضروری تمہید کے بعد اصل موضوع کی طرف آتے ہوئے آج سے تیس پینتیس سال قبل ایک ہی دن پیدا ہونے والے غریب، مڈل کلاس اور امیر بچوں کی اب تک کی زندگی کو تصور کریں (آپ آج پیدا ہونے والے بچوں کی اگلے تیس پینتیس سال کی زندگی کو بھی تصور کرسکتے ہیں)۔ اس کا نقشہ کچھ یوں بنے گا:

قبل از پیدائش:
غریب بچے: ان کی ماؤں کو اچھی خوراک میسر نہ تھی۔ صحت کے مسائل نہ آگاہی تھی نہ ان سے نمٹنے کے وسائل۔ دوران حمل محنت مزدوری بھی کرتی رہیں۔

مڈل کلاس بچے: ماؤں کو بہتر خوراک میسر تھی، صحت کے مسائل سے کچھ نہ کچھ آگاہی بھی تھی اور درمیانے درجے کی طبی سہولیات تک رسائی بھی۔

امیر بچے: ماؤں کو بہترین خوراک میسر تھی۔ حمل کے آغاز سے ہی بہترین معالجین کی سہولیات دستیاب تھیں۔ کھانے پینے سے لے کر چلنے پھرنے تک ہر چیز معالجین کے مشوروں کے مطابق سرانجام دینے کی استطاعت بھی موجود تھی۔

بچپن:
غریب بچے: غیر معیاری اور ناکافی خوراک میسر تھی، بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشونما متاثر ہوئی۔

مڈل کلاس بچے: کسی حد تک معیاری خوراک میسر تھی۔ جسمانی اور ذہنی نشونما بھی مناسب ہوئی۔

امیر بچے: بہترین خوراک دستیاب رہی، عمدہ دیکھ بھال ہوئی اور جسمانی و ذہنی نشونما خوب رہی۔

اسکول:
غریب بچے: آس پاس کوئی اسکول نہیں تھا۔ اگر تھا بھی تو اس میں اساتذہ یا سامان یا دونوں نہیں تھے۔ اگر اساتذہ تھے بھی تو صحیح پڑھاتے نہیں تھے یا پڑھانے کے قابل نہیں تھے۔ والدین بچوں کو اسکول بھیجنے کے قائل نہیں تھے یا قابل نہیں تھے۔ جو بچے اسکول جاتے تھے ان کے بھی گھر میں پڑھائی کا ماحول نہیں تھا۔

مڈل کلاس بچے: والدین تعلیم کی اہمیت کے قائل تھے، انہیں اوسط درجے کے اسکولوں میں بھیجے گئے۔ والدین پڑھ لکھ کر بڑا بننے کی تلقین کرتے رہے۔ انکی تربیت میں اچھے بچے بننے پر زور رہا۔ اور نہ پڑھنے کے کے نتائج سے ڈرایا جاتا رہا۔ اچھے بچے بننے کا دباؤ اور برے نتائج کا ڈر ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا۔

امیر بچے: اچھے اسکولوں میں بھیجے گئے۔ اسکول اور گھر ایسا ماحول ملا جس سے ان کی شخصیت میں اعتماد پیدا ہوا۔

کالج/یونیورسٹی:
غریب بچے: ان میں سے اکثر کالج تک نہیں پہنچ سکے

مڈل کلاس بچے: اوسط درجے کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گئے۔ کچھ اسکالرشپس لے کر بیرون ملک بھی گئے۔

امیر بچے: مہنگی اور بیرون ملک یونیورسٹیوں سے تعلیم پائی۔

عملی زندگی:
غریب بچے: یہ اب مزدوری کرتے ہیں۔ ان کی آمدنیاں تقریباً اتنی ہی ہیں جتنی ان کے والدین کی تھیں۔

مڈل کلاس بچے: ملازمتیں کرتے ہیں اور باسز سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ان کی آمدنیاں اوسطا اپنے والدین کی آمدنیوں سے زیادہ ہیں گھر اور گاڑی بھی ہے۔ یہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں اور یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ انکی محنت اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ان کے سامنے قسمت کا ذکر کیا جائے تو ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ قسمت کا نام لے کر ان کی کامیابیاں ان سے چھینی جارہی ہیں۔ انہوں نے فیس بک پر آئل ٹینکر حادثے کی وجہ عوام کی جہالت کو قرار دیا۔

امیر بچے: ان کیلئے نوکری اور کاروبار دونوں ہی مسئلہ نہیں ہے۔ کہیں تعلقات کام آتے ہیں تو کہیں پیسہ۔ یہ ‘ایکولیٹی’ کے متعلق بلاگز لکھتے، سیمینار اٹینڈ کرتے اور این جی اوز بناتے ہیں۔ گھومتے پھرتے، رپورٹیں لکھتے اور مزے سے زندگی گزارتے ہیں۔

غریب، مڈل کلاس اور امیر گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی بہت بڑی اکثریت کی زندگی اسی ڈگر پر چلے گی۔ یہ گویا ایک تین منزلہ مکان ہے جس کی ایک منزل پر پیدا ہونے والے اسی منزل پر رہیں گے (بہت کم ایسے ہوں گے جن کی منزل تبدیل ہوگی۔ ان کو ہم آگے چل کر زیر بحث لائیں گے)۔ اس مکان میں جہاں نچلی منزل والوں کو اوپر والی منزلوں پر جانے سے روکنے کے کئی رکاوٹیں رکھی گئی وہیں اوپر والوں کو گر کی نچلی منزل میں چلے جانے سے بچانے کیلئے بھی کئی انتظامات ہیں۔

آپ اپنی زندگی کس منزل پر گزاریں اس کا  قریب قریب کلی  انحصار اس پر ہے کہ آپ پیدا کس منزل پر ہوئے اور ظاہر ہے آپکی پیدائش کے مقام پر آپ کا کوئی اختیار نہیں۔ راقم  جب کسی مڈل کلاسیے کو قسمت کے ذکر پر سیخ پا ہوتا دیکھتا ہے تو ہمیشہ حیران ہوتا ہے کہ کیا اسے بالکل معلوم نہیں کہ اس کے پاس  آج ایک مناسب ملازمت یا درمیانے درجے کا کاروبار ہونے، اس کے نسبتاً خوشحال زندگی گزارنے اور کسی کافی شاپ یا فیس بک پر بیٹھ کر قسمت کے کردار کے رد میں دھواں دار دلائل دینے کا کل انحصار اس چیز پر ہے کہ وہ ان والدین کے گھر پیدا ہوا جو اسے اسکول بھیجنے کے قائل بھی تھے اور اسکی استطاعت بھی رکھتے تھے اور جو اسے کم عمری میں ہی ایک ہی دفعہ کسی سے بیس ہزار لے کر اس گھر سال بھر ملازمت کیلئے چھوڑ دینے پر مجبور نہیں تھے؟

یہاں یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ ہمارے اس استعاراتی مکان میں محنت، منصوبہ بندی اور کامیابی کے دوسرے “زریں اصولوں” کا کوئی کردار نہیں ہے۔ لیکن یہ چیزیں آپ کو عموماً صرف اسی منزل پر ایک بہتر کمرے تک لے جاسکتی ہیں (نوٹ کیجئے کہ یہاں راقم نے ‘لے جاتی ہیں’ نہیں بلکہ ‘لے جاسکتی ہیں’ کہا ہے کیونکہ اس میں بھی قسمت فیصلہ کن وار کرسکتی ہے)۔ مثلاً ایک مزدور جو بہت محنتی ہے، کام چوری نہیں کرتا، دھوکہ دہی نہیں کرتا، فضول خرچی نہیں کرتا اور بچت کرتا ہے اس کے پاس آس پاس کے مزدوروں کی نسبت کچھ زیادہ پیسے ہوں گے۔ وہ تھوڑی خوشحالی کی زندگی گزارے گا۔ یہ ضرور اس کے بس میں ہے اور اسی طریقے سے وہ اس نقصان کی کچھ نہ کچھ تلافی کرسکتا ہے جو قسمت نے اسے مزدور کے گھر پیدا کرکے پہنچایا ہے۔ لیکن (الف) اس کے ان زریں اصولوں پر عمل پیرا ہونے کے قابل ہونے سے پہلے قسمت اسے جو نقصان پہنچا چکی ہے اس کی تلافی اس کے بس میں نہیں اور (ب) اسے یہ دعا بھی کرنی ہوگی کہ قسمت ایک دفعہ پھر اس کی منصوبہ بندی کو چوپٹ نہ کردے۔ مثلاً اگر اسکی ٹانگ کسی حادثے میں ضائع ہوگئی یا اس کے بچے کو ایسی بیماری لاحق ہوگئی جس کے علاج معالجے میں اس کی بچت اور دیہاڑی دونوں جائیں تو باوجود ان زریں اصول پر عمل کرنے کے پھر ہار جائے گا۔

تاہم ایک خوش خبری یہ ہے کہ اس بدقسمتی کا مکمل نہ سہی کسی نہ کسی حد تک ایک حل بھی موجود ہے۔ اور بری خبر یہ ہے کہ وہ حل موٹیویشنل تقریریں نہیں ہیں (کیونکہ ان تقریروں میں بیان کیے گئے “زریں اصول” لوگوں کو مکان کی ایک منزل سے دوسری منزل پر لے جانے کیلئے ناکافی ہیں) بلکہ موٹیویشنل تقریریں اس حل کی راہ میں ایک رکاوٹ ہیں۔

“اگر آپ غریب پیدا ہوئے ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں تھا لیکن اگر آپ غریب مرتے ہیں تو اس میں آپ کا ہی قصور ہے” اور “انسان اپنی قسمت کا خود مالک ہے” جیسے “اقوال زریں” صرف لوگوں کو محنت پر اکسانے والے نعرے نہیں بلکہ زندگی کی حقیقت اور جن اصولوں پر وہ چلتی ہے کے متعلق ایک دعویٰ بھی ہیں۔ اور وہ دعویٰ یہ ہے کہ فرد اور صرف فرد اپنی کامیابی یا ناکامی کا ذمہ دار ہے۔ معاشرے کا اس میں کوئی کردار نہیں بلکہ معاشرے اور حالات کا کردار محض ایک بہانہ ہے۔ جب کہ اس صورت حال کا ممکنہ حل اس کے بالکل برعکس تصور کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ وہ تصور یہ ہے کہ فرد کو کامیاب ہونے کیلئے جو اہم ترین وسائل اور مواقع درکار ہیں وہ اسے معاشرہ ہی مہیا کرسکتا ہے۔ غریبوں کے بچوں کو غربت سے نکلنے کیلئے جو کم ازکم تعلیمی و طبی سہولیات اور معاشرتی آزادی درکار ہیں وہ بہم پہنچانا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اگر ان چیزوں کے فقدان کی وجہ سے وہ غربت کے چنگل سے نکلنے میں ناکام ہیں تو یہ ان کا بہانہ نہیں بلکہ جائز شکایت، حق تلفی اور معاشرے کی ناکامی ہے۔ لہذا حکومتوں اور صاحب استطاعت لوگوں کیلئے ترجیح انہی کم ازکم سہولیات کی دستیابی یقینی بنانا ہونی چاہیے۔  گویا انفرادی سطح پر ہم اپنی قسمت کے معمار تو نہیں بن سکتے لیکن اپنے سے کسی زیادہ بدقسمت کی قسمت کی معماری میں ضرور حصہ ڈال سکتے ہیں۔

بالکل الگ الگ حالات میں پیدا ہونے کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کا معاملہ تو نسبتا واضح ہے اور ہم نے اس منصوبے کا ذکر بھی کرلیا جس کے ذریعے ہم انفرادی نہیں لیکن اجتماعی طور پر اس پر بڑی حد تک قابو پا سکتے ہیں لیکن قسمت کی کچھ اس علاوہ کچھ دوسری زیادہ پیچیدہ قسمیں بھی ہیں جن کو سمجھنا اور قابو پانا دونوں ہی بہت مشکل ہیں۔ یہ تصویر ابھی نامکمل ہے۔

قسمت کی زیادہ پیچیدہ شکل ہے وہ جو ایک جیسے حالات میں پیدا ہونے والوں کے درمیان بھی فرق ڈال دیتی ہے۔ یہ وہ قسمت ہے  جو ہمارے استعاراتی مکان کی ایک ہی منزل کے مکینوں کے بہتر یا کمتر کمروں میں جانے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے اور کبھی کبھی کسی فرد کو ایک منزل سے دوسری منزل پر بھی پہنچا دیتی ہے۔  آئیے اسے ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

فرض کرلیں کہ ہمارے پاس دو طالب علم ہیں جن کے ایف ایس سی اور میٹرک میں ایک جتنے مارکس ہیں۔ دونوں میں ایک جتنی صلاحیت ہے اور دونوں نے بالکل ایک جتنی محنت کی ہے۔ دونوں نے انٹری ٹیسٹ میں بھی تمام سوالات کے بالکل ایک جیسے جوابات دیے ہیں (یعنی جتنے ایک کے صحیح ہیں اتنے ہی دوسرے کے اور جتنے دوسرے کے غلط ہیں اتنے ہی پہلے کے) سوائے ایک سوال کے۔ اس سوال کے جواب دونوں کو نہیں معلوم اور دونوں تکا لگاتے ہیں۔ پہلے کا صحیح لگتا ہے اور دوسرے کا غلط۔ جب رزلٹس آتے ہیں۔ تو س ایک سوال کے جواب صحیح ہونے کی وجہ سے چند پوائنٹس کے فرق سے پہلے کا بی ڈی ایس میں ایڈمیشن ہوجاتا ہے اور دوسرے کا نہیں۔ یہ دوسرا زوالوجی میں بی ایس کرتا ہے اور کالج میں لیکچرر لگ جاتا ہے جبکہ پہلا ڈینٹیسٹ بن جاتا ہے، پھر اپنا کلینک بناتا ہے، پھر اپنا ہسپتال اور ایک دن وہ دوسری منزل سے نکل کر تیسری منزل میں پہنچ جاتا ہے۔ دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق آجاتا ہے۔ محض ایک تکے کی وجہ سے!

یہ ظاہر ہے ایک فرضی مثال ہے اور ممکن ہے کہ بعض لوگ کہیں یہ ایک غیر حقیقی مثال ہے۔ عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ درست بھی ہے کیونکہ عملاً قسمت کا کردار ایک سوال پر تکے صحیح ہونے سے کہیں زیادہ ہے۔ اب پیپرز کا ایک بڑا حصہ معروضی سوالات پر مشتمل ہوتا ہے جہاں کئی تکوں کے صحیح یا غلط سے کئی نمبروں کا فرق پڑتا ہے۔ پھر موضوعی سوالات میں آپ کے نمبر آتے ہیں اس کا انحصار اس پر بھی ہوتا ہے کہ آپ کا پیپر جانچے جانے کیلئے کس ممتحن کے پاس گیا ہے۔ کچھ ممتحن عادتاً زیادہ نمبر دیتے ہیں اور کچھ کم۔ پھر آپ کو کتنے نمبر ملیں گے اس کا انحصار اس پر بھی ہے کہ آپ سے پہلے جو پیپر ممتحن کے پاس آیا وہ کیسا تھا۔ اگر وہ برا پیپر تھا تو آپ کے چند نمبرز بڑھ جانے کا امکان ہے اور اچھا تھا تو کم نمبرز کم ہوجانے کا۔ یہ ماننا بہت مشکل ہے آپ کو ملنے نمبرز آپ کی محنت یا ذہانت کا بالکل حقیقی اشاریہ ہیں۔ رینڈم عوامل کے تحت آپ کے نمبروں میں کم سے کم بھی 5 سے 10 فیصد کی اونچ نیچ ہوسکتی ہے۔ اگر پانچ سے دس فیصد نہ بھی ہو صرف ایک یا  پھر اعشاریہ دس فیصد اونچ نیچ بھی ہو تو بھی فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے۔ یہ اس حد تک فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہے کہ دو لوگوں کی آمدنی میں سینکڑوں یا بعض اوقات ہزاروں گنا کا فرق بھی ڈال سکتی ہے۔ اتنا بڑا فرق کیسے پیدا ہوتا ہے اسے ایک اور مثال سے سمجھیے (دراصل یہ مثال دیتے دیتے اب راقم تھک ہی چکا ہے لیکن چلیں ایک دفعہ پھر سہی)۔

دو محققین نے اپنی تحقیق کے دورا ن ایک ویب سائٹ بنائی اور اس پر کچھ نئےگلوکاروں کے گانے اپ لوڈ کیے ۔ جب کوئی اس ویب سائٹ کو وزٹ کرتا تو اسے ویب سائٹ کی کئی حصوں میں سے کسی ایک حصے میں بھیج دیا جاتا۔ ہر حصے میں وہی گانےرکھے گئے جو باقی سب حصوں میں رکھے گئے تھے لیکن ایک حصے میں جانے والوں کو یہ معلوم نہیں تھا کہ دوسرے حصوں میں کیا ہورہا ہے۔ اپنے حصے میں لوگوں سے کہا گیا کہ وہ بتائیں کہ کونسان گانا کتنا اچھا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ دیکھا جائے کہ ایک حصے میں لوگوں نے جو گانے پسند کیے کیا وہی گانے دوسرے حصوں میں بھی اتنے ہی پسند کیے گیے؟ اگر ایسا ہوتا تو کہا جاتا کہ کوئی گانا کتنا پسند کیا جاتا ہے اس کا انحصار اس کی کوالٹی پر ہے۔لیکن معلوم یہ ہوا کہ اگرچہ تمام حصوں میں کم و بیش ایک جیسی عمریں ، تعلیم اور بیک گراؤنڈ رکھنے والے لوگوں نے گانے سنے لیکن ہر حصے میں الگ الگ گانے پسند کیے گئے ۔ گویا کہ گانے کی کامیابی کا تعلق اسکی کوالٹی سے نہیں بلکہ یہ بالکل رینڈم تھا۔

ایک اور دلچسپ بات یہ معلوم ہوئی کہ جس گانے کو شروع میں لوگوں نے پسند کر لیا آگے آنے والوں کی طرف سےاس کے پسند کیے جانے کے امکانات بڑھ گئے۔

محض اتفاق یا خوش قسمتی سے پہلے شخص کی طرف سے گانا پسند کرلیے جانے کی اہمیت صرف اتنی نہیں ہے کہ اسے ایک ووٹ مل گیا۔ بلکہ یہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ایسی اتفاقی برتری ہے جو مستقبل میں مزید تیز رفتاری سے بڑھتی چلی جائے گی۔ آسانی کیلئے یوں سمجھیں کہ ویب سائٹ پر صرف پانچ گانے ہیں۔ پہلے ووٹر نے الف گانے کو پسند کرلیا۔ اس کے بعد فرض کرلیں دو وٹرز اکھٹے ویب سائٹ پر آگئے۔ وہ دیکھیں گے کہ الف گانے کو ایک ووٹ مل چکا ہے تو ان کے بھی اسی گانے کو ووٹ دینے کے امکانات بڑھ جائیں گے (انسانوں میں بھیڑ چال کا رویہ ایک معلوم حقیقت ہے)۔ اب فرض کریں کہ ان دو میں سے ایک الف کو ووٹ دیتا ہے اور ایک جیم کو۔ اب جب اگلے ووٹر آئیں گے تو انہیں نظر آئے گا کہ الف کو دو لوگوں نے پسند کیا ہے تو ان کے الف کو ہی ووٹ دینے کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ فرض کریں کے بیس ووٹ پڑنے کے بعد الف کو بارہ ووٹ مل چکے ہیں اور باقیوں کو ایک، دو یا چار ووٹ پڑے ہیں۔ اس کے بعد والے ووٹر جب دیکھیں گے کہ الف کو باقیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ووٹ پڑے ہیں تو ان کے بھی اسی کو ووٹ دینے کے امکانات اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اس طرح سے ہر نیا ووٹ نہ صرف الف گانے کی برتری بلکہ اس کو مزید ووٹ ملنے کے امکان کو بھی بڑھا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ جوں جوں الف گانے کو ووٹ ملنے کا امکان بڑھ رہا ہے توں توں باقیوں کو ووٹ ملنے کا امکان کم بھی ہورہا ہے۔ اسے میتھیو ایفیکٹ کہتے ہیں (اس کی وجہ تسمیہ انجیلِ متیٰ کا یہ جملہ ہے: جس کے پاس ہے اسے اور دیا جائے گا اور وہ خوشحال ہوگا۔ لیکن جس کے پاس نہیں ہے اس سے وہ بھی چھین لیا جائے گا جو اس کے پاس ہے۔)
اس مثال کے بیان کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ابتدا میں کسی اتفاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بہت تھوڑا سا فرق آگے چل کر بہت بڑے فرق میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اتفاقی برتری کا سائز برف کے لڑھکتے ہوئے گولے کی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے۔ تمام غیر معمولی کامیابیاں عموماً اسی طرح سے پیدا ہوتی ہیں۔

کامیابی پر قسمت غیر متوقع واقعات کے ظہور کے ذریعے بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
ضروری نہیں کہ کامیابی ہمیشہ غیر معمولی ہی ہو یا دو لوگوں کے درمیان فرق بہت بڑا ہی ہو۔ لوگوں کی کامیابیوں میں کم بڑے فرق بھی عموماً اتفاقات سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔

کامیابی پر قسمت غیر متوقع واقعات کے ظہور کے ذریعے بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کی ایک بڑی مثال خود بل گیٹس بھی ہے۔ بل گیٹس کو غیر معمولی کامیابی آئی بی ایم کے بظاہر اس وقت اچھے نظر آنے والے فیصلے کی وجہ سے ملی۔ بل گیٹس سے جب آئی بی ایم نے معاہدہ کیا تو آئی بی ایم کے ایگزیکٹوز توقع کررہے تھے کہ پرسنل کمپیوٹرز زیادہ نہیں بکیں گے لہذا انہوں نے بل گیٹس کو سافٹ ویئر کیلئے کوئی بڑی رقم ایک ساتھ دینے کی بجائے رائلٹیز دینے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں پرسنل کمپیوٹرز کی بکری میں جو ہوش ربا اضافہ ہوا اس نے بل گیٹس کو غیر معمولی طور پر امیر بنا دیا۔ بل گیٹس، سٹیوجابز یا دوسرے کامیاب لوگوں کی زندگی کا بغور مطالعہ کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے یہ غیر معمولی کامیابی چھوٹے چھوٹے اتفاقات کے نتیجے میں ہی پیدا ہوئی۔

ضروری نہیں کہ کامیابی ہمیشہ غیر معمولی ہی ہو یا دو لوگوں کے درمیان فرق بہت بڑا ہی ہو۔ لوگوں کی کامیابیوں میں کم بڑے فرق بھی عموماً اتفاقات سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور فرض کریں کہ دو لوگ ایک بڑی کمپنی میں انٹرویو دیتے ہیں۔ یہ بات اب پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ انٹرویو کسی کی قابلیت جانچنے کا ایک انتہائی ناقص طریقہ ہے اور اس میں کامیابی یا ناکامی محض ایک اتفاق ہے۔ ایسا کیسے اور کیوں ہے یہ الگ سے ایک دلچسپ اور طویل موضوع ہے جس کے بیان کا یہ مقام نہیں ہے۔ مختصراً یہ سمجھیے کہ انٹرویو کرنے والے  بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور ان ذہنی تعصبات کا شکار ہوجاتے ہیں جن کے تمام انسان ہوتے ہیں۔ مثلا وہ کسی ایک بات کے اچھا لگنے پر آدمی کو پاس کردیتے ہیں یا فرسٹ امپریشن کی بنیاد پر  وغیرہ وغییر۔ ان میں سے ایک آدمی اس کمپنی میں رکھ لیا جاتا ہے اور دوسرا نہیں رکھا جاتا اور جا کر نسبتا چھوٹی کمپنی میں ملازمت اختیار کرلیتا ہے۔ پہلا آدمی اس کمپنی میں چلتے چلتے ایک بڑے عہدے پر پہنچ جاتا ہے، اس کی تنخواہ زیادہ ہے اور گاڑی بھی بڑی۔ دوسرا آدمی بھی چھوٹی کمپنی میں بڑے عہدے پر پہنچتا ہے لیکن اس  کی تنخواہ پہلے آدمی کے مقابلے میں کم اور گاڑی بھی چھوٹی ہے۔ فرق کہاں سے پڑا؟ انٹرویو لینے والوں کے اتفاقی فیصلے کی وجہ سے۔

یہ بھی دیکھئے: کامیابی میں پیشن (Passion) کا کتنا کردار ہے؟

 

یہاں اب یہ بات بھی بہت وضاحت سے کہنی ضروری ہے کہ پچھلی تمام بحث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قسمت ہی سب کچھ ہے اور محنت اور منصوبہ بندی کچھ بھی نہیں۔ جو آدمی انٹرویو میں اتفاقاً پاس ہوا وہ تبھی پاس ہوا جب وہ انٹرویو دینے پہنچا۔ اگر وہ انٹرویو دینے پہنچتا ہی نہ تو وہ منتخب نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی طرح بل گیٹس سافٹ ویئر بنانا جانتا تھا تبھی آئی بی ایم نے اس سے رابطہ کیا۔ محنت اور قابلیت ضروری ہیں۔ بہت ضروری ہیں۔ راقم صرف یہ کہ رہا ہے کہ محنت، منصوبہ بندی اور قابلیت وغیرہ ضروری ہیں لیکن کافی نہیں۔  یہ تسلیم کرلینے کے کئی خوشگوار نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ مثلاً موٹیویشنل اسپیکرز کی تقریریں سن کر اپنی ناکامی پر فرسٹریٹ ہونے یا کامیابی پر پھول کر کپا ہوجانے کی بجائے یہ تصور ‘ناکام’ لوگوں کو حوصلہ دیتا ہے ٹھیک ہے میں نے کوشش کی پھر کروں گا لیکن اگر نہیں کامیاب ہوا تو کوئی بات نہیں اور کامیاب لوگوں کو گھمنڈی بنانے کی بجائے ایک عجز کے احساس سے دوچار کرتا ہے اور اپنے سے کم کامیاب لوگوں کے سے ہمدردی اور ان کی مدد کرنے پر اکساتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ تصور ہمیں لوگوں کا قد ان کی ‘کامیابی’ کے پیمانے پر ماپنے کی بجائے دوسرے انسانی اوصاف کی بنیاد پر طے کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

پہلی قسم کی خوش قسمتی اور بدقسمتی کے برعکس جس کی وجوہات واضح ہیں اس دوسری قسم کی قسمت پر قابو پانا خاصا مشکل ہے۔ تاہم یہ دوسری قسم کی قسمت پہلی قسم کی قسمت کی طرح نامنصفانہ نہیں ہے کیونکہ یہ منظم طور پر کچھ گروہوں کو نوازتی اور کچھ کو محروم نہیں کرتی بلکہ کسی کو بھی نواز سکتی ہے اور کسی کو بھی محروم کرسکتی ہے۔

یہ بات شاید عجیب معلوم ہو لیکن معاشرے کو زیادہ منصفانہ بنانے کا بہتر طریقہ شاید یہی ہے کہ پہلی قسم کی قسمت کو کردار کم سے کم کرنے اور دوسری قسم کی قسمت کا کردار زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ یعنی:

  1. نچلی سے بالائی منزلوں پر جانے سے روکنے والی رکاوٹیں مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
  2. بالائی سے نچلی منزلوں کی طرف پھسلنے سے روکنے والی رکاوٹیں بھی مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
  3. ہمیں قابلیت یا ٹیلنٹ کو نوازنے والا کوئی نظام بنانے کی بجائے ایسا نظام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں لوگ زیادہ سے زیادہ رینڈم نیس کے رحم و کرم پر ہوں۔

پہلے دو نکات پر تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو لیکن تیسرا نکتہ کچھ وضاحت چاہتا ہے کیونکہ بہت سے لوگوں کیلئے اسے ہضم کرنا مشکل ہوگا۔

ہمارا انصاف کا تصور بالعموم یہی ہے کہ ‘میرٹ کی حکومت’ ہو یعنی ٹیلنٹ اور محنت کو نوازا جائے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ٹیلنٹ خود ایک خوش قسمتی نہیں ہے؟ یعنی اگر میں بہتر ذہنی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوا ہوں یا میرے بچپن میں (جب میں ابھی خود کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوا تھا) میرے والدین اور اساتذہ کی کوششوں سے میری ذہنی صلاحتیں بڑھ گئی ہیں تو اس میں میرا کیا کمال ہے کہ مجھے نوازا جائے؟ کیوں نہ ہمارے نامکمل انصاف کے بجائے قدرت کو اس کا مکمل انصاف کرنے دیا جائے کہ وہ رینڈملی کسی کو بھی نواز دے؟ اور چونکہ ہم نکتہ نمبر دو کے مطابق اوپر سے نیچے آنے سے روکنے والی رکاوٹیں بھی ہٹا چکے ہوں گے تو جو قدرت اسے رینڈملی اوپر لے کر گئی وہ کل کو اسے نیچے بھی لاپٹکے گی اور کسی اور کو اوپر لے جائے گی۔ اس کے ممکنہ طور پر معاشرے کیلئے بھی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

اور رہے ہمارے موٹیویشنل اسپیکرز تو اول تو ان کی ضرورت ہی نہیں لیکن اگر یہ ضروری ہی ہے کہ لوگ کو محنت پر ابھارنے کیلئے ان سے تقریریں کروائی ہی جائیں تو بہت بہتر ہوگا کہ ان کے ‘اقوال زریں’ کے ساتھ ڈسکلیمرز اور وارننگز بھی نتھی کی جائیں۔ مثلاً ‘محنت سے آپ بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ محنت سے آپ لازما کامیاب ہوں گے’ یا ‘محنت سے آپ بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ معاشرتی اور معاشی ناہمواریوں کے باعث ہر کسی کیلئے کامیاب ہونا ممکن نہیں۔ ان لوگوں کو حقیر مت سمجھیں’۔

اور اب آخر میں کامیابی اور قسمت پر ہم سب کی محبوب و مرغوب فیس بک کے بانی و روحِ رواں مارک زکربرگ کے خیالات کی ایک جھلک بھی ملاحظہ فرمائیے:

“دیکھیے میں بہت سے کارجووں کو جانتا ہوں۔ ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس وجہ سے کاروبار شروع نہ کیا ہو کہ اسے ڈر تھا کہ وہ مناسب پیسے نہیں کماسکے گا۔ لیکن میں ایسے بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں جنہیں اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کی کوشش کرنے کا موقع ہی نہیں ملا کیونکہ ان کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جو ناکام ہوجانے کی صورت میں انہیں سہارا دے سکے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہم کامیاب صرف اچھے آئیڈیاز اور محنت کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اس کیلئے خوش قسمتی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مجھے بھی لڑکپن میں کوڈنگ سیکھنے کے بجائے اپنے خاندان کی کفالت کرنی پڑرہی ہوتی، اگر مجھے یہ تسلی نہ ہوتی کہ فیس بک نہ بھی چلی تو میں کچھ اور کرلوں گا تو میں بھی آج یہاں کھڑا نہ ہوتا۔ اگر دیانت داری سے بات کریں تو ہم سب کو ہی معلوم ہے کہ زندگی میں یہاں تک پہنچنے تک خوش قسمتی نے ہماری کتنی مدد کی ہے”۔

About Author

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: