جاگتی ہوئی جنتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر فرحان کامرانی

1
  • 60
    Shares

مشہور بھارتی اداکار نانا پاٹیکر کی بیس بائیس سال پرانی فلم ’’کرانتی ویر‘‘ کا آخری سین ہے جس میں سر عام پھانسی پانے سے قبل نانا اپنے مخصوص انداز میں ایک جذباتی تقریر کرتا ہیں۔ یہ تقریر ہوتے ہی بس جیسے جنتا جاگ اٹھتی ہے اور انقلاب ہی برپا ہو جاتا ہے۔ کسی بھی جذباتی تقریر کا ایسا تیر بہدف اثر صرف ایک ہی فلم میں نہیں دکھایا گیا۔ اور بھی کئی بھارتی فلموں میں عوام کی بیداری بس ایک تقریر مار ثابت کی گئی ہے۔ خیر ’’کرانتی ویر‘‘ والے دور میں کمپیوٹر پنگھوڑے میں تھا اور سماجی رابطے اور وڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹس کا کوئی تصور بھی نہ تھا، اس لئے عوام کو جگانے والی تقاریر کے لیے کسی کو سرعام پھانسی دلوانی پڑتی تھی۔ مگر کچھ سالوں بعد جب ہندوستان میں میڈیا چینلز کی ریل پیل ہوئی تو عوام کو جگانے اور سلانے میں میڈیا کا کردار فلموں میں ظاہر ہونے لگا۔

انسان میں تبدیلی کا اتنا آسان راستہ فلموں کی کہانیوں کو تو سوٹ کرتا ہے مگر حقیقی زندگی میں یہ بات ایک بھیانک خام خیالی کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کو بدلنے، اس کو اپنے پیغام پر قائل کرنے، اس کو جگانے (یا سلانے) سے مشکل کوئی کام نہیں۔

آپ میڈیا کے یہ جادوئی اثرات نانا پاٹیکر کی ہی ایک اور فلم ’’وجود‘‘ اور پھر شاہ رخ خان کی ’’پھر بھی دل ہے ہندوستانی‘‘ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ میڈیا کا ایسا تصور ہے کہ جیسے میڈیا پر ظاہر ہونے والی ہر ہر بات لوگوں پر بالکل کسی بے ہوشی کے انجکشن کی طرح اثر کرتی ہے۔ لوگ جیسے ہی ٹی وی پرکچھ دیکھتے ہیں تو اُس پر ایمان لے آتے ہیں۔ پھر انیل کپور کی ’’نائیک‘‘ فلم آئی ہے جس میں میڈیا کا کردار اس قدر بڑھایا گیا ہے کہ ایک انٹرویو کرنے والے ٹی وی اینکر کو ہی ریاست کے سربراہ بنوا دیا گیا شائد اس لئے کہ وہ عوام کو جگاتا ہے۔ مگر بعد کی فلموں میں یہ جاگنے جگانے کا عمل ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کے اپنے ہی ہاتھوں میں آ گیا۔

’’بجرنگی بھائی جان‘‘ میں چاند نواب صاحب ایک وڈیو یوٹیوب پر ڈالتے ہیں اور پاکستانی عوام بجرنگی بھائی جان (سلمان خان) کی محبت میں ڈوب جاتی ہے۔ اسی طرح عامر خان کی ’’سیکرٹ سپر اسٹار‘‘ میں سپر اسٹار بنانے کا کردار بھی یوٹیوب (Youtube) کو ہی مل جاتا ہے۔ ویسے حقیقت میں یوٹیوب اور دیگر ویب سائٹس نے بہت سے ’’سپر اسٹارز‘‘ پیدا کئے ہیں جیسے طاہر شاہ یا جسٹن بیبر۔ مگر ہماری بالی وڈ کی فلموں پر یقین کیا جائے تو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بھی سماجی پیغام، چاہے وہ پھانسی گھاٹ سے دیا گیا ہو یا پھر یو ٹیوب کی وڈیو میں، گولی کی طرح پراثر ہے۔ کہنے والے کے لب ہلے اور لوگ فوراً ’’حاضر حاضر‘‘ کے نعرے لگاتے دوڑ پڑے۔ مگر کیاعوام کی جادوئی بیداری کسی شاعر کا خواب ہے یا واقعی ایسا ممکن ہے؟

ذرائع ابلاغ کی غیر معمولی طاقت کے چرچے توبہت ہیں لیکن درحقیقت اِن کی طاقت بالکل بھی غیر معمولی نہیں ہے۔ کوئی بھی پیغام کبھی بھی لوگ کسی نفسیاتی خالی پن کی حالت میں موصول نہیں کرتے کہ ادھر پیغام موصول ہوا اور فوراً ہی لوگ زومبیز(zombies) کے مجمعے کی طرح اس کو پورا کرنے نکل پڑے۔ لوگوں کے خیالات، نظریات، عقائد، تصورات، الغرض کچھ بھی یوں منٹوں، سیکنڈوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا نہ ہی تبدیل ہوا ہے۔ آپ کوئی بھی پیغام، کسی بھی ذریعہ ابلاغ سے چھوڑ کر دیکھئے، آپ کو اس پر ردعمل دینے والے لوگ کم ملیں گے۔ جو ردعمل دیں گے ان میں سے بھی بہت بڑا طبقہ اس پیغام کو رد ہی کرے گا، اسے شک کی نگاہ سے ہی دیکھے گا اور چند ہی لوگ آپ کے ہم خیال ہوں گے۔ جنرل ضیاء صاحب کے دور میں تو صرف ایک ہی ٹی وی چینل تھا جس پر ہر ہر لمحہ حب الوطنی اور اسلامی اخلاقیات لوگوں کو گھول گھول کر پلائی جاتی تھی مگر حب الوطنی کا یہ عالم تھا کہ ملک میں ہر طرف بڑی ہی خام اور بدصورت قسم کی لسانیت پر مبنی جماعتیں اور نظریات عوام میںپروان چڑھ رہے تھے اور ملک میں لسانی اور قومیت پر مبنی تنائو اپنے عروج پر تھا۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کامیابی: قسمت یا محنت؟ —– عاطف حسین

 

پھر جنرل مشرف صاحب کے عہد میں سارے ہی ذرائع بلاغ کو آزاد خیالی اور روشن خیالی کی ترویج کا ٹاسک دے دیا گیا مگر اس دور میں اس کے بالکل ہی متضاد نظریات پروان چڑھے۔ سگریٹ، پان، بیڑی، گٹکا، چھالیا وغیرہ کے خلاف ہر وقت، ہر فلم اور ڈرامے میں اشتہار آتے ہیں۔ سگریٹ کے ڈبوں پر کینسر زدہ جسم کی تصاویر بنی ہوتی ہیں مگر پھر بھی نہ کوئی ان چیزوں سے ان پیغامات کی وجہ سے رکتا ہے نہ کوئی ان چیزوں کو ان پیغامات کی وجہ سے ترک کرتا ہے۔ انسان کی شخصیت اور اس کے کردار کی تعمیر میں سب سے بڑا کردار اس کے والدین کا ہوتا ہے اور جب انسان اُن کے تمام پیغامات، ان کی تمام ہدایات پر من و من عمل نہیں کرتا، ان سے نہیں جاگتا تو پھر یہ یوٹیوب کیا ہے اور یہ پھانسی گھاٹ کی تقریر کیا ہے؟ انسان میں تبدیلی کا اتنا آسان راستہ فلموں کی کہانیوں کو تو سوٹ کرتا ہے مگر حقیقی زندگی میں یہ بات ایک بھیانک خام خیالی کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کو بدلنے، اس کو اپنے پیغام پر قائل کرنے، اس کو جگانے (یا سلانے) سے مشکل کوئی کام نہیں۔ پھر چاہے یو ٹیوب کی کوئی وڈیو ہو یا پھانسی گھاٹ کی کوئی تقریر انسانوں کی جمیع اکثریت اس کو صرف سنتی ہے، پیٹھ گھماتی ہے اور چل دیتی ہے۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Nicely written… and its true, you can never bring a change if there is no willingness involved… besides this… recently the people of peshawar are suffering from stress, anxiety and depression due to the Rapid Bus Transit project.. And PTI govt is talking about change…

    How you can bring a change when you mentally torture your people …

    What i think is to impose a strong Dictatorship in Pakistan and put all these people behind bars who have drank the blood of pakistani people since 70 years…

Leave A Reply

%d bloggers like this: