دیوسائی کے رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔ طاہر ملک

0
  • 30
    Shares

عارف امین اور غلام رسول کی تصویری کتاب دیوسائی کے رنگ دیکھنے اور پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ ہم ان علاقوں کو اتنی کم توجہ کیوں دیتے چلے آئے ہیں۔ لفظ دیوسائی دو الفاظ کا مرکب ہے دیو اور سائی یعنی سایہ۔

آج سے سو سال قبل اس علاقے میں کم ہی انسانوں کا گزر ہوا کرتا تھا چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دیوسائی کا شمار دنیا کا تبت کے بعد سطح مرتفع پر بلند ترین علاقوں میں ہوتا ہے دیوسائی کا کل رقبہ تین ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔

دیوسائی جنت نظیر ہے اس کی پراسرار خاموشی صدیوں پر محیط ہے۔ دیوسائی اسکردو سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اس کی سرحدیں قراقرم اور کوہ ہمالیہ سے ملتی ہیں۔ دیوسائی سال کے آٹھ مہینے برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ جون کے وسط میں راستے کھلتے ہیں۔ بادل اور دھوپ موسم سرما میں آنکھ مچولی کرتے ہیں بعض اوقات بادل زمین کے اتنے قریب دکھائی دیتے ہیں کہ آپ بادلوں کو چھو سکتے ہیں۔

دیوسائی میں پھولوں کی سینکڑوں اقسام ہیں۔ پھولوں کے ماہرین کے مطابق جن میں سے ابھی تک صرف ڈھائی سو دریافت ہوئی ہیں۔ ذرائع آمدو رفت کی ترقی اور سوشل میڈیا کی رسائی کی وجہ سے دیوسائی میں آنے والے ٹورسٹ حضرات کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ صرف گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے بارہ لاکھ لوگ ہنزہ اور شمالی علاقہ جات سیر و سیاحت کی غرض سے گئے۔

سڑکوں کا بہتر ہونا اور سوشل میڈیا نے ان دور افتادہ علاقوں کی عوام میں جہاں آگاہی پیدا کی وہاں دوسرے مسائل نے بھی جنم لیا۔

عارف امین اور غلام رسول نے اپنی کتاب میں اس خوبصورت وادی، پہاڑی سلسلے، اس کے پھول، رنگ اور بدلتے موسموں کی عالمی معیار کی تصویر کشی کی۔

عارف امین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کے اس علاقے میں جانے سے وہاں آلودگی پھیل رہی۔ آب وہوا اور جنگلی حیات کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

مثال کے طور پر براؤن ریچھ کی نسل دنیا میں نایاب شمار کی جاتی ہے اور یہ نسل دیوسائی میں بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اکثر لوگ اس کے شکار کی غرض سے جاتے ہیں۔ اسی طرح سیاحوں کے پھیلائے ہوئے کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں۔ اکثر لوگ چیونگ گم چبانے کے بعد جب پھینکتے ہیں تو جنگلی پرندے اسے کھانے کی کوشش میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی حکومت کو اس ضمن میں آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ ایسے قوانین کی بھی ضرورت ہے جس سے ماحول اور آب وہوا آلودہ نہ ہو سکے۔ جی بی حکومت ہو یا وفاقی حکومت دراصل ماحولیات ہماری ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔

ایسے میں غیر سرکاری تنظیموں کا اہم کردار ہے جیسا کہ ھمالین وائلڈ لائف اور ایڈونچر فاؤنڈیشن سے منسلک ڈاکٹر انیس الرحمٰن اور بریگیڈیئرر اکرم اچھا کام کررہے ہیں۔

کتاب دیوسائی کے رنگ اینگرو فوڈز کے تعاون سے شائع ہوئی۔ اس سے قبل یہ پاکستان کے پرندوں پر بھی کتاب شائع کر چکے ہیں۔ اینگرو فوڈز مبارکباد کا مستحق ہے کہ پاکستان کے مختلف ثقافتی رنگ کو کتاب کے ذریعے اجاگر کر کے پاکستان کا روشن چہرہ دنیا میں متعارف کروا رہا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: