ارشد چہال ایک منفرد ناول نگار ۔۔۔۔۔۔۔۔ نعیم الرحمٰن

0
  • 28
    Shares

ارشد چہال ایک منفرد ناول نگار ہیں۔ انہوں نے اردو میں دو ناول ’’دھندلے کوس‘‘ اور ’’بیاڑ گلی‘‘ ایسے موضوعات پر تحریر کئے ہیں۔ جو ان کے منفرد اور غیر معمولی ناول نگار ہونے کا ثبوت ہیں۔ ناولوں میں دیئے گئے تعارف کے مطابق ارشد چہال کا تعلق دریائے جہلم کے کنارے دور تک پھیلے ہوئے ان دیہاتوں سے ہے، جنہیں میاں محمد بخش کی قربت کا شرف حاصل ہے۔ ارشد چہال نے قومی اور اپنی علاقائی دونوں زبانوں میں ماسٹرز کیا ہے اور پی ٹی وی کے شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا پہلا ناول ’’چیڑھا دی چھاں‘‘ پنجابی زبان میں تھا۔ جو 1990ء میں شائع ہوا۔ یہ ناول کشمیر کے ثقافتی پس منظر اور برہمنوں کی سازشوں کے تناظر میں لکھا گیا تھا۔ اس ناول پر ارشد چہال کو اکادمی ادبیات کی جانب سے ’’وارث شاہ ایوارڈ اور ’’مسعود کھدر پوش ایوارڈ‘‘ سمیت کئی اعزاز حاصل ہوئے۔

ارشد چہال نے اس ناول کو ڈرامائی تشکیل دیکر پی ٹی وی اسلام آباد مرکز سے چودہ اقساط کے ڈرامے کی صورت میں پیش کیا۔ اور پی ٹی وی کے بہترین ریجنل ڈرامہ نگار کا ایوارڈ حاصل کیا۔ ان کا پہلا اردو ناول ’’دھندلے کوس‘‘ انیس سو اٹھانوے میں شائع ہوا۔ دور حاضر میں جب دنیا کے بیشتر ناول نگار جنس نگاری یا عشق و محبت کے فرسودہ موضوعات میں الجھے ہوئے ہیں۔ ارشد چہال نے انسانی ثقافت کو اپنے ناول کا موضوع بنایا اور عام زندگی سے تعلق رکھنے والے کرداروں کو اپنی تخلیق کے ذریعے زندہ جاوید بنا دیا۔

خان! تمہاری دنیا میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہاں ہر چیز دولت سے ملتی ہے۔ یہاں سب کچھ محنت سے ملتا ہے۔ یہاں ہم سے کوئی ہماری محنت لوٹنے نہیں آتا۔ کوئی مذہب کے نام پر ورغلانے نہیں آتا۔ لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں۔ ہم بھی اتنے پاکستانی ہیں جتنے تم ہو۔ لیکن ہمیں پاکستان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ ہم نے اشوک اور اکبر سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے سکھوں اور انگریزوں سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا

دھندلے کوس میں ارشد چہال نے لطیف انسانی تعلقات میں حائل طبقاتی جبر کو اجاگر کیا ہے اور پاکستان کی علاقائی ثقافت کے تناظر میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے رویوں کا نفسیاتی ردعمل پیش کیا ہے۔ ناول کا مرکزی کردار شہباز خان ایک جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ جسے زندگی کی ہر آسائش میسر ہے۔ لیکن ایک نادار صحرائی لڑکی اسے انوکھے اضطراب سے دوچار کر دیتی ہے۔ شہبازخان میں اس کی حالت زار دیکھ کر نیا جوش و خروش بھر جاتا ہے اور اسے اپنی زندگی با معنی نظر آنے لگتی ہے۔ ناول کی کہانی کئی جہتوں پر مشتمل ہے اور ہر جہت زندگی کا نیا گوشہ پیش کرتی ہے۔ ناول کے مرکزی کردار دو ہیں۔ شہباز خان اور عروبہ۔ جبکہ دیگر تمام کردار پاکستان خصوصاً پنجاب کے دریاؤں کے کنارے اور صحرائی علاقوں میں بسنے والے طبقوں تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دھندلے کوس کا ایک اور اہم کردار سانولی ہے۔ جو ناول کے صرف چند صفحات تک محدود ہے۔ لیکن پورا ناول اسی کے گرد گھومتے ہوئے اسی پر ختم ہوتا ہے۔ سانولی کی وساطت سے ناول نگار نے تھر کے صحراؤں میں بسنے والوں کی زندگی، انکے دکھوں، مصائب اور تکلیفوں کی اس طرح عکاسی کی ہے کہ صحرائی لوگوں کے دکھ اور مصائب جیتے جاگتے روپ میں قاری کے سامنے آ جاتے ہیں اور حساس قاری کا دل لرز اٹھتا ہے۔ صحرا کی زندگی کا یہ بھیانک روپ شائد اس طرح سے کبھی پیش نہیں کیا گیا۔

ارشد چہال نے پنجابی اور پوٹھو ہاری میں کئی ڈرامہ سیریلز بھی لکھے۔ ان کا پنجابی ڈرامہ ’’باغ‘‘ پی ٹی وی اسلام آباد کے علاوہ پرائم ٹی وی یورپ سے بھی پیش کیا گیا اور ارشدچہال کو اس ڈرامے پر بھی بہترین سیریل رائٹر کا پی ٹی وی ریجنل ایوارڈ دیا گیا۔ پی ٹی وی اسلام آباد سے ان کا پوٹھو ہاری ڈرامہ سیریل ’’پلیار‘‘ بھی نشر ہوا۔ جبکہ پرائیویٹ پروڈکشن کے تحت بیس اقساط پرمبنی پوٹھو ہاری سیریل ’’برف بنیرے‘‘ مری کے ساتھ لندن میں فلمبند کیا گیا۔ ارشد چہال کو پوٹھو ہاری زبان کا اولین ناول ’’کوکن بیر‘‘ لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

ناول ’’دھندلے کوس‘‘ کا آغاز شاہ پور کے خانوں کی سب سے بڑی حویلی راجگی سے ہوتا ہے، ناول اسی حویلی اور اس کے مکینوں کے گرد گھومتا ہے۔ حویلی کے مالک گلبہار خان کا شمار ہندوستان کی تقسیم سے پہلے بڑے جاگیرداروں میں ہوتا تھا۔ لیکن پنجاب کی تقسیم کے بعد اس کی زیادہ تر زمین مشرقی پنجاب میں رہ گئی۔ لیکن دریائے چناب کے کنارے والی جاگیر بھی اس کے وارثوں کیلئے کم نہیں تھی۔ گلبہارخان کے بعد ان کا بڑا بیٹا سرفراز خان اس جاگیر کی دیکھ بھال خود کرتے تھے۔ دلنواز خان اور شہباز خان ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ دلنواز خان قریبی شہر کی شوگر مل کے سرپرست اعلیٰ تھے۔ شہباز خان کے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کاروبار کی کوشش کی جو ناکام ہوئی۔ کاروبار کی مانند اس کی شادی بھی ناکام رہی۔ شہباز خان کی شادی راجگی کی ایک یادگار تقریب تھی۔ اس کی بھابی زہرہ بیگم اپنی چھوٹی بہن کو دلہن بنا کر لائی تھی۔ لیکن شہباز کے مزاج کی انفرادیت زیادہ دیر اس بے لطف رفاقت کو برداشت نہ کر سکی۔ شہباز خان کو شکار کا بہت شوق تھا اور وہ شکار کا اعلیٰ ذوق رکھتا تھا۔ شکار کے سلسلے میں ہی شہباز خان جھیل ملکھ کے قریب ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھا جب اس کے سامنے ایک لڑکی جھیل میں کود گئی۔ انسانی ہمدردی کے تحت شہباز خان نے اسے ڈوبنے سے بچا لیا۔ وہ اسے ریسٹ ہاؤس میں لے آیا۔ لڑکی کی رنگت تانبے کی طرح تھی۔ چوکیدار کرم دین نے بتایا کہ اس لڑکی کو باگڑیوں کا لڑکا صحرا سے اٹھا کر لایا تھا۔ باگڑی اپنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں۔ ان کی مار تو اونٹ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ کرم دین کی بات سن کر شہباز لڑکی کا دکھ سمجھ گیا۔ صبح وہ اٹھا تو لڑکی واپس جا چکی تھی لیکن وہ شہباز خان کے دل میں ہمدردی اور خلش چھوڑ گئی۔

چک شیراں کا گاؤں بابا علی شیر نے آباد کیا تھا۔ صاحبزادہ عمادالدین اپنے اس بزرگ کے بارے میں بتاتے تھے کہ وہ اپنے پیر و مرشد کے حکم سے بخارا سے یہاں تبلیغ کیلئے آئے تھے اور انہوں نے دریائے چناب کے کنارے ڈیرہ لگایا یہی ڈیرہ آگے چل کر چک شیراں کہلایا۔ صاحبزادہ عمادالدین چک شیراں کی بڑی درگاہ کے گدی نشین تھے۔ اور عروبہ انہی کی صاحبزادی تھی۔ سرفراز خان، عمادالدین اور راجگی کے ذریعے جاگیرداری اور پیری مریدی کے نظام کی ناول میں بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ سیاست کے میدان میں جاگیردار اور گدی نشین کا گٹھ جوڑ کیا رنگ لاتا ہے اور کس طرح ملکی سیاست میں مقام حاصل کرتا ہے۔ ان سب کو بڑے دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

باگڑی قبیلہ جھیل ملکھ کے قریب ہی رہتا ہے۔ باگڑیوں کی گزر بسر بھیڑ بکریوں اور اونٹوں پر ہی ہوتی تھی۔ باگڑی پیربخش سانولی کو صحرا سے اٹھا لایا تھا۔ اب سانولی کا پیر بخش کے گھر کے سوا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ یہاں ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔

’’پانی بھرتے ہوئے سانولی نے چوئے کے ٹھہرے ہوئے پانی میں اپنا عکس دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ تارکول کے ڈھیلے پر کسی نے دو بٹن لگا دیئے ہوں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ کیسا چہرہ ہے۔ اس چہرے پر اس نے آج تک تھپڑ ہی پڑتے محسوس کئے تھے۔ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ یہ چہرہ صرف تھپڑ کھانے کیلئے تخلیق کیا گیا ہے۔ جب تپتے صحرا میں اس نے ہوش سنبھالا تو اسے یاد ہے کہ اس کے ابھرے ہوئے گالوں پر دو تھپڑ پڑے تھے۔ ان کے پڑنے کی کوئی وجہ اسے یاد نہیں تھی اور آج بھی اس کے گالوں اور جسم کے نازک حصوں پر اسے تھپڑ اور مکے پڑتے تھے تو وہ ان کے پڑنے کی وجوہات پر غور نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ اسے اپنی زندگی کا ضروری جز سمجھتی تھی۔ جیسے زندہ رہنے کے لئے پانی ضروری تھا، سانس لینا ضروری تھا، اسی طرح تھپڑ کھانا بھی ضروری تھا۔‘‘

اس مختصر اقتباس میں سانولی کی زندگی کا تمام کرب سمٹ آیا ہے اور مصنف کے اعجاز بیان کا کمال ہے کہ اس نے قاری کے سامنے ایک پوری فلم بنا ڈالی ہے جو سانولی کی زندگی بیان کر ڈالٹی ہے۔ شہباز خان، سانولی کو بھول نہیں پاتا، وہ اسے باگڑیوں سے آزاد کرا کے اس کے اپنے قبیلے میں پہنچانا چاہتا ہے۔ وہ اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر حویلی لے آتا ہے۔ شہباز خان کی دھمکی پر پیر بخش راستے سے ہٹ جاتا ہے اور سانولی کو لئے بغیر واپس لوٹ جاتا ہے۔ سرفراز خان کو کسی بھی طرح سانولی کا حویلی میں رہنا قبول نہیں۔ بڑی مشکل سے وہ اسے پرانے ملازم عبدل کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتا ہے اور جب اسے علم ہوت اہے کہ شہبازخان، عبدل کے کوارٹر میں سانولی کو دیکھنے جاتا ہے تو اسے ریل میں بٹھا کر صحرا کی جانب روانہ کر دیا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے قبیلے کے ایک فرد کے ملنے کی وجہ سے سانولی اپنے باپ کوریا کے گھر واپس پہنچ جاتی ہے۔ برسوں بعد لوٹ کر آنے والی سانولی کے ساتھ قبیلے میں کیا گذرتی ہے۔ وہ ایک الگ قصہ ہے۔ جہاں وہ اپنے لوگوں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ وہیں وہ خود بھی حویلی میں گذرے چند دنوں کی یادوں سے نہیں نکل پاتی۔ یہاں صحرا نشینوں کے بود و باش کی ایسی نقشہ کشی کی گئی ہے کہ روح لرز کر رہ جاتی ہے۔

سانولی کا تعلق صحرائی گیڈری قبیلے سے ہے۔ یہ قبیلہ صحرا کی وسعتوں میں ہی رہتا ہے اور اسی صحرا سے اپنا رزق حاصل کرتا ہے۔ کرلے، سانڈے اور گیڈر جیسے حرام جانور ان کی غذا ہیں۔ جنہیں کھانے کا کوئی اور تصور بھی نہیں کر سکتا۔ صحرائی زندگی کس قدر دشوار ہے اور یہ لوگ کس طرح رہتے ہیں اور یہاں سے کہیں اور منتقل کیوں نہیں ہوتے اس کا بیان بھی ناول کا اہم ترین حصہ ہے۔

سرفراز خان چھوٹے بھائی شہباز خان کا رشتہ صاحبزادہ عمادالدین کی بیٹی عروبہ سے کر دیتا ہے اور راجگی کے خانوں اور شاہ پور کی درگاہ کے اشتراک سے شہباز خان الیکشن جیت کر مارشل لا دور کا اسمبلی کا ممبر ہی نہیں وزیر بھی بن جاتا ہے۔ جاگیردار ہونے کے باوجود شہباز خان روشن خیال اور ترقی پسند ہے۔ سانولی سے ملنے کے بعد سے قومی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا اس کی زندگی کا مشن ہے اور وہ ثقافت کو فروغ دینے کے بجائے اس کلچر سے وابستہ افراد کو جدید زندگی کے دھارے میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔ ترقی پسند پارٹی کے نمائندے افراز علی سید سے شہباز خان کی گفتگو اس حوالے سے بیحد اہم ہے۔ جس کے چند اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا۔

’’اگر ہم اسلامی کلچر کے نام پر کھنڈرات کو اپنے کلچر سے الگ کر دیں تو ماضی بعید سے ہمارا رشتہ ٹوٹ جائے گا اور ایک ڈیڑھ ہزار سال پیچھے جا کر ہم رک جائیں گے۔ اور ہمیں اپنی تاریخ و ثقافت اندھیرے میں دکھائی دے گی۔ پھر آپ اسلامی ثقافت کو اس سے الگ کیسے کریں گے۔

اس کو الگ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ مذہبی عقیدت پر ہمارے ماضی کے یہ آثار کسی طرح بھی حاوی نہیں ہو سکتے۔ آپ خود سوچیں پاکستان سے ہر سال لاکھوں لوگ مکہ اور مدینہ جاتے ہیں۔ لیکن ہڑپہ اور موہنجوداڑو کتنے لوگ جاتے ہیں۔ کیا مصر کے لوگ مسلمان نہیں ہیں جو فراعنہ مصر کو اپنے ثقافتی ورثے کے طور پر سنبھالے بیٹھے ہیں۔ علاقائیت کا رنگ اپنی جگہ ہوتا ہے، مذہب کا رنگ اپنی جگہ۔ اگر آپ علاقائیت کے رنگ ختم کریں گے تو آپ کے مذہب کا رنگ بھی پھیکا پڑ جائے گا۔ اس لئے کہ ثقافت انسانی وسائل کے حصول کا ذریعہ ہے۔ آپ جن برتنوں اور ثقافتی نمونوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ وہ کوئی معمولی چیزیں نہیں ہیں۔ بلکہ ہماری ثقافتی زندگی کے ابتدائی دنوں کی یادگاریں ہیں۔ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ان برتنوں اور ان چیزوں کو نظر میں رکھنا ہو گا۔ تا کہ ہم اندازہ کر سکیں کہ ہم نے ہزاروں سال کے ثقافتی سفر میں کتنی ترقی کی ہے۔‘‘

ہمیں اپنی دنیا کی ہوس، مکاری، نفرت اور بیزاری سے متعارف نہ کراؤ۔ ہم باہر سے جتنے کھردرے اور سخت ہو چکے ہیں۔ اندر سے اتنے ہی نرم اور نازک ہیں۔ ہم تمہاری دنیا کی سنگلاخ نفاستوں کوبرداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگرتم نے ہمیں اس صحرا سے نکالا تو ہم مر جائیں گے میری سانولی کو تمہاری دنیا نے پناہ نہیں دی۔ تمہارے سماج نے اسے اٹھا کر پھر صحرا میں پھینک دیا۔ میرے صحرا کا دل بہت بڑا ہے اس نے اسے پھر قبول کر لیا ہے، بس تم ہم سے کوئی سوال نہ پوچھو، اپنی فلم پوری کرو اور خدا کے لئے یہاں سے چلے جاؤ اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو

ایک اور جگہ شہباز خان کہتا ہے کہ سید صاحب انسانی ملکیت کی کوئی حدود مقرر ہونی چاہئیں۔ فرض کیجئے ایک شخص خوشحال ہے، امیر ہے، اسے اپنی آسائشوں کے لئے دولت درکار ہے۔ پھر بھی اس دولت کی کوئی حد تو ہو گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارا تصور ملکیت ہمیشہ لامحدود رہا ہے۔ ذرا پیچھے تاریخ میں جھانک کر دیکھیں تو یہ لامحدودیت کا تصور اور زیادہ واضح ہو جائے گا۔ آپ کو معلوم ہے کہ اکبر کے حرم میں پانچ ہزار عورتیں تھیں۔ جبکہ اس کے امراء نے بھی اپنے تعیش کے لئے ہزاروں عورتیں اپنے گھروں میں ڈال رکھیں تھیں۔ راجہ مان سنگھ کی پندرہ سو بیویاں تھیں جن میں سے پچاس اس کے مرنے پر اس کے ساتھ ستی ہو گئیں تھیں۔ آج بھی ملکیت کے تصور کی کوئی حد نہیں ہے۔ ایک شخص کے پاس اگر پچاس کروڑ روپیہ ہے تو وہ اسے سو کروڑ کرنے کی فکر میں ہے۔ ایک شخص کے پاس پانچ سو مربعے زمین ہے تو وہ اسے ہزار مربعے بنانے کی فکر میں ہے۔ اس طرح تو وسائل چند ہاتھوں میں سمٹ جاتے ہیں اور اجتماعی سطح پر ثقافتی ترقی رک جاتی ہے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ انسانی ملکیت کی حدود مقرر کر دی جائیں، ثقافت اپنے وسائل کے ساتھ خود بخود آگے بڑھنے لگے گی۔ دراصل ہمارے دانشوروں کو، ہماری حکومت کو ان لوگوں سے نہیں ان کے کلچر سے محبت ہے۔ ہم ایک چرخے کو تو ڈرائنگ روم میں سجا سکتے ہیں۔ لیکن کسی چرخہ کاتنے والی کو اپنے گھر کی دہلیز پار کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس لئے چرخے کی نمائش سے ہمارے کلچرل ہونے کا پتہ چلتا ہے جبکہ چرخہ کاتنے والی کی مداخلت سے ہمیں غیر مہذب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ہم ہڑپہ سے برآمد ہونے والے ٹوٹے ہوئے ظروف کو محفوظ کرنے کیلئے حکومت سے لاکھوں روپے کے بل منظور کروا سکتے ہیں۔ لیکن کسی صحرا میں پیاس سے مرتے ہوئے لوگوں کیلئے پانی کا بندوبست نہیں کر سکتے۔ بھولے بسرے زمانوں کے آثار سے اپنے ماضی کا سراغ لگانے کو میں ایک بڑا کارنامہ سمجھتا ہوں۔ صرف اس سے ہم وقت کی پوری تصویر میں اپنے مقام اور اپنی ثقافتی ترقی کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ لوگ کس ثقافت کی بات کر رہے ہیں۔ میں تو ایسی ثقافت کو سرے سے ختم کرنے کے حق میں ہوں جو لوگوں کو انکی بنیادی ضرورتیں بھی مہیا نہ کرسکے۔ دوستو ثقافت انسانی وسائل کو کہتے ہیں مسائل کو نہیں اور مسائل کو ختم کیا جاتا ہے محفوظ نہیں کیا جاتا اور نہ فروغ دیا جاتا ہے۔‘‘

ان نظریات کے ساتھ وزیر بننے والے شہباز خان کو مارشل لاگورنمنٹ میں کون قبول کر سکتا ہے۔ وہ اپنے نظریات پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے وزارت سے مستعفی ہو جاتا ہے۔ بڑا بھائی سرفراز خان جس نے اقتدار سے فائدہ اٹھانے کیلئے شہباز خان کو وزیر بنوایا تھا۔ وہ بھی اس کے طرزِ عمل کو قبول نہیں کرتا۔ وزارت سے مستعفی ہونے کے بعد شہباز خان کوریا، سانولی اور اس کے قبیلے کے مسائل کو پیش کرنے کیلئے دستاویزی فلم بنا کر پیش کرتا ہے۔ عروبہ جو اب اس کی بیوی ہے۔ سانولی کے قبیلے کیلئے شہباز خان کی کوششوں کو منفی معنی پہناتی ہے اور یہی سمجھتی ہے کہ شہباز صرف سانولی کی خاطر یہ سب کر رہا ہے۔

ناول کا اہم ترین حصہ شہباز خان سے صحرا میں رہنے کے حوالے سے گفتگو ہے۔ ’’خان جی صحرا میں گیڈر، بلے اور کرلے ہی تو ملتے ہیں۔ ہم وہ چیزیں کھاتے ہیں جن سے دوسرے نفرت کرتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں صحرا سے ہماری خوراک ملتی رہتی ہے۔ اگر ہم یہ چیزیں نہ کھائیں تو پھر زندہ کیسے رہیں۔ اگر یہ صحرا بھی ہمیں پناہ نہ دیتا تو پھر ہم کہاں جاتے۔ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ صحرا میں زندگی اتنی مشکل اور تکلیف دہ نہ ہوتی، اگر یہاں کچھ پیدا ہوتا، اگر یہاں پانی ہوتا، اگر یہاں کا موسم خوشگوار ہوتا، یہاں کوئی سہولت ہوتی تو پھر یہ جگہ بھی ہمیں پناہ نہ دیتی۔ یہاں بھی تمہاری طرح کا کوئی جاگیردار اپنی جاگیر کو وسعت دینے کی خواہش میں پہنچ چکا ہوتا اور ہمیں غلام بنا کر ہماری گردنوں میں اپنے تعیش کا طوق ڈال چکا ہوتا۔ خان! تمہاری دنیا میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہاں ہر چیز دولت سے ملتی ہے۔ یہاں سب کچھ محنت سے ملتا ہے۔ یہاں ہم سے کوئی ہماری محنت لوٹنے نہیں آتا۔ کوئی مذہب کے نام پر ورغلانے نہیں آتا۔ لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم پاکستانی نہیں ہیں۔ ہم بھی اتنے پاکستانی ہیں جتنے تم ہو۔ لیکن ہمیں پاکستان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ ہم نے اشوک اور اکبر سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے سکھوں اور انگریزوں سے بھی کوئی گلہ نہیں کیا تھا۔ خان جی، آپ ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ ہماری پیاس بہت پرانی ہے۔ ہماری بے گھری صدیوں پر محیط ہے۔ تمہاری یہ چھوٹی سی سوچ، یہ چند گز فلم کا فیتہ، یہ ہماری پیاس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس صحرا نے ہمیں جنم دیا ہے اور صحرا کی گود ہی ہمیں پناہ دے سکتی ہے۔ یہاں پیاس ہے، بھوک ہے، تپش اور گرمی ہے، مگر ہم ان چیزوں کے عادی ہو گئے ہیں۔ ہمیں اپنی دنیا کی ہوس، مکاری، نفرت اور بیزاری سے متعارف نہ کراؤ۔ ہم باہر سے جتنے کھردرے اور سخت ہو چکے ہیں۔ اندر سے اتنے ہی نرم اور نازک ہیں۔ ہم تمہاری دنیا کی سنگلاخ نفاستوں کوبرداشت نہیں کر سکیں گے۔ اگرتم نے ہمیں اس صحرا سے نکالا تو ہم مر جائیں گے میری سانولی کو تمہاری دنیا نے پناہ نہیں دی۔ تمہارے سماج نے اسے اٹھا کر پھر صحرا میں پھینک دیا۔ میرے صحرا کا دل بہت بڑا ہے اس نے اسے پھر قبول کر لیا ہے، بس تم ہم سے کوئی سوال نہ پوچھو، اپنی فلم پوری کرو اور خدا کے لئے یہاں سے چلے جاؤ اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔‘‘

موضوع کی انفرادیت ، گہرائی اور وسعت کو ارشد چہال نے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ کردار نگاری، منظرنگاری، سیاست کی بولعجبیاں، مذہب کے نام پر دھوکے بازی، خاندانی جھگڑے خصوصاً جاگیرداری سماج کے دولت پر قبضے اور ہوس کی داستان غرض بے شمار پہلو ارشد چہال نے بہت عمدگی سے پیش کئے ہیں۔ جس کے لئے وہ مبار کباد کے مستحق ہیں۔ میں نے ناول پر تبصرے سے زیادہ خلاصہ پیش کر دیا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اردو زبان میں اچھے ناولوں کی کمی کا گلہ کرنے والے ناقدین سمیت قاری نے بھی اس اہم ترین ناول کا نوٹس نہیں لیا۔ جس کا یہ حقدار تھا۔ شائد کہ میرے اس خلاصہ نما تبصرے سے کچھ لوگ اس ناول کی طرف متوجہ ہو جائیں تو میں سمجھوں گا کہ ارشد چہال کی کاوش کا کچھ حق ادا ہو گیا۔

ارشد چہال کا دوسرا ناول ’’بیاڑ گلی‘‘ 2004ء میں شائع ہوا۔ جس میں ارشد چہال نے ماحولیاتی آلودگی، ملک میں جنگلات کی موجودگی کا ماحول پر اثر اور پاکستان میں ٹمبر مافیا کی جانب سے جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی اور اس کے منفی اثرات کو موضوع بنایا ہے اور اردو میں شائد ہی کسی نے اس قسم کے موضوع پرناول لکھا ہو۔ ارشدچہال نے حکومتی اہلکاروں کی مدد سے ٹمبر مافیا کی جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں سیلابوں کے جن خطرات کی نشاندہی اپنے اس ناول میں کی تھی وہ دو ہزار آٹھ سے ہرسال آنے والے سیلابوں کی صورت میں حقیقت بن چکی ہے اور یہی ایک سچے فنکار کی پہچان ہے۔ ارشد چہال نے صرف مسئلہ کی نشاندہی نہیں کی اس کا حل بھی پیش کیا ہے۔ ناول بیاڑ گلی کوہمارے نصاب خصوصاً فارسٹ آفیسری کے کورس کا حصہ ہونا چاہئے۔

ناول بیاڑ گلی کا مرکزی کردار سلیمان ایک فارسٹ آفیسر ہے جو ایک جنت نما وادی میں ٹرانسفر ہو کر جاتا ہے، جہاں اسے کٹتے ہوئے جنگلات اور لینڈ سلائڈنگ کے سلسلے ایک اضطراب سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ارشد چہال نے بیاڑ گلی کی ثقافت کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کیا ہے اور وہاں کے مقامی کرداروں کی محبت، سادگی اور ٹمبرمافیا کی عیاری کو جس طرح اجاگر کیا ہے وہ ارشد چہال کو ایک کامیاب ناول نگار ثابت کرتے ہیں۔ صنوبر ناول کا ایسا کردار ہے جس کے حسن کی رعنائیوں اور محبت کی نزاکتوں میں ایک ایسی کشش ہے جو ہر ایک کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ بیاڑ گلی کا یہ کردار قاری کبھی بھلا نہیں سکتا۔

بیاڑ گلی میں نیکی اور بدی کی ازلی کشمکش کو بڑی عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ راسب خان اس کا بیٹا شمریز خان، ٹھیکیدار تاج خان، مہابت خان اور فاریسٹ آفس کا کنزر ویٹو حفیظ الرحمٰن بدی کی علامت ہیں توفاریسٹ آفیسرسلیمان، فتح محمد اس کی بیٹی صنوبر، حاکم خان اور اسکا بیٹا سلطان، ڈاکٹر ابدال اور قطب خان نیکی کے علامتی کردار ہیں۔ ناول کا اہم کردار مائی چنوں ہے جسے گاؤں والوں نے گاؤں سے نکال دیا ہے۔ مانی چنوں نے گلریز کو گود لیکر پالا ہے۔ گلریز کی آواز بیاڑ گلی کے خوش الحان پرندوں سے اس قدر ملتی ہے کہ تندلی کے لوگوں نے اسے بلبل کہنا شروع کر دیا ہے۔ گلریز جب پانچ سال کا ہوا تو اسے سرکوٹ کے حافظ نور محمد کے پاس قرآن حفظ کرنے کے لئے بٹھا دیا گیا۔ گلریز کا حافظہ بہت تیز تھا۔ اس نے چند سال میں ناصرف قرآن پاک پڑھ لیا بلکہ آدھے سے زیادہ حفظ بھی کر لیا تھا۔ مگر کبھی کبھی بعض متشابہات اس کے حافظے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے تھے۔ اس پروہ حافظ صاحب سے کئی بار مار کھا چکا تھا۔ مگر وہ اپنی کمزوری پر قابو نہ پاسکا۔ گلریز دانستہ ایسا نہیں کرتا تھا بلکہ سہواً ایسا ہو جاتا تھا۔ ممکن تھا ذرا بڑی عمر میں جا کر عقل وشعور میں اضافے کے ساتھ وہ اپنی کمزوری پر قابو پا لیتا مگر حافظ صاحب اس وقت کا انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ ایک روز غصے میں آ کر انہوں نے گلریز کے سر میں اس زور سے ڈنڈا مارا کہ اس کے سر میں خون جم گیا۔ مائی چنوں گلریز کو گھر لے آئی مگر اس کی حالت زیادہ بگڑ گئی۔ اگر وہ شہر میں ہوتی تو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھاتی مگر ان دنوں بیاڑ گلی میں معقول طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ اپنے طور پر اس کا دیسی علاج کرواتی رہی اور مزاروں پر لے جاتی رہی۔ گلریز مائی چنوں کی بھاگ دوڑسے ٹھیک تو ہو گیا مگر اس کا ذہنی توازن قائم نہ رہ سکا۔ اس کے دل میں حافظ صاحب کا خوف اس طرح بیٹھ گیا کہ وہ ان کے ڈر سے ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگا۔ وہ اکثر باوضو رہتا تھا۔ کئی سالوں سے ایک ہی کیفیت میں رہنے کی وجہ سے مجذوب ہو گیا تھا۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی دلچسپی جنگل میں گھومنا اور تلاوت کرنا ہی رہ گئی تھی۔ گلریز کے کردار کے ذریعے مذہبی تعلیم دینے والے مولوی صاحبان کے سخت مزاجی کو بخوبی اجاگر کیا گیا ہے۔

ناول بیاڑ گلی کا اصل موضوع ماحولیاتی آلودگی ہے۔ اس موضوع پر دیگر زبانوں میں کئی عمدہ ناول لکھے گئے ہیں۔ لیکن اردو میں غالباً یہ اس موضوع پر واحد ناول ہے۔ ممکن ہے کہ کچھ افسانے اس موضوع پرتحریر کئے گئے ہوں۔ ارشد چہال کی موضوع پر گرفت مضبوط ہے اور ان کا مشاہدہ کمال کا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کی پوری زندگی جنگلات اور پہاڑوں پر ہی بسر ہوئی ہے اور انہوں نے فاریسٹ آفیسر اور ان کے مسائل پر بھرپور ہوم ورک کیا ہے۔ جنگلات کی حفاظت کی کیا ملک کیلئے اہمیت ہے اور حکومتی اہلکار اسے کتنی اہمیت دیتے ہیں یہ سب بڑا چشم کشا ہے۔ یہ ناول پڑھتے ہوئے منفرد افسانہ نگار سید رفیق حسین یاد آتے ہیں جنہوں نے جنگلی حیات اور جانوروں کی زندگی پر بے مثال افسانے تحریر کئے ہیں۔ شکاری کی حیثیت سے سید رفیق حسین جنگلات سے بخوبی آشنا تھے لیکن اسلام آباد میں رہتے ہوئے ارشد چہال نے یہ مشاہدات کیسے کئے یہ امر بڑا حیران کن ہے۔

ہزاروں ایکڑ پر پھیلے جنگلات اور اس کے درختوں کی حفاظت کا فریضہ ایک فاریسٹ آفیسر، چند فاریسٹر اور فاریسٹ گارڈ کی مدد سے کیونکر کرتا ہے اور اسے کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔ یہ سب اعلیٰ سرکاری حکام کو ضرور جاننا چاہئے۔ اس بارے میں ایک اقتباس پیش ہے۔

’’ہمارے جنگلوں میں ابھی تک جنگلوں کا قانون چل رہا ہے۔ آج بھی ہماری عدالتوں میں فاریسٹ ایکٹ 1927ء کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ ان میں اضافہ صرف اتنا ہوا ہے کہ انگریزی دور میں فاریسٹ آفیسر کے چالان کو حتمی سمجھا جاتا تھا مگر اب تو مجسٹریٹ اور جج صاحبان چالان کے ساتھ شہادت بھی طلب کرتے ہیں۔ اب ایک نہتا گارڈ جنگل میں اگر کسی کو درخت کاٹتے ہوئے پکڑتا ہے تو وہ اس کا چالان تو کر سکتا ہے۔ مگر اس کیلئے شہادت کہاں سے لائے گا۔ پھر مقامی لوگوں میں کون کسی کے خلاف شہادت دینے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ ادھر کنزر ویٹو صاحب کا حکم ہے کہ پائن اگر کسی کی پیٹھ پر بھی اگا ہوا ہو تو اسے کاٹنا جرم ہے اور کمپن سیشن کا ریٹ آج بھی وہی چل رہا ہے جو آج سے ستر سال پہلے تھا۔ اگر ایک شخص پائن کاٹ دے تو اس پر پانچ سو روپے جرمانہ ہوتا ہے۔‘‘

ان سب حقائق کی موجودگی میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کے مسئلے پر قابو پاناممکن نہیں ہے۔ درختوں کی بے تحاشہ کٹائی کے جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس طرح پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائڈنگ میں اضافہ ہوتا ہے اور جب درختوں کی شکل میں رکاوٹیں ختم ہو جاتی ہیں تو بارشوں کے بعد دریا بپھر کر کس طرح سیلاب کی صورت میں بستیاں اجاڑ دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ارشد چہال نے بیاڑ گلی میں تحریر کیا اور ہم سب نے اس تحریر کو گذشتہ چند برسوں میں سیلاب کی شکل میں حقیقت بنتے دیکھا ہے۔ یہی ارشد چہال کی حقیقت نگاری کا کمال ہے۔ اگر ہمارے ناقدین نے اس ناول پر کچھ توجہ دی ہوتی اور یہ ناول کسی ایماندار حکومتی عہدیدار تک پہنچ جاتا تو شائد کچھ تباہی پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ اب بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ ناول بیاڑ گلی کو سی ایس ایس اور فاریسٹ آفیسر کے تربیتی کورس میں شامل کر کے ملک کو بہت بڑے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: