رفتید ولے نہ از دل ما — علی طارق

0
  • 19
    Shares

میرے محسن، مربی، بزرگ اور دوست ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب کو بچھڑے ہوئے دو سال ہو گئے۔
ڈاکٹر صاحب آپ کو میں بھولا ہی کب ہوں کہ یاد کرنے کی ضرورت پڑے!
اپنے محسنین کے احسانات کا اقرار و اظہاربھی رسول الله صل الله علیہ وسلم کا اسوہ ہے۔

آج میرے میرے محسن، مربی، بزرگ اور دوست ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب کو بچھڑے ہوئے دو سال ہو گئے جن کے ساتھ جولائی دو ہزار بارہ سے لے کر ان کی وفات سے چار گھنٹے پہلے تک رفاقت رہی۔

ڈاکٹر صاحب اپنی زندگی کے آخری دن بلکہ آخری لمحات میں بدھ تیس مارچ دو ہزار سولہ کو گوجر خان سے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے قائد اعم آڈیٹوریم میں میرے اقبال بین الاقوامی ادارہ براۓ تحقیق و مکالمہ میں لیکچرار کے سلیکشن بورڈ میں انٹرویو کے مرحلے کیلئے ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی حیثیت سے تشریف لاۓ اور پھر سلیکشن بورڈ میں میرا بھرپور دفاع کرنے کے بعد باہر تشریف لاۓ، میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا علی میں نے اپنا وعدہ پورا کردیا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور پھر ان کے ساتھ گاڑ ی میں فیصل مسجد کیمپس کے بیرئر تک آیا اور کچھ دیر بے تکلف گفتگو رہی بلکہ میں نے ایک نجی معاملے میں مشوره کیا اور انھوں نے ہمیشہ کی طرح پوری توجہ سے سنا اور رہنمائی فرمائی بلکہ اس حوالے سے مزید رہنمائی کے لئے دو تین بعد دوبارہ بات کرنے کا کہا اورمیں وہاں اتر گیا اورجلد ملنے کی بات ہوئی لیکن چار گھنٹوں بعد ان کی وفات کی اطلاع آگئی۔ ان کا بھرپور شکریہ ادا کرنے کی خواہش اور خلش دل میں رہ گئی۔ اب یہ خیال آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا تعلّق اس وضع دار، با اخلاق اور با کردار نسل سے تھا جو احسان کر کے شکریے اور ستائش سے نہ صرف بے نیاز رہتے ہیں بلکہ اس کا موقع ہی نہیں آنے دیتے لهذا انھوں نے اپنی روایت کو برقرار رکھا!

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ چار سالہ رفاقت میں کیا کچھ سیکھا، سمجھا، جانا اور جذب کیا یہ ایک لمبی داستان ہے لیکن اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری صاحب اور ڈاکٹر ممتاز احمد صاحب دو ایسی بزرگ شخصیات تھیں جنھوں نےمجھے اپنی شفقتوں اور محبتوں سے ہمیشہ نہال اور تروتازہ رکھا۔

اقبال بین الاقوامی ادارہ براۓ تحقیق و مکالمہ میں بطور ایڈیٹر/کنسلٹنٹ ملازمت کے دوران میرا دفتر ڈاکٹر ممتاز صاحب صاحب کے دفترکے بلکل ساتھ ملا ہوا تھا، لہذا چار سال تک دفتری رفاقت بھی رہی اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی، کوئٹہ، رحیم یار خان، فیصل آباد، چکوال، بہاولپور، بہاولنگر،سانگلہ ہل، نوشہرہ، پشاور، ملتان،جن پور اور دیگر کئی شہروں کی طرف نہ صرف ساتھ سفر کیا بلکہ ان سفروں میں لمبی لمبی نشستیں رہیں۔ اور پھر دو ہزار چودہ میں سات جنوری سے بیس جنوری تک امریکا میں بھی ساتھ رہنے کا بھر پور موقع ملا اور یہ سب مختصر و طویل لمحات میری زندگی کا اثاثہ ہیں۔

ان دونوں حضرات کی خوبیوں میں سے ایک خوبی معمولی معمولی باتوں بلکہ بعض اوقات غلطیوں سے بھرپور کاموں پر بھی خوب حوصلہ افزائی کرنا اور کام کرنے کے لئے بھرپور ا عتماد دینا اور سہولیات فراہم کرنا تھا (ڈاکٹر ممتاز صاحب اکثر کسی کام سے خوش ہو کر باقاعدہ تحریری طور پر حوصلہ افزائی فرماتے تھی ایک ایسی ہی تحریر کا عکس تصاویر میں ملاحظہ فرمائیں اور اس میں کیےگئے مبالغے سےاندازہ لگائیں کہ وہ زبانی گفتگو میں کتنا مبالغہ کرتے ہوں گے)

یہ بھی پڑھئے: تو نے اے یادِ عزیزاں یہ عنایت کیوں کی: ممتاز صاحب کی یاد میں

 

اسی حوصلہ افزائی اور ا عتماد کی برکت تھی کہ ان کے ساتھ چار سالہ رفاقت میں اسلام آباد میں متعدد بین الاقوامی اور قومی کانفرنسیں، ورکشاپ، سیمینار اور پاکستان کےچار صوبوں (پنجاب، سندھ، کے پی کے، بلوچستان )، آزاد کشمیر اور فاٹا کے تقریبا چالیس سے زائد شہروں میں مختلف پروگرام کرانے کا موقع ملا۔

بعض اوقات آدمی کسی کے احسانات کا صرف اعتراف کرسکتا ہے اور بدلہ دینا چاہتا ہے لیکن سمجھ نہیں آتی کہ کیسے دے ایسے موقع پر نبی اکرم صل الله علیہ وسلم پر قربان جانے کو جی چاہتا ہے جنھوں نے اس حوالے سے بھی رہنمائی فرمادی۔

آپ صل الله علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص تمہارے ساتھ احسان کا معاملہ کرے تو تم اسکو اسکا بدلہ دو اگر اسکا بدلہ چکانے کی طاقت نہ ہو تو اسکے حق میں دعائے خیر کرتے رہو یہاں تک کہ تم محسوس کرو کہ اسکا بدلہ پورا ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب کے ان کے احسانات کا بدلہ دینا ممکن نہیں، الله پاک ان کو اپنی جناب سے اور اپنی شایان شان بہترین بدلہ عطا فرمائیں آمین . الحمد للہ ان کے انتقال سے لے کر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے ان کے لیے دعا نہ کی ہو
اپنے محسنین کے احسانات کا اقرار و اظہاربھی رسول الله صل الله علیہ وسلم کا اسوہ ہے اور آپ صل الله علیہ وسلم نے زندگی میں بھی اور وفات سےکچھ پہلے برسر منبر حضرت ابو بکر صدیق رضی الله عنہ کے احسانات کا اقرار فرمایا

الله پاک میرے ان دونوں محسنوں کی زلات سے درگزر فرمائے، حسنات کو قبول فرماۓ اور ان کو جنت الفردوس میں بلند سے بلند مقامات عطا فرمائے آمین۔

علی طارق
لیکچرار شعبہ حدیث

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: