رقعہ ہمیں جو آوے ہے —- عزیز ابن الحسن

0
  • 56
    Shares

بعض باتیں جب وقوع پزیر ہوتی ہیں بہت معمولی سی لگتی ہیں لیکن تب بہت خاص ہوجاتی ہیں جب وقت ایک خاص موڑ بدل کر کچھ سے کچھ ہوچکا ہوتا ہے۔

آج صبح ایک پرانی چیز دیکھ کر ایسا ہی ہوا۔ میری ایک کتاب چھپی جو خالصتاً طالبعلمانہ طور پر اردو ادب و تنقید کی تاریخی حرکیات کو سمجھنے کیلیے جمع کردہ مواد سے تیار کی گئ تھی۔ بعض احباب نے اسے قدرے پسند بھی کیا مگر جب شمس الرحمن فاروقی انتظار حسین محمد سلیم الرحمن اور رؤف پاریکھ نے اس پر تبصرے بھی کئے تو وہ کتاب مجھے بھی اچھی لگنے لگ گئ۔ تب میں نے یہ کتاب کچھ سمجھدار لوگوں کو بھی دینی شروع کی۔ انہی میں سے ایک صاحب یہ تھے جنکی ایک بھولی بسری چیز سے یہ سب لکھنے کا آج پھر موقع نکلا ہے۔

انہیں میں دوست تو کسی صورت نہیں کہہ سکتا کہ ایک تو میری ان کی عمر میں ہی بڑا فرق تھا اور دوسرے یہ کہ وہ ہماری یونیورسٹی کے وائس پریزیڈنٹ بھی تھے لہذا افسران و حاکمانِ بالا سےایک محتاط فاصلے پر رہ کر خوش و خرم اور تمکین و اطمینان کی زندگی گزارنے کے اپنے وطیرے کے مطابق میں ہمیشہ کی طرح شروع میں ان سے دور دور ہی رہا مگر ان سے ایک احترام کا تعلق ضرور تھا۔ لیکن سچ پوچھئے تو یہ احترام ان کے وائس پریزیڈنٹ ہونے سے کہیں زیادہ انکی علمی و شخصی وجاہت اور تمکنت و وقار، اور سب سے بڑھ کر ایک شخصی نسبت کے حوالے سے تھا جو میرے اور ان کے درمیان ایک قدرِ مشترک تھی اور وہ نسبت تھی سلیم احمد۔

جن چند شخصیات نے مجھ پر ذہن کو مبدل کردینے والے انمٹ نقوش چھوڑے ان میں سے ایک سلیم احمد بھی ہیں۔ میں نے سلیم احمد کی کم و بیش ہر تحریر (بشمول شاعری و تنقید) کو بلامبالغہ دسیوں دفعہ پڑھا تھا لیکن افسوس ہوتا تھا کہ آج اردو دنیا سلیم احمد کو عموماً صرف ایک شاعر اور نقاد کے طور پر جانتی ہے۔ اصل سلیم احمد کو بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ہمارے نئے ادیب شاعر اور نقاد تو اب، الا ماشااللہ، خود ستائی، خود زُعمی اور خود فریبی کے اس مقام پر فائز ہو چکے کہ انہوں نے ماضی کے عظیم سایوں کے احساس سے ہی خود کو مکمل طور پر مامون و محفوظ کر لیا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہمارا آج کا ادیب اور دانشور طبقہ من حیث المجموع ماورائےحواس تہذیبی طرز احساس کے ادب میں اظہار کے مسئلے سے کم از کم بیگانگی و لاتعلقی کا، اور جوشِ ادب مآبی کے بلند ترین لمحوں میں تخلیقی اظہار کی بنیاد میں کارفرما لازمی پس طبعی تصورات سے ایک مخاصمانہ رویہ رکھتا ہے۔ ایسے میں اُس سلیم احمد کو کون جانے اور کون سمجھے جو اپنی شاعری سے تنقید تک اور کالم نگاری سے ڈرامہ نگاری تک میں اس تہذیبی شعور کا نوحہ گر رہا جسے جدیدیت نے غارت کر دیا ہے۔ یہ احسات سلیم احمد کی محض ادبی سرگرمی کا حصہ نہ تھے بلکہ انکے پورے وجود اور زندگی کا لازمہ تھے اور انکے قلب و روح میں کارفرما اسی آویزش نے انہیں اعصابی طور پر شل کر دیا تھا۔ جس کا ایک ادنیٰ نمونہ ان کی “مشرق” میں نظر آتا ہے۔

آج کا ادیب اور دانشور طبقہ من حیث المجموع ماورائےحواس تہذیبی طرز احساس کے ادب میں اظہار کے مسئلے سے کم از کم بیگانگی و لاتعلقی کا، اور جوشِ ادب مآبی کے بلند ترین لمحوں میں تخلیقی اظہار کی بنیاد میں کارفرما لازمی پس طبعی تصورات سے ایک مخاصمانہ رویہ رکھتا ہے۔

سلیم احمد یوں تو محمد حسن عسکری کے بے دام کے شاگرد و مقلد تھے مگر وقت آنے پر خود اپنے استاد کیلیے بھی کڑا چیلنج بن جاتے تھے اور انہیں استاد پر یہ فوقیت بھی حاصل تھی کی عسکری کو جہاں ادب کے روحانی سرچمشوں کی تلاش و کھوج کیلیے کڑے کوسوں کا سفر کرنا اور بار بار آگے پیچھے دائیں بائیں مغرب و مشرق کی طرف رخ کرنا و لوٹنا پڑا وہاں سلیم احمد کو بالکل ابتدا ہی سے اپنی منزل کا کامل رسوخ حاصل رہا۔

مجھ ایسے آدمی کو کہ جسے ہر دم یہ احساس تڑپاتا ہو کہ سلیم احمد کو حقیقی طور پر جاننے والے تیزی سے نایاب ہوتے جا رہے ہیں اپنی یونیورسٹی میں ہی اگر ایک آدمی ایسا نظر آجائے جو بات بات پر سلیم بھائی سلیم بھائی کرتا ہو تو سوچئے اس آدمی کو کتنی خوشی ہوئی ہوگی۔

میرے جن ممدوح کا یہاں ذکر ہے وہ نہ صرف یہ کہ سلیم احمد سے آگاہ تھے بلکہ وہ تو سال ہا سال تک ان کے پاس بیٹھنے اور ان کے ارد گرد منڈلانے والے گروہِ عاشقاں میں سے تھے۔ وہ جب بھی سلیم احمد کا ذکر کرتے انکی زبان سے ادا ہونے والے ایک لفظ اور چشم و ابرو کے ہر اشارے سے سلیم بھائ کی محبت ٹپکتی تھے۔ ایسے وائس پریزیڈنٹ سے میں بھلا کب تک دور رہ پاتا اور دور رہ کر بھی بھلا کیوں نہ انکے حصارِ قرب میں رہتا۔

میرے ان ممدوح کا نام ڈاکٹر ممتاز احمد ہے جنکی آج دوسری برسی ہے۔ اقبال ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ کے سابق سربراہ اور بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے پریزیڈنٹ ڈاکٹر ممتاز احمد کی شخصی خوبیاں اتنی ہیں کہ ان پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ 31 مارچ سنہ 2016 کو ان کے انتقال پر میں ایک چھوٹی سی تحریر میں اپنے جذبات لکھ چکا ہوں۔ آج ان کی دوسری برسی پر مجھے انکا ایک گمشدہ رقعہ ملا تو یکا یک کچھ اور باتیں بھی ذہن میں آرہی ہیں۔
آج فیس بک نے انکے انتقال پر لکھا اپنا شذرہ جب یاد دلایا تو مجھے انکا لکھا ایک چھوٹا رقعہ بھی یاد آیا جو انہوں نے میری محولہ بالا کتاب پر مجھے لکھا تھا یہ رقعہ کتابوں میں کہیں ایسا دبا کہ گویا بھول ہی گیا۔

آج عجیب بات یہ ہوئی کہ فیس بک پہ اپنا سابقہ شذرہ پڑھ کر میں یونہی اٹھا اور دینی مدارس پر ممتاز صاحب کی ایک کتاب تلاش کرنے لگا کہ ذرا پھر سے نظر ڈال لوں۔ اتفاقاً ہاتھ لگنے پر اوپر کی چھتی پر رکھا کاغذوں کا ایک پلندہ نیچے گرا تو اس میں سے پہلی جو شے نکل کر باہر آئی وہ ممتاز صاحب کا یہی رقعہ تھا۔

میں اس اتفاق پر حیران رہ گیا کیوں کہ ممتاز صاحب کے انتقال کے بعد میں نے بہت دفعہ اسے تلاش کیا تھا۔

ہوا یوں تھا کہ میں ممتاز صاحب کو اپنی کتاب “اردو تنقید: چند منزلیں” پیش کرنے متعدد بار ان کے آفس گیا تھا مگر اتفاق یہ ہوا کہ وہ یا تو آفس میں نہ ہوتے اور یا کسی میٹنگ وغیرہ میں مصروف ہوتے۔ آخر ایک روز چھوٹی سی ایک چٹ لکھ کر یہ کتاب انکے پی اے کے ہاں چھوڑ آیا۔ اس کے بعد شاید میں کچھ عرصہ کیلیے چھٹیوں پہ چلاگیا۔ جب واپسی ہوئ تو انکے ہاتھ کا لکھا یہ رقعہ آیا رکھا تھا: جس دیکھ کر ازحد خوشی ہوئ تھی۔ اتفاق دیکھئے یہ رقعہ بھی مارچ ہی کے مہینے کے آخری دنوں کا لکھا ہوا ہے۔ بعد میں ان سے ملاقات ہوئ تو دیر تک زبانی بھی کتاب کے مندرجات پر گفتگو کرتے رہے تھے۔ مجھے اس بات پر تعجب ہوا تھا کہ اپنی شدید مصروفیات اور روز روز کے اسفار کے باوجود انہوں نے کتاب پڑھنے کا وقت نکال لیا تھا۔ آج میں سوچتا ہوں کہ اُس روز کتاب پیش کرتے اگر وہ مجھے مل جاتے اور ساری باتیں زبانی ہی ہوجاتیں تو میرے پاس انکا کا لکھا یہ تأثر کہاں سے آتا!

یہ بھی پڑھیئے: تونے اے یادِ عزیزاں یہ عنایت کیوں کی: ممتاز صاحب کی یاد میں — شاہد اعوان

 

ممتاز صاحب جتنا وقت پاکستان میں گزارتے اتنا ہی امریکہ کا سفر بھی کرتے تھے۔ وہ جس تواتر سے سفر میں رہتے تھے اس پر ہم نے یہ لطیفہ گھڑ رکھا تھا کہ “ڈاکٹر ممتاز رہتے تو امریکہ میں ہیں مگر کبھی کبھی پاکستان بھی آجاتے ہیں”۔
اہنے سابقہ شذرے میں میں نے ذکر کیا تھا کہ ان کے انتقال سے چند روز پہلے آنے والے “معیار” کے کسی شمارے میں میں نے سلیم احمد کی ایک نایاب گفتگو شائع کی تھی جو “کسی” شبنم صدیقی نے سلیم احمد سے انٹرویو کر کے لکھی تھی اور کئ برسوں سے جناب سہیل عمر کے پاس پڑی تھی۔ ارداہ تھا کہ ممتاز صاحب کی خدمت میں پیش کرکے ان کی مسرت دیکھونگا مگر انکے انتقال کے سبب یہ ممکن نہ ہوسکا تھا۔ مجھے یہ انٹرویو جناب سہیل عمر کے توسط سے ملا تھا مگر یہ معلوم نہ ہو پارہا تھا کہ یہ شبنم صدیقی کون صاحب ہیں اور ابھی زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ بہت بعد میں محترم ڈاکٹر خورشید عبداللہ کے توسط سے شبنم صدیقی کا فون نمبر دستیاب ہوگیا۔ میں نے ان سے بات کی ایک بہت ضعیف العمر آواز تھی۔ میں نے انہیں بتایا کہ
“سلیم احمد کے ساتھ آپ والا انٹرویو میں نے کئ برسوں بعد شائع کردیا ہے۔ مگر مجھے آپکے بارے میں کچھ معلومات نہیں مل رہی تھیں جو تعارف میں شامل کرتا”۔
شبنم صدیقی بولے
“بھائ آپ کے قریب گجر خان میں میرے ایک بہت پرانے اور ذہین شاگرد رہتے ہیں ان سے پوچھ لیتے”۔
گجر خان کا نام سنکر میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا “کون ہیں یہاں آپ کے شاگرد؟”
بولے “انکا نام ممتاز احمد ہے وہ سلیم احمد کے ساتھ بھی بہت رہے ہیں”
یہ سن کر میں ایک لمحے کیلیے تو گنگ رہ گیا۔ سوچتا رہا کہ ان بزگوار کو کیسے بتاؤں کہ آپ کے وہ مایہ ناز شاگرد بھی چند ماہ پہلے اپنے سلیم بھائ کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ لیکن بہر حال بتانا پڑا اور پھر دوسری طرف سے تادیر ایک گہرا سناٹا میں سنتا رہا۔ آخر دبی سی ایک آواز کے ساتھ خدا حافظ کہہ کر فون بند ہوگیا۔

میں تو معیار کا یہ شمارہ سلیم احمد کی وجہ سے ممتاز صاحب کو پیش کرنا چاہتا تھا کہ وہ اپنے مربی اپنے محبوب کا تذکرہ سن اور پڑھ کر کتنے خوش ہونگے۔ مگر مجھے کیا خبر تھی کہ بالکل اتفاق سے اور بے خیالی میں میں معیار کے اس شمارے میں ان کیلیے دو دو خوشیاں ـــ سلیم احمد اور انکے استاد شبنم صدیقی ـــ جمع کرچکا تھا مگر افسوس کہ میں ان کی ایک خوشی بھی نہ دیکھ پایا۔

آج سوچتا ہوں کہ ڈاکٹر ممتاز احمد کس پائے کے بزرگ تھے کہ ایک طرف انہیں سلیم احمد جیسے بےبدل نقاد اور شاعر کی صحبت میسر رہی تھی اور دوسری طرف ایک ایسے استاد کی شاگردی بھی ملی تھی جسے برس ہا برس بعد بھی انکا استاد کراچی سے بہت دور گجر خان کے اپنے اس شاگرد کو یاد کر رہا تھا۔ کاش میرے بس میں ہوتا تو میں شبنم صدیقی سے انکے شاگردِ رشید کی موت کی خبر چھپا لیتا مگر۔۔۔۔

نوبت ہے اپنی جب سے یہی کوچ کا ہے شور
بجنا سنا نہیں ہے کبھو یاں مقام کا
رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا
کیا دیجیے جواب اجل کے پیام کا

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: