تو نے اے یادِ عزیزاں یہ عنایت کیوں کی: ممتاز صاحب کی یاد میں — شاہد اعوان

0
  • 128
    Shares

تو نے اے یادِ عزیزاں یہ عنایت کیوں کی
زندگی یوں بھی تھی مجھ کو گوارا تنہا

چند روز سے دن میں کئی بار ایسا ہوتا رہا کہ مرحوم ممتاز صاحب کاخیال کوندے کی طرح لپکتا اور غائب ہوجاتا۔ میں نے شعوری طور پہ اس کا سبب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی مگر ایک نامعلوم کیفیت کے اشارے کو سمجھنے کے تقاضے سے الجھتا رہا۔ آج اچانک عزیز صاحب نے بتا کر حیران کردیا کہ ممتاز صاحب کی برسی کا دوسرا دن آن پہنچا ہے۔

بشر الحافی کا قول ہے:
“اپنے لیے کافی سمجھو ان فوت شدگان کو جن کا ذکر کرنے سے دل زندہ ہوجاتے ہوں، کیونکہ کئی زندہ لوگ ایسے ہیں جنہیں دیکھنا دلوں کو مردہ کردیتا ہے۔”

میرے لئے ممتاز صاحب کا ذکر ایسا ہی ذکر ہے۔ زیر نظر تحریر انکے انتقال کے فورا بعد کے تاثرات ہیں۔ اگرچہ یہ کوئی مربوط تذکرہ نہیں۔ انکی یاد مجھے اتنا منضبط رہنے ہی نہیں دیتی کہ کچھ باقاعدہ چیز لکھ سکوں۔ بس کچھ تحریری آنسو ہیں کہ مستقل ہوگئے ہیں۔


دل پگھل پگھل گیا، جاں بکھر بکھر گئی
اک خدنگ سی خبر، روح میں اُتر گئی

ممتاز صاحب چلے گئے۔ کہاں چلے گئے؟ وہاں چلے گئے جہاں ہم سب نے بھی جانا ہے۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ ساتھ رہنے والے ساتھ ہی چلے جایا کریں۔ زندگی بھر مہربان رہنے والے کا جانا ظلم کیوں بن جاتا ہے۔ یہ کیسا دستور ہے! کیسا اندھیر ہے!!!

ڈاکٹر ممتاز صاحب سے میرے تعارف کا ذریعہ تو خورشید ندیم بنے، مگر اس کی بہت مضبوط بنیاد سلیم احمد مرحوم سے ان کا تعلق خاطر ہی رہی۔

خوش لباس، خوش اطوار، خوش گفتار، خوش قامت، خوش ذوق، خوش دل اور خوش مزاج، ممتاز نہ ہوتے تو کیا ہوتے۔
سیاسیات و مذہب سے لے کر شاعری و ادب تک، ہر علم اور ہر شعبہ سے ان کا لگاؤ فطری اور خُلّاقانہ تھا۔ تدریس کے جدید انداز سے آشنائی اور تحقیق کے میدان کی شناوری ان کے وہ اوصاف تھے جو انہیں طلبہ اور اسکالرز میں بیک وقت مقبول بناتے۔ اپنے پراثر طریق گفتگو اور حلم کے ساتھ علم کے امتزاج نے ان کی شخصیت کو وہ جاذبیت عطا کررکھی تھی جو انہیں شمع محفل بنائے رکھتی۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ آخر کو جناب اُس مدرسہء سلیم احمد کے فارغ تھے جہاں سے یہ بہرہ وافر ہر اس شخص کو ملا جس کا وہاں سے گذر بھی ہوا۔

زندگی کا بیشتر حصہ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم و تعلم میں گذرا، وہاں کی مسلم کمیونٹی میں اپنی علمی و دانشورانہ سرگرمیوںکی وجہ سے معروف ترین افراد میں شمار ہوتا تھا۔ اس حوالے سے کئی علمی و تحقیقی منصوبوں کا حصہ بھی رہے اور وائٹ ہاوس تک رسائی رکھتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد اسلامک یونیورسٹی سے اپنی مختصر سے عرصہ کے لئیے وابستگی میں ہی یونیورسٹی کو دنیا بھر کی اکیڈیمیا سے متعارف کروایا اور بےشمار عالمی شہرت کے مسلم اور غیر مسلم دانشوروں اور مصنفوں کو پاکستان بلاکر مقامی طلبہ و اساتذہ کے ذہنی افق میں کشادگی کا سبب بنے۔ ایسے ہی ایک پراجیکٹ میں ملائشیا کے مشہور اسکالر اور عوامی دانشور ڈاکٹر چندرا مظفر کے ساتھ مجھے بھی کام کرنے کا خوشگوار تجربہ ہوا۔

Dr. Marcia Hermansen, Professor of Islamic Studies, Loyola University, Chicago, USA and Dr. Mumtaz Ahmed,

ڈاکٹر نجیبہ عارف کے الفاظ میں ”ڈاکٹر ممتاز احمد اعلی علمی و ادبی ذوق کے حامل، انتہائی نفیس اور شائستہ انسان تھے۔ ایسی کڑھی ہوئی، مہذب اور ہمہ جہت شخصیات اب ہمارے کارخانے میں نہیں ڈھلتیں۔ وہ قومی اور بین الاقوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے تھےاور اسلامی دنیا کو معاصر جدید زندگی سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے۔“

یارِ من عزیز ابن الحسن نے لکھا کہ ”ممتاز صاحب کا میدان تو علم سیاسیات تھا مگر وہ ان تہذیبی لوگوں میں سے تھے جن کی دلچسپیاں کسی ایک دائرے میں بند نہیں ہوتیں۔ ادب شاعری فنون لطیفہ اور کلچر ممتاز صاحب کی نہ صرف خصوصی دلچسپی کے شعبے تھے بلکہ ان کی شخصیت اور مزاج کا پورا قوام ان چیزوں سے مل کر بنا تھا۔“

سچ تو یہ ہے کہ وہ میری زندگی میں آنے والے شاید واحد پاکستانی تھے جن کے ساتھ کام کرکے لطف آتا تھا۔ انہوں نے کبھی اپنی رائے مسلط تو کیا، بلند آہنگ میں بیان کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ ہمیشہ بھرپور اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ یہ خوبی ہمارے معاشرہ میں ناپید ہے، یہاں ہر شخص خود کو ہرفن مولا سمجھتا ہے۔

ڈاکٹر ممتاز احمد اور ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری

اکثر یوں ہوتا کہ اپنے دفتر میں دوپہر کے کھانے پہ ڈاکٹر ظفر اسحق انصاری، فتح محمد ملک اور ڈاکٹر منظور کے ساتھ سیاست و فسلفہ اور ادب و مذہب پر ہونے والی باوقار بحثوں کے دوران مجھے بھی شریک کرلیتے تو سیکھنے کو اتنا کچھ ملتا کہ روح سیراب ہو جاتی۔

ابھی پچھلے ہفتے– حسب عادت– سرخوشی کے عالم میں ملنے گیا۔ دفتر میں اکیلا پاکر مسرور ہوا کہ بھرپور ملاقات رہے گی۔ سلام سن کر سر اٹھایا اور ایک طویل گرمجوش ”اخاہ“ کہتے ہوئے خلاف توقع معانقہ سے استقبال کیا۔ خوب گفتگو رہی، آنے والی کتابوں پر بات ہوتی رہی۔ اپنی طبیعت کا حال بیان کرتے رہے۔ کہنے لگے ”ڈائلسز کے دوران ڈاکٹرز بہت پانی نکال لیتے ہیں جسم سے، اور زیادہ پانی پینے بھی نہیں دیتے۔“ میں متاسف بےبسی سے سنتا اور کمزور، زردی کھنڈے چہرے کو دیکھتا رہا۔

کہنے لگے ”ڈائلسز کے دوران ڈاکٹرز بہت پانی نکال لیتے ہیں جسم سے، اور زیادہ پانی پینے بھی نہیں دیتے۔“ میں متاسف بےبسی سے سنتا اور کمزور، زردی کھنڈے چہرے کو دیکھتا رہا۔

اُس روز کسی نامعلوم داخلی تحریک کے زیر اثر میں نے پہلی بار کھل کران سے اپنی انسیت و شیفتگی کا الفاظ میں اظہار کیا۔ گذشتہ برسوں کی رفاقت کے نہایت خوشگوار تاثر کو زبان دی تو جیسے لمحہ بھر کو کھِل اٹھے ہوں، مگر فوراََ ہی کسر نفسی کا اظہارکرتے ہوئے شکریہ ادا کرنے لگے۔
اٹھتے ہوئے کہنے لگے آج کل تیرتھ رام فیروزپوری کی تحریریں پڑھنے کو من کررہا ہے، میں نے فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور اجازت لے کر واپس آگیا۔

میں اکثر مصر رہتا کہ کبھی آپ کے گھر آکر سلیم احمد کے ساتھ گذرے وقت کا تذکرہ سنوں گا اور ریکارڈ کروں گا، ہمیشہ آمادگی اور خوشی کا اظہار کرتے، مگر وہ وقت کبھی نہ آسکا۔ اب وہ خود سلیم احمد کے پاس چلے گئے۔

ان کی وفات سے ایک روز قبل میں لاہور میں احمد جاوید صاحب سے ملاقات ہوئی تو سلیم احمدکا خوب ذکر رہا۔ میں نے کہا اب ان کی مجلس کے تین ہی افراد زندہ رہ گئے ہیں؛ آپ، ممتاز صاحب اور سجاد میر، کیا ہی اچھا ہو کہ آپ تینوں اس حوالے سے اپنی یادداشتیں قلم بند کردیں۔ جاوید صاحب نے آمادگی کا اظہار کیا اور ممتاز صاحب کی صحت مندی کے لیے دعا کی۔ کیا معلوم تھا کہ ایک روز بعدہی ان تین میں سے بھی ایک فرد کم ہوجائے گا۔

جنازے میں جنید ممتاز کو اشک بار دیکھا تو منہ موڑ کر ہی خود کو کمپوز رکھ پایا۔ سجاد میر کو حوصلہ مند دیکھ کرمیں نے بھی حوصلہ پکڑا اور آخری دیدار کو آگے بڑھ گیا۔ زندگی سے بھرپور، شگفتہ اور آخری دن تک متحرک انسان کو یوں دیکھنا ایک گھائل کردینے والا تجربہ تھا۔ شکیبائی اور گریہ کناں دل، کہ دو منہ زور گھوڑے تھے جو کسی مرکز گریز قوت کے زیراثر میرے وجود کو چیرتے ہوئے مخالف سمت کو دوڑے جاتے تھے۔

دلِ ناصبور کہتا ہے ”خورشید ندیم! آٹھ برس پہلے بھی تم نے ملوایا تھا، اب پھر ملوادو، ایک بار، صرف ایک بار۔“

یکم اپریل 2016


ڈاکٹر ممتاز احمد کی کچھ تصانیف و تالیفات:

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: