پانچ دن تھائی لینڈ میں : اسرار احمد ترگڑ

0
  • 23
    Shares

کہا جاتا ہے کہ سفر وسیلہ ظفر ہے۔ جبکہ سفر سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے یوں بھی کہا جائے کہ سفر مختلف علوم پر مشتمل یونیورسٹی ہے اور مسافر اس یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ ہے تو بھی غلط نہ ہو گا۔

14 اگست 2017 ء کو جشن آزادی کی شاندار تقریبات میں شرکت کے بعد دوپہر کو فیصل آباد سے تھائی لینڈ، فجی اور سنگاپور کیلئے رخت سفر باندھا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ تحریر فی الحال تھائی لینڈ کے سفر پر مشتمل ہو گی آئندہ تحریروں میں فجی اور سنگا پور کی سیر بارے لکھا جائے گا۔ مزید برآں اس تحریر کا مقصد اپنے قارئین کو ان ممالک کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنا ہے تاکہ وہ جب سیر یا کسی اور مقصد کیلئے ان ممالک میں جائیں تو میرے تجربات سے خاطر خواہ مستفید ہو سکیں۔ تھائی لینڈ کی معیشت ٹوارزم پر چلتی ہے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر سے سیاح اس خوبصورت ملک میں اپنی چھٹیاں گزارنے کیلئے آتے ہیں۔ سیاحوں کی زیادہ تعداد یورپ اور چین سے ہوتی ہے تاہم دیگر ایشائی اور خلیجی ممالک سے بھی سیاح تھائی لینڈ کے خوبصورت جزیروں اور حسن کو دیکھنے کیلئے کھنچے چلے آتے ہیں۔

بڑے بھائی پروفیسر ڈاکٹر اشرف اقبال صاحب اور بچپن کے دوست نصرت علی نے اسلام آباد ائرپورٹ پر الوداع کیا۔ دوستانہ رویے کے حامل عملہ نے بڑے اچھے طریقے سے امیگریشن کے معاملات نمٹائے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند سالوں کے برعکس اب عملے کا اخلاق اور برتائو نوے فیصد بہتر تھا۔ جس کے بعد ویٹنگ لائونج میں بورڈنگ کا انتظار کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد تھائی ائیرویز کا عملہ کائونٹر پر موجود تھا اور بورڈنگ اور سامان جمع کروانے کا عمل شروع ہوا۔ تقریباً ساڑھے دس بجے رات جہاز کے زمینی عملہ نے جہاز کو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے سورنا بھومی ائیرپورٹ کیلئے ٹیک آف کرنے کیلئے اشارہ دیا جس کے بعد طیارہ محو پرواز ہوا۔ بلاشبہ جب بھی کوئی شخص اپنی دھرتی ماں سے بیرون ملک کیلئے جاتا ہے خواہ وہ سفر سیر ہو یا روزگار کیلئے ہو انسان اس جدائی کو نہ چاہتے ہوئے بھی محسوس ضرور کرتا ہے کہ شاید اب لوٹ کر اپنے ملک میں واپس آنا بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ یہ خوف، بے چینی ہمیشہ کی طرح اب بھی میرے دل و دماغ پر حاوی تھی اور پھر خود کو سمجھایا کہ انشاء اللہ واپس آہی جانا ہے۔ اللہ اللہ کرکے جب جہاز نے  لگ بھگ چالیس ہزار فٹ کی بلندی کو چھوا تو کیبن کریو (ائیر ہوسٹسز) نے ریفریشمنٹ کیلئے خوشبودار رومال فراہم کئے جس کے بعد حسب منشاء چکن یا مٹن کی مین ڈش کے ساتھ جوس اور سوفٹ ڈرنک پیش کی گئی اور آخر میں چائے یا کافی کے ساتھ سلسلہ طعام اختتام پذیر ہوا۔

میں نے گزشتہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہلکا پھلکا لباس زیب تن کرنے کو ترجیح دی اور ساتھ ہی لمبی فلائیٹس میں آرام دہ سفر کیلئے گائو تکیہ بھی ہمراہ لیا تاکہ سنگا پور سے فجی کی دس گھنٹوں پر مشتمل طویل فلائیٹس میں پرسکون، آرام دہ اور بھرپور نیند کا مزہ لیا جا سکے۔ کھانا کھانے کے بعد جہاز کے عملے سے گرم چادر طلب کی اور تھکاوٹ دور کرنے کیلئے آرام کا فیصلہ کیا تاکہ پانچ گھنٹے کی فلائٹ میں نیند پوری کی جاسکے کیونکہ لینڈنگ کے بعد پتایا کیلئے بذریعہ بس مزید سوا دو گھنٹے کا سفر طے کرنا تھا۔

صبح کے چار بجے پائلٹ نے اعلان کیا کہ آدھے گھنٹے کے بعد جہاز سورنا بھومی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کرے گا سیٹوں کو درست پوزیشن پر کرکے بیلٹ باندھ لیں۔ عملہ کے بارہا تلقین کرنے کے باوجود پاکستانی مسافروں کی جلد بازیاں نہ صرف عملے بلکہ پرسکون بیٹھے مسافروں کیلئے کوفت کا باعث بنتی ہیں۔ اس ضمن میں یہ ضروری ہے کہ جب تک عملہ آپ کو سامان ریکس سے نکالنے کا نہ کہے تب تک صبر سے بیٹھے رہیں کیونکہ یہ مسافر کی اپنی ہی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جہاز نہ رکنے تک اور سامان آپ کے یا کسی دوسرے مسافر کے سر پر گر چوٹ لگنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ چنانچہ جلد بازی سے اجتناب مسافر کیلئے بہتر ہے۔ جہاز میں جلد باز مسافروں کی دھکم پیل کو برداشت کرنے بعد ٹرانسفر بس میں سوار ہو کر ائیرپورٹ کی عمارت میں داخلہ نصیب ہوا۔

علی الصبح امیگریشن کائونٹر پر ہماری اور دہلی (انڈیا) سے آنے والی پرواز کو سٹاف نے بڑے اچھے طریقے سے کائونٹرز تک رہنمائی کی اور امیگریشن آفیسر کے مسکراہتے چہرے اور چند ایک سوالات جن میں آپ نے تھائی لینڈ کتنے روز اور کس ہوٹل میں قیام کرنا ہے اور اس کے بعد کس ملک جانا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اس حوالے سے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آپ جس ملک کیلئے سفر کر رہے ہوتے ہیں جہاز کا عملہ لینڈنگ سے قبل آپ کو اس ملک کا امیگریشن فارم فراہم کرتا ہے اور اس فارم میں بھی یہی معلومات تحریر کرنا ہوتی ہیں۔ جس کے بعد یہ عمل بھی مکمل ہوا اور انٹر ی کی سٹیمپ لگی بعد ازاں چند قدم پر لاگج بیلٹ سے اپنا سامان اٹھایا۔ جس کے بعد انفارمیشن ڈیسک سے پتایا جانے کیلئے ٹیکسی کا معلوم کیا جس کا کرایہ تین ہزار بھات بتایا گیا جو پاکستانی تقریباً دس ہزار روپے بنتے ہیں مگر مجھے ایک دوست نے بتا رکھا تھا کہ ٹیکسی کی بجائے بس کے ذریعے ایک سو تیس کلومیٹر کا سفر صرف ایک سو بیس بھات میں کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ائرپورٹ کے آٹھ نمبر ایگزٹ گیٹ پر چھ بجے کے قریب پتایا کیلئے ایک سو بیس بھات کا ٹکٹ خریدا، بس نے پورے آٹھ بجے روانہ ہونا تھا تو سوچا کہ ائیرپورٹ پر گھوم پھر کے اور فری انٹرنیٹ برائوزنگ کے ذریعے گھر میں بخیریت لینڈنگ کی اطلاع دی جائے۔ واضح رہے کہ زیادہ تر ایشائی ممالک میں واش رومز میں مسلم شاور نہیں ہوتا چنانچہ استنجا کیلئے بوتل ہمراہ لازمی رکھنا پڑتی ہے۔

پورے آٹھ بجے صبح بس سورنا بھومی ائیرپورٹ سے پتایا شہر کیلئے روانہ ہوئی۔ آرام دہ اور کشادہ سیٹوں پر سیفٹی کو مدنظر رکھنے کیلئے بیلٹ لگانے کی تاکید کی جاتی ہے۔ دوران سفر بنکاک شہر اور موٹروے پر خوبصورت نظارے دیکھنے کے قابل تھے۔ بہترین صفائی اور ٹریفک مینجمنٹ بھی قابل تعریف تاہم بنکاک شہر کے اندر ٹریفک جام معمول ہے چنانچہ تیز اور سستے سفر کیلئے یہاں ٹیکسی یا ٹکٹک (رکشے یہ کلچرل رکشہ ٹیکسی سے بھی مہنگا ہوتا ہے) کو استعمال سے اجتناب اور سکائی ٹرین کو ترجیح دینی چائیے۔ بس ساڑھے دس بجے پتایا شہر میں داخل ہوئی اور شمالی (نارتھ) بس سٹاپ پر رکی ڈرائیور سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ آپ کا ہوٹل جنوبی (سائوتھ) سٹاپ کے قریب ہے آپ سینٹرل (مرکزی) سٹاپ کے بعد آخری سٹاپ جنوبی پر اتر جائیے گا۔ مطلوبہ سٹاپ پر اترنے کے بعد ٹویوٹا ہائی لیکس کی بنی ہوئی ویگن جو کہ مخصوص روٹ پر بھی چلتی ہے اور ٹیکسی کی طرح سپیشل مسافر کو بھی ٹرانسپورٹیشن کی سہولت فراہم کرتی ہے، کے ذریعے اپنے ہوٹل پتایا بیچ سے ایک گلی چھوڑ کے پھر تومناک روڈ پر ہوٹل بیورلے پلازہ پہنچ گیا۔ ریسپشن پر ہوٹل کے عملے کو ووچر دکھانے اور روم کی تیاری کیلئے دس منٹ کے انتظار کے بعد روم میں بے تحاشہ تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے شاور لیا اور سستانے کے موقع کو غنیمت جانا۔ شام پانچ بجے تک آرام کے بعد طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی۔ سستا اور آمد کے بعد یعنی چیک ان سے قبل ہوٹل بک کرنے کیلئے بکنگ ڈاٹ کام یا پھر سکائی سکینر ڈاٹ نیٹ ویب سائٹس قابل اعتماد اور سستے ترین ہوٹل کیلئے بہترین ہیں ان ویب سائٹس کے ذریعے چوبیس گھنٹے کیلئے ہوٹل کا ایک کمرہ ایک ہزار روپے پاکستانی سے شروع ہوتا ہے تاہم اگر جیب اجازت دے تو فائیو سٹار ہوٹلز بھی یہاں دستیاب ہیں۔

مزید برآں پتایا بیچ (ساحل) یعنی سائوتھ پتایا میں ہوٹل بکنگ کو ترجیح دیں کیونکہ ایک تو آپ بیچ پر پیدل جاسکتے ہیں اور نائٹ لائف دیکھنے کیلئے بھی پورا شہر اسی جگہ سرشام سے لے کر طلوع آفتاب تک یہیں امڈا ہوتا ہے۔  پاپی پیٹ کی آگ یعنی بے تحاشہ بھوک کو مٹانے کیلئے حلال ریسٹورنٹ کی تلاش بھی کسی معرکے سے کم نہ تھی۔ یوں تو ترکش، عربی اور انڈین کھانے کے ہوٹل اور ریستوران پھر تومناک روڈ پر موجود تھے مگر چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ہمارے اندر پاکستانیت اور پاکستانی کھانا کھانے کا جذبہ برابر موجود تھا۔چنانچہ طویل سفر اور جدوجہد کے بعد ایک پاکستانی ریستوران کا بورڈ نظر آنے پر سانس میں سانس آئی اور خدا کا شکر ادا کیا۔ بریانی کھائی، تب کہیں جاکر جان میں جان آئی۔ صحافی سوال نہ پوچھے تو کھانا ہضم ہونا ناممکن ہے گویا عادت سے مجبور ہو کر ریستوران کے لاہوری مالک جو گزشتہ آٹھ سال سے اس بزنس سے وابسطہ تھے سے انٹرویو کا آغاز ہوا گوشت کے حلال ہونے کی شہادت لی اور انہوں نے بتایا کہ پتایا میں تمام ہوٹلز چاہے وہ حلال ہیں یا حرام سب پر حلال گوشت سپلائی کیا جاتا ہے اور آپ بے فکر ہو کر ہمارے ہوٹل سے حلال کھانا کھا سکتے ہیں۔ ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ بیرون ممالک میں بے شک تجربہ کار پاکستانی کک اور صاف ستھرا ماحول ہوتا ہے مگر پانی یا دیگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آپ سو فیصد کوشش کے باوجود پاکستانی لوکل ذائقہ سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ کھانا کھانے کے بعد  پھر کیلولہ کرنے کیلئے ہوٹل واپسی ہوئی۔

شام کو پتایا پیچ کی سیر کی ٹھانی اور بیچ روڈ پر چار پانچ کلومیٹر واک کرتے ہوئے سیر کی اور پھر سمندر میں ڈبکیاں بھی لیں۔ جدید دور کی ایجاد موبائل فون اور سیلفی سٹک آپ کو اکیلا پن محسوس نہیں ہونے دیتی اور نہ ہی آپ کو تصویر کشی کیلئے کسی کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ آپ اس سٹک کے ذریعے مختلف پوز لے لیکر منہ کو بگاڑ بگاڑ کر لا تعداد تصویریں بنا سکتے ہیں اور سینکڑوں تصاویر میں سے صرف چند تصاویر ہی قابل ذخیرہ ہوتی ہیں باقیوں کو آپ میموری سے بالآخر ختم کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد بدنام زمانہ اور نائٹ لائف کا مرکز واکنگ سٹریٹ کا نہ چاہتے ہوئے بھی چکر لگایا گویا کہ صحافتی یعنی جاننے کا جنون پھر پیش نظر تھا۔ یہ گلی کلبوں، مہ خانوں، جواء خانوں، مساج سنٹرز، قحبہ خانوں ہوٹلز اور ریستورانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ دن بھر سنسان رہنے والی اس گلی میں رات کو تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی۔ یہ گلی بغیر کسی تمیز اور رنگ و نسل کے مرد اور عورتیں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے اور پولیس ان تمام غیر اخلاقی مگر ان کے ملک کے قانون کے مطابق جائز کاموں کو باقاعدہ پروٹیکشن دے رہی ہوتی ہے۔ واکنگ سٹریٹ کے رات بھر کے جلوئوں سے فارغ ہوکر پانچ منٹ کے پیدل سفر کے بعد ہوٹل واپسی ہوئی اور پھر تھکاوٹ سے چور جسم کو تو بس بستر کی ضرورت تھی۔

اگلے روز پتایا سے بذریعہ کشتی کون لارن جزیرہ جانے کیلئے دن دس بجے روانگی ہوئی۔ کون لارن بھی مختلف بیچز پر مشتمل ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ ایک ٹورسٹ ایجنٹ جو پتایا بیچ پر موجود تھا سے آٹھ سو بھات کا پیکج لیا جس میں کون لارن کے راستے میں بوٹ پیراشوٹنگ اور کون لارن تک جانا اور واپسی شامل تھی۔شروع میں یہ ایجنٹ آپ سے پندرہ سو سے دو ہزار تک ڈیمانڈ کرتے ہیں مگر بعد میں سات آٹھ سو بھات تک با آسانی مان جاتے ہیں۔ کشتی کے ذریعے پتایا سے ایک تیرتے ہوئے گرائونڈ پر لایا گیا اور وہاں پر تمام سیفٹی کے ساتھ کھلی ہوئی پیراشوٹ کو مضبوط رسے سے کشتی سے باندھ دیا گیا اور جب کشتی پانی میں تیرنے لگتی ہے تو آپ پیرا شوٹ اور کشتی کے درمیان ہوا میں معلق ہو جاتے ہیں۔ دس منٹ کے بعد بڑی مہارت سے آپ کو اسی گرائونڈ پر لینڈ کروا دیا جاتا ہے عملہ تنگ گرائونڈ پر آپ کو آگے سے سنبھال لیتا ہے تاکہ آپ گر نہ جائیں اور اس دوران کمپنی کا ایک پروفیشنل فوٹوگرافر آپ کے یادگار لمحات کی تصویر کشی بھی کر رہا ہوتا ہے جو بعد میں آپ اس سے خرید سکتے ہیں۔

اس ایونٹ کے بعد پھر کشتی یا شپ کے ذریعے کون لارن جزیرہ پر لیجایا گیا۔ کون لارن ناپن پئیر، تھایائے، تھانگ لانگ، تھاوین اور سمائے بیچز پر مشتمل جزیرہ ہے۔ کشتی نے ناپن پئیر بیچ پر اتارا اور بلاشہ یہ صاف ستھرا، سفید ریت اور سبز مائل پانی سے بنا قدرتی بیچ دیکھنے کے قابل ہے بلاشبہ انسان قدرت کے اس اور دیگر شاہکاروں کو دیکھ کر محو حیرت ہو جاتا ہے۔ بیچ پر زیادہ تر چائینز خواتین و حضرات سن باتھ اور پانی میں نہانے سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ٹورازم کمپنیوں کے ذریعے مختلف رنگوں کی نشاندہی کرنے والی جھنڈیوں کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے اپنے امیر (گائیڈ) کو فالو کرتے ہیں۔ اس عمل کا مقصد اپنے گروپ سے علیحدگی سے بچنا، چائینیز زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان سے ناواقفیت اور وقت کی بچت ہے۔ کونلارن پر دیگر ریستورانوں کے علاوہ بہت بڑا چائینیز ریستوران بھی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد سیاح فوڈ انجوائے کر رہے ہوتے ہیں۔

پتایا میں ٹکٹک کے علاوہ سستی موٹر سائیکل ٹیکسی جسے مرد و خواتین ڈرائیور چلا رہے ہوتے ہیں بھی بآسانی دستیاب ہوتی ہے جسے آپ ڈیڑھ دوسو بھات کیلئے چوبیس گھنٹے کیلئے موثر لائیسنس دکھا اور سیکیورٹی رقم کے عوض حاصل کر سکتے ہیں۔ کونلارن کے ایک اور بیچ سمائے کیلئے موٹر سائیکل ٹیکسی سو بھات میں لی۔ سمائے بیچ بھی انتہائی خوبصورت تھا اس بیچ پر چائینیز سیاحوں کے بے ہنگم رش کے برعکس میں ایک پاکستانی اور دیگر تمام یورپیین اور امریکن سیاح موجود تھے جو شراب نوشی اور سن باتھنگ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ دو گھنٹے سیر اور سی فوڈ رائس لنچ کے بعد کون لارن سے پتایا کیلئے کشتی پر شام واپسی ہوئی۔

اگلی صبح اپنے ہوٹل سے پر تکلف اعزازی ناشتہ کیا تاکہ انرجی سے بھرپور دن گزرے اور پھر زیر زمین سمندی پارک (انڈر واٹر ورلڈ پتایا) بذریعہ ٹیکسی روانگی ہوئی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے مجھے گاڑی میں ہی رکنے کا کہا اور دو سو بھات کا ٹکٹ خرید کر لایا۔ یہ ٹکٹ لوکل سیاحوں کیلئے ایک سو جبکہ غیر ملکیوں کیلئے دو سو بھات کا ملتا ہے اگر آپ ڈرائیورز کے ذریعے خریدیں تو شاید ان کو کچھ کمیشن ملتا ہے۔ اگر آپ خود بھی خریدنا چاہیں تو دو سو بھات کا ہی ملے گا چنانچہ بجائے لائن میں لگنے کے آپ ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے ہی ٹکٹ خرید لیں تو کوئی حرج نہیں۔ اس پارک میں وہیل سے لیکر جیلی فش، مختلف اقسام کے سانپ اور دیگر جانور موجود تھے گائیڈز آپ کو ان جانوروں بارے معلومات فراہم کرتے ہیں اور اپنے کیمرے سے آپکی تصویریں بھی بناتے ہیں جو آپ ٹور کے اختتام پر فریم شدہ تصویر ایگزٹ گیٹ سے خرید سکتے ہیں۔
تین چار گھنٹے یہاں گزارنے کے بعد پتایا فلوٹنگ مارکیٹ کیلئے جانا ہوا۔ یہ مارکیٹ قدرتی مناظر سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کیلئے قابل دید ہے جس کے اندر سمندری پانی کو داخل کر کے ندی کی صورت دی گئی ہے، خوبصورت لکڑی کی عمارتوں اور پانی کے اندر پھول بھی اگائے گئے ہیں۔ اور اس کی بھی انٹری فیس ہے جس کا ایک سو بیس بھات کے قریب ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے۔

یہ مین میڈ لکڑی سے بنی ہوئی مارکیٹ ہے جس میں تھائی دکاندار کشتیوں پر اور لکڑی سے بنی ہوئی مختلف اقسام کی دکانوں میں اپنی مصنوعات کو فروخت کرتے ہیں۔ اس مارکیٹ کے بیچوں بیچ میں ایک محبت پل بھی ہے جس پر پریمی جوڑے اپنی محبت کی طوالت اور لمبے عرصے تک چلنے والے تعلق کیلئے منت کے طور پر مختلف رنگوں کے تالے لگاتے ہیں۔ مارکیٹ میں تازہ ناریل پانی پیا اورتازہ ناریل سے بنی مزیدار آئس کریم بھی کھائی۔ ہوٹل کیلئے واپسی پر انڈین ریستوران سے دو سو بھات سے پنجابی تڑکے والی لذیذ دال روٹی کھائی اور کمرے میں چند گھنٹے کے آرام کے بعد ہوٹل کے سوئمنگ پول میں تھکاوٹ کو دور کرنے کیلئے دو گھنٹے تک تیراکی کی۔ یاد رہے تیراکی آپ کی تھکاوٹ اتارنے کیلئے ایک بہترین عمل ہے اور آپ کو مختلف ممالک کے سیاحوں سے دوستی اور واقفیت میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس جگہ پر میری ایک روسی خاتون اور دو بھارتی سیاحوں سے خوشگوار بات چیت کا سلسلہ اس ہوٹل میں قیام تک رہا۔

پتایا میں یادگار قیام کے بعد بنکاک واپسی کیلئے پبلک بس جو کہ نانا چوک تک آتی ہے میں سوار ہوا جو بنکاک میں میرے بک شدہ ہوٹل اون ایٹ سے صرف پانچ سو فٹ دوری پر واقع بس سٹیشن پر رکی۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پتایا سے بنکاک شہر یا ائیرپورٹ کیلئے آپ کو مہنگی ٹیکسی لینے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ مختلف دو بسوں کیونکہ ان کے روٹس الگ الگ ہیں کے ذریعے واپس آسکتے ہیں۔ مزید برآں بنکاک کی گہما گہمی اور نائٹ لائف انجوائے کرنے کیلئے نانا سیکوئر (چوک) بہترین آپشن ہے چنانچہ میں نے بھی اچھی طرح سٹڈی اور جانچ کے بعد اون ایٹ ہوٹل کا انتخاب کیا جو کہ بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔ یہ ہوٹل مین روڈ پر نانا سکائی ٹرین، پتایا سے آنے والی بس کے سٹیشن کے عقب میں واقع تھا تو اسی لئے مجھے شہر میں گھومنے پھرنے کیلئے کسی بھی قسم کی دقت اور ٹریفک جام سے چھٹکارا مل گیا۔

ہوٹل میں چیک ان کرنے کے بعد کچھ لمحہ آرام کیا اور سستی ترین شاید پاکستان سے بھی سستی شاپنگ کیلئے اندر مارکیٹ کیلئے نکل پڑا۔ پچاس بھات کی ٹیکسی لی اور ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ ٹریفک جام کی وجہ سے دو گھنٹے میں طے کرنے پر احساس ہوا ہے اس سے بہتر تھا پندرہ بیس منٹ میں پیدل آجاتا اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان تجربات سے سیکھتا ہے۔ اس مارکیٹ میں زیادہ تر دکاندار انڈین ہیں اور اسی وجہ سے زیادہ تر انڈین اور پاکستانی سیاح اسی مارکیٹ سے خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ اردو میں ان سے ریٹ پر بحث بھی کرسکتے ہیں اور معقول داموں اچھی چیز خرید سکتے ہیں۔ یہاں پر الیکٹرانکس، موبائل فون، کھلونے، گارمنٹس، جیولری، بیس بھات سیل شاپس، فوڈ کورٹ اور مختلف برانڈز کے کپڑے اور جوتے سستے داموں میں خریدے جاسکتے ہیں۔

سیکیورٹی و سڑکوں کی حالت کو بہتر، بہترین ہوٹلز کی تعمیر اور انہیں ویب ڈیٹا سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کے نظام کو سو فیصد ٹھیک کر دی اجائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہم سیاحت کے ذریعے اچھی خاصی کمائی کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف ملک معاشی لحاظ سے ترقی کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا مثبت امیج بھی اجاگر ہو گا

شاپنگ کے بعد چونکہ پیدل واپسی کی ٹھان لی تھی چنانچہ مختلف شاپنگ مالز سے مزید شاپنگ کرتے کراتے واپس ہوٹل پہنچ گیا۔ سال 2016 کے اعداوشمار کے مطابق 21.47 ملین غیر ملکی سیاح سیر کی غرض سے بنکاک آئے۔ تھائی لینڈ کی معیشت سیاحت پر چلتی ہے۔جبکہ پاکستان میں بے شمار قدرتی مقامات اور بہترین موسم کے باوجود حکومت سیاحت پر خاطرخواہ توجہ نہیں دے رہی۔اگر سیکیورٹی و سڑکوں کی حالت کو بہتر،بہترین ہوٹلز کی تعمیر اور انہیں ویب ڈیٹا سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ صفائی کے نظام کو سو فیصد ٹھیک کر دی اجائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہم سیاحت کے ذریعے اچھی خاصی کمائی کرسکتے ہیں۔ان اقدامات سے نہ صرف ملک معاشی لحاظ سے ترقی کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا مثبت امیج بھی اجاگر ہو گا۔ بنکاک شہر کی بھیڑ بھاڑ اور ٹریفک جام، شور و غل سے بچنے کیلئے میں زیادہ دن نہیں رکنا چاہتا تھا چنانچہ اگلے روز صبح تین بجے پندرہ سو بھات کی ٹیکسی لیکر فجی جانے کیلئے کیلئے سورنا بھومی ائیرپورٹ پہنچا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: