سوشل میڈیا دنیا بدل رہا ہے: ثنا غوری

0
  • 150
    Shares

سوشل میڈیا یا ابلاغ عامہ کا ہماری زندگی میں کیا کردار ہے؟ یہ ہماری سوچ کو کیسے بدلتا ہے؟ اس سے ہم کیا حاصل کرتے ہیں اور اس سے کیا کیا حاصل کیا جا سکتا ہے؟ اسے استعمال کرنے کے کیا آداب ہیں؟ یہ کس طرح ہمارے لئے انتہائی مفید یا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے؟

دانش آج سے “سوشل میڈیا کی دنیا” کے نام سے ایک سیریز شروع کر رہا ہے، جس میں ہم مختلف مضامین کے ذریعے ان سوالات کے جواب معلوم کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں پہلا مضمون پیش خدمت ہے ثناء غوری کے قلم سے۔


سوشل میڈیا دنیا بدل رہا ہے۔
صحت سے سیاست تک سماجی ویب سائٹس کے گہرے اثرات۔
سوشل ویب سائٹس زندگی کے کن شعبوں میں کیا تبدیلیاں لاچکی ہیں اور لارہی ہیں۔

دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس استعمال کرتے ہیں ور یہ تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2018 تک 2.44 بلین افراد مختلف سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز استعمال کررہے ہوں گے۔

سماجی ویب سائٹس کو محض کسی ایک ضرورت کے تحت استعمال نہیں کیا جارہا، بل کہ ہم اپنی زندگی کے ہر گوشے کی ضروریات اور تسکین کے لیے ان سائٹس سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ دائرہ ذاتی تعلقات سے تفریح و شغل، پیشہ ورانہ ضروریات اور تعلیم سمیت ہر شعبے تک محیط ہے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ سے ہماری وابستگی اور ان سائٹس پر ہماری مصروفیات کا اندازہ ان اعداد و شمار سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ فیس بک پر یوزرز ہر ایک منٹ کے اندر 30 ملین پیغامات ایک دوسرے کے ان باکس میں بھیجتے ہیں، جب کہ ہر منٹ کے دوران ٹوئٹر پر 3 لاکھ 50 ہزار ٹوئٹس کیے جاتے ہیں۔
سماجی میڈیا سے ہماری یہ بڑھتی ہوئی محبت اور فروغ پاتا تعلق صرف ہمارے کمیونیکشن کے راستوں ہی کو تبدیل نہیں کر رہا بل کہ یہ ہماری زندگی کے ہر شعبے میں بدلائو لارہاہے، پاکستان میں تو خیر ابھی انٹرنیٹ اور سماجی میڈیا اتنے موثر نہیں ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے ملک میں اس میڈیا کے اثرات بڑھتے جارہے ہیں تاہم دنیا میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس سے لوگوں کا تعلق تجارت، حکم رانی اور سماجی زندگی میں تبدیلیاں لارہا ہے اور یہ سب بہت تیز رفتاری کے ساتھ وقوع پذیر ہورہا ہے۔

سوشل میڈیا کے ماہرین، تجزیہ کاروں اور ماہرین سماجیات نے دنیا میں سماجی نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کے بڑھے ہوئے اثر و رسوخ اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے فروغ پاتے اثرات کے حوالے سے کچھ مشاہدات پیش کیے اور پیش گوئیاں کی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ سماجی میڈیا کس طرح دنیا میں تبدیلیاں لارہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں کیا ہیں اور کن شعبوں میں رونما ہورہی ہیں۔

٭… صنعت، تجارت کی دنیا میں:
مختلف ممالک میں صنعت و تجارت کی دنیا میں سماجی نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز تجارتی حکمت عملی کے لیے ایک بنیادی اور ضروری آلہ بن چکے ہیں۔

مغربی ممالک میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا سفر نیوز روم، یعنی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے شعبے سے شروع ہوا۔ ڈیجیٹل جرنلزم سے وابستہ ماہر Claire Wardle کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ صرف سات سال کے اندر نیوز روم کو سوشل میڈیا نے مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔ بہت جلد سوشل میڈیا سے وابستہ ٹیمیں وجود میں آگئیں اور سماجی میڈیا سے متعلق مہارت نہ رکھنے والے افراد کا فقدان میڈیا کے کسی بھی ادارے کے لیے ایک خلا بن گیا، پاکستان میں بھی اب اکثر بڑے میڈیا اداروں کا اپنا اپنا سوشل میڈیا کا شعبہ ہے اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کے ذریعے خبریں حاصل کرنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

اسی رجحان کے تحت صنعت و تجارت کے دیگر شعبوں میں بھی سوشل میڈیا کی ضرورت اور استعمال فروغ پذیر ہے، یہ استعمال عمومی طور پر ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور کسٹمر سروس کمیونیکشن چینلز کے ذریعے ہورہا ہے۔

٭ سماجی میڈیا کے پلیٹ فارم مستقبل کے بینک:
تصور کریں کہ آپ مالی معاملات کے لیے بینک جانے کے بہ جائے اس قابل ہوجائیں کہ کرایہ دینے یا کسی انویسٹمنٹ کے لیے اپنی پسندیدہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ کی مدد لے سکیں یہ اب بہت زیادہ دور نہیں سوشل میڈیا کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا مختلف طریقوں سے بینکنگ کے تعلقات کی نہایت نمایاں طور پر تشکیل کررہاہے۔ تشکیل نو کا یہ سلسلہ کسٹمر سروس کی بہتری سے یوزرز کو اپنے پیسے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھیجنے کی سہولت تک دراز ہے۔

نئی مالیاتی ٹیکنالوجی کمپنیاں سوشل میڈیا کو بینکنگ کی سہولت کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ یہ وہ سہولت فراہم کرتی ہیں کہ لوگ بہت سادہ طریقے پر عمل کرتے ہوئے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے اپنے بینک اکائونٹ کھولیں۔ یہاں تک کہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم قرضوں کے حصول میں بھی معاون کا کردار ادا کررہے ہیں۔ تاہم اب بھی سیکیورٹی کے معیار اور صارفین کو ذاتی تفصیلات کی فراہمی پر رضامند کرنا چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ پیش گوئی ہے کہ بینک سوشل میڈیا کے حوالے سے اپنی قابل اعتبار پالیسیاں سامنے لائیں گے۔

٭… صحت کا شعبہ:
دنیا میں صحت کا شعبہ سوشل میڈیا کا بہت موثر طریقے سے استعمال کررہا ہے جس کے باعث صحت کے شعبے کا کام میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ صحت کے شعبے میں سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز کا استعمال مختلف طریقوں سے ہورہا ہے جیسے سماجی ویب سائٹ پر حفظان صحت کی مہمات چلاکر لوگوں کو مختلف بیماریوں سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے اور ورچوئل ڈاکٹر اسکائپ پر وزٹ کرکے لوگوں کو صحت سے متعلق مشورے دیتے اور دوائیں اور علاج تجویز کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا مختلف امراض میں مبتلا لوگوں کی اس طرح بھی مدد کررہا ہے کہ صحت کے مشترکہ مسائل کا شکار افراد سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر گروپس کی صورت میں ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہوئے اپنے مرض کے علاج کے بارے میں ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کرتے اور ایک دوسرے کی معلومات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سوشل میڈیا سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ سماجی ویب سائٹس نے صحت کے حوالے سے ہماری زندگیوں میں جو بنیادی تبدیلی لائی ہیں وہ یہ ہے کہ ان کی وجہ سے لوگوں کی امراض اور علاج سے متعلق معلومات تک رسائی بہت آسان ہوگئی ہے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد تیزی کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کے قابل ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا صحت سے متعلق سرکاری اداروں اور طب کے ماہرین کی جانب سے دی گئی اہم معلومات شیئر کرتا ہے، جو بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ایسا خاص طور پر اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بیماری پھوٹ پڑتی ہے، جس سے بہت بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور مزید لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

تاہم اس صورت حال کا منفی پہلو بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر وہ لوگ بھی جن کا صحت کے شعبے سے دور دور کا واسطہ نہیں اتنی ہی تیزی سے معلومات شیئر کرتے ہیں جتنی سرعت کے ساتھ متعلقہ ادارے کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے صحت سے متعلق اداروں کو غلط اطلاعات کے انسداد اور صحیح معلومات سامنے لانے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔

٭… بدل رہے ہیں انداز حکم رانی کے:
خیر ہمارے ملک میں تو معاملات ہی دوسرے ہیں، لیکن دنیا کے بہت سے ممالک میں سماجی میڈیا کی وجہ سے شہریوں کی حکومتی معاملات میں حصہ داری نے نیا روپ دھارا ہے۔ سماجی ویب سائٹس نے لوگوں کو یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ آئیڈیاز اور منصوبے فراہم کریں یہ سب سوشل میڈیا کی بہ دولت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا کے وسیلے سے یہ شفاف حکومت کے قیام کے لیے نئے لیڈروں کا سامنے آنا ممکن ہوگیا ہے کیونکہ اب ایسے لیڈروں کے لیے جو دیانت اور صلاحیت کے حامل ہوں لوگوں سے رابطے میں رہنا اور اپنی بات ان تک پہنچانا سماجی میڈیا کی وجہ سے بہت آسان ہوگیا ہے۔ دوسری طرف سیاست دان اور حکومتی افسران سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے رابطے میں رہتے ہوئے حکومتی اقدامات کے حوالے سے ان کی رائے اور تجاویز بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں۔

جب تک سوشل میڈیا کا ظہور نہیں ہوا تھا حکومتیں اور روایتی میڈیا معلومات کے لیے گیٹ کیپر کی حیثیت رکھتے تھے۔ یعنی وہ جو معلومات چاہتے سامنے لاتے اور جو سامنے نہ لانا چاہتے اسے روک لیتے، لیکن اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بہ دولت لوگ وہ خبریں اور معلومات سامنے لے آتے ہیں جنھیں حکومتیں اور روایتی میڈیا چھپانا چاہتے ہیں۔ یوں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو اپنا وسیلہ بناکر عام لوگ حکومتوں اور روایتی میڈیا کے اطلاعات اور خبروں پر اختیار کو چیلنج کررہے ہیں، وکی لیکس اور دہشت گرد تنظیم داعش کا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات اور معلومات لوگوں تک پہنچانا اس صورت حال کے حوالے سے ایک اہم مثال ہے۔

٭ آفات میں مددگار
دہشت گردی کے واقعات ہوں، جان لیوا حادثات یا قدرتی آفات، اسد ضمن میں سماجی میڈیا اپنا موثر کردار ادا کررہا ہے۔ اس حوالے سے فیس بک کا آپشن ’’سیفٹی چیک‘‘ بہت اچھی مثال ہے، اس آپشن کی مدد سے ان علاقوں کے لوگ جہاں کوئی دہشت گردی کا بڑا واقعہ یا حادثہ ہوا ہو یا قدرتی آفت آئی ہو اپنے بارے میں بتاسکتے ہیں کہ وہ محفوظ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہم نے بار بار دیکھا ہے کہ دہشت گردی کے کسی بڑے واقعے، بڑے پیمانے پر ہونے والے کسی حادثے اور کسی تباہ کن قدرتی آفت کی صورت میں سماجی میڈیا نے کس طرح متاثرین کی مدد اور مشکل میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے کا ذریعہ بنا۔

سماجی میڈیا کا یہ مددگار رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جوں ہی لوگوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا واقعہ یا ان کی جان جانے کا خطرہ سامنے آتا ہے، سوشل میڈیا سے وابستہ افراد سماجی نیٹ ورکنگ سائٹ پر لاگ آن ہوجاتے ہیں۔ افراد اور امدادی ٹیمیں فوراً مدد پہنچانے کا سلسلہ شروع کردیتی ہیں، یہ افراد اور ٹیمیں اپنا وقت، اپنی تیکنیکی صلاحیتیں، اپنے ذاتی نیٹ ورکس کو جانے بچانے کے لیے کار آمد معلومات کی فراہمی میں استعمال کرتے ہیں، ان ڈیجیٹل انسان دوستوں کی وجہ سے دنیا میں ڈیزاسٹر رسپانس کے حوالے سے فاصلے اور وقت کی خلیج کو کم کرنے میں مدد مل رہی ہے اور اس مدد کا دائرہ وقت کے ساتھ ساتھ وسیع ہوتا جارہا ہے۔

دنیا کے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے میں معاون:
سماجی میڈیا دنیا کو درپیش بہت سے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے میں انسانیت کی مدد کررہا ہے، مدد کا یہ دائرہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام سے ماحولیاتی تبدیلی کی آگاہی فراہم کرنے تک وسیع ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ممالک کی صورتحال، جسے ’’عرب اسپرنگ‘‘ کا نام دیا گیا اور یہ بہار عرب ممالک میں انتشار اور تباہی کے سوا کچھ نہ لاسکی، کو سوشل میڈیا کے اثرات کے نمایاں مثال قرار دیا جاسکتا ہے۔ تاہم سماجی میڈیا کا یہ کردار سیاسی ایکٹیوسٹس کو پلیٹ فارم مہیا کرکے ایک دوسرے کے قریب لانے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سوشل میڈیا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں ویڈیوز، تصاویر اور تحریری مواد سامنے لایا جاتا ہے، متعلقہ ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ویڈیوز اور تصاویر نہ صرف انسانی حقوق سے انحراف کی بابت حقائق سامنے لاکر عالمی رائے عامہ کو ان جرائم کے خلاف بولنے پر اکساتی ہیں بل کہ ایک وقت آئے گا کہ ویڈیوز اور تصاویر عدالت میں ثبوت کا کام انجام دیں گی۔

اسی طرح سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا کو درپیش ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے سرگرم یکساں سوچ کے حامل افراد کو ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہوئے جدوجہد کرنے کا موقع ملا ہے۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا ایک ایسا اہم اور موثر آلہ بن گیا ہے جس کی مدد سے لوگ حکومتوں اور کارپوریشنز کے ماحول کے لیے تباہ کن اقدامات پر احتجاج کرنے اور اپنا پیغام عام کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو مقامی سطح پر ہونے والی ماحولیاتی تباہی کو عالم گیر سطح پر دیکھنے، سمجھنے اور صورت حال کے مجموعی اثرات اور وجوہات کو جاننے کا موقع بھی ملا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: