جنوبی ایشیا تبدیلی کی دہلیز پر : جبران عباسی

0
  • 1
    Share

جنوبی ایشیا کی سیاست میں تیزی سے تبیلیاں رہ نما ہو رہی ہیں۔ پرانے اتحادی ٹوٹ رہے ہیں، نئی صف بندیاں جاری ہیں۔

ایشیا پالیسی میں ٹرمپ انتظامیہ کے دو مقاصد ہیں
اولاً امریکہ کی سیاسی، معاشی ناکامیوں جیسا کہ افغانسان جنگ میں ٹریلین ڈالرز جھونک کر بھی مطلوبہ ہداف کے حصول میں سخت ناکامی کا ازالہ، دوم اس خطے کی سیاست میں کولڈ وار جیسی دوبارہ دخل اندازی تاکہ چائنہ اور اس کے ابھرتے اتحادی جیسا کہ پاکستان، سنڑل ایشیا کی ریاستیں، چین روس کی ہم آہنگی اور معاشی و سیاسی مفادات کو مزید پھیلنے اور بین القوامی سیاست میں اس نئے’’ ابھرتے‘‘ ردعمل کو وقت سے پہلے ہی غیر موثر کر دینا۔

ایک بات واضح ہے یہ نیا اتحاد ملڑی اور سیاسی لحاظ سے مضبوط پوزیشن میں ہے چونکہ یہ امریکہ سامراجیت کا ایک ردعمل ہے تو ماہرین متوقع ہیں یہ اتحاد اگرچہ مکمل طور پر کامیاب نہی دکھای دیتا مگر اس کے نتیجے میں خطے میں کئی مثبت تبدیلیاں متوقع ہیں جیسا کہ امریکہ کی خطے کے معاملات میں حد سے زیادہ معاشی اور سیاسی بدمعاشی کمی ہو سکتی ہے۔

ایسے میں خاص کر جنوبی ایشیا بالخصوص چین کے پڑوسی انڈیا کا کردار بھی خاصا اہم ہے کیونکہ وہ اس خطے کی ایک اہم اقتصادی اور نیوکلیر پاور ملک ہے۔

انڈیا جو ماضی میں روس اور امریکہ کی دونوں کشتیوں میں سوار تھا اب مودی ڈاکٹرائن جانبدرانہ طور پر امریکہ کو خطے میں دخل اندازی کو سپورٹ کر رہی ہے۔

نئی دلی کسی ’’ریجنل اتحاد‘‘ کی سازشی تھیوریوں کا حصہ بننے کے بجائے ’’روشن خیال‘‘ اور ’’ترقی پسند‘‘ ساتھی کا انتخاب کر رہا ہے اگرچہ اس کو باور ہونا چاہیے “neighbourhood never change” اور امریکہ پڑوسی نہی۔

ٹرمپ حکومت اسلام آباد سے بہت زیادہ نالاں ہے ، پاکستان کی وفاداریاں امریکہ کیلئے ہمیشہ مشکوک رہیں، بقول امریکن تحزیہ کار جان میکن ’’ پاکستان کی نظر ہمیشہ امریکہ کے جدید ہتھیاروں پر رہی کسی بھی اہم موقع پر جیسا کہ سرد جنگ ، افغان وار ہتھیاروں کے حصول میں بہت شدت آئی ‘‘۔

ایک تاثر یہ بھی ہے پاکستان سے مایوسی نے امریکہ کا انڈیا کی طرف جھکائو میں اضافہ کیا اور امریکہ نے انڈیا کو افغانستان کے ری سٹکچر کے پراسس میں مدد دینے کی دعوت دی۔ ایسا کچھ حد تک تو صحیح تو ہے مگر مکمل حقیقت نہی۔

دراصل ماضی میں بھی امریکہ کو ایشیا میں ایک مضبوط ’’دوست‘‘ کی ضرورت تھی جو بہترین واچ ڈاگ بنے اور انڈیا سے بہتر کوی نہی مل سکتا تھا مگر افغان وار میں پاکستان کی سپورٹ ضروری تھی کیونکہ اس خطے میں نائن الیون کے بعد افغان وار کی کامیابی امریکہ کی پہلی آزمائش تھی جو پاکستان کے تعاون کے بغیر ناممکن تھی جب کہ اب ایشیا انٹرسٹ میں نئے ابھرتے ہوئے بلاک جس کی سرپرستی چائنہ کر رہا ہے کو کاوںٹر کرنا ہے اور یہ انڈیا کے سیاسی اور سفارتی تعاون کے بغیر ممکن نہی۔

چاہنہ کی بڑھتی ہوی اقتصادی طاقت عالمی سطح پر امریکہ اور علاقی سطح پر انڈیا کیلئے بہت پریشان کن ہے، بالخصوص ون بیلٹ ون روڈ پر امریکہ انتظامیہ بہت مایوس ہے کیونکہ یہ خطے کے بہت سے غیر مستحکم ممالک کو استحکام کی طرف لے جا رہی ہے جو بدلے میں امریکی مفادات کو بہت تیزی سے اور موثر نقصان پہنچائیں گے۔

امریکہ کی پالیسی ’’ علاقای انتہا پسندی کو فروغ دو، اسلحہ بیچو ، اپنی سپرمیسی کو استحکام دو‘‘ نے بہت عزت، شہرت اور دولت کما لی ہے۔

اب اگر ٹرمپ انتظامیہ ’’گریٹ امریکہ اگین‘‘ کی سنجیدہ کوششوں میں ہیں تو انھیں ایشیا کی بہت سی نئی ابھرتی قوتوں کو بھی شاملِ اقتدار کرنا پڑے گا مگر ایسا صرف سوچا جا سکتا ہے، خاص کر ڈونلڈ ٹرمپ جو ’’ٹویٹ بم ‘‘ سے ایک نیوکلر پاور ملک کو مضحکہ خیز انداز میں ڈرانے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔

اتحادیوں کی تحریکیں ہمیشہ کامیاب رہیں ، جنگ عظیم میں بھی دو اتحادی گروپ لڑے اور طاقتور جیتا، اب اس خطے میں بھی ایسا ہی ایک گروپ بن رہا ہے مگر یہ ملڑی الائنس نہی بلکہ ایک معاشی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

یہ اتحاد ابھی تک غیر واضح ہے، بہت سے ملک اس کا باقاعدہ حصہ نہی، خاص کر سنڑل ایشن سٹیٹ کی معشیت پر امریکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مضبوط کنڑول ہے۔مگر ون روڈ ون بیلٹ روڈ کا ایک بڑا حصہ وہیں سے گزرے گا تاکہ یورپ کی مارکیٹ تک چین کی براہ راست رسای ممکن ہو سکے۔

بنیادی طور پر اسکی کمانڈ چین اپنے پاس رکھنا چاہے گا، شھنگای کارپوریشن ایک بہترین فورم ہے۔

پاکستان کی قرضوں میں جھکڑی معشیت کا مضبوط سہارا ’’سی پیک‘‘ ہے ۔ روس کے چین کے ساتھ سیاسی اختلاف ضرور ہیں مگر دشمنی نہی جبکہ امریکہ کے ساتھ معاملہ اسکے برعکس ہے۔

اس پس منظر میں اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان انڈیا کی نسبت زیادہ فائدے میں ہے۔ اگرچہ موجودہ معاشی اشاریے کچھ اتنے اچھے نہی مگر سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان اپنی معشیت کو بہتر بنا سکتا ہے، رہی بات ملکی ترقی کی تو جب تک قرضے، خسارے اور کرپشن موجود ہے تب تک عام آدمی صرف اچھے مستقبل کے خواب دیکھ سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے یہ پانچ سالا دور خارجہ پالیسی کا ناکام ترین دور گزرا وہیں مودی کی سفارتکاری کامیاب ترین رہی۔

ہمارے ہاں خارجہ پالیسیوں کا ایک بڑا حصہ ملڑی کمانڈ سے منظور ہوتا ہے جن کے اپنے مخصوص مقاصد ہیں، ایک حصہ حکومت کی زاتی پسند پر طے ہوتا ہے، بہتر خارجہ پالیسی میں متوازن ہونا لازمی ہے اور اس کا فقدان ہے۔

آج کے فیصلے کل کا نتیجہ ہیں، اتحادی ہوں یا پاکستان سب کو چاہیے اپنے مفادات کو جس حد تک معاشی ترقی اور سفارتی آزادی تک محدود رکھیں گے اتنا ہی مفید ہے بجائے اس کے آج کے اتحادی کل کے دشمن ہوں۔

اگرچہ تلخ حقیقت یہ ہے ایسی صاف نیت بین القوامی سیاست میں ناممکن ہے۔
یہ جو انسانی فطرت ہے ’’سپرمیسی کا خواب سارے فساد کی جڑ یہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: