شریک مطالعہ : نعیم الرحمٰن

0
  • 14
    Shares

پاکستانی معاشرے میں مطالعے کا رحجان کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بہت سے مسائل کی وجہ بھی یہ ہے کہ عوام ادب اور مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ کتابوں کی مہنگائی اور عدم دستیابی بھی بڑی وجہ ہے۔ عوام تک ان کی پسند کی کتب و جرائد کے بارے میں معلومات نہیں پہنچ پاتیں۔ مرحوم حمید اختر اپنے کالموں میں نئی شائع ہونے والی کتابوں کا ذکر کرتے رہتے تھے۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد ایسا کوئی کالم شائع نہیں ہو رہا۔ ظفر اقبال صاحب کبھی کبھار موصولہ کتب کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن ان کے کالم میں محض کتابوں کے نام ہی شائع ہوتے ہیں۔ اگرنثر و شعر کے مختلف موضوعات پر شائع شدہ کتابوں کے بارے میں شائقین کو علم ہوسکے تو کچھ لوگ ضرور ان میں سے بعض اپنے مطلب کی کتب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ قاری جب بھی کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کرتا ہے۔ تو اس کا دل کرتا ہے کہ وہ اس لطف میں کسی کو شامل کرے۔ اسی نکتہ نظر سے ’’شریک مطالعہ‘‘ کے نام سے اس سلسلہ کی تحاریر پڑھ کر کوئی ایک کتاب بھی کسی قاری نے حاصل کی۔ تو میرا مقصد حاصل ہو جائے گا۔

حال ہی میں فاروق عادل کی خاکوں کی کتاب ’’جو صورت نظر آئی‘‘ شائع ہوئی ہے۔ فاروق عادل نے چند سال قبل امریکا کا منفرد سفرنامہ ’’ایک آنکھ میں امریکا‘‘ تحریر کیا تھا۔ جو بہت عمدہ کتاب تھی۔ جو صورت نظر آئی کے دوسو انسٹھ صفحات میں پینتیس خاکے شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کے دلچسپ خاکے لکھے ہیں۔ جن میں بانی پاکستان قائداعظم سے لے کر میاں طفیل محمد، ایئرمارشل اصغرخان، نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو اور دیگر کے خاکے شامل ہیں۔ چند صفحات کی تحریرکا فاروق عادل نے جو عنوان دیا ہے۔ انہیں سے صاحب تحریر کا پر تو نظر آ جاتا ہے۔

معروف ادیب رضا علی عابدی نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریرکیا ہے کہ ’’مقبول اور کم مقبول لوگوں کی زندگی پر لکھنا آسان نہیں۔ قلم جب کاغذ پر چلتا ہے تو حقیقت یہ ہے کہ وہ پل صراط پر چل رہا ہوتا ہے۔ ہر ہر سطر میں آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا امکان نہیں، خطرہ ہوتا ہے۔ فاروق عادل نے بڑی مہارت سے کہیں کسی دل آزاری کا خطرہ مول نہیں لیا۔‘‘

خاکہ نگارکے منفرد اسلوب کی بنا پر قاری پہلی لائن سے ان کی تحریر کی گرفت میں آ جاتا ہے۔ قائداعظم کا خاکہ ’’دوراندیش‘‘ کے نام سے کتاب کے آغاز میں ہے۔ جس میں قائد کی شخصیت کے بعض پہلووں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس خاکے کا ابتدائیہ دیکھیں ’’باراک اوبامہ صدر منتخب ہوئے تو ریاض اینڈی نے انکشاف کیا کہ قائداعظم نے تو یہ پیش گوئی 1948 میں کر دی تھی۔ وہ کیسے؟۔ احباب کو حیرت نے آ لیا، ریاض لحظہ بھر پرُسکون رہا پھر یادوں کو ٹٹولتے ہوئے کہا: قائد اعظم نے فرمایا! ینگ مین!سیاہ فام امریکی پہلے کھیلوں میں نام پیدا کریں گے پھر وہ سیاست پر چھا جائیں گے۔‘‘

تحریک پاکستان کا ایک منفرد کردار مرزا جواد بیگ کا خاکہ ’’نواب موسیٰ کا نواسا‘‘ کے نام سے ہے۔ خاکے کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے ’’ایک شخص ٹرین سے اُترا، تانگے میں بیٹھا اور سیدھا تھانے جا پہنچا، کیا کہ قیدی ہوں، مجھے پکڑ لیجئے۔‘‘ کیا اس جملے کے بعد کوئی قاری خاکہ ادھورا چھوڑ سکتا ہے۔ خاکے میں بانیان پاکستان کے کردار اور شخصیت کھل کر سامنے آتی ہے۔

سابق امیر جماعت اسلامی محترم میاں طفیل محمد کے خاکے کا عنوان ہے۔ ’’درویش‘‘ ۔ سید علی مردان شاہ پیر پگارا مرحوم کو ’’ستارہ شناس‘‘ کا نام دیا۔ ایئر مارشل اصغر خان ’’عمر اصغر کے والد‘‘ پروفیسر غفور احمد کا خاکہ ’’ہر دل عزیز۔‘‘  کے زیر عنوان ہے۔ بیگم نصرت بھٹو کو ’’دکھیاری‘‘ غلام مصطفٰی جتوئی کو ’’بارہواں کھلاڑی۔‘‘  نیر خداداد خان لک کو ’’ڈیرے دار۔‘‘ ترکی کے سربراہ رجب طیب ایردوآن کو ’’صورت گر۔‘‘ اور بے نظیربھٹو کے خاکے کو ’’عملیت پسند۔‘‘ کا نام دیا ہے۔ قاضی حسین احمد کا خاکہ ’’مہم جُو۔ ‘‘ اجمل خٹک کو ’’مارکسی صوفی۔ ‘‘ سردار فاروق احمد خان لغاری کو ’’نرم گرم وڈیرا۔ ‘‘ جاوید ہاشمی کو ’’پروانہ۔ ‘‘ آصف علی زرداری کو ’’مردِاول‘‘ ۔ مشاہداللہ خان کو ’’بھائی جی۔‘‘ شیخ رشید احمد کو ’’کاریگر۔ ‘‘ بشیر احمد بلور کو ’’کالا انگریز۔ ‘‘ الطاف حسین کو ’’عزیز آباد کا پیر۔ ‘‘ جاوید احمد غامدی کو ’’راہرو۔ ‘ اور محمد صلاح الدین کے خاکے کو ’’جانباز۔ ‘‘ کاعنوان دیا گیا ہے۔ صحافی الطاف حسین قریشی ’’جادوگر۔ ‘‘ شاعر و ادیب عطا الحق قاسمی ’’جامع الکمالات۔ ‘‘ ڈاکٹر وزیر آغا ’’صاحب اوراق۔ ‘‘ حکیم محمود احمد سروسہارن پوری ’’گرم دم جستجو۔ ‘‘ جنرل حمید گل ’’حمید رومانی۔ ‘‘ حسین حقانی کو ’’اسٹریٹ اسمارٹ۔ ‘‘ ایئر کموڈور ایم ایم عالم کو ’’شاہین۔ ‘‘ سید ذاکر علی کو ’’خادم قرآن۔ ‘‘ عبدالحمید شیخ کو ’’ بلبلہ۔ ‘‘ اور نعیم اخترخان کو ’’صاحب ِدل۔ ‘‘ مہرحبیب الرحمٰن لک کو ’’ترقی پسند وڈیرا۔‘‘ خالد محمود مرحوم کو ’’معمہ۔ ‘‘ اور عبدالصمد سرکار کا خاکہ ’’بے وطن۔ ‘‘ زیر عنوان ہے۔ اور ان تمام عوانین سے خاکے کا نفس مضمون کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ پانچ سو پچیس روپے کی کتاب قاری کی توجہ شروع سے آخر تک قائم رکھتی ہے۔

محترم راشد حبیب نے کچھ عرصہ قبل نایاب اور اچھی کتابوں کی کم قیمت اشاعت کا بیڑہ اٹھایا تھا۔ اور زندہ کتابیں کے نام سے انہوں نے کئی بہت اچھی، عمدہ اور برسوں سے نایاب کتب شائقین کے ذوقِ مطالعہ کے لئے پیش کیں۔ جن میں مشہور کالم نگار نصراللہ خان کی خاکوں کی کتاب ’’کیا قافلہ جاتا رہا۔ ‘‘ بھی شامل ہے۔ جس کی اشاعت تو کسی کارنامے سے کم نہیں۔ ادارے سے تازہ اشاعت اردو کے مشہور و معروف ادیب اخلاق احمد دہلوی کی آپ بیتی ’’یادوں کاسفر۔ ‘‘ ہے۔ یہ بھی اپنے دور کے معروف ادیب کے نایاب سرگزشت ہے۔ تاہم اس کتاب میں اگلے کتابوں کی اشاعت کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا زندہ کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ یہ ایک بہت اچھا اشاعتی سلسلہ ہے۔ جن کے ذریعے قاری کو گمنام اور نایاب کتب کے مطالعے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس سلسلے کو جاری رہنا چاہئے۔

اقبال نظر کے ادبی جریدے ’’کولاژ‘‘ کا تازہ اور آٹھواں شمارہ بھی حال ہی میں منصہ شہود پر آیا ہے۔ اقبال نظر نے پرچے کا پانچواں شمارہ گلزار نمبر کی صورت شائع کیا تھا۔ یہ منفرد اور بھرپور شمارہ ’’گلزارنامہ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا ہے۔ جو مستقل اہمیت کا حامل ہے۔ گذشتہ سال کولاژ کے دو شمارے چھ اور سات نمبر ایک ساتھ شائع کئے گئے تھے۔ جس کے بعد تازہ شمارے کے بروقت آنے سے کولاژ کی اشاعت میں باقاعدگی آگئی ہے۔ چار سو صفحات کے شمارے کی قیمت پانچ سو روپئے ہے۔ جس میں نظم، نثر، تنقید اور ادب کی دیگر اصناف پر تحریریں شامل ہیں۔ دو ناولوں کے حصے بھی شامل اشاعت ہیں۔ غرض ہر قسم کے قاری کی دلچسپی کاسامنا پرچے میں موجود ہے۔ کولاژ کی مستقل اور باقاعدہ اشاعت کے لئے دعاگو ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: