کاریگر —- شیخ رشید کا تذکرہ، فاروق عادل کے قلم سے

1
  • 57
    Shares

باتیں کرتے کرتے شیخ رشید اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا:
’’آئیے!‘‘۔
ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے لال حویلی کی چھت پر جاپہنچے۔ مجھے لگا جیسے میرے ساتھ کھڑا یہ شخص اچانک چوکھٹ پھلانگ کرنیچے گلی کے کسی گھر میں داخل ہوجائے گا اور کسی بڑی بوڑھی کے گھٹنے کے ساتھ لگ کر بیٹھ جائے گا۔

شیخ صاحب کا حلقہ ٹیرھے میڑھے بازاروں، تنگ گلیوں، اونچے نیچے گھروں اور کوٹھڑیوں پر مشتمل ہے جس میں رہنے والوں کی اکثریت نچلے اور درمیانے درجے کے خاندانوں، دیہاڑی دار مزدوروں اور چھوٹے بڑے تاجروں سے تعلق رکھتی ہے۔ شیخ رشید آنکھوں پر پٹی باندھ کر ان گلی کوچوں میں جانکلیں تو جس سے بھی ٹکرائیں، ان کا جاننے والا ہی نکلے گا۔شاید اس لیے کہ ان ہی گلی کوچوں میں کھیل کود کر وہ بڑے ہوئے، جھگڑے کیے اور دوستیاں بنائیں۔ اُن کا رشتہ لوگوں سے ایسا ہے کہ گالیاں کھا کر بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ ایک بار جب وہ وفاقی وزیر تھے، لال حویلی سے نکلے لیکن اُن کی گاڑی مری روڈ کے ٹریفک میں پھنس گئی، اس سے پہلے کہ ٹریفک پولیس اور حفاظتی دستہ راستہ صاف کر کے ٹریفک کورواں کرتا، زہریلے لہجے میں ڈوبی ہوئی ایک گالی ہوا کی لہروں پر سفر کرتی ہوئی کانوں سے ٹکرائی، جس نے سنا سکتے میں رہ گیا۔ پھر کسی نے کہا:
’’میں ابھی اِسے سبق سکھاتا ہوں‘‘۔
شیخ صاحب نے اپنے فدائی کا یہ ارادہ دیکھا تو کہا:
’’کوئی گل نئیں یار! اے وی کوئی اپنا ہی ہووے گا‘‘ (کوئی بات نہیں یار! یہ بھی کوئی اپنا ہی ہو گا)۔
شیخ صاحب کی معاملہ فہمی نے بات کو بگڑنے سے بچا لیا۔
’’وہ یہاں کھڑا تھا جب اُس نے مجھ سے پوچھا ‘‘۔

شیخ صاحب بولے تو میں بھی یادوں کی دنیا سے باہر آگیا، لال حویلی کی چھت کے ایک طرف اشارہ کر کے انھوں نے امریکی سفیر کا ذکر چھیڑ ا اور بتایا کہ وہ جاننا چاہتا تھا حکومت ختم ہوئی تو عوام کا ردِ عمل کیسا ہوگا۔ اپنی بات مکمل کر کے وہ مسکرائے اور انکشاف کیا:
’’سفارت کار ہوں یا غیر ملکی صحافی، یہ سب لال حویلی کا رُخ اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں رائے عامہ کے مزاج اور فرشتوں(۱) کے موڈ کی خبر بہ یک وقت یہیں سے مل سکتی ہے۔
جملہ مکمل کرکے وہ سانس لینے کے لیے رکے اور ذراسے وقفے کے بعد بات وہیں سے شروع کی جہاں سے سلسلہ ٹوٹا تھا:
’’کیوں کہ میرا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے اورتازہ خبر ہمیشہ میرے پاس ہوتی ہے لہٰذا میرا تجزیہ کبھی غلط نہیں ہوتا‘‘۔
یہی نکتہ میرے ذہن میں تھا جب میں نے انھیں ایک مشورہ دیا، میں اُن دنوں ایک ٹیلی ویژن چینل میں کام کرتا تھا جہاں سیاست دانوں سے میرا رابطہ بہت زیادہ رہتا، ایک بار شیخ صاحب سے بات ہوئی تو میں نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ کالم لکھا کریں، وہ چونک پڑے اور پوچھا:
’’آپ یہ مشورہ مجھے کیوں دے رہے ہیں؟‘‘۔
میں نے کہا:
’’اس لیے کہ عوام سے براہ راست تعلق، جملے بازی کی ایک خاص صنف کے موجد اور خبر کے بیشتر سرچشموں سے قربت کی وجہ سے آپ کی تحریر میں جان پیدا ہو جائے گی اور ضرور پسند کی جائے گی‘‘۔
شیخ صاحب نے میری بات سنی اور کچھ دیر توقف کے بعد کہنے لگے:
َِ’ ’کچھ اخبارات نے مجھے اس کی پیش کش کی مگر میں نے منع کر دیا‘‘۔
’’شیخ صاحب کو اگر ایسی پیش کش ہوئی ہو گی تو انھوں نے اِسے رد کیوں کیا ہو گا؟ یقینا اس کا سبب بے پناہ سیاسی اور بہت سی دیگر مصروفیات رہی ہوں گی‘‘۔
میں نے سوچا، لیکن جب مجھے اُن کی کتاب(۲) کا طرزِ تحریر یاد آیا تو میں اس نتیجے پر پہنچا کہ طلاقتِ لسانی کے مظاہرے اور خامہ فرسائی دو مختلف کام ہیں، کیسے ممکن ہے کہ جہاں دیدہ شیخ رشید یہ فرق جانتے نہ ہوں۔

پاکستانی سیاست کا عوامی انداز بھٹو صاحب کی دین ہے لیکن بازار کے اسلوبِ گفتار کے چلن کا کریڈٹ شیخ صاحب کو جاتا ہے جس کے مظاہروں پر ہمارے جذباتی سیاسی کارکن اور دل جلے عوام لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔

شیخ صاحب صحافی اور سیاست داں کے درمیان رشتے کی نزاکت سے بھی بہ خوبی آگاہ ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اہلِ صحافت کو کس ڈھب سے متاثر کیا جاسکتا ہے۔ ایک بار جب وہ میاں نواز شریف کی کابینہ کے رکن تھے، کراچی آئے، مصروفیت بہت زیادہ تھی، اس لیے خواہش کے باوجود وقت نہ نکال سکے، چناں چہ واپسی کے لیے ایئر پورٹ جاتے ہوئے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا ِ۔ ہلکی پھلکی گفت گو کے دوران میری طرف اشارہ کر کے اپنے ایک ساتھی سے کہنے لگے:
’’اسی جنہوں اپنی گڈی وچ بٹھانے آں، کوئی معمولی بندہ نہیں ہوندا‘‘ (ہم جسے اپنے گاڑی میں بٹھاتے ہیں، کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتا)۔
اس واقعے کے کافی عرصے کے بعد میرا راول پنڈی جانا ہوا، اتفاق سے اُس روز وہ پریس کلب میں مدعو تھے، آصف فاروقی اور میں لان میں بیٹھے تھے کہ شیخ صاحب آپہنچے۔
آصف کہنے لگے کہ ان سے مل لیتے ہیں، مجھے اس پر کچھ تردد تھا، ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ انھوں نے ہمیں دیکھ لیا، لپک کر آئے اور کہا :
’’فاروق صاحب ! تسی ایتھے کیہ کرریئے او؟‘‘ (فاروق صاحب! آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟)۔
پھر بڑی اپنائیت سے مجھے ساتھ لیا اور ہال میں داخل ہوگئے، اسی شب انھوں نے ہمیں کھانے پر مدعوبھی کیا۔کھانے کے دوران ایک عجب واقعہ ہوا۔ شیخ صاحب چاولوں کی بڑی سی مقدار ہتھیلی پر رکھ کر تقریباً پھانکنے کے انداز میں کھانے میں مصروف تھے، میں نے اس طرح کھاتے ہوئے کسی کو پہلی بار دیکھا تھا۔ میری حیرت کو انھوں نے بھانپ لیا، مسکرا کر کہنے لگے کہ ہم کشمیری اسی طرح کھاتے ہیں،پھر کہا :
’’مجھے اس بات کی کبھی پروا نہیں ہوتی کہ کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا‘‘۔
سچ تو یہ ہے کہ شیخ صاحب کھانے کے علاوہ سیاست میں بھی اسی اصول کے قائل ہیں۔

طبقاتی فرق انسان کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے، شیخ صاحب کو اس کا احساس ہمیشہ رہا اور انھوں نے اپنے طبقے کے درمیان رہتے ہوئے بھی طبقہ بدلنے کے لیے جان توڑ محنت کی۔ اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ متوسط طبقے سے اُن کا تعلق کبھی ہوتا تھا مگر اب نہیں ہے۔ یہ بیان اسی جدوجہد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مالی آسودگی کے لیے شیخ صاحب نے کیڑے پالے، ریشم بنایا، اِسے برآمد کر کے روزی کمائی اور اپنے پائوں پر کھڑے ہو گئے مگر یہ سفر اتنا آسان نہ تھا، اس راہ میں انھیں بہت پاپڑ بیلنے پڑے۔ وہ ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا کرتے ہیں،غیر ملکی سفر کے دوران ایک بار انھیں ییلو پیجز کی ضرورت پیش آگئی، شیخ صاحب اس مسافرت میں رقم خرچ کر بیٹھتے تو مشکل ہوجاتی۔
’’تو پھر میں کیا کروں؟‘‘۔
انھوں نے سوچا۔ اسی ادھیڑ بن میں وہ کسی بڑے بزنس ہائوس کی لفٹ میں سوار ہوئے تو منتظمین کی سلیقہ شعاری پر انھیں پیار آگیا۔ تاجروں اور صنعت کاروں کی رہنمائی کرنے والی یہ کتاب لفٹ میںموجود تھی،اردگرد کوئی نہ تھا، لہٰذا موقع غنیمت جان کر شیخ صاحب نے مطلوبہ صفحات پھاڑ کرجیب میں ڈال لیے۔ سیاست کی دنیا میں بھی شیخ صاحب اسی اصول کے قائل ہیں۔

وہ کہا کرتے ہیں کہ جوشخص منہ اندھیرے نہیں اٹھ سکتا، آدھی زندگی ضائع کر دیتا ہے۔یہ واحد خوش نصیب اصول ہے، شیخ صاحب نے جس کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی۔

شیخ صاحب نے اپنے بل بوتے پر سیاست شروع کی ہو گی لیکن پھر حالات بدل گئے۔ ۲۰۰۲ء میں انھیں یہ احساس تو تھا کہ اُن کے حلقے میں میاں نواز شریف اُن سے بڑھ کر مقبول ہیں، لہٰذا یہ انتخاب انھوں نے نواز شریف کے نام پر جیتالیکن اپنے اعلان کے مطابق جیتی ہوئی نشست نواز شریف کے قدموں میں رکھنے کے بجائے جنرل پرویز مشرف کی خدمت میں پیش کر دی۔ اس کے بعد انھوں نے جو الیکشن بھی لڑا، کامیابی یا ناکامی سے قطع نظر اسی ’’ییلو پیج‘‘فارمولے کے تحت لڑا۔ یہاں تک کہ ان کی حکومت مخالف سیاست پر بھی اسی کے اثرات نظر آئے،انھوں نے عمران خان سے طاہر القادری اور طاہر القادری سے پیپلز پارٹی اور یہاں سے عمران خان کے در کی خاک چھانی لیکن مسلسل ناکامی کے باوجود اپنی ضد پر اڑے رہے۔

جنرل مشرف کے زمانے میں انھوں نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا تھا کہ اب صرف ایک الیکشن لڑوں گا پھر گھر بیٹھ جائوں گا، چوک چوراہے کی سیاست کروں گا اور صرف سچ بولوں گا، بعد کے دنوں میں انھیں یہ اعلان یاد رہتا تو ہمارے روایتی بابوں کی طرح وہ اپنے استھان پر اطمینان سے بیٹھتے اور لوگ ’’فیضان‘‘ حاصل کرنے کے لیے اُن کے درِ دولت پر حاضری دیا کرتے۔

یہ بھی پڑھئے: عمراصغر کے والد: فاروق عادل کی تحریر


پاکستانی سیاست کا عوامی انداز بھٹو صاحب کی دین ہے لیکن بازار کے اسلوبِ گفتار کے چلن کا کریڈٹ شیخ صاحب کو جاتا ہے جس کے مظاہروں پر ہمارے جذباتی سیاسی کارکن اور دل جلے عوام لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ بھٹو صاحب پارلیمنٹ میں مختلف تقریر کیا کرتے تھے اور عوامی جلسے میں مختلف، شیخ رشید نے اس فرق کو مٹا ڈالا۔ نوے کی دہائی میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے اختلافات دشمنی تک جاپہنچے تھے، ان کے اظہار کی سب سے بڑی علامت شیخ صاحب تھے۔ وہ بے نظیر اور بھٹو خاندان کو اس طرح آڑے ہاتھوں لیتے کہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔

گرما گرم چٹخارے دار بیان اْن پر شعر کی طرح اترتاہے۔ بھارتی انتہا پسندی کے بارے میں ایک بیان اْن کے اسلوب کی خوب نمائندگی کرتا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں ایک بار بھارتی حملے کا خطرہ پیدا ہوا تو انھوں نے کہا:
’’اگر بھارت نے حملہ کیا تو:
پھر نہ گھاس اُگے گی،
نہ مہندی رچے گی،
نہ مندر میں گھنٹی بجے گی
اور نہ کوئی گنگا نہائے گا‘‘۔
نوے کی دہائی میں غلام اسحق خان نے اسمبلی توڑ ی توانھوں نے بیان دیا:
’’اسمبلی کے ٹوٹنے کا افسوس نہیں، افسوس تو اس بات کا ہے کہ جو شخص اپنے دانت سے اخروٹ تک نہیں توڑ سکتا، اْس نے ایک منتخب ایوان کو توڑ ڈالا‘‘۔

بعض اوقات وہ کچھ ایسا کرتے ہیںکہ ڈرامائی صورت ِ حال پیدا ہو جاتی۔ قومی اسمبلی کے ایک اجلاس کے دوران شیخ صاحب نے سید اقبال حیدر مرحوم ۳؎ کو اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ اُن کی سٹی گم ہو گئی۔ شیخ صاحب کے دل میں جانے کیا آئی کہ اجلاس کے دوران اچانک کھڑے ہو کر الزام لگا دیا کہ اقبال حیدر کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ اقبال حیدر نے لاکھ صفائی پیش کی مگرشیخ صاحب مان کر نہ دیے،ایوان میں ہنگامہ ہو گیا، وقفہ ہوا تو شیخ صاحب کیفے ٹیریا میں چلے گئے، اس دوران اقبال حیدربھی وہیں آگئے، انھوں نے بڑی شائستگی کے ساتھ کہا :
’’شیخ صاحب ! آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں؟‘‘۔
اقبال حیدر کی نرم گفتاری اُن کے کسی کام نہ آئی۔ شیخ صاحب انھیں جواب دینے کے بہ جائے مزید بھڑک اُٹھے، کیفے ٹیریا کے کائونٹر پر پہنچے اور فون اپنی طرف گھسیٹ کر ڈائل سے کھیلتے ہوئے کہنے لگے کہ ابھی لنکنزاِن بات کر کے تمھارا کچاچٹھا کھولتا ہوں۔ یہ واقعہ دیکھا تو میں نے ان کے ایک قریبی دوست سے پوچھا کہ شیخ صاحب کیا واقعی اتنے غصے میں ہوتے ہیں؟ان صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا:
’’ نئیں یار! ایویں ای بنڈل ماردا اے ‘‘ ( نہیں یار ایسے ہی ڈرامہ کرتے رہتے ہیں)۔
شیخ صاحب کی زندگی میں رونما ہونے والے ایسے ’’بنڈلوں‘‘ کی گنتی آسان نہیں۔

شیخ رشید سیاست میں جو مقام حاصل کرنا چاہتے ہوں، ممکن ہے، ابھی انھیں نہ ملا ہو لیکن اْن کا شمار ہماری ورکنگ کلاس کے اُن چند لوگوں میں ہوتاہے جو سیا ست میں نمایاں ہوئے۔ ایوب خان کے عہدِآمریت میں ایک طالب علم رہنما کی حیثیت سے انھوں نے میدانِ سیاست میں قدم رکھا تھاپھر قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہوئے قومی سیاست کا اہم کردار بن گئے۔ شیخ صاحب نے یہ مقام صرف اور صرف محنت سے حاصل کیا۔

وہ منہ اندھیرے بستر سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور آنکھیں ملتے ہوئے گاڑی میں جابیٹھتے ہیں۔ یہ گاڑی انھیں فتح جنگ روڈ پہنچا دیتی ہے جہاں ریشم کے کیڑے پرورش پاتے ہیں اور شیخ صاحب ورزش کرتے ہیں، سیاست کی طرح اُن کی ورزش بھی ذرا مختلف قسم کی ہے وہ کسی ایمان دار مزدور کی طرح زمین کھودتے جاتے ہیں اور پسینے میں تر بہ تر ہو کر زندگی کا لطف اُٹھاتے ہیں۔ سال ہا سال سے اُن کا یہ معمول جاری ہے۔ ورزش کی طرح انھوں نے سیاست بھی پوری ایمانداری سے کی، اَن تھک اور پُر جوش۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ جوشخص منہ اندھیرے نہیں اٹھ سکتا، آدھی زندگی ضائع کر دیتا ہے۔یہ واحد خوش نصیب اصول ہے، شیخ صاحب نے جس کی کبھی خلاف ورزی نہیں کی۔

شیخ صاحب سے گپ شپ کے مواقع مجھے کئی بارملے اورمیری رسائی ان کے بیڈ روم تک بھی ہوئی۔اُن کے سونے کا کمرہ سادہ، کھلا اور دلچسپ تھا۔ شیخ صاحب بے تکلفی سے بسترپر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے اور بے تکان باتیں کرتے۔ اُن کے کمرے کے تین طرف بہت سی الماریاں تھیں جن میں کچھ کے دروازے تھے، کچھ کے نہیں، ان الماریوں میں گتے کے لاتعداد ڈبے اوپر تلے پڑے رہتے۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ یہ سگار کے خالی ڈبے ہیں۔ ان ڈبوں نے الماریوں کاکم از کم دو تہائی حصہ گھیررکھا تھا۔
’’شیخ صاحب! ان خالی ڈبوںمیں دلچسپی کیسی؟‘‘۔
سوال سن کر شیخ رشید مسکرائے اور کہا کہ کوئی وجہ نہیں بس ایسے ہی۔جانے کیا مماثلت ہے، شیخ صاحب کی سیاست کے ذکر پر مجھے ہمیشہ یہ ڈبے یاد آئے، مرتب، خوش نما اور خالی۔


۱۔ شیخ صاحب نے اُس زمانے میں آئی ایس آئی والوں کو فرشتوں کا نام دے رکھا تھا۔

۲۔ شیخ صاحب کی کتاب، فرزندِ پاکستان۔

۳۔ سید اقبال حیدر، پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے قانون، ۱۱؍ نومبر ۲۰۱۲ء کو ان کا انتقال ہو گیا تھا۔


یہ تحریر فاروق عادل کی نئی کتاب ’’جو صورت نظر آئی‘‘ میں بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمد اسحاق on

    افسوس اتنے لفظ ضایع کردیئے آپ نے. کھودا پھاڑ نکلا چوہا والی کہاوت . آپ کیا ثابت کرنا چاھتے ھین اس آرٹیکل سے؟ نھ تو یہ شیخ صاحب نیشنل سیاست دان ھین اور نہ ھی یہ کوئی انٹرنیشنل لیول کے ڈیبیٹر بس الٹے سیدھے بیانات چٹخارے دار باتیں.

Leave A Reply

%d bloggers like this: