تقسیم ہند پر ہونے والی ہجرت کا ریکارڈ : تحقیق محمد عبدہ

0
  • 72
    Shares

برصغیر کی تقسیم پر پاکستان و انڈیا کے درمیان تبادلہ آبادی یا ہجرت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کہی جاتی ہے اور لاکھوں مارے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ ہماری موجودہ نسل کو اس بارے بالکل نہیں پتہ کہ انڈیا سے پاکستان ہجرت کر آنے والے کون ہیں اور کتنے ہیں۔ اس بارے کچھ اعداد و شمار۔ تقسیم کے بعدہونے والی ہجرت دونوں طرف ہوئی تھی۔ انڈیا سے پاکستان اور پاکستان سے انڈیا۔

1951 میں دونوں ممالک نے اعدادوشمار اکٹھے کرکے جاری کیے جس کےمطابق مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگوں نے اپنے گھر چھوڑ کر ہجرت کی۔ 73 لاکھ انڈیا سے پاکستان آئے۔ اس میں 65 لاکھ انڈیا سے مغربی پاکستان اوراور تقریباً 8 لاکھ نے انڈیا سے مشرقی پاکستان ہجرت کی۔ پاکستان سے انڈیا ہجرت کرجانے والوں کی تعداد بھی کم و بیش 72 لاکھ تھی۔ مغربی پاکستان سے انڈیا 47 لاکھ اور مشرقی پاکستان سے انڈیا 26 لاکھ لوگوں نےہجرت کی۔ جب پنجاب تقسیم ہوا تو صرف انڈین پنجاب اور راجپوتانہ علاقوں سے (پنجاب کی ایسی ریاستیں جو خودمختار راجوں کے زیراثر تھیں) پاکستان ہجرت کرنےوالے والوں کی تعداد 57 لاکھ کے قریب تھیں۔ یعنی ٹوٹل مہاجرین کا 80 فیصد صرف انڈین پنجاب سے پاکستانی پنجاب میں آیا۔ امرتسر سے 7 لاکھ 40 ہزار، جالندھر 5 لاکھ 20 بیس ہزار، گورداسپور 5 لاکھ، ہوشیار پور 3 لاکھ 85 پچاسی ہزار، پٹیالہ 3 لاکھ 9 ہزار، کرنال 3 لاکھ 7 ہزار، حصار 2 لاکھ 88 ہزار، لدھیانہ 2 لاکھ 56 ہزار، امبالہ 2 لاکھ 23 ہزار، الور 1 لاکھ 92 ہزار، روہتک 1 لاکھ 83 ہزار، کپور تھلہ 1 لاکھ 72 ہزار، دہلی 91 ہزار، گوڑگاؤں 81 ہزار، فریدکوٹ 67 ہزار، بھارت پور 44 ہزار، نبھا 44 ہزار، جند 42 ہزار، کنگرہ 34 ہزار، شملہ 11 ہزار، مختلف علاقوں سے 68 ہزار لوگ ہجرت کر کے پاکستانی پنجاب آئے۔

یہ سارے اعداد و شمار 1951 تک کے ہیں۔ 1951 سے 1956 کے درمیان میں تقریباً ساڑھے چھ لاکھ مسلمان انڈیا سے ہجرت کرکے مغربی پاکستان آئے۔ جبکہ1961 تک یہ تعداد 8 لاکھ تک ہو چکی تھی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 13 لاکھ مسلمان ایسے ہیں جو ہجرت کے دوران گم ہوگئے۔ وہ مشرقی پنجاب سے چلے مگر پاکستان نہیں پہنچے۔ اور تقریباً 8 لاکھ ہندو و سکھ ایسے تھے جو پاکستان سے نکلے مگر انڈیا نہیں پہنچے۔ اور غالب امکان یہی ہے کہ یہ سب مارے گئے تھے۔ یعنی صرف پنجاب میں ٹوٹل 21 لاکھ لوگ ہجرت کے دوران گم ہوگئے۔ جبکہ بعض دستاویزات کے مطابق یہ تعداد 23 لاکھ سے 32 لاکھ کے درمیان ہیں۔ ہجرت کے دوران مارے جانے والوں کی تعداد بارے زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔ اس تضاد کو تاریخ میں کم از کم اور زیادہ سے زیادہ اندازے سے لکھا جاتا ہے۔ یہ تعداد وائسرائے ماؤنٹ بیٹن کے مطابق 2 لاکھ اور کچھ دستاویزات 20 لاکھ تعداد بتاتی ہیں۔ مغربی پاکستان کے گورنر سر فرانسس نے یہ تعداد 5 لاکھ کہی ہےجبکہ کراچی میں برطانوی ہائی کمشنر کے مطابق مجموعی طور پر 8 لاکھ لوگ مارے گئے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ہجرت کے دوران گم ہونے والے ہی مارے گئے افراد ہیں۔

نہرو کا 22 اگست کو ایک خط قابل زکر ہے جس میں بتایا جارہا ہے کہ جتنے ہندو و سکھ پاکستان میں مارے گئے ہیں اس سے دُگنا مسلمان انڈیا میں مارے جا چکے ہیں۔ انڈیا میں رہنے والے مسلمان وہ ہیں جنہوں نے تقسیم ہند اور قیام پاکستان کو غلط سمجھا اور پاکستان آنے کی بجائے وہیں رہنا پسند کیا۔ بہت سے ایسے بھی ہوںگے جو ہجرت کرنا چاہتے تھے مگر حالات کی مجبوری سے نا آسکے اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ ان میں سے کتنے اب بھی آنا چاہتے ہوں گے کوئی پتہ نہیںہے۔ پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو یہاں کے مقامی ہیں۔ پھر وہ ہیں جو تقسیم ہند پر ہجرت کرکے آئے ہیں۔ ہجرت کرکے آنے والوںنے تقسیم کی حمائت کی اور انڈیا کی بجائے پاکستان کے موقف کو بہتر جانتے ہوئے ہجرت کرلی۔ شائد کچھ ایسے بھی ہوں جو تقسیم پر پاکستان سے انڈیا جاناچاہتے ہوں مگر کسی مجبوری سے نا جاسکے اور اب یہیں کے ہوکر رہ گئے ہیں۔ یہاں کے مقامی مسلمان اگر تقسیم کے خلاف ہوتے انڈیا کو ترجیح دیتے تو وہ پاکستان چھوڑ کر انڈیا چلے گئے ہوتے جیسے کہ لاکھوں ہندو گئے تھے۔ لیکن ایسے کتنے مسلمان ہیں جو پاکستان کی بجائے انڈیا جانا چاہتے تھے مگر نا جاسکے اس بارے پاکستان و انڈیا دونوں کی تاریخ مکمل طور پر خاموش ہے۔ اس تمہید کے بعد اصل بات کی طرف آتا ہوں۔

تقسیم ہند غلط تھی۔ بٹوارہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ متحدہ ہندستان اچھا تھا۔ پاکستان نہیں بننا چاہئے تھا۔ پاکستان بنانے کافیصلہ غلط تھا۔ کانگریس کے نہرو گاندھی آزاد پٹیل حق پر اور مسلم لیگ کے جناح غلطی پر تھے۔ پاکستان میں آج کل ایسی باتیں سننے میں آرہی ہیں۔ ایسی باتیں کرنے والوں کے باپ دادا یا تو وہ تھے جو یہاں کے مقامی تھے اور پاکستان کو حق پر سمجھتےہوئے ہجرت کی بجائے یہیں رہنا پسند کیا۔ یا پھر ان کے آباؤاجداد وہ تھے جنہوں نے پاکستان کیلے انڈیا کو چھوڑ کر ہجرت کی تھی۔ ایسی باتیں کرنے والے کیا اپنے باپ دادا کو غلط ثابت نہیں کررہے کہ کیوں پاکستان میں رہتے رہے یا انڈیا سے ہجرت کر کے آئے۔ آپ نے فضول میں جانیں عزتیں گنوائیں۔ قربانیاں دیں وہیں رہتے یا ادھر سے وہاں چلے جاتے۔ یا پھر ایسی باتیں کرنے والے وہ ہیں جن کے باپ دادا انڈیا جانا چاہتے تھے مگر کسی مجبوری سے نا جا سکے ہوں۔ بات کافی گھن جلک ہے۔

میں آپ کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ میرے آباؤاجداد کا تعلق فیصل آباد کے نواح میں واقع ایک گاؤں سے ہے۔ جہاں خاندان کی معلوم تاریخ کے مطابق ہم پانچ چھ پشتوں سے رہ رہے ہیں۔ تقسیم ہندکے وقت میرے دادا جو مسلم لیگ کے پرجوش کارکن تھے۔ تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تقسیم کے بعد انڈیا جانے کی بجائے پاکستان میں ہیرہنا پسند کیا۔ جبکہ میرے نانا کا خاندان امرتسر سے ہے اور وہ امرتسر میں تحریک پاکستان کیلے محنت کر رہے تھے۔ اور پھر امرتسر سے ہجرت کرکے فیصل آباد آگئے۔ یعنی نانا اور دادا دونوں نے تقسیم کو ٹھیک جانا اور انڈیا میں رہنے کی بجائے پاکستان کو ترجیح دی۔ اب دو نسلیں گزر جانے کے بعد مجھ پر کچھ ایسے انکشافات ہوتے ہیں کہ مجھے پاکستان کا بننا غلط اور متحدہ ہندستان اچھا لگتا ہے۔ تقسیم ہند غلط تھی۔ بٹوارہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جناح نے غلطیاں کی تھیں جبکہ کانگریس اور مولانا آزاد راہ راست پر تھے۔ تو اسکا مطلب ہے میرے نانا دادا جو پاکستان بننے کے حامی تھے میں انہیں غلط کہہ رہا ہوں۔ اب میری پاکستان و انڈیا کی حکومتوں سے ایک درخواست یا تجویز ہے۔ تقسیم ہند کے چند سال بعد تبادلہ آبادی کا جو قانون بند کردیا گیا تھا اسے ایک دفعہ پھرشروع کیا جائے۔ تاکہ پاکستان میں جو لوگ تقسیم کو غلط کہتے ہیں۔ پاکستان بننے پر اعتراض اور متحدہ ہندستان کے گن گاتے ہیں۔ آئے روز نظریہ پاکستان اوربانیان پاکستان پر ہندو نواز ذہن کے پیدا کردہ شکوک پھیلاتے رہتے ہیں۔ اور جو سمجھتے ہیں کہ انڈیا بہتر ہے۔ پاکستان بھٹکے ہوئے لوگوں کی سوچ تھا۔ یا بھٹک گیا ہے۔ انہیں ایک بار پاکستان یا انڈیا میں سے کسی ایک ملک کو چننے کا موقع دیا جائے۔ یہ اس لئے نہیں ہے کہ کوئی انہیں برداشت نہیں کررہا بلکہ اس لئےہے کہ جو وہ اچھا سمجھتے ہیں انہیں اس سوچ کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: