آپ کیا کرنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں؟ محمد زبیر

0
  • 64
    Shares

میں ایک اہم مضمون لکھنے میں مصروف تھا، میراقلم خیالات اور بازو کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے پوری رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ بظاہر قلم میں روانی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس لمبی ریس کے گھوڑے نے ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ اچانک قلم کے سانس اکھڑنے لگی۔ اب اس نے ہانپتے ہوئے لڑکھڑا کر چلنا شروع کردیا۔ اس کی توانائی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی مگر اسے احساس نہیں تھا۔ اور بالآخر ہمت جواب دے گئی اور اس نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ میں نے دیکھا، سیاہی ختم ہو گئی تھی۔ میں نے قلم ڈسٹ بن میں ڈالا، دوسرا نکالا اور آگے لکھنے کیلئے قلم کی نوک کو صفحہ پر رکھا ہی تھا کہ میری نظر بے اختیار ڈسٹ بن سے جھانکتے ہوئے مردہ قلم پر پڑی اور مجھ پر عجیب کیفیت طاری ہو گئی۔ اب میری توجہ اس مضمون سے ہٹ کر قلم پر مرکوز تھی۔ وہ قلم جسے میں اپنی جیب میں، دل کے قریب رکھتا تھا، جو کچھ دیر پہلے میں نے محبت سے اپنے ہاتھ میں لے رکھا تھا، اب میرے لئے بے مقصد ہو گیا تھا۔ اب یہ قلم خاک روب اٹھا کر لے جائے گا اور پھر اسے طویل عرصہ گندگی، غلاظت اور تعفن میں بسر کرنا ہوگا اور پھر اسے جلا دیا جائے گا۔

میں سوچنے لگا کہ وہ کونسی ایسی بات ہے جس نے میرے دل کے قریب رہنے والے قلم کو اذیت ناک حالت میں پہنچا دیا۔ اس ساری سوچ کے دوران ڈسٹ بن پر ٹکی ہوئی نظروں کے سامنے کا منظر دھندلا چکا تھا۔ ایک مرتبہ پھر منظر واضح ہوا اور قلم کو چند ساعتوں کیلئے گویائی نصیب ہوئی جس میں اس نے زندگی کا بہت اہم فلسفہ سمجھا دیا۔ قلم نے کہا:
’’جب تک کوئی شے بامقصد ہوتی ہے، زندگی کی ساری رعنائیاں اس کے ہمراہ ہوتی ہیں۔ جوں ہی بے مقصد ہوتی ہے، اس کے نصیب میں کرب ہی کرب رہ جاتا ہے۔‘‘

میں نے بہت سادہ سا طریقہ نکالا ہے جس کی مدد سے اب تک درجنوں افراد کی مقصدِ حیات کے سمجھنے میں مدد کر چکا ہوں۔ میرے لئے خوشی اور اعتماد کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی زندگی دیگر لوگوں سے زیادہ پرسکون، خوشحال اور بامعنی ہے۔ اگر آپ واقعی اپنے ساتھ سنجیدہ ہیں، اپنی زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، دوسروں کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو کچھ وقت اپنے آپ کو دیں۔ کرنا یہ ہے کہ ایک قلم اور نوٹ بک اپنے پاس رکھیں۔ ایک ایک سوال کا جواب دیتے رہیں۔ کچھ لوگوں کے لئے دو سوالات ہی تصویر کو واضح کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو آخری سوال تک جاتا پڑتا ہے۔ دونوں صورتوں میں آپ کیلئے بہتر یہی ہو گا کہ تمام سوالات کے جوابات لکھیں۔ ہر سوال کے بعد تھوڑی دیر کے لئے رک کر غور وفکر کریں، پھر جواب دیں۔ کسی سوال کو پڑھ کر ایک سے زائد جوابات ذہن میں آئیں تو سب کو لکھ لیں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ صرف ایک کام کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں، اللہ نے ہر انسان میں متعدد کام کرنے کی صلاحیتیں رکھیں ہیں۔ زیادہ بہتر یہ ہے کہ ساری توانائیاں ایک ہی کام پر مرکوز رکھیں، ایک سے زائد بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

1۔ وہ کون سا کام ہے جسے کرتے ہوئے آپ کے چہرے پر خوشی ظاہر ہوتی ہے؟
یہاں کام سے مراد وہ کام ہے جسے پیشہ بنایا جاسکتا ہے۔ بچوں سے باتیں کرکے، ان کے ساتھ وقت گزار کے سب کو مزہ آتا ہے، سب کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے۔ من پسند ٹی پروگرام دیکھ کر، ریڈیو پروگرام سن کر، دوستوں میں وقت گزار کر یا بعض اوقات شریکِ حیات کے ساتھ گفتگو کر کے بھی چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے (جیسے اس وقت آپ کے چہرے پرآگئی ہے)۔ یہاں کام سے مراد وہ کام نہیں ہیں۔ جن کاموں سے آپ اچھی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔ انہیں لکھ لیں۔

2۔ وہ کون سا کام ہے جسے کرنا آپ کو آسان لگتاہے؟
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں سخت محنت اور مشکل کاموں کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جب انسان اپنے مقصدِ حیات کو سمجھ لیتا ہے اور اس کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو اسے سخت محنت نہیں کرنی پڑتی، اس کیلئے کام کام نہیں، تفریح ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی کی سمجھ میں یہ بات آجائے کہ اسے سب سے زیادہ مزہ سائنسی ایجادات میں آتا ہے۔ اب اگر وہ بارہ سے سولہ گھنٹے بھی کام کرے تو تھکن کا شکار نہیں ہو گا۔ بلکہ اگر اسے کام کرنے کا موقع نہ ملے تو وہ کوفت کا شکار ہو جائے۔ میں ذاتی طور پر اس بات سے متفق تھا کہ انسان سخت محنت کیلئے نہیں، دلچسپ کام کرنے کیلئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور جس وقت میں نے یہ حدیث سنی تو میرا یقین پختہ ہوگیا۔ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ “ہر آدمی جس کام کیلئے پیدا کیا گیا ہے وہی کام کرنا اُس کو آسان ہے۔ (سنن ترمذی)”

آپ یہ سوچیں کہ آپ کیلئے کون سا کام آسان ہے۔ آسان کام کوسمجھنے کیلئے ان باتوں کو ضرور یاد رکھیں جن کی ہدایت پہلے سوال میں دی گئی تھی۔ کام سے مراد کام ہے، کام۔

3۔ آپ کون سا کام مفت میں کرنے کیلئے تیار رہیں گے؟
فرض کریں کہ پیسہ آپ کے لئے مسئلہ نہ ہو، جتنے پیسے آپ کمانا چاہتے ہیں وہ آپ کو بنا کام کئے ہی مل جائیں تو اب آپ کیا کرنا پسند کریں گے۔ یہ سمجھنے کیلئے آپ اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈالیں کہ اب تک وہ کون سے کام تھے جنہیں لوگ پیسے لے کر کرتے ہیں مگر آپ نے بنا پیسوں کے کر دئے۔ ساتھ ہی یہ بھی سوچیں کہ اگر وقت اور پیسوں کا مسئلہ نہ ہو تو آپ اب بھی کون سے کاموں کیلئے اپنی زندگی وقف کرسکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس سوال کے جواب میں تھوڑا وقت لگے، وقت لگا لیں، مگر جواب ضرور لکھیں۔

4۔ کس کام کے بارے میں آپ گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں؟
ویسے تو ہم بہت سارے موضوعات پر گفتگو کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ مختلف مواقع پر مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ موضوعات ایسے بھی ہیں جس پر آپ کافی عرصہ سے بہت دلجمعی سے گفتگو کر رہے ہیں۔ دوستوں کی محفل ہو یا خاندان کی کوئی تقریب، ہم پیشہ افراد کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہو یا اجنبی لوگو ں سے بامقصد تبادلہ خیال، وہ کون سا موضوع ہے جس پر بات کرتے ہوئے آپ خوشی محسوس کرتے ہیں یا عام طور پر جذباتی بھی ہو جاتے ہیں۔ دل لگا کر سوچیں اور سکون سے اس سوال کا جواب دیں کہ آپ کس کام کے متعلق گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔

5۔ وہ کون ساکام ہے جسے کرنے میں ناکامی کا کوئی خوف نہیں ہے؟
یہ سوال دیگر سوالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہم اور مقصد حیات کو عملی طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ویسے تو ہم بہت سے کام شوقیہ کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ لیکن جب کبھی کسی کام کو پیشہ بنانے کے متعلق سوچتے ہیں تو خوف کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔

ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑدیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہوجائے ، کہیں ویسا نہ ہوجائے

اس کے باوجود ایک یا چند کام ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کے بارے میں کامل یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ کام کیا تو سوفیصد کامیابی ممکن ہے۔ یہ کام اگر کُھل کر کرنے کا موقع مل جائے تو ناکام ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس سوال کا جواب جذبائی ہوکر دینے کی ضرورت نہیں ہیں۔ ہماری بہت بڑی اکثریت ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کے بجائے نتائج کو سامنے رکھ کر بہت بڑے فائدے کے لالچ میں خود کو دھوکا دیتی ہے اور غلط فیصلہ کر بیٹھتی ہے۔ اس سوال کے جواب یا جوابات کیلئے تھوڑا وقت نکالیں اور پھر لکھنے بیٹھیں۔

6۔ وہ کون سا کام ہے اگرنہیں کیا تو ہمیشہ پشیمانی رہے گی؟
میں نے اپنی کتاب شکریہ میں تفصیل سے لکھا ہے کہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جو کتاب لکھنا چاہتا ہو لیکن نہ لکھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کا بیٹا لا پتہ ہو جائے اوروہ ہر جگہ اسے ہی ڈھونڈتا رہے۔

آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ساری زندگی ایسے شخص کی آنکھیں اسی کے تعاقب میں رہیں گی۔ سب کچھ حاصل کرنے کے بعد بھی دل میں ایک خلش موجود رہے گی۔ یہ بات کتاب تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اطلاق ہر اس کام پر ہوتا ہے جس کو کرنے کی خواہش دل میں موجزن رہتی ہولیکن ہم کسی نہ کسی بہانے سے اسے ٹال رہے ہوں۔ چاہے وہ کام شاعری ہو، مصوری ہو، تبلیغ ہو، سائنسی ایجاد ہو، سیاحت ہو، کاروبار ہو، کو ئی تحریک چلانے کا خیال ہو یا کچھ اور۔ جب تک انسان وہ کام نہیں کریگا جسے کرنے کا جوش اور جذبہ دل میں امنڈ رہا ہو، وہ مطمئن نہیں رہ سکتا۔ ابراہم ماسلو نے کہا تھا:

A musician must make music, an artist must paint, a poet must write, if he is to be ultimately at peace with himself. What a man can be, he must be. Abraham Maslow

ایک موسیقار کو موسیقی ترتیب دینی چاہئے، ایک مصور کو تصویریں بنانی چاہئیں، ایک شاعر کو لکھنا چاہئے، اگر وہ مکمل طور پر پرسکون زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ ایک انسان جو کر سکتا ہے، اسے وہ کام لازمی کرناچا ہئے۔ (ابراہم ماسلو)

7۔ اپنی زندگی میں کیا تجربات اور کامیابیاںدیکھنا چاہتے ہیں؟
دیگر سوالات کی طرح یہ سوال بھی بہت اہم ہے۔ اس سوال کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اپنے الفاظ سے ہی ظاہر ہو رہاہے۔ اس لئے اس سوال کے جوابات لکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھئے گا کہ تجربات اور کامیابیاں زندگی کے سنجیدہ معاملات سے ہوں، مذہبی یامحض تفریحی نوعیت کے نا ہوں۔ عمرہ، حج یا زیارت پر جانا بہت خوشی اور اعزاز کی بات ہو سکتی ہے مگر جواب میں ان کا زکر کرنا مقصود نہیں ہے۔

8۔آ پ کیا چاہتے ہیں کہ لوگ کس نام سے آپ کو یاد رکھیں؟
ویسے تو یہ ایک نا مناسب اور غیر اخلاقی بات ہے کہ ہم یہ سوچ رکھیں کہ لوگ ہمیں یاد رکھیں۔ چاہے آپ نفسیاتی اعتبار سے دیکھیں یا مذہبی اعتبار سے، یہ خواہش رکھنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، انتہائی۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ’’دنیا کا سب سے بڑا روگ، کیا کہیں گے لوگ‘‘ ۔ یہ خواہش رکھنا کہ لوگ ہمیں ہمارے فلاں عمل سے یاد رکھیں، ہمیں ہماری خوشیوںاور مقصدِ حیات سے دور کر دیتاہے۔ مذہبی اعتبار سے دیکھا جائے تو جو عمل بھی اللہ کی خوشنودی کے بجائے، اپنا نام زنددہ رکھنے کے لئے کیا جائے، اللہ کے پاس قابلِ قبول نہیں ہوتا۔ یہاں یہ سوال لکھنے کی دو وجوہات تھیں:
پہلی یہ کہ اس غلط تصور کی وضاحت کردی جائے
دوسری یہ کہ خود کو سمجھنے کا موقع ملے کہ آپ کی بنیادی اقدار کیا ہیں

لہٰذہ اس سوال کا جواب لکھ تو لیں کیونکہ پریکٹس کرنے کیلئے یہ سوال اچھا ہے، مگر یہ بات ذہن نشین کر لیں اس خواہش کو دل سے نکالناہے کہ لوگوں کو متاثر کرنے اور ان میں ممتاز ہونے کیلئے کام کیا جائے، بلکہ وہ کام کریں جسے کرنے کی بہترین صلاحیت ہمیں تحفہ میں دی گئی ہے۔

9۔ آپ کے خیال میں اب تک آپ کی سب سے بڑی کامیابی کیا ہے؟
ویسے تو ہر انسان کی زندگی میں بیشمار کامیابیاں آتی ہیں۔ لیکن ہم اپنی ناشکری یا منفی چیزوں کوزیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے انہیں کامیابی گردانتے ہی نہیں ہیں۔ اس کے باوجود کچھ کام ایسے ضرور کئے ہوتے ہیں جسے ہم اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، ان پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی ماضی کی کامیابیوں کو مدنظر رکھیں اور سوچیں کہ آپ کسے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔

10۔ دوسرے لوگوں کے کس کام کو آپ بہت زیادہ سراہتے ہیں؟
ویسے تو دنیا میں، الحمدللہ بے شمار لوگ بے پناہ اچھے کام کررہے ہیں، مگر آپ یہ بتائیں کہ آپ کو کن لوگوں کے کام نے متاثر کیا۔ اگر دیانت داری اور بے لاگ انداز میں پوچھوں تو یہ بتائیں کہ دوسروں کے وہ کام جنہیں دیکھ کر آپ کے دل میں خواہش اٹھتی ہو کہ کاش میں بھی یہ کام کروں، وہ کون سے کام ہیں؟ یہ سوال بھی بہت سارے لوگوں کو مقصد حیات سمجھنے میں معاون ہواہے۔

11۔ کس کام میں آپ کی تخلیقی صلاحتیں کھل کر سامنے آتی ہیں؟
ویسے تو ہر انسان میں مختلف کام کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر انسان چھ سے آٹھ کام بہت اچھے انداز میں کر سکتا ہے۔ آپ یہ سوچیں کہ کس کام کو آپ تخلیقی انداز میں کرنے کے اہل ہیں۔کس کام کو آپ دیگر کاموں کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت انداز میں کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے بھی آپ ماضی سے مدد لے سکتے ہیں کہ گزشتہ زندگی میں آپ کیا کام نئے انداز میں کر چکے ہیں۔

12۔ اب بتائیں کہ آپ کا مقصدِ حیات کیا ہوسکتاہے؟
ان سوالات کے جوابات کو ایک ہی نشست میں لکھیں۔ ان بارہ سوالات کو بہت تحقیق، غوروفکر اور تجربات سے گزرنے کے بعد تیار کیا گیاہے۔ عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ان سوالات کی مدد سے لوگ اس بات کوسمجھنے کے قابل ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے وقت اور صلاحیتوں کو کن کاموں میں استعمال کرنا چاہئے، ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ یہاں تک پہنچ کر یا تو آپ کو اپنے مقصدِ حیات کو سمجھنے میں مکمل طور پر مدد مل چکی ہے یا ابھی تصویر پوری طرح واضح نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں ایک کام ضرور کرنا ہے اور وہ یہ کہ ان جوابات کو ہفتے میں ایک دن سکون سے بیٹھ کر دوبارہ پڑھیں۔ اگر تھوڑا بہت رد و بدل کرنا ہے کرتے جائیں۔ اس عمل میں پانچ منٹ لگیں گے مگر یہ پانچ منٹ آپ کے ذہن کو ایک نقطہ پر مرتکز کر دیں گے، وہ نقطہ جو آپ کی زندگی کو با مقصد بنا دے گا۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: