تقسیم ہند میں پنجاب کے اضلاع کیسے تقسیم ہوئے؟ کچھ ان کہی باتیں : محمد عبدہ 

0
  • 72
    Shares

تاریخ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کی کھوج کی جائے اور مسلسل کھوجتے رہا جائے۔ اور تاریخ کی یہ خوبصورتی ہے کہ ہر بار ایک نیا گوشہ نیا رخ نیا انکشاف پڑھنے والوں کے سامنے لاتی ہے۔ تقسیم ہند تاریخ کا ایک ایسا الجھا ہوا پہلو ہے کہ ستر سال سے لکھا جارہا ہے اور ہر نئی تحریر پڑھ کر سوچ کا زاویہ ہی بدل جاتا ہے۔

قائداعظم نے تقسیم ہند میں سرحدی حد بندی کا کام اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرنے کی تجویز دی جسے صدر کانگریس نہرو نے تسلیم نا کیا۔  پھر باونڈری کمیشن کیلے پریوی کونسل لندن کے تین ججوں کے نام دئیے جسے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ٹھکرا دیا۔ پھر بنگال کو تقسیم کر کے مشرقی بنگال کو پاکستان کا حصہ بنانے کی بجائے پورے بنگال کو علیحدہ ملک بنانے کی تجویز دی جس کے جواب میں مولانا آزاد نے مشورہ دیا کہ بنگال لازمی تقسیم کیا جائے اس سے بنگال کے مسلمان مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ پنجاب میں بھی ایسا کیا جائے اگرچہ اس کے امکان کم ہیں۔ سردار پٹیل نے زور دیا کہ جناح کو خوفزدہ کرنے کیلے تقسیم جون 1948 کی بجائے جلد از جلد کی جائے۔ اس سے مسلم لیگ کو تقسیم پر زیادہ سوچ بچار اور نوزائیدہ پاکستان کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ماؤنٹ بیٹن نے 3 جون کو تقسیم کا فارمولا پیش کیا۔ یہ منصوبہ تاریخ میں 3 جون 1947 کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ تقسیم برصغیر 3 جون 1947 معاہدے کے تحت کانگریس و مسلم لیگ نے تقسیم پنجاب وبنگال کے منصوبے کو مان لیا تو 30 جون 1947 کو سر ریڈ کلف کی سربراہی میں تقسیم کے لیے حد بندی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

یہ کمیشن پنجاب کو ضلعی حد بندی کے تخت تقسیم کرنے کیلے بنایا گیا تھا۔ ابھی یہ کمیشن حد بندی میں مصروف تھا کہ کشمیر پر کشمیری راجہ کانگریس اور وائسرائے کا خفیہ گٹھ جوڑ شروع ہو گیا۔ اور اسی دوران حد بندی کو ضلع کی بجائے تحصیل سطح پر کرنے کیلے زور دیا جانے گا۔ بنگال کی سرحدات مقرر کرتے وقت کلکتہ، مرشد آباد اور نادیہ ضلع کا بیشتر حصہ بھارت کو دے دیا گیا۔ اور بعض مسلم علاقے بھارت کے حوالے کر دیئے گئے۔ جبکہ 3جون فیصلے میں یہ علاقے مشرقی پاکستان کا حصہ مانے گئے تھے۔ اسی طرح پنجاب میں عجیب صوررتحال تھی۔ اولاً تو قائد اعظم پنجاب کی تقسیم کے مخالف تھے مگر تقسیم کو جب پنجاب کی تقسیم سے مشروط کر دیا گیا تو مجبوراً تقسیم پنجاب کو ماننا پڑا۔ سکھوں نے پنجاب کے بیشتر اضلاع پر اپنا حق جتلاتے ہوئے ان کی مغربی پنجاب سے علیحدگی کا مطالبہ کیا۔ گورداسپور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، منٹگمری اور لائل پور میں سکھ اقلیت میں مگر زمینوں کے بڑے بڑے مالک تھے اور وہ ان کی آبادکاری کی بدولت بضد تھے کہ ان اضلاع کے بیشتر علاقوں کے وہ حقدار ہیں۔ انگریزوں کے سرحدات کے مقرر کرتے وقت مسلم اکثریتی کی بیشتر تحصیلیں بھارت کے حوالے کر دیں خصوصاً فیروز پور، زیرہ، نکودر، جالندھر، گورداسپور، پٹھانکوٹ، بٹالہ، ہوشیارپور، دسوہہ کو بھارت میں شامل کر دیا۔ مسلم لیگ پنجاب کو ضلع جبکہ انگریز کانگریس اور سکھ تحصیل تک تقسیم پر متحد ہو چکے تھے۔ اور کمیشن کو حد بندی تقسیم کی اکائی ضلع کی بجائے تحصیل کو قرار دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ اگر ضلع کی بنیاد پر حدبندی کی جاتی تو ضلع گورداس پور پاکستان میں شامل ہوجاتا اور انڈیا کو کبھی کشمیر کا راستہ نہ ملتا۔ اس طرح ہندوستان کو پاکستان میں آنے والے دریاؤں کے پانی کا منبع مفت میں ہاتھ نہ آتا۔

تقسیم پنجاب کے دوران سب سے بڑا ظلم ضلع گورداسپور میں ہوا۔ اکثریتی آبادی کے تناسب سے تقسیم کرنے کی بجائے ضلع گورداسپور کو تحصیل کی بنیاد پرتقسیم کردیا گیا۔ گورداسپور کی چار تحصیلیں تھیں جن میں تحصیل بٹالہ 53 فیصد مسلمان تحصیل گورداسپور 51 فیصد تحصیل شکر گڑھ 51 فیصد اور تحصیل پٹھانکوٹ 33 فیصد مسلمان آبادی تھی۔ یعنی پٹھانکوٹ کے علاوہ باقی ہر تحصیل میں مسلمان زیادہ تھے۔ اور پورے ضلع کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 51.1 فیصد تھا جبکہ سکھ 23.3 فیصد ہندو 21.2 فیصد اور  4.4 فیصد مسیحی بھی اس ضلع کے باسی تھے۔ اور عیسائی پاکستان میں شمولیت کے حامی تھے۔

یہاں پورا ضلع پاکستان کو دینے کی بجائے دو مسلم اکثریتی تحصیلیں بٹالہ گورداسپور انڈیا اور ایک شکر گڑھ پاکستان کو دی گئی۔ اور یہ تقسیم آبادی کی بنیاد پر نہیں بلکہ  دریائے راوی کے حساب سے ہوئی۔ شکر گڑھ ضلع گورداسپور کی واحد تحصیل تھی جو دریائے راوی کے اس پار تھی اس لئے اسے پاکستان میں شامل کر کے باقی پورا ضلع انڈیا کو دے دیا گیا۔

اس کی وجوہات پر ہم غور کریں تو کچھ اس طرح سے ہیں۔ گورداسپور بھارت کو دینے کے لیے مندرجہ ذیل دلائل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور دیگر سرحد کمیشن کےسامنے پیش کئے گئے تھے۔

1۔ ریاست کشمیر بھارت کے لیے قابل رسائی ہو جائے گی تا کہ اس کے حکمران بھارتی یونین کے ساتھ الحاق کر سکیں۔

2۔ تحصیل پٹھان کوٹ وسطی پنجاب کے ملحقہ شہر ہوشیار پور اور کانگڑا کے ساتھ ایک براہ راست ریلوے سے منسلک ہے۔

3۔ بٹالا اور گرداسپور کی تحصیلیں سکھوں کے مقدس شہر امرتسر کے لئے ایک بفر زون فراہم کریں گی۔

4۔ اگر دریائے راوی کے مشرقی علاقہ کو ایک بلاک تصور کیا جائے تو یہ تھوڑا غیر مسلم اکثریتی علاقہ ہو گا۔ یہ بلاک امرتسر اور ضلع گرداسپور کی تمام تحصیلوں (علاوہ شکرگڑھ) پر مشتمل ہو گا۔ اس سے سکھ آبادی کی اکثریت یعنی 58 فیصد مشرقی پنجاب میں شامل ہو جائے گی۔

5۔ یہ مغربی پنجاب میں زمین کے بڑے علاقوں کو کھو دینے کے بعد سکھ آبادی کو رام اور پرسکون کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

ضلع گرداسپور کا زیادہ حصہ بھارت کو دیے جانے کو متوازن کرنے کے لیے ریڈکلف نے ضلع فیروزپور کی دوتحصیلیں فیروزپور اور زیرا پاکستان میں شاملکرنے کی کوشش کی۔ یہاں دریائے ستلج اور دریائے بیاس کے سنگم پر ہاریکے ہیڈورکس تھا جو فیروز پور اور بیکانیر کو سیراب کرتا تھا۔ بیکانیر کے مہاراجہکی لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو دھمکی کے بعد کہ اگر ضلع فیروز پور مغربی پنجاب میں شامل کیا جاتا ہے تو وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کر لے گا۔ آخری وقت میں ضلع فیروز پور تبدیل کر کے پاکستان کی بجائے بھارت کو دے دیا گیا۔

یوں گورداسپور تو ہاتھ سے گیا اور فیروزپور و زیرا بھی نا ملا۔ دھوکے سے ضلع گورداسپور انڈیا کو دینے پر ضلع کے مسلمان جو پاکستان میں شامل کیےجانے پر مطمئن تھے۔ اور پھر آخری لمحات میں گورداسپور بٹالہ پٹھانکوٹ سے تقریباً 5 لاکھ مسلمان ہجرت کرکے پاکستان آنے پر مجبور ہوگئے جس میں سےمختلف اندازوں کے مطابق 30 سے 50 ہزار کے قریب مار دئیے گئے یا گم ہوگئے اور پاکستان نا پہنچ سکے۔

سب سے بڑا ظلم یہ ہوا کہ یہ علاقے متفقہ طور پر پاکستان کا حصہ کہے گئے تھے۔ لیکن 9 اگست کو ہند کو دے دئیے گئے اور اس پر مستزاد کہ اس منصوبےکو 15 اگست تک خفیہ رکھا گیا۔ جب اس منصوبے کا اعلان ہوا تو مشرقی پنجاب کے ان اضلاع کے مسلمان جو اپنے آپ کو پاکستان کا حصہ سمجھ کر مطمئن تھے ہجرت کیلے نکل کھڑے ہوئے۔ پاکستان جو بہار اور یوپی کے دو تین کروڑ مسلمانوں کو گجرات ہجرت کروانے کے انتظامات میں مصروف تھا مشرقی پنجاب سے اچانک آنے والے مسلمانوں میں پھنس گیا۔ اتنی جلدی ٹرینوں اور قافلوں کی حفاظت کا بندوبست ممکن نا تھا۔

ہندو اور سکھوں کے مسلح حملوں میں لاکھوں مسلمانوں کو مار دیا گیا۔ اگر فیروز پور، زیرہ، نکودر، جالندھر، گورداسپور، پٹھانکوٹ، بٹالہ، ہوشیارپور، دسوہہ کے اضلاع کو پاکستان میں ہی رہنے دیا جاتا تو لاکھوں مسلمانوں کا قتل نا ہوتا۔ ان اضلاع کے مہاجر مسلمانوں کو سنبھالنے کی بجائے پاکستان گجرات یوپی اور بہار سے مسلمانوں کی باحفاظت ہجرت کا ممکن بناتا جس سے دو سے ڈھائی کروڑ مسلمان باآسانی ہجرت کر کے مشرقی و مغربی پاکستان پہنچ جاتے۔ اس ایک غلط فیصلے نے مسلمانوں کے بہت سارے نقصان کیے۔ دھوکے سے علاقہ بھارت کو دیا گیا۔

تیرہ چودہ لاکھ مسلمان مارے گئے۔ ہند میں پھنس جانے والے مسلمانوں کو نا نکالا جا سکا۔ جب پنجاب سے قتل غارت کی خبریں بہار یوپی تک پہنچی تو وہاں کے مسلمان جو ہجرت کیلے تیار تھے وہیں رک گئے۔ کہ حالات بہتر ہونے کے بعد نکلیں گے۔ دوسری طرف نوزائیدہ پاکستان مہاجرین کے انتظامات میں جت گیا۔ تقسیم فارمولے میں پاکستان کو ملنے والے اثاثہ جات کو بھارت نے جان بوجھ کر روک لیا۔ اسلحہ پیسہ فیکٹریاں سب کچھ بھارت نے دینے سے انکار کردیا۔

بھارتی مورخ اور تجزیہ نگار ، ایچ ایم سیروائی، تقسیم ہند کے موقع پر لارڈ مائونٹ بیٹن کی سیاسی بددیانتی کے حوالے سے اپنی کتاب میں لکھتے کہ فلپ ذیگلرکی کتاب ماؤنٹ بیٹن اور ہندوستان میں اقتدار کی منتقلی کی اہم برطانوی دستاویزات کی بارہویں جلد کی اشاعت نے کیریکٹر ، کنڈکٹ اور وائسرائے کی حیثیت سے ماؤنٹ بیٹن کی پوزیشن کو بہت نیچے گرا دیا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کی وائسرائے شپ کے آخری پانچ دن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ بدنامی اُن کا مقدر ہو گئی اور تاریخ اُن کیلئے سزائے موت ہی لکھے گی۔ سیروائی نے اِن خیالات کا اظہار مائونٹ بیٹن کے ریڈ کلف ایوارڈ پر اثر انداز ہونے کے حوالے سےکیا ہے جس کے سبب بھارت کی کشمیر تک رسائی ممکن ہوئی جبکہ مائونٹ بیٹن نے کشمیر کے بھارت سے عارضی الحاق کے حوالے سے بھارت کے گورنر جنرل کی حیثیت سے جو منفی کردار ادا کیا، اُسے بھی تاریخ میں بھلایا نہیں جائیگا۔ سیروائی نے اپنی کتاب میں دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ تقسیم ہند کا ذمہ دار محمد علی جناح نہیں بلکہ کانگریس قیادت کا غیر مرئی یا ابہامی تعصب تھا۔ سیروائی نے “Latent Bias” لفظ استعمال کیا ہے۔ ریڈکلف کے پرسنل سیکرٹری کرسٹوفر نے بعد میں لکھا کہ یہ الزام ماؤنٹ بیٹن کے سر جائے گا کہ اسی کی وجہ سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی اور تقریباً پانچ لاکھ افراد بشمول عورتیں اور بچے مارے گئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: