زمان و مکاں میں ایک ملاقات کی کتھا —- اعجازالحق اعجاز

1
  • 95
    Shares

وہ میرے سامنے بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں میں کچھ لرزاں لرزاں سی یادوں کے سائے رقصاں تھے۔ وقت ایک کونے میں آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ اس نے کلاک کی آہنی ٹک ٹک کی طرف دھیان نہ دیا نہ ہی کیلنڈر سے بندھے ہوئے دنوں سے۔ وہ اپنے وجود کی پتھریلی گرفت سے خود کو بچاتے بچاتے نڈھال ظاہر نہ کرنا چاہتا تھا۔ ایک سوال کب سے زمان و مکاں کی ہک سے لٹکا تھا جسے وہاں سے اتارنے کی اس میں ہمت نہ تھی۔اس نے خود کو ٹٹولا تھا اور لفظوں کو کسی گہرائوسے گرنے سے بچائو کی اپنی سی کوشش کی تھی۔ اس نے مجھ سے اپنے ہی خلا میں منعکس ہوتی ہوئی سرگوشی میں کہا تھا،ـــ ’’من آمدہ ام ــ‘‘، اور میں اس کے ان لفظوں کے اعتبار کا رستہ تلاش کرتے کرتے اپنے وجود کی اندھی غار میںآن گرا تھا۔مگرمجھے اس کے اس وجود کی آمد پہ اعتبار تھا جسے وہ بہت پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ اس وقت کمرے میں کتنے زمانے بھرے تھے۔ میں نے کھڑکی کھول دی مگر مجھے معلوم تھا کہ باہر احساس کے برفیلے پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ مگر ایک آہٹ جو لایعنیت کے توسن پر سوار تھی چپکے چپکے اندر گھسنے کی کوشش کر رہی تھی،میں نے اسے اندر آنے دیا تھا، میں نے تو کبھی کسی کو نہ روکا تھا۔ کتنے ہی زمانے منہ اُٹھائے چلے آتے تھے۔ باہر سے آنے والے زمانے اندر کے زمانوں سے مل کر کہرام مچا رہے تھے مگر حال ایک کونے میں چپ چاپ پڑا سستارہاتھا۔

میں کم پڑتی ہوئی محبت کی ایذا رسانی سے بچنا چاہتا تھا۔ میں نے سامنے شیلف سے اپنا وجود اٹھانا چاہا مگر اب وقت نہیں تھا،اب وہ ایک سپائرل کی صورت بہہ رہا تھا۔

اس کی باتیں بہت سی متضاد صداقتوں کے سانچوں میں ڈھلتی ہوئی آرہی تھیں جن کو میں اپنے دل کے الگ الگ خانوں میں رکھتا جا رہا تھا۔

کہتے ہیں لمحوں کے گہرائو میں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں، نہ جانے کب کون سا لمحہ نگل جائے۔ میں تو ایک ہی لمحے میں بہت سے لمحوں کا اسیر رہا تھا۔ ایک ہی زندگی میں ان گنت زندگیوں کے تصادم سے تنگ آچکا تھا۔ بس اب یہی خواہش ہے کہ ایک ہی لمحہ ء موجود میں وجود پذیر رہوں،اورصرف اسی ایک سگ گرسنہ کا راتب بنوں۔ یہ جو آکاس بیل لٹک رہی ہے اور ایش ٹرے میں پڑی راکھ اور شیلف پہ کتابوں کے درمیان میرا وجود، اور یہ میرے کمرے میں کسی کی باربار آمدورفت، اسی دنیا میں زیست کروں،اس سے ماقبل کیا ہے اور اس کے مابعد کیا،اس پس و پیش میں نہ پڑوں۔ میرا ماضی میری یادداشت کے جنک ہائوس میں پڑا سستا رہا ہے اور میرے مستقبل کی چاپ دروازے سے باہر ہلکی ہوتی جا رہی ہے۔میں نے اب اس چاپ کا لایعنی تعاقب کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اس نے ایک نظر میرے بچے کھچے وجود کی طرف دیکھا،میں نے اپنے بحر ِتخیل سے رومان کی جھاگ سمیٹنا شروع کردی۔زیست ایک گنبد بے در میں سانس لیتی رہی، کمرے میں سرد ہوائیں چلنے لگیں تھیں،آئینوں پہ اجنبی نقوش جم گئے تھے،وہ آتش دان کے اور قریب آگیا تھا، اس نے مجھ سے پوچھا کیا چاہتے ہو میں نے کہا کہ وجود کی وحدت اور وجود کی حدت۔

میرا دل ایک سرور آگیں احساس سے لبریز ایک پنچھی بن کر اس کی آنکھوں کی بیکراں جھیلوں کے آخری منطقوں پر پرواز کرتے ہوئے شل ہو رہا تھا۔ مجھے ایک احساس تفاخر نے اپنی ردا میں اوڑھ لیا کہ میرا دل اس کی آنکھوں کے کھلے محیطوں پہ حکمراں ہے۔ میں نے اس احساس کے صحیفے کو لپیٹنے میں جلدی نہ کی۔

میرے لبوں کی کمانوں میں صدیوں سے پیوست جو لفظوں کے تیر پڑے تھے اور جنھیں میں نے تکلیف کے ایک پل صراط سے گزرتے ہوئے نکالا تھا رنگ بن کر اڑتے ہوئے اس کے رخساروں پہ پینٹ ہو گئے تھے۔ اس نے اپنے وجود کی تقلیب ماہیت کو اندر ہی اندر بھینچنے کی کوشش کی تھی۔ کمرے میں وجود کی وحشت کا احساس تیز تر ہوچلا تھا۔ قربتیں اور فاصلے اپنے جدلیاتی تحرک سے گزر گزر کر کچھ کے کچھ ہوتے جا رہے تھے اور ہم ایک دوسرے کے وجود کی تعمیر و تخریب میں مصروف تھے۔ آج مجھے اپنے خون ِ دل کے زور دار ذائقے اپنے لبوں پہ محسوس ہو رہے تھے۔ ہم ایک زمستاں سے دوسرے زمستاں میں جاتے جاتے تھک گئے تھے۔ سر پہ کوئی سائباں نہ تھا کہ ٹھہرتے، کوئی آوازہ زنجیر پا نہ تھا کہ پلٹتے، سو ہم چلتے ہی جا رہے تھے اور لمحہ لمحہ ہمارے قدم منزلوں کی نئی نئی دھولیں اوڑھ رہے تھے۔ میں بھی گرفتار ِ ازل تھا اور وہ بھی گرفتارِ ازل۔ ہم دھول سے اَٹے رستوں پہ چلتے رہے۔ کمرے میں ایک صحرا تھا اورصحرا میں ایک سراب۔

مجھے خبر تھی کہ کمرے میں بے معنویت کے موناد پھیل چکے ہیں، بے معنویت کے بے در موناد۔جو کمرے میں موجود تمام چیزوں کو بے معنی کر چکے تھے۔ اس نے مزید کچھ کہنے کی کوشش کی مگر اسے معلوم تھا کہ مزید کچھ کہنا کس قدر بے معنی ہوتا ہے۔ اس سے لاحاصل شے کیا ہوگی جوطے شدہ لاحاصلی کو کم کرنے کی کوشش کرے۔

اچانک میں اٹھا اور کھڑکی کی طرف چل دیا، مگر کھڑکی کی طرف جانے سے کیا ہوتا ہے، ویسے بھی کھڑکی پہ پردہ تنا تھا۔ کھڑکی سے پردہ ہٹانے سے کیا ہوتا ہے۔ میں کھڑکی تک جانے سے پہلے ہی لوٹ آیا اور وہاں اس کے سامنے دوبارہ بیٹھ گیا۔

مجھے لگا کہ میرے ذہن کی دیواروں پہ بہت سے تارِ عنکبوت لٹکے ہوئے ہیں۔ میرے خیالات مجھے بہت کمزور کمزور سے لگے۔ مگر مجھے پتہ تھا کہ میری آواز کا تیقن ان کو تقویت دے گا۔ اک ذرا بولنے کی دیر ہے۔ میری سماعتیں میرے اندر کی آوازوں کو سہارا دیں گی۔ اک گویا ہونے کی دیر ہے کہ تارِ عنکبوت سے بُنے سارے بادل چھٹ جاتے ہیں ورنہ اُس کا ہونا اور میرا ہونا مجھے کمزور کر رہا تھا۔ ہستی کتنا بڑا خسارہ ہے، کتنا بڑا ڈیفیسٹ ہے۔ عدم کتنا بڑا سہارا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ میں اپنے الفاظ سے اپنے وجود کو سہارا دیتا ہوں۔ مگر اُس کی خاموشی میں کتنی طاقت تھی، یا شاید یہ بھی میرا واہمہ تھا۔مگر میں نے شک سے کتنا یقین کشید کیا تھا، اُسے کیا معلوم۔

لفظ وجود کو سانچوں میں بند کر دیتے ہیں۔ یہ میں نے سوچا، مگر اُس سے کہا نہیں۔ میرے خیالات تو الفاظ کی پٹڑیوں سے اُتری ہوئی بوگیوں کی طرح رہتے ہیں۔ جیسے ہی خیالات الفاظ کی پٹڑیوں پہ چڑھتے ہیں تو انھیں سمت تو مل جاتی ہے مگر وہ اپنے باطنی وجود سے محروم سے ہو جاتے ہیں۔ میں نے پھر سوچا اور اٰس کی طرف دیکھا۔ وہ بھی مجھے اپنے وجود کے، اپنے ہونے کے احساس جرم میں کھویا ہوا سا نظر آیا۔ میں نے ذرا دیر اُس کے متعلق سوچنے کے بعد اپنے متعلق سوچا۔ مگر یہ سوچنا تو بالواسطہ تھا، اُس کے وجود سے ہوکر آتے ہوئے سوچنا تھا۔یہ میرا اپنا سوچنا تو نہیں تھا، اپنا سوچنا ممکن بھی کیسے تھا، کسی نہ کسی واسطے میں رہ کر ہی سوچنا تھا نا۔میں نے پھر کچھ سوچنے کی کوشش کی مگر خود سے سوچنا کتنا مشکل ہوتا ہے، ناممکن حد تک مشکل۔

پھر اُس کی نظروں سے میرے لیے آشنائی کی آخری رمق بھی زائل ہوگئی۔ وہ اُٹھا اور ایک اچٹتی سی نظر مجھ پہ ڈالی اور زمان و مکاں کی حد سے باہر قدم رکھ دیا۔ میں نے اٰس کی یادوں کا کچھ دیر پیچھا کیا اور پھر کرسی پر نیم دراز سا ہوکر پڑ گیا۔ حال جو ایک کونے میں پڑا سستا رہا تھا، اُٹھا اور کڑی کمان کی طرح تن کر میرے سامنے آ کھڑا ہوا۔ میں نے اُس پرایک مابعدالطبیعیاتی وحشت سے بھر پور نظر ڈالی اور اپنی ازلی تنہائی میں کھو گیا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. لفظوں کا پل صراط ہے جس پر چلنے والے کو پتہ چلتا ہے کہ کہانی علامتی خطوط پر استوار ہے. اچھی کاوش ہے.

Leave A Reply

%d bloggers like this: